صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں
The Book of Al-Ahkam (Judgements)
7. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْحِرْصِ عَلَى الإِمَارَةِ:
7. باب: حکومت اور سرداری کی حرص کرنا مکروہ ہے۔
(7) Chapter. What is disliked regarding being keen to have the authority of ruling.
حدیث نمبر: 7148
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابن ابي ذئب، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" إنكم ستحرصون على الإمارة وستكون ندامة يوم القيامة، فنعم المرضعة وبئست الفاطمة"، وقال محمد بن بشار: حدثنا عبد الله بن حمران، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن سعيد المقبري، عن عمر بن الحكم، عن ابي هريرة قوله.حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ وَسَتَكُونُ نَدَامَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَنِعْمَ الْمُرْضِعَةُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ"، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَان، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَوْلَهُ.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم حکومت کا لالچ کرو گے اور یہ قیامت کے دن تمہارے لیے باعث ندامت ہو گی۔ پس کیا ہی بہتر ہے دودھ پلانے والی اور کیا ہی بری ہے دودھ چھڑانے والی۔ اور محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن حمران نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سعید المقبری نے، ان سے عمر بن حکم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنا قول (موقوفاً) نقل کیا۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "You people will be keen to have the authority of ruling which will be a thing of regret for you on the Day of Resurrection. What an excellent wet nurse it is, yet what a bad weaning one it is!"
USC-MSA web (English) Reference: Volume 9, Book 89, Number 262

   صحيح البخاري7148عبد الرحمن بن صخرستحرصون على الإمارة وستكون ندامة يوم القيامة فنعم المرضعة وبئست الفاطمة
   سنن النسائى الصغرى5387عبد الرحمن بن صخرستحرصون على الإمارة وإنها ستكون ندامة وحسرة يوم القيامة فنعمت المرضعة وبئست الفاطمة
   بلوغ المرام1190عبد الرحمن بن صخرإنكم ستحرصون على الإمارة وستكون ندامة يوم القيامة فنعم المرضعة وبئست الفاطمة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1190  
´(قضاء کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک تم لوگ ضرور حکومت کی حرص و خواہش کرو گے اور وہ قیامت کے روز باعث ندامت ہو گی۔ پس اچھی ہے دودھ پلانے والی ماں اور بری ہے دودھ چھڑانے والی ماں۔ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1190»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الأحكام، باب ما يكره من الحرص علي الإمارة، حديث:7148.»
تشریح:
1. اس حدیث میں امارت اور سرداری سے بچنے اور اجتناب کرنے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کیونکہ دوسری حدیث میں ہے کہ حکومت اور سربراہی دنیا میں ملامت اور اس سے معزولی ندامت و پشیمانی ہے اور آخرت میں باعث عذاب ہے۔
2. جس وقت انسان حکومت کی کرسی پر براجمان ہوتا ہے تو عزت و توقیر ملتی ہے‘ دولت و ثروت ہاتھ آتی ہے‘ عوام ماتحت ہوتے ہیں‘ ان پر حکم چلتا ہے‘ ٹھاٹھ باٹھ جمتے ہیں‘ ایسی صورت میں بڑی اچھی لگتی ہے۔
مگر جب بدعنوانیوں اور بے اعتدالیوں کا احتساب اس دنیا ہی میں شروع ہوتا ہے تو پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا اور آخرت کے حساب و کتاب کی سختی تو ایسی ہوگی جس کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
اسی خوف کے پیش نظر امت مسلمہ کے صلحاء اس سے کوسوں دور رہنے کی کوشش کرتے رہے حتیٰ کہ سزائیں برداشت کیں مگر اس منصب کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
موجودہ دور میں مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کے بگاڑ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے سربراہان میں اکثر وبیشتر افراد وہ ہوتے ہیں جو عہدوں کے متلاشی‘ طلبگار اور بھوکے ہوتے ہیں‘ اسی لیے وہ کرسی پر براجمان ہوتے ہی عیش پرستی میں مگن ہو کر خوب مزے اڑاتے ہیں اور عوام کے حقوق بھلا کر اپنا دامن بھرنے میں سرگرم ہوتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں عوام کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ شریعت کے اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنا امیر اور سربراہ ایسے شخص کو قطعاً منتخب نہ کریں جو خود سربراہی اور عہدے کا طالب ہو کیونکہ اس سے خیر کی امید نہیں کی جا سکتی۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 1190   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7148  
7148. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: یقیناً تم عنقریب حکومتی عہدے کا لالچ کروگے اور ایسا کرنا تمہارے لیے قیامت کے دن ندامت ہوگا۔دودھ پلانے والی اچھی لگتی ہے اور دودھ چھڑانے والی بری محسوس ہوتی ہے۔
ایک دوسری سند کے مطابق سیدنا سعید مقبری،عمر بن حکم کے واسطے سے سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے ان کا اپنا قول نقل کرتے ہیں- [صحيح بخاري، حديث نمبر:7148]
حدیث حاشیہ:
تو اس طریق میں دو باتیںاگلے طریق کے خلاف ہیں ایک تو سعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں عمر بن حکم کا واسطہ ہونا، دوسرے حدیث کو موقوفاً نقل کرنا۔
سبحان اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا عمدہ مثال دی ہے۔
آدمی کو حکومت اور سرداری ملتے وقت بڑی لذت ہوتی ہے، خوب روپے کماتا ہے، مزے اڑاتا ہے لیکن اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ سدا قائم رہنے والی چیز نہیں، ایک دن چھن جائے گی تو جتنا مزہ اٹھایا ہے وہ سب کرکرا ہوجائے گا اور اس رنج کے سامنے جو سرداری اور حکومت جاتے وقت ہوگا یہ خوشی کوئی چیز نہیں ہے۔
عاقل کو چاہئے کہ جس کام کے انجام میں رنج ہو اس کو تھوڑی سی لذت کی وجہ سے ہرگز اختیار نہ کرے۔
عاقل وہی کام کرتا ہے جس میں رنج اور دکھ کا نام نہ ہو، نری لذت ہی لذت ہو گویہ لذت مقدار میں تھوڑی ہو لیکن اس لذت سے بدرجہا بہتر ہے جس کے بعد رنج سہنا پڑے۔
لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔
دنیا کی حکومت پر سرداری اور بادشاہت درحقیقت ایک عذاب الیم ہے۔
اسی لیے عقل مند بزرگ اس سے ہمیشہ بھاگتے رہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے مارکھائی، قید میں رہے مگر حکومت قبول نہ کی۔
دوسری حدیث میں ہے جو شخص عدالت کا حاکم یعنی قاضی (جج)
بنایا گیا وہ بن چھری ذبح کیاگیا۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 7148   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7148  
7148. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: یقیناً تم عنقریب حکومتی عہدے کا لالچ کروگے اور ایسا کرنا تمہارے لیے قیامت کے دن ندامت ہوگا۔دودھ پلانے والی اچھی لگتی ہے اور دودھ چھڑانے والی بری محسوس ہوتی ہے۔
ایک دوسری سند کے مطابق سیدنا سعید مقبری،عمر بن حکم کے واسطے سے سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے ان کا اپنا قول نقل کرتے ہیں- [صحيح بخاري، حديث نمبر:7148]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکومتی عہدے کی لذت اور حلاوت کی بہترین مثال دی ہے کہ انسان کو حکومتی منصب ملتے وقت بڑی لذت محسوس ہوتی ہے وہ خوب مزے اڑاتا ہے۔
یہ اس کا آغاز ہے جیسا کہ دودھ پلانے والی عورت ہوتی ہے لیکن یہ ہمیشہ قائم رہنے والی چیز نہیں ہے ایک دن چھن جائے گی تو جتنا مزہ اٹھایا تھا وہ سب کرکراہوجائےگا۔
حکومت جانے کا رنج اور پریشانی اس قدر ہوگی کہ اس کے مقابلے میں ابتدائی خوشی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
عقلمند کوچاہیے کہ جس کام کے انجام میں رنج ہواسے معمولی سی لذت کی وجہ سے اختیار نہ کرے۔
اس انجام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے"دودھ چھڑانے والی بری ہے" کے الفاظ سے بیان فرمایا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین پر یہ اثر ہوا کہ بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین حکومتی عہدوں سے بھاگتے تھے۔
چنانچہ حدیث میں ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے زمانہ خلافت میں قاضی بنانا چاہا لیکن انھوں نے انکار کردیا اور کس طرح بھی راضی نہ ہوئے(جامع الترمذی الاحکام حدیث 1322)
الحکم التفصیلی:
المواضيع 1. سؤال الإمامة (الأقضية والأحكام)
2. الترهيب من الحرص على الإمامة (الأقضية والأحكام)
موضوعات 1. عہدے اور منصب کا مطالبہ کرنا (عدالتی احکام و فیصلے)
2. حکومت و امارت کے حرص سے خبردار کرنا (عدالتی احکام و فیصلے)
Topics 1. Demand for designation (Legal Orders and Verdicts)
2. Warning for the desire of Government (Legal Orders and Verdicts)
Sharing Link:
https:
//www.mohaddis.com/View/Sahi-
Bukhari/T8/7148 تراجم الحديث المذكور المختلفة موجودہ حدیث کے دیگر تراجم × ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
٣. شیخ الحدیث مولانا محمد داؤد راز (مکتبہ قدوسیہ)
5. Dr. Muhammad Muhsin Khan (Darussalam)
حدیث ترجمہ:
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
یقیناً تم عنقریب حکومتی عہدے کا لالچ کروگے اور ایسا کرنا تمہارے لیے قیامت کے دن ندامت ہوگا۔
دودھ پلانے والی اچھی لگتی ہے اور دودھ چھڑانے والی بری محسوس ہوتی ہے۔

ایک دوسری سند کے مطابق سیدنا سعید مقبری،عمر بن حکم کے واسطے سے سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے ان کا اپنا قول نقل کرتے ہیں-
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکومتی عہدے کی لذت اور حلاوت کی بہترین مثال دی ہے کہ انسان کو حکومتی منصب ملتے وقت بڑی لذت محسوس ہوتی ہے وہ خوب مزے اڑاتا ہے۔
یہ اس کا آغاز ہے جیسا کہ دودھ پلانے والی عورت ہوتی ہے لیکن یہ ہمیشہ قائم رہنے والی چیز نہیں ہے ایک دن چھن جائے گی تو جتنا مزہ اٹھایا تھا وہ سب کرکراہوجائےگا۔
حکومت جانے کا رنج اور پریشانی اس قدر ہوگی کہ اس کے مقابلے میں ابتدائی خوشی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
عقلمند کوچاہیے کہ جس کام کے انجام میں رنج ہواسے معمولی سی لذت کی وجہ سے اختیار نہ کرے۔
اس انجام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے"دودھ چھڑانے والی بری ہے" کے الفاظ سے بیان فرمایا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین پر یہ اثر ہوا کہ بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین حکومتی عہدوں سے بھاگتے تھے۔
چنانچہ حدیث میں ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے زمانہ خلافت میں قاضی بنانا چاہا لیکن انھوں نے انکار کردیا اور کس طرح بھی راضی نہ ہوئے(جامع الترمذی الاحکام حدیث 1322)
حدیث ترجمہ:
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، تم حکومت کا لالچ کروگے اور یہ قیامت کے دن تمہارے لیے باعث ندامت ہوگی۔
پس کیا ہی بہتر ہے دودھ پلانے والی اور کیا ہی بری ہے دودھ چھڑانے والی۔
اور محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن حمران نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سعید المقبری نے، ان سے عمر بن حکم نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے اپنا قول (موقوفاً)
نقل کیا۔
حدیث حاشیہ:
تو اس طریق میں دو باتیںاگلے طریق کے خلاف ہیں ایک تو سعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں عمر بن حکم کا واسطہ ہونا، دوسرے حدیث کو موقوفاً نقل کرنا۔
سبحان اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا عمدہ مثال دی ہے۔
آدمی کو حکومت اور سرداری ملتے وقت بڑی لذت ہوتی ہے، خوب روپے کماتا ہے، مزے اڑاتا ہے لیکن اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ سدا قائم رہنے والی چیز نہیں، ایک دن چھن جائے گی تو جتنا مزہ اٹھایا ہے وہ سب کرکرا ہوجائے گا اور اس رنج کے سامنے جو سرداری اور حکومت جاتے وقت ہوگا یہ خوشی کوئی چیز نہیں ہے۔
عاقل کو چاہئے کہ جس کام کے انجام میں رنج ہو اس کو تھوڑی سی لذت کی وجہ سے ہرگز اختیار نہ کرے۔
عاقل وہی کام کرتا ہے جس میں رنج اور دکھ کا نام نہ ہو، نری لذت ہی لذت ہو گویہ لذت مقدار میں تھوڑی ہو لیکن اس لذت سے بدرجہا بہتر ہے جس کے بعد رنج سہنا پڑے۔
لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔
دنیا کی حکومت پر سرداری اور بادشاہت درحقیقت ایک عذاب الیم ہے۔
اسی لیے عقل مند بزرگ اس سے ہمیشہ بھاگتے رہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے مارکھائی، قید میں رہے مگر حکومت قبول نہ کی۔
دوسری حدیث میں ہے جو شخص عدالت کا حاکم یعنی قاضی (جج)
بنایا گیا وہ بن چھری ذبح کیاگیا۔
حدیث ترجمہ:
Narrated Abu Hurairah (RA)
:
The Prophet (ﷺ) said, "You people will be keen to have the authority of ruling which will be a thing of regret for you on the Day of Resurrection. What an excellent wet nurse it is, yet what a bad weaning one it is!" حدیث حاشیہ:
حدیث ترجمہ:
حدیث حاشیہ:
حدیث ترجمہ:
حدیث حاشیہ:
حدیث ترجمہ:
حدیث حاشیہ:
حدیث ترجمہ:
حدیث حاشیہ:
حدیث ترجمہ:
حدیث حاشیہ:
حدیث ترجمہ:
حدیث حاشیہ:
تو اس طریق میں دو باتیںاگلے طریق کے خلاف ہیں ایک تو سعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں عمر بن حکم کا واسطہ ہونا، دوسرے حدیث کو موقوفاً نقل کرنا۔
سبحان اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا عمدہ مثال دی ہے۔
آدمی کو حکومت اور سرداری ملتے وقت بڑی لذت ہوتی ہے، خوب روپے کماتا ہے، مزے اڑاتا ہے لیکن اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ سدا قائم رہنے والی چیز نہیں، ایک دن چھن جائے گی تو جتنا مزہ اٹھایا ہے وہ سب کرکرا ہوجائے گا اور اس رنج کے سامنے جو سرداری اور حکومت جاتے وقت ہوگا یہ خوشی کوئی چیز نہیں ہے۔
عاقل کو چاہئے کہ جس کام کے انجام میں رنج ہو اس کو تھوڑی سی لذت کی وجہ سے ہرگز اختیار نہ کرے۔
عاقل وہی کام کرتا ہے جس میں رنج اور دکھ کا نام نہ ہو، نری لذت ہی لذت ہو گویہ لذت مقدار میں تھوڑی ہو لیکن اس لذت سے بدرجہا بہتر ہے جس کے بعد رنج سہنا پڑے۔
لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔
دنیا کی حکومت پر سرداری اور بادشاہت درحقیقت ایک عذاب الیم ہے۔
اسی لیے عقل مند بزرگ اس سے ہمیشہ بھاگتے رہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے مارکھائی، قید میں رہے مگر حکومت قبول نہ کی۔
دوسری حدیث میں ہے جو شخص عدالت کا حاکم یعنی قاضی (جج)
بنایا گیا وہ بن چھری ذبح کیاگیا۔
حدیث ترجمہ:
حدیث حاشیہ:
حدیث ترجمہ:
حدیث حاشیہ:
رقم الحديث المذكور في التراقيم المختلفة مختلف تراقیم کے مطابق موجودہ حدیث کا نمبر × ترقیم کوڈاسم الترقيمنام ترقیمرقم الحديث (حدیث نمبر)
١.ترقيم موقع محدّث ویب سائٹ محدّث ترقیم7214٢. ترقيم فؤاد عبد الباقي (المكتبة الشاملة)
ترقیم فواد عبد الباقی (مکتبہ شاملہ)
7148٣. ترقيم العالمية (برنامج الكتب التسعة)
انٹرنیشنل ترقیم (کتب تسعہ پروگرام)
6615٤. ترقيم فتح الباري (برنامج الكتب التسعة)
ترقیم فتح الباری (کتب تسعہ پروگرام)
7148٥. ترقيم د. البغا (برنامج الكتب التسعة)
ترقیم ڈاکٹر البغا (کتب تسعہ پروگرام)
6729٦. ترقيم شركة حرف (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)
ترقیم حرف کمپنی (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
6885٧. ترقيم دار طوق النّجاة (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)
ترقیم دار طوق النجاۃ (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
7148٨. ترقيم فؤاد عبد الباقي (دار السلام)
ترقیم فواد عبد الباقی (دار السلام)
7148١٠.ترقيم فؤاد عبد الباقي (داود راز)
ترقیم فواد عبد الباقی (داؤد راز)
7148 الحكم على الحديث × اسم العالمالحكم ١. إجماع علماء المسلمينأحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة تمہید باب × تمہید کتاب × احکام،حکم کی جمع ہے۔
فقہی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کے وہ اوامرونواہی احکام کہلاتے ہیں جن کی بجاآوری اس نے اپنے بندوں پر عائد کی ہے لیکن اس مقام پر حکومت اور قضاء کے آداب وشرائط مراد ہیں کیونکہ حاکم کا لفظ خلیفہ اور قاضی ہردورپرمشتمل ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس عنوان کے تحت نظام عدالت اور نظام حکومت کو بیان فرمایا ہے اور ان کے متعلق ضروری امور کی وضاحت کی ہے۔
واضح رہے کہ دین اسلام انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہے۔
ان کا تعلق عقائد وایمانیات سے ہویاعبادات واخلاقیات سے یا دیگر معاملات سے،اسلام ان تمام کی وضاحت کرتا ہے اور ان کے متعلق ہماری مکمل رہنمائی کرتا ہے پھر لوگوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے اورحقداروں کو ان کا حق دلوانے،نیز تعزیر وسزا کے مستحق جرائم پیشہ لوگوں کو سزادینے کے لیے نظام عدالت کا قیام بھی انسانی معاشرے کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو یہاں اجتماعیت اور مل جل کر رہنے کی ایک شکل پیدا ہوگئی تو اس وقت نظام عدالت بھی اپنی ابتدائی سادہ شکل میں قائم ہوگیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اللہ تعالیٰ کا نبی ہونے کے ساتھ اسلامی مملکت کے سربراہ اور حاکم عدالت بھی تھے۔
اختلافی معاملات آپ کے سامنے آتے اور آپ ان کا فیصلہ فرماتے۔
جن پر زیادتی ہوتی انھیں ان کا حق دلواتے اورحق غصب کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق سزادیتے۔
اللہ تعالیٰ نے براہ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے حکم دیا ہے:
"آپ لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ اللہ کی نازل کردہ ہدایات کے مطابق کریں۔
"(المآئدۃ 5/49)
جب یمن کا علاقہ اسلامی اقتدار کے دائرے میں آگیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وہاں قاضی بنا کر بھیجا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ہدایات دیں کہ وہ اس ذمہ داری کو عدل وانصاف کے ساتھ ادا کرنے کے کوشش کریں اور ایسا کرنے والوں کو آخرت میں عظیم انعامات اوربلند درجات کی بشارتیں دیں،نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اگر ایسےی لوگوں سے نادانستہ طور پر کوئی اجتہادی غلطی ہوجائے تو اس پر انھیں کوئی مواخذہ نہیں ہوگا بلکہ ا پنی نیک نیتی قاور حق بینی کی کوشش اور محنت کااجروثواب ملے گا اور اس کے مقابلے میں آپ نے جانبداری اور بے انصافی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کے قہر وغضب سے ڈرایا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے:
"فیصلہ کرنے والے تین طرح کے ہوتے ہیں،جن میں سے دو جہنمی اور ایک جنتی ہے:
ایک تو وہ شخص جس نے حق کو پہچانا اور اس کے مطابق فیصلہ کیا وہ جنتی ہے۔
دوسرا وہ جس نے حق کی پہچان کرلی مگر اس کے مطابق فیصلہ نہ کیا بلکہ فیصلہ کرتے وقت ظلم وزیادتی سے کام لیا،ایسا شخص دوزخی ہے۔
تیسرا وہ جس نے نہ حق کو پہچانا اور نہ حق کے مطابق فیصلہ کیا بلکہ اس نے لوگوں میں جہالت اور نادانی سے فیصلہ کیا یہ شخص بھی دوزخی ہے۔
"(سنن ابن ماجہ الاحکام حدیث 2315)
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سربراہ مملکت کی حیثیت سے نظام حکومت کے ایسے اصول مقرر فرمائے جن سے اسلامی حکومتوں اور ان کے سربراہوں کو پوری پوری رہنمائی ملتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدحکومتی نظام چلانے والے خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اپنے دور کے تقاضوں کا لحاظ رکھتے ہوئے پوری کوشش کی کہ حکومت کے متعلق تمام معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طور طریقوں اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کی پوری پابندی اور پاسداری کی جائے۔
اسی امتیازی خصوصیت کی وجہ سے انھیں خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین کہا جاتاہے۔
ان تمہیدی گزارشات کے بعد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ عنوانات اور ان کے تحت پیش کردہ احادیث کو پورے غوروفکر اور انہماک سے پڑھا جائے۔
آپ نے نظام عدالت اور نظام حکومت کے متعلق امت کی بھر پور رہنمائی کی ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ چند عنوانات حسب ذیل ہیں:
اسلامی سربراہ اگر خلاف شرع حکم نہ دے تو اس کی بات سننا اور اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔
۔
حکومتی عہدہ خود نہیں مانگنا چاہیے،اس طرح اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال ہوگی۔
۔
جو شخص حکومتی عہدہ طلب کرے گا وہ اس کے حوالے کردیا جائے گا۔
۔
حکومتی عہدے کی حرص کرنا منع ہے۔
۔
جو شخص لوگوں کو تنگ کرے گا،اللہ تعالیٰ اسے مشقت میں ڈالے گا۔
۔
جو شخص رعایا کی خیر خواہی نہ کرے،اسے سخت ترین عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔
چلتے چلتے راستے میں کوئی فیصلہ کرنا۔
۔
قاضی کو غصے کی حالت میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
۔
جج بننے کی کیا شرائط ہیں؟
۔
حکام اور عُمال کا تنخواہیں لینا۔
۔
فیصلے کرنے والوں کا تحفے قبول کرنا۔
۔
یک طرفہ فیصلہ کرنے کی شرعی حیثیت۔
حاکم وقت کو چاہیے کہ وہ اپنے ماتحت کا محاسبہ کرتا رہے۔
ان کے علاوہ اور بہت سے اصول وضوابط ہیں جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ان کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے۔
آمین
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 7148   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.