صحيح البخاري سے متعلقہ
40. باب ترجمة الحكام، وهل يجوز ترجمان واحد:
باب: حاکم کے سامنے مترجم کا رہنا اور کیا ایک ہی شخص ترجمانی کے لیے کافی ہے۔
حدیث نمبر: 7195
وَقَالَ خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَتَعَلَّمَ كِتَابَ الْيَهُودِ حَتَّى كَتَبْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُتُبَهُ وَأَقْرَأْتُهُ كُتُبَهُمْ إِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ، وَقَالَ عُمَرُ وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَعُثْمَانُ مَاذَا تَقُولُ هَذِهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَاطِبٍ، فَقُلْتُ تُخْبِرُكَ بِصَاحِبِهَا الَّذِي صَنَعَ بِهَا، وَقَالَ أَبُو جَمْرَةَ: كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لَا بُدَّ لِلْحَاكِمِ مِنْ مُتَرْجِمَيْنِ
خارجہ بن زید بن ثابت نے اپنے والد زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یہودیوں کی تحریر سیکھیں، یہاں تک کہ میں یہودیوں کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط لکھتا تھا اور جب یہودی آپ کو لکھتے تو ان کے خطوط آپ کو پڑھ کر سناتا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن حاطب سے پوچھا، اس وقت ان کے پاس علی، عبدالرحمٰن اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے کہ یہ لونڈی کیا کہتی ہے؟ عبدالرحمٰن بن حاطب نے کہا کہ امیرالمؤمنین یہ آپ کو اس کے متعلق بتاتی ہے جس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے۔ (جو یرغوس نام کا غلام تھا) اور ابوجمرہ نے کہا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کرتا تھا اور بعض لوگوں (امام محمد اور امام شافعی) نے کہا کہ حاکم کے لیے دو ترجموں کا ہونا ضروری ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7195]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ یہودیوں کی تحریر سیکھیں، یہاں تک کہ میں ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط یہودیوں کے نام لکھتا تھا اور جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھتے تو میں وہ خط پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سناتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا جب کہ آپ کے پاس حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن حاطب اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم موجود تھے: ”یہ عورت کیا کہتی ہے؟“ حضرت عبدالرحمن بن حاطب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ آپ کو اس آدمی کے متعلق آگاہ کرنا چاہتی ہے جس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے۔“ ابو حمزہ رحمہ اللہ نے کہا: ”میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کرتا تھا۔“ بعض لوگوں نے کہا ہے: ”حاکم وقت کے لیے دو مترجم ہونے چاہئیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7195]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 2315
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ نے، انہیں زید بن خالد اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ضحاک اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا، اے انیس! اس خاتون کے یہاں جا۔ اگر وہ زنا کا اقرار کر لے تو اسے سنگسار کر دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 2315]
حضرت زید بن خالد اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اے انیس! تم اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اعتراف کرے تو اسے رجم کردو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 2315]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 2696
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ" يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ، فَقَالَ: صَدَقَ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَقَالُوا لِي: عَلَى ابْنِكَ الرَّجْمُ، فَفَدَيْتُ ابْنِي مِنْهُ بِمِائَةٍ مِنَ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ، فَقَالُوا: إِنَّمَا عَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ لِرَجُلٍ فَاغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَارْجُمْهَا، فَغَدَا عَلَيْهَا أُنَيْسٌ فَرَجَمَهَا".
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی آیا اور عرض کیا، یا رسول اللہ! ہمارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کر دیجئیے۔ دوسرے فریق نے بھی یہی کہا کہ اس نے سچ کہا ہے۔ آپ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیں۔ دیہاتی نے کہا کہ میرا لڑکا اس کے یہاں مزدور تھا۔ پھر اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا۔ قوم نے کہا تمہارے لڑکے کو رجم کیا جائے گا، لیکن میں نے اپنے لڑکے کے اس جرم کے بدلے میں سو بکریاں اور ایک باندی دے دی، پھر میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ تمہارے لڑکے کو سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے ملک بدر کر دیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ ہی سے کروں گا۔ باندی اور بکریاں تو تمہیں واپس لوٹا دی جاتی ہیں، البتہ تمہارے لڑکے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے ملک بدر کیا جائے گا اور انیس تم (یہ قبیلہ اسلم کے صحابی تھے) اس عورت کے گھر جاؤ اور اسے رجم کر دو (اگر وہ زنا کا اقرار کر لے) چنانچہ انیس گئے، اور (چونکہ اس نے بھی زنا کا اقرار کر لیا تھا اس لیے) اسے رجم کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 2696]
حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک دیہاتی آیا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرما دیجیے! اس کا مخالف کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اس نے سچ کہا ہے، ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ دیہاتی نے کہا: میرا بیٹا اس کے ہاں نوکر تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا ہے، لوگوں نے کہا: تیرے بیٹے کو رجم کیا جائے گا لیکن میں نے اپنے بیٹے کے اس جرم کے عوض سو بکریاں اور ایک لونڈی دے کر صلح کر لی، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے کہا: تیرے بیٹے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں، لونڈی اور بکریاں تجھے واپس کی جاتی ہیں اور تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کے لیے جلاوطنی لازم ہے۔“ پھر ایک آدمی سے فرمایا: ”اے انیس! اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ اور (اگر وہ زنا کا اعتراف کرلے تو) اسے سنگسار کر دو۔“ چنانچہ وہ اس عورت کے پاس گئے اور اسے سنگسار کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 2696]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 2725
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُمَا قَالَا: إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ لِي بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَ الْخَصْمُ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ: نَعَمْ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، وَإِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَوَلِيدَةٍ، فَسَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ رَدٌّ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اغْدُ يَا أُنَيْسُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا، قَالَ: فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَتْ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور ان سے ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ میرا فیصلہ کتاب اللہ سے کر دیں۔ دوسرے فریق نے جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، کہا کہ جی ہاں! کتاب اللہ سے ہی ہمارا فیصلہ فرمائیے، اور مجھے (اپنا مقدمہ پیش کرنے کی) اجازت دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیش کر۔ اس نے بیان کرنا شروع کیا کہ میرا بیٹا ان صاحب کے یہاں مزدور تھا۔ پھر اس نے ان کی بیوی سے زنا کر لیا، جب مجھے معلوم ہوا کہ (زنا کی سزا میں) میرا لڑکا رجم کر دیا جائے گا تو میں نے اس کے بدلے میں سو بکریاں اور ایک باندی دی، پھر علم والوں سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کو (زنا کی سزا میں کیونکہ وہ غیر شادی شدہ تھا) سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا جائے گا۔ البتہ اس کی بیوی رجم کر دی جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ ہی سے کروں گا۔ باندی اور بکریاں تمہیں واپس ملیں گی اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اچھا انیس! تم اس عورت کے یہاں جاؤ، اگر وہ بھی (زنا کا) اقرار کر لے، تو اسے رجم کر دو (کیونکہ وہ شادی شدہ تھی) بیان کیا کہ انیس رضی اللہ عنہ اس عورت کے یہاں گئے اور اس نے اقرار کر لیا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے وہ رجم کی گئی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 2725]
حضرت ابو ہریرہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ کتاب اللہ کے مطابق میرا فیصلہ کریں، دوسرا حریف جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا اس نے بھی کہا: ہاں! آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرما دیں اور مجھے اجازت دیں (کہ میں واقعہ بیان کر دوں)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بیان کرو۔“ اس نے کہا: میرا بیٹا اس شخص کا ملازم تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا، مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے پر رجم ہے، چنانچہ میں نے اس کے عوض ایک سو بکری اور ایک لونڈی بطور فدیہ دی، پھر میں نے اہل علم سے (مسئلہ) پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے مارنا اور ایک سال کے لیے جلا وطن کرنا ضروری ہے اور اس شخص کی بیوی کو رجم کیا جائے گا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ضرور تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ لونڈی اور بکریاں تجھے واپس کی جائیں گی اور تیرے بیٹے پر سو کوڑے واجب ہیں، (علاوہ ازیں) وہ ایک سال کے لیے جلا وطن بھی کیا جائے گا۔ اے انیس! کل صبح اس کی بیوی کے پاس جاؤ اگر وہ گناہ کا اعتراف کر لے تو اسے سنگسار کر دو۔“ چنانچہ وہ صبح اس کے پاس گئے تو اس نے جرم کا اعتراف کر لیا، بنا بریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اسے رجم کر دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 2725]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 6633
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، أنهما أخبراه: أن رجلين اختصما إلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الْآخَرُ: وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ:" تَكَلَّمْ"، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، قَالَ مَالِكٌ: وَالْعَسِيفُ: الْأَجِيرُ، زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأُمِرَ أُنَيْسٌ الْأَسْلَمِيُّ، أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا"، فَاعْتَرَفَتْ: فَرَجَمَهَا.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اپنا جھگڑا پیش کیا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمارے درمیان آپ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ دوسرے نے، جو زیادہ سمجھ دار تھا کہا کہ ٹھیک ہے، یا رسول اللہ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیجئیے اور مجھے اجازت دیجئیے کہ اس معاملہ میں کچھ عرض کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو۔ ان صاحب نے کہا کہ میرا لڑکا اس شخص کے یہاں «عسيف» تھا۔ «عسيف»، «الأجير» کو کہتے ہیں۔ ( «الأجير» کے معنی مزدور کے ہیں) اور اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اب میرے لڑکے کو سنگسار کیا جائے گا۔ اس لیے (اس سے نجات دلانے کے لیے) میں نے سو بکریوں اور ایک لونڈی کا انہیں فدیہ دے دیا پھر میں نے دوسرے علم والوں سے اس مسئلہ کو پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کی سزا یہ ہے کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا جائے، سنگساری کی سزا صرف اس عورت کو ہو گی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ہو گی اور پھر آپ نے اس کے لڑکے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا۔ پھر آپ نے انیس اسلمی سے فرمایا کہ مدعی کی بیوی کو لائے اور اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دے۔ اس عورت نے زنا کا اقرار کر لیا اور سنگسار کر دی گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 6633]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اپنا ایک مقدمہ پیش کیا، ان میں سے ایک نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔“ دوسرا جو زیادہ سمجھ دار تھا اس نے کہا: ”ہاں اللہ کے رسول! ٹھیک ہے، آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق ہی فیصلہ کریں لیکن مجھے اجازت دیں کہ میں اس معاملے میں کچھ عرض کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تم بات کرو۔“ اس نے کہا: ”میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا۔“ امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: «عَسِيف» مزدور کو کہتے ہیں۔ ”اور اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا، لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو رجم کیا جائے گا تو میں نے اسے بکریوں اور ایک لونڈی کا تاوان دے دیا، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن ہونا ہے، سنگساری کی سزا صرف اس کی بیوی کو ہوگی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق کروں گا، تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ملے گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جائیں، اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دیں، چنانچہ اس نے زنا کا اعتراف کر لیا تو انہوں نے اسے سنگسار کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 6633]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 6828
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَفِظْنَاهُ مِنْ فِي الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ، قَالَا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ، وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ، فَقَالَ: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأْذَنْ لِي، قَالَ:" قُلْ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَعَلَى امْرَأَتِهِ الرَّجْمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ، الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا" فَغَدَا عَلَيْهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا، قُلْتُ لِسُفْيَانَ: لَمْ يَقُلْ: فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَقَالَ: الشَّكُّ فِيهَا مِنْ الزُّهْرِيِّ، فَرُبَّمَا قُلْتُهَا، وَرُبَّمَا سَكَتُّ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم نے اسے زہری سے (سن کر) یاد کیا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ نے خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اور کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ کریں۔ اس پر اس کا مقابل بھی کھڑا ہو گیا اور وہ پہلے سے زیادہ سمجھدار تھا، پھر اس نے کہا کہ واقعی آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ سے ہی فیصلہ کیجئے اور مجھے بھی گفتگو کی اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو، اس شخص نے کہا کہ میرا بیٹا اس شخص کے یہاں مزدوری پر کام کرتا تھا پھر اس نے اس کی عورت سے زنا کر لیا، میں نے اس کے فدیہ میں اسے سو بکری اور ایک خادم دیا، پھر میں نے بعض علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال شہر بدر ہونے کی حد واجب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان کتاب اللہ ہی کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس ہوں گے اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے اسے جلا وطن کیا جائے گا اور اے انیس! صبح کو اس کی عورت کے پاس جانا اگر وہ (زنا کا) اقرار کر لے تو اسے رجم کر دو۔ چنانچہ وہ صبح کو اس کے پاس گئے اور اس نے اقرار کر لیا اور انہوں نے رجم کر دیا۔ علی بن عبداللہ مدینی کہتے ہیں میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا جس شخص کا بیٹا تھا اس نے یوں نہیں کہا کہ ان عالموں نے مجھ سے بیان کیا کہ تیرے بیٹے پر رجم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ کو اس میں شک ہے کہ زہری سے میں نے سنا ہے یا نہیں، اس لیے میں نے اس کو کبھی بیان کیا کبھی نہیں بیان کیا بلکہ سکوت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 6828]
حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اس دوران میں ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: ”اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کریں۔“ پھر اس کا مخالف کھڑا ہوا، وہ اس سے زیادہ سمجھدار تھا، اس نے بھی کہا: ”واقعی آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کریں اور مجھے گفتگو کی اجازت دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بات کرو۔“ اس نے کہا: ”میرا بیٹا اس شخص کا ملازم تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا، میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور ایک خادم بطور فدیہ دیا، پھر میں نے اہل علم حضرات سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی کی سزا واجب ہے اور اس کی بیوی کو سنگسار کرنا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم تجھے واپس ملیں گے، نیز تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے اسے جلا وطن کیا جائے گا۔ اے انیس! کل صبح تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اعتراف کرے تو اسے سنگسار کر دو۔“ چنانچہ وہ صبح کے وقت اس عورت کے پاس گئے تو اس نے زنا کا اعتراف کر لیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ علی بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے پوچھا: ”اس شخص نے یہ نہیں کہا کہ مجھے اہل علم نے بتایا ہے کہ میرے بیٹے پر رجم ہے؟“ انہوں نے کہا: ”مجھے اس کے متعلق شک ہے کہ زہری سے میں نے یہ سنا ہے یا نہیں، اس لیے میں اس پر کبھی خاموشی اختیار کرتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 6828]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 6836
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ" أن رجلا من الأعراب جاء إلى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , اقْضِ بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ، فَقَالَ: صَدَقَ اقْضِ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِكِتَابِ اللَّهِ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ بِمِائَةٍ مِنَ الْغَنَمِ، وَوَلِيدَةٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ، فَزَعَمُوا أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا الْغَنَمُ وَالْوَلِيدَةُ، فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ فَاغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَارْجُمْهَا". فَغَدَا أُنَيْسٌ فَرَجَمَهَا.
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما نے کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ اس پر دوسرے نے کھڑے ہو کر کہا کہ انہوں نے صحیح کہا یا رسول اللہ! ان کا کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں، میرا لڑکا ان کے یہاں مزدور تھا اور پھر اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے لڑکے کو رجم کیا جائے گا۔ چنانچہ میں نے سو بکریوں اور ایک کنیز کا فدیہ دیا۔ پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو ان کا خیال ہے کہ میرے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی لازمی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم دونوں کا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا۔ بکریاں اور کنیز تمہیں واپس ملیں گی اور تمہارے لڑکے کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ملے گی اور انیس! صبح اس عورت کے پاس جاؤ (اور اگر وہ اقرار کرے تو) اسے رجم کر دو۔ چنانچہ انہوں نے اسے رجم کیا۔ (وہ عورت کہیں اور جگہ تھی) آپ نے اسے رجم کرنے کے لیے انیس کو بھیجا اسی سے باب کا مطلب نکلا۔ قسطلانی نے کہا کہ آپ نے جو انیس کو فریق ثانی کی جورو کے پاس بھیجا وہ زنا کی حد مارنے کے لیے نہیں بھیجا کیونکہ زنا کی حد لگانے کے لیے تجسس کرنا یا ڈھونڈنا بھی درست نہیں ہے اگر کوئی خود آ کر بھی زنا کا اقرار کرے اس کے لیے بھی تفتیش کرنا مستحب ہے یعنی یوں کہنا کہ شاید تو نے بوسہ دیا ہو گا یا مساس کیا ہو گا بلکہ آپ نے انیس کو صرف اس لیے بھیجا کہ اس عورت کو خبر کر دیں کہ فلاں شخص نے تجھ پر زنا کی تہمت لگائی ہے۔ اب وہ حد قذف کا مطالبہ کرتی ہے یا معاف کرتی ہے۔ جب انیس اس کے پاس پہنچے تو اس عورت نے صاف طور پر زنا کا اقبال کیا۔ اس اقبال پر انیس رضی اللہ عنہ نے اس کو حد لگائی اور رجم کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 6836]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! (ہمارے درمیان) اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کریں۔“ اس کا مخالف کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ”اللہ کے رسول! اس نے صحیح کہا ہے۔ اس کا کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں۔ بات یہ ہے کہ میرا لڑکا اس کا ملازم تھا اور اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا ہے۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو رجم کیا جائے گا، چنانچہ میں نے اس سزا کے بدلے سو بکریاں اور ایک لونڈی کا فدیہ دیا۔ پھر اس نے اہل علم سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ میرے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی لازمی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم دونوں کا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا۔ بکریاں اور کنیز تجھے واپس ملیں گی اور تمہارے لڑکے کو سو کوڑوں اور ایک سال جلا وطنی کی سزا دی جائے گی۔ اے انیس! تم صبح اس عورت کے پاس جاؤ اور اسے رجم کرو۔“ چنانچہ انیس رضی اللہ عنہ گئے اور انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 6836]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 6843
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، أنهما أخبراه،" أن رجلين اختصما إلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الْآخَرُ: وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا، أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: تَكَلَّمْ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، قَالَ مَالِكٌ، وَالْعَسِيفُ: الْأَجِيرُ فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا" فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور انہیں ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ دو آدمی اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور دوسرے نے جو زیادہ سمجھدار تھے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور مجھے عرض کرنے کی اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو، انہوں نے کہا کہ میرا بیٹا ان صاحب کے یہاں مزدور تھا۔ مالک نے بیان کیا کہ «عسيف» مزدور کو کہتے ہیں اور اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا۔ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ میرے بیٹے کی سزا رجم ہے۔ چنانچہ میں نے اس کے فدیہ میں سو بکریاں اور ایک لونڈی دے دی پھر جب میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کے لیے ملک بدر کرنا ہے۔ رجم تو صرف اس عورت کو کیا جائے گا اس لیے کہ وہ شادی شدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ہیں پھر ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کیا اور انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ اس مذکورہ عورت کے پاس جائیں اگر وہ اقرار کر لے تو اسے رجم کر دیں چنانچہ اس نے اقرار کیا اور وہ رجم کر دی گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 6843]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا مقدمہ لے کر آئے، ان میں سے ایک نے کہا: ”ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ کریں۔“ اور دوسرے نے، جو ذرا زیادہ سمجھ دار تھا، کہا: ”ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ہمارا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق ہی کریں، لیکن مجھے کچھ عرض کرنے کی اجازت دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تم بات کرو۔“ اس نے کہا: ”میرا بیٹا اس کے ہاں «عَسِيْف» (راویِ حدیث امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: «عَسِيْف» نوکر کو کہتے ہیں) تھا۔ میرے بیٹے نے اس کی بیوی سے زنا کیا، تو مجھے لوگوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا۔ میں نے اپنے بیٹے کی طرف سے سو بکریاں اور ایک لونڈی بطورِ فدیہ دی۔ پھر میں نے اہل علم سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال جلاوطنی کی سزا بھگتنا ہوگی، اور رجم صرف اس کی بیوی پر ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ» ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!“ میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہی کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ملیں گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ مذکورہ عورت کے پاس جائیں: ”اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دو۔“ چنانچہ اس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تو انہوں نے اسے سنگسار کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 6843]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 6860
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَا:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ، فَقَالَ: صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا فِي أَهْلِ هَذَا، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، الْمِائَةُ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَيَا أُنَيْسُ: اغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَسَلْهَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ، فَارْجُمْهَا" فَاعْتَرَفَتْ: فَرَجَمَهَا.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ اس پر فریق مخالف کھڑا ہوا، یہ زیادہ سمجھدار تھا اور کہا کہ انہوں نے سچ کہا۔ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کیجئے اور یا رسول اللہ! مجھے (گفتگو کی) اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہئے۔ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا ان کے یہاں مزدوری کرتا تھا پھر اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا۔ میں نے اس کے فدیہ میں ایک سو بکریاں اور ایک خادم دیا پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا ملنی چاہئے اور اس کی بیوی کو رجم کیا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق ہی کروں گا۔ سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس ملیں گے اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا دی جائے گی اور اے انیس اس عورت کے پاس صبح جانا اور اس سے پوچھنا اگر وہ زنا کا اقرار کر لے تو اسے رجم کرنا، اس عورت نے اقرار کر لیا اور وہ رجم کر دی گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 6860]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔“ اس کا مدِّ مقابل کھڑا ہوا اور وہ اس سے زیادہ سمجھدار تھا، اس نے کہا: ”جی ہاں، یہ سچ کہتا ہے، بلاشبہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق ہی فیصلہ کریں، تاہم اے اللہ کے رسول! مجھے بات کرنے کی اجازت دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو۔“ اس نے عرض کیا: ”میرا بیٹا اس کے گھر خدمت گار تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا، میں نے اس کے عوض ایک سو بکریاں اور ایک خادم بطورِ فدیہ ادا کیا، پھر میں نے اہل علم سے رابطہ کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی واجب ہے اور اس شخص کی بیوی پر حدِ رجم ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ» ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کرتا ہوں: سو بکریاں اور خادم تجھے واپس کر دیے جائیں گے اور تیرے بیٹے پر کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے۔ اے انیس! صبح تم اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ اور اس سے باز پرس کرو، اگر وہ اقبالِ جرم کرے تو اسے سنگسار کر دو۔“ چنانچہ اس عورت نے اعتراف کر لیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 6860]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 7260
وحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ:" بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ لِي بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ، فَقَالَ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ لَهُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْ: فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا وَالْعَسِيفُ الْأَجِيرُ فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي، أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةٍ مِنَ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي، أَنَّ عَلَى امْرَأَتِهِ الرَّجْمَ، وَأَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ فَرُدُّوهَا، وَأَمَّا ابْنُكَ فَعَلَيْهِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ فَاغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا، فَغَدَا عَلَيْهَا أُنَيْسٌ فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ دیہاتیوں میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! کتاب اللہ کے مطابق میرا فیصلہ فرما دیجئیے۔ اس کے بعد ان کا مقابل فریق کھڑا ہوا اور کہا انہوں نے صحیح کہا یا رسول اللہ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور مجھے کہنے کی اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو۔ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا ان کے یہاں مزدوری کیا کرتا تھا، «عسيف» بمعنی «الأجير» مزدور ہے، پھر اس نے ان کی عورت سے زنا کر لیا تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم کی سزا ہو گی لیکن میں نے اس کی طرف سے سو بکریوں اور ایک باندی کا فدیہ دیا (اور لڑکے کو چھڑا لیا) پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس کی بیوی پر رجم کی سزا لاگو ہو گی اور میرے لڑکے کو سو کوڑے اور ایک سال کے لیے جلا وطنی کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، باندی اور بکریاں تو اسے واپس کر دو اور تمہارے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا ہے اور اے انیس! (قبیلہ اسلم کے ایک صحابی) اس کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے رجم کر دو۔ چنانچہ انیس رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور اس نے اقرار کر لیا پھر انیس رضی اللہ عنہ نے اس کو سنگسار کر ڈالا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7260]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے کہ اچانک ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا: ”اللہ کے رسول! کتاب اللہ کے مطابق میرا فیصلہ کر دیں۔“ اس کے بعد اس کا مد مقابل کھڑا ہوا اس نے بھی یہی عرض کی: ”اللہ کے رسول! یہ سچ کہتا ہے۔ اس کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق فرمائیں لیکن مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”بیان کرو۔“ اس نے کہا: ”میرا بیٹا اس شخص کے ہاں ملازم تھا۔ اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو رجم کی سزا ملے گی لیکن میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور ایک لونڈی بطور فدیہ ادا کیں۔ پھر میں نے اہل علم سے رابطہ کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ اس کی بیوی پر رجم اور میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کے لیے جلاوطنی کی سزا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ لونڈی اور بکریاں (تجھے) واپس کر دی جائیں اور تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی واجب ہے۔“ پھر قبیلہ اسلم کے ایک آدمی حضرت انیس رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے انیس! تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اعتراف کرلے تو اسے رجم کر دو۔“ چنانچہ حضرت انیس رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور اس نے اقرار کر لیا اس کے بعد حضرت انیس رضی اللہ عنہ نے اسے سنگسار کر ڈالا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7260]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 7279
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یقیناً میں تمہارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کروں گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7279]
حضرت ابو ہریرہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے کہ آپ نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7279]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»