صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب إذا أحرم جاهلا وعليه قميص:
باب: اگر ناواقفیت کی وجہ سے کوئی کرتہ پہنے ہوئے احرام باندھے؟
حدیث نمبر: 1848
وَعَضَّ رَجُلٌ يَدَ رَجُلٍ يَعْنِي فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَبْطَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ایک شخص نے دوسرے شخص کے ہاتھ میں دانت سے کاٹا تھا، دوسرے نے جو اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا دانت اکھڑ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی بدلہ نہیں دلوایا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1848]
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ ایک مرد نے کسی دوسرے شخص کا ہاتھ چبا ڈالا تو اس نے اپنا ہاتھ کھینچا جس سے اس کا دانت نکل گیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بدلے کو باطل فرما دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1848]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1789
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ , يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْخَلُوقِ أَوْ قَالَ: صُفْرَةٌ، فَقَالَ: كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسُتِرَ بِثَوْبٍ وَوَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، فَقَالَ عُمَرُ: تَعَالَ أَيَسُرُّكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْوَحْيَ، قُلْتُ: نَعَمْ، فَرَفَعَ طَرَفَ الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ لَهُ غَطِيطٌ , وَأَحْسِبُهُ قَالَ: كَغَطِيطِ الْبَكْرِ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟ اخْلَعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ، وَاغْسِلْ أَثَرَ الْخَلُوقِ عَنْكَ، وَأَنْقِ الصُّفْرَةَ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے عطا بن ابی رباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا جبہ پہنے ہوئے اور اس پر خلوق یا زردی کا نشان تھا۔ اس نے پوچھا مجھے اپنے عمرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کپڑا ڈال دیا گیا، میری بڑی آرزو تھی کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہاں آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہو رہی ہو، اس وقت تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے آرزو مند ہو؟ میں نے کہا ہاں! انہوں نے کپڑے کا کنارہ اٹھایا اور میں نے اس میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ زور زور سے خراٹے لے رہے تھے، میرا خیال ہے کہ انہوں نے بیان کیا ”جیسے اونٹ کے سانس کی آواز ہوتی ہے“ پھر جب وحی اترنی بند ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پوچھنے والا کہاں ہے جو عمرہ کے بارے میں پوچھتا تھا؟ اپنا جبہ اتار دے، خلوق کے اثر کو دھو ڈال اور (زعفران کی) زردی صاف کر لے اور جس طرح حج میں کرتے ہو اسی طرح اس میں بھی کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1789]
حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تشریف فرما تھے تو ایک آدمی آپ کے پاس آیا۔ اس نے ایسا جبہ پہن رکھا تھا جس پر خلوق یا زردی کے نشانات تھے۔ اس نے عرض کیا: آپ مجھے عمرہ کرنے کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی۔ اس دوران میں آپ کو کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا۔ میری خواہش تھی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کی کیفیت دیکھوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آؤ، کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کی کیفیت دیکھنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ انہوں نے کپڑے کا کنارہ اٹھایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بایں حالت دیکھا کہ آپ سے خراٹے بھرنے کی آواز آ رہی تھی۔ یہ آواز اونٹ کے بلبلانے کی طرح تھی۔ جب آپ سے یہ کیفیت زائل ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”عمرے کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے؟“ (اسے فرمایا:) ”اپنا جبہ اتار دو اور اپنے جسم سے خوشبو کے اثرات دھو ڈالو، نیز زردی کو صاف کرو اور عمرہ کرتے وقت وہی کام کرو جو حج میں کرتے ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1789]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2265
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، فَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، فَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا، إِصْبَعَ صَاحِبِهِ فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، وَقَالَ: أَفَيَدَعُ إِصْبَعَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا، قَالَ: أَحْسِبُهُ قَالَ: كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ".
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطا بن ابی رباح نے خبر دی، انہیں صفوان بن یعلیٰ نے، ان کو یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جیش عسرۃ (غزوۃ تبوک) میں گیا تھا یہ میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ قابل اعتماد نیک عمل تھا۔ میرے ساتھ ایک مزدور بھی تھا وہ ایک شخص سے جھگڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے مقابل والے کی انگلی چبا ڈالی۔ دوسرے نے جو اپنا ہاتھ زور سے کھینچا تو اس کے آگے کے دانت بھی ساتھ ہی کھینچے چلے آئے اور گر گئے۔ اس پر وہ شخص اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر پہنچا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانت (ٹوٹنے کا) کوئی قصاص نہیں دلوایا۔ بلکہ فرمایا کہ کیا وہ انگلی تمہارے منہ میں چبانے کے لیے چھوڑ دیتا۔ راوی نے کہا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بھی فرمایا۔ جس طرح اونٹ چبا لیا کرتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 2265]
حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جیشِ عسرہ (غزوہ تبوک) میں شرکت کی۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ جن اعمال پر مجھے اعتماد ہے ان میں سے ایک یہ ہے۔ (کہتے ہیں کہ) میرے ساتھ میرا ایک مزدور بھی تھا۔ وہ ایک شخص سے لڑ پڑا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کی انگلی کاٹ کھائی۔ اس نے اپنی انگلی کھینچی تو سامنے والے کا ثنیہ دانت بھی گرا دیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لے کر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لغو قرار دیا اور فرمایا: ”کیا وہ اپنی انگلی تیرے منہ میں چھوڑ دیتا کہ تو اسے چبا جاتا؟“ حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے گمان کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جیسے اونٹ چبا جاتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 2265]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2973
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَحَمَلْتُ عَلَى بَكْرٍ فَهُوَ أَوْثَقُ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ وَنَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَهَا، فَقَالَ:" أَيَدْفَعُ يَدَهُ إِلَيْكَ، فَتَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد (یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک تھا اور ایک جوان اونٹ میں نے سواری کے لیے دیا تھا، میرے خیال میں میرا یہ عمل، تمام دوسرے اعمال کے مقابلے میں سب سے زیادہ قابل بھروسہ تھا۔ (کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو گا) میں نے ایک مزدور بھی اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ پھر وہ مزدور ایک شخص (خود یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ) سے لڑ پڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ میں دانت سے کاٹ لیا۔ دوسرے نے جھٹ جو اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے آگے کا دانت ٹوٹ گیا۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فریادی ہوا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کھینچنے والے پر کوئی تاوان نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ کیا تمہارے منہ میں وہ اپنا ہاتھ یوں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے چبا جاؤ جیسے اونٹ چباتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 2973]
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کے لیے روانہ ہوا۔ میں نے ایک جوان اونٹ سواری کے لیے بھی دیا جو میرے خیال میں میرا مضبوط تر عمل تھا۔ اس سلسلے میں میں نے ایک مزدور بھی کرائے پر رکھا۔ وہ مزدور کسی سے لڑ پڑا تو ایک نے دوسرے کا ہاتھ چبا لیا۔ دوسرے نے جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ اس کے منہ سے نکالا تو اس کے اگلے دو دانت نکال دیے۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اسے باطل ٹھہرایا اور فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں ڈالے رکھتا کہ تو اسے چباتا رہے جیسے اونٹ چباتا ہے؟“ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 2973]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4329
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ: لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ مَعَهُ فِيهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِالطِّيبِ؟ فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى بِيَدِهِ أَنْ تَعَالَ، فَجَاءَ يَعْلَى فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ كَذَلِكَ سَاعَةً، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَيْنَ الَّذِي يَسْأَلُنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا؟" فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ:" أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ، فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا، ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ".
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا مجھ کو عطا بن ابی رباح نے خبر دی، انہیں صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے خبر دی کہ یعلیٰ نے کہا کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھ سکتا جب آپ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ کے لیے ایک کپڑے سے سایہ کر دیا گیا تھا اور اس میں چند صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ موجود تھے۔ اتنے میں ایک اعرابی آئے وہ ایک جبہ پہنے ہوئے تھے، خوشبو میں بسا ہوا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک ایسے شخص کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے جو اپنے جبہ میں خوشبو لگانے کے بعد احرام باندھے؟ فوراً ہی عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو آنے کے لیے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ حاضر ہو گئے اور اپنا سر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے) اندر کیا (نزول وحی کی کیفیت سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور زور زور سے سانس چل رہی تھی۔ تھوڑی دیر تک یہی کیفیت رہی پھر ختم ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ابھی عمرہ کے متعلق جس نے سوال کیا تھا وہ کہاں ہے؟ انہیں تلاش کر کے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خوشبو تم نے لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھو لو اور جبہ اتار دو اور پھر عمرہ میں وہی کام کرو جو حج میں کرتے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 4329]
حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھوں جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔“ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک کپڑے سے سایہ کیا گیا تھا۔ اس مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ اچانک ایک دیہاتی آیا جس پر خوشبو سے لت پت جبہ تھا۔ اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اس شخص کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے جس نے عمرے کا احرام ایسے جبے میں باندھا ہے جو خوشبو سے لت پت ہے؟“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ آؤ (اور نزول وحی کی حالت کو دیکھو) چنانچہ حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ آئے اور اپنا سر اس پردے میں داخل کیا، دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور سرخ ہے، کچھ دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لیتے رہے، پھر یہ حالت جاتی رہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی ابھی عمرے کے متعلق سوال کیا تھا؟“ اسے تلاش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خوشبو تم نے لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھو ڈالو اور جبے کو اتار دو، پھر اپنے عمرے میں وہی کچھ کرو جو حج میں کرتے ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 4329]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4417
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يُخْبِرُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعُسْرَةَ، قَالَ: كَانَ يَعْلَى يَقُولُ تِلْكَ الْغَزْوَةُ أَوْثَقُ أَعْمَالِي عِنْدِي، قَالَ عَطَاءٌ: فَقَالَ صَفْوَانُ: قَالَ يَعْلَى: فَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ الْآخَرِ، قَالَ عَطَاءٌ: فَلَقَدْ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ أَيُّهُمَا عَضَّ الْآخَرَ فَنَسِيتُهُ، قَالَ: فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ، فَانْتَزَعَ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ، فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، قَالَ عَطَاءٌ: وَحَسِبْتُ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَأَنَّهَا فِي فِي فَحْلٍ يَقْضَمُهَا".
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ میں نے عطاء سے سنا، انہوں نے خبر دیتے ہوئے کہا کہ مجھے صفوان بن یعلٰی بن امیہ نے خبر دی اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ عسرت میں شریک تھا۔ بیان کیا کہ یعلٰی رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ مجھے اپنے تمام عملوں میں اسی پر سب سے زیادہ بھروسہ ہے۔ عطاء نے بیان کیا، ان سے صفوان نے بیان کیا کہ یعلٰی رضی اللہ عنہ نے کہا، میں نے ایک مزدور بھی اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ وہ ایک شخص سے لڑ پڑا اور ایک نے دوسرے کا ہاتھ دانت سے کاٹا۔ عطاء نے بیان کیا کہ مجھے صفوان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ان دونوں میں سے کس نے اپنے مقابل کا ہاتھ کاٹا تھا، یہ مجھے یاد نہیں ہے۔ بہرحال جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ سے جو کھینچا تو کاٹنے والے کے آگے کا ایک دانت بھی ساتھ چلا آیا۔ وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت کے ٹوٹنے پر کوئی قصاص نہیں دلوایا۔ عطاء نے بیان کیا میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کیا وہ تیرے منہ میں اپنا ہاتھ رہنے دیتا تاکہ تو اسے اونٹ کی طرح چبا جاتا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 4417]
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں حاضر ہوا۔“ حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ”میرے نزدیک یہ غزوہ میرا انتہائی قابل وثوق عمل ہے۔ میرا ایک مزدور تھا، وہ ایک دوسرے شخص سے جھگڑ پڑا تو ایک نے دوسرے کا ہاتھ چبا ڈالا۔“ (راویِ حدیث) حضرت عطاء رحمہ اللہ نے کہا: ”مجھے صفوان بن یعلیٰ رحمہ اللہ نے بتایا تھا کہ کس نے دوسرے کا ہاتھ چبایا مگر یہ میں بھول گیا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”جس کا ہاتھ چبایا گیا تھا اس نے اپنا ہاتھ، چبانے والے کے منہ سے کھینچا تو اس کے سامنے والے دو دانتوں میں سے ایک دانت نکل گیا۔ وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانت کو ضائع قرار دیا۔“ حضرت عطاء رحمہ اللہ نے کہا: ”میرا خیال ہے کہ حضرت صفوان بن یعلیٰ رحمہ اللہ نے کہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں چھوڑے رکھتا جسے تو چباتا رہتا گویا وہ اونٹ کے منہ میں ہے جسے وہ چباتا ہے؟“” [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 4417]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4985
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ يَعْلَى، كَانَ يَقُولُ: لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، فَلَمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وعَلَيْهِ ثَوْبٌ قَدْ أَظَلَّ عَلَيْهِ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ؟ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً، فَجَاءَهُ الْوَحْيُ، فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى أَنْ تَعَالَ، فَجَاءَ يَعْلَى، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ، فَإِذَا هُوَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ كَذَلِكَ سَاعَةً، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: أَيْنَ الَّذِي يَسْأَلُنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا؟ فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ، فَجِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا، ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا۔ (دوسری سند) اور (میرے والد) مسدد بن زید نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا مجھ کو عطاء بن ابی رباح نے خبر دی، کہا کہ مجھے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے خبر دی کہ (میرے والد) یعلیٰ کہا کرتے تھے کہ کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھتا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی ہو۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر کپڑے سے سایہ کر دیا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے چند صحابہ موجود تھے کہ ایک شخص کے بارے میں کیا فتویٰ ہے۔ جس نے خوشبو میں بسا ہوا ایک جبہ پہن کر احرام باندھا ہو۔ تھوڑی دیر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آنا شروع ہو گئی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ کو اشارہ سے بلایا۔ یعلیٰ آئے اور اپنا سر (اس کپڑے کے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سایہ کیا گیا تھا) اندر کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اس وقت سرخ ہو رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے سانس لے رہے تھے، تھوڑی دیر تک یہی کیفیت رہی۔ پھر یہ کیفیت دور ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ جس نے ابھی مجھ سے عمرہ کے متعلق فتویٰ پوچھا تھا وہ کہاں ہے؟ اس شخص کو تلاش کر کے آپ کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جو خوشبو تمہارے بدن یا کپڑے پر لگی ہوئی ہے اس کو تین مرتبہ دھو لو اور جبہ کو اتار دو پھر عمرہ میں بھی اسی طرح کرو جس طرح حج میں کرتے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 4985]
حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے تھے: ”کاش! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھوں جبکہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو“، چنانچہ جب آپ مقام جعرانہ میں تھے اور آپ پر کپڑے کا سایہ کر دیا گیا تھا، اس وقت آپ کے ہمراہ چند ایک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ اچانک ایک شخص آیا جو خوشبو میں لت پت تھا۔ اس نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! ایسے شخص کے بارے میں کیا فتویٰ ہے جس نے خوشبو سے لت پت ہو کر ایک جبے میں احرام باندھا ہو؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ انتظار کیا، اس دوران میں آپ پر وحی آنا شروع ہو گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارے سے بلایا۔ وہ آئے اور اپنا سر پردے کے اندر کیا تو دیکھتے ہیں کہ آپ کا چہرہ انور سرخ ہو رہا تھا اور آپ تیزی سے سانس لے رہے تھے۔ تھوڑی دیر یہی کیفیت طاری رہی، پھر جب یہ حالت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص کہاں ہے جو مجھ سے ابھی ابھی عمرے کے متعلق پوچھ رہا تھا؟“ اس شخص کو تلاش کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”جو خوشبو تجھ پر لگی ہوئی ہے اسے تین بار دھو ڈال اور اپنا جبہ اتار دے۔ پھر اپنے عمرے میں وہی کچھ کر جو حج میں کرتے ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 4985]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6893
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْتُ فِي غَزْوَةٍ،" فَعَضَّ رَجُلٌ، فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ میں ایک غزوہ میں باہر تھا اور ایک شخص نے دانت سے کاٹ لیا تھا جس کی وجہ سے اس کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے تھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقدمہ کو باطل قرار دے کر اس کی دیت نہیں دلائی۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 6893]
حضرت صفوان بن یعلی رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ اپنے والد حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”میں ایک غزوے میں نکلا تو ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو دانت سے کاٹا اور اس نے اس کے اگلے دانت نکال دیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت باطل قرار دی۔“ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 6893]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة