صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب كم اعتمر النبى صلى الله عليه وسلم:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے ہیں؟
حدیث نمبر: 1775
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ،" وَإِذَا نَاسٌ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ صَلَاةَ الضُّحَى، قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ، فَقَالَ: بِدْعَةٌ، ثُمّ قَالَ لَهُ: كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَرْبَعًا، إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَكَرِهْنَا أَنْ نَرُدَّ عَلَيْهِ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ میں اور عروہ بن زبیر مسجد نبوی میں داخل ہوئے، وہاں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ مسجد نبوی میں اشراق کی نماز پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عبداللہ بن عمر سے ان لوگوں کی اس نماز کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ بدعت ہے، پھر ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ چار، ایک ان میں سے رجب میں کیا تھا، لیکن ہم نے پسند نہیں کیا کہ ان کی اس بات کی تردید کریں۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1775]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اور عروہ بن زبیر رحمہ اللہ مسجد نبوی میں گئے تو دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس بیٹھے تھے اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے ان لوگوں کی اس نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ بدعت ہے، پھر ان سے عرض کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے تھے؟ انہوں نے فرمایا: چار، ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا تھا، چنانچہ ہم نے ان کی تردید کرنا مناسب خیال نہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1775]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4253
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمّ قَالَ: كَمْ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: أَرْبَعًا، إحَدُّاهُنَ فيِ رَجب.
مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ‘ کہا ان سے منصور بن معتمر نے ‘ ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ میں اور عروہ بن زبیر دونوں مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو ابن عمر رضی اللہ عنہما عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے نزدیک بیٹھے ہوئے تھے۔ عروہ نے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کل کتنے عمرے کئے تھے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ چار اور ایک ان میں سے رجب میں کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 4253]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ دونوں مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے نزدیک بیٹھے ہوئے تھے۔ عروہ نے سوال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کل کتنے عمرے کیے تھے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے تھے اور ایک ان میں سے ماہ رجب میں کیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 4253]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة