صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب كم اعتمر النبى صلى الله عليه وسلم:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے ہیں؟
حدیث نمبر: 1777
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1777]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1777]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1776
قَالَ: وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحُجْرَةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: يَا أُمَّاهُ، يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ , قَالَتْ: مَا يَقُولُ؟ قَالَ: يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، قَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا اعْتَمَرَ عُمْرَةً إِلَّا وَهُوَ شَاهِدُهُ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ".
مجاہد نے بیان کیا کہ ہم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ سے ان کے مسواک کرنے کی آواز سنی تو عروہ نے پوچھا اے میری ماں! اے ام المؤمنین! ابوعبدالرحمٰن کی بات آپ سن رہی ہیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے تھے جن میں سے ایک رجب میں کیا تھا، انہوں نے فرمایا کہ اللہ ابوعبدالرحمٰن پر رحم کرے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کوئی عمرہ ایسا نہیں کیا جس میں وہ خود موجود نہ رہے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں تو کبھی عمرہ ہی نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1776]
ہم نے حجرے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی تو عروہ رحمہ اللہ نے کہا: اماں جان! کیا آپ نے ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہما کی بات سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ کیا کہتے ہیں؟ عروہ رحمہ اللہ گویا ہوئے: وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے ہیں اور ان میں سے ایک رجب میں تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: «يَرْحَمُ اللّٰهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ» ”اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہما پر رحم کرے!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی عمرہ نہیں کیا جس میں وہ موجود نہ ہوں (پھر وہ بھول گئے) رجب میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمرہ بھی ادا نہیں فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1776]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة