صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. باب تقليد الغنم:
باب: بکریوں کو ہار پہنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1702
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَلِّدُ الْغَنَمَ، وَيُقِيمُ فِي أَهْلِهِ حَلَالًا".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادہ خود بٹا کرتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کو بھی قلادہ پہنایا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے گھر اس حال میں مقیم تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلال تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1702]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے لیے ہار بنایا کرتی تھی، آپ انہیں بکریوں کے گلے میں ڈالتے اور خود اپنے گھر میں احرام (اور اس کی پابندیوں) کے بغیر رہتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1702]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1696
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَأَهْدَاهَا، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ أُحِلَّ لَهُ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے افلح نے بیان کیا، ان سے قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے ہار میں نے اپنے ہاتھ سے خود بٹے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہار پہنایا، اشعار کیا، ان کو مکہ کی طرف روانہ کیا پھر بھی آپ کے لیے جو چیزیں حلال تھیں وہ (احرام سے پہلے صرف ہدی سے) حرام نہیں ہوئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1696]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار اپنے ہاتھ سے تیار کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کے گلوں میں ہار ڈالے اور ان کا اشعار کیا، پھر انہیں مکہ مکرمہ روانہ کیا۔ ایسا کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی چیز حرام نہ ہوئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پہلے حلال تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1696]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة