🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
79. بَابُ إِذَا أَسْلَمَ الصَّبِيُّ فَمَاتَ هَلْ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَهَلْ يُعْرَضُ عَلَى الصَّبِيِّ الإِسْلاَمُ:
باب: ایک بچہ اسلام لایا پھر اس کا انتقال ہو گیا، تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی؟ اور کیا بچے کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جا سکتی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1357
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , يَقُولُ:" كُنْتُ أَنَا , وَأُمِّي مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ، أَنَا مِنَ الْوِلْدَانِ، وَأُمِّي مِنَ النِّسَاءِ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ عبیداللہ بن زیاد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا تھا کہ میں اور میری والدہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد مکہ میں) کمزور مسلمانوں میں سے تھے۔ میں بچوں میں اور میری والدہ عورتوں میں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1357]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اور میری والدہ ناتواں لوگوں میں سے تھے، میں بچوں میں سے اور میری والدہ عورتوں میں سے کمزور تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1357]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4587
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كُنْتُ أَنَا وَأُمِّي مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں اور میری والدہ «مستضعفين‏» (کمزوروں) میں سے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 4587]
حضرت عبیداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں اور میری والدہ کمزور لوگوں میں سے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 4587]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4588
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ تَلَا: إِلا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ سورة النساء آية 98، قَالَ:" كُنْتُ أَنَا وَأُمِّي مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ". وَيُذْكَرُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: حَصِرَتْ: ضَاقَتْ، تَلْوُوا: أَلْسِنَتَكُمْ بِالشَّهَادَةِ، وَقَالَ غَيْرُه:" الْمُرَاغَمُ الْمُهَاجَرُ رَاغَمْتُ هَاجَرْتُ قَوْمِي مَوْقُوتًا: مُوَقَّتًا وَقْتَهُ عَلَيْهِمْ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «لا المستضعفين من الرجال والنساء والولدان‏» کی تلاوت کی اور فرمایا کہ میں اور میری والدہ بھی ان لوگوں میں سے تھیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور رکھا تھا۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ «حصرت‏» معنی میں «ضاقت» کے ہے۔ «تلووا‏» یعنی تمہاری زبانوں سے گواہی ادا ہو گی۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سوا دوسرے شخص (ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ) نے کہا «مراغم» کا معنی ہجرت کا مقام۔ عرب لوگ کہتے ہیں «راغمت قومي‏.‏» یعنی میں نے اپنی قوم والوں کو جمع کر دیا۔ «موقوتا‏» کے معنی ایک وقت مقررہ پر یعنی جو وقت ان کے لیے مقرر ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 4588]
حضرت ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت ﴿إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ﴾ [سورة النساء: 98] ”مگر جو مرد، عورتیں اور بچے فی الواقع کمزور اور بےبس ہیں“ کو تلاوت کیا، انہوں نے فرمایا: ”میں اور میری والدہ ان لوگوں میں تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور رکھا۔“ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے منقول ہے کہ «حَصِرَتْ» [سورة النساء: 90] کے معنی ”تنگ ہونے“ کے ہیں۔ «تَلْوُوا» [سورة النساء: 135] کے معنی ہیں: ”تم گواہی دیتے وقت اپنی زبانوں کو مروڑ لیتے ہو۔“ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ دوسروں نے کہا ہے: «الْمُرَاغَمُ» [سورة النساء: 100] کے معنی «الْمُهَاجَرُ» کے ہیں، یعنی ”ہجرت کا مقام“، جیسے «رَاغَمْتُ» کے معنی ہیں: ”میں نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔“ «مَوْقُوتًا» [سورة النساء: 103] کے معنی ہیں: ”مقرر شدہ“، «وَقَّتَهُ عَلَيْهِمْ» یعنی ”ان پر وقت مقرر کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 4588]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4597
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: إِلا الْمُسْتَضْعَفِينَ سورة النساء آية 98، قَالَ:" كَانَتْ أُمِّي مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «إلا المستضعفين‏» کے متعلق فرمایا کہ میری ماں بھی ان ہی لوگوں میں تھیں جنہیں اللہ نے معذور رکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 4597]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے آیت کریمہ ﴿إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ﴾ [سورة النساء: 98] کے متعلق فرمایا: ”میری والدہ بھی ان ہی لوگوں میں سے تھیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 4597]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں