🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. باب صوم يوم الفطر:
باب: عیدالفطر کے دن روزہ رکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1990
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، قَالَ:" شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: هَذَانِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا: يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَالْيَوْمُ الْآخَرُ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: مَنْ قَالَ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ فَقَدْ أَصَابَ، وَمَنْ قَالَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَدْ أَصَابَ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ازہر کے غلام ابوعبید نے بیان کیا کہ عید کے دن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے خدمت میں حاضر تھا۔ آپ نے فرمایا یہ دو دن ایسے ہیں جن کے روزوں کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے۔ (رمضان کے) روزوں کے بعد افطار کا دن (عیدالفطر) اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو (یعنی عید الاضحی کا دن)۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا سفیان بن عیینہ نے کہا، جس نے ابوعبداللہ کو ابن ازہر کا غلام کہا اس نے بھی ٹھیک کہا، اور جس نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا غلام کہا اس نے بھی ٹھیک کہا۔(اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن ازہر اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ دونوں اس غلام میں شریک تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1990]
حضرت ابوعبید مولیٰ ابن ازہر رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں عید کے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں میں روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے: ایک تمہارا روزوں کو افطار کرنے کا دن (عید الفطر کا) اور دوسرا دن وہ ہے جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے ابوعبید کے متعلق فرمایا کہ مولیٰ ابن ازہر اور مولیٰ عبدالرحمن بن عوف دونوں طرح کہنا صحیح ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1990]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5571
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، أَنَّهُ شَهِدَ الْعِيدَ يَوْمَ الْأَضْحَى مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاكُمْ عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْعِيدَيْنِ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَيَوْمٌ تَأْكُلُونَ مِنْ نُسُكِكُمْ".
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن ازہر کے غلام ابو عبید نے بیان کیا کہ وہ بقر عید کے دن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عیدگاہ میں موجود تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ سے پہلے عید کی نماز پڑھائی پھر لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور خطبہ میں فرمایا اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ان دو عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک وہ دن ہے جس دن تم (رمضان کے) روزے پورے کر کے افطار کرتے ہو (عیدالفطر) اور دوسرا تمہاری قربانی کا دن ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 5571]
حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو ابن زہر کے آزاد کردہ غلام تھے اور وہ عید الاضحیٰ کے موقع پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے، ان کا بیان ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبے سے قبل نمازِ عید پڑھائی، پھر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں عید کے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے: ایک تو وہ دن ہے جب روزے پورے کر کے تم عید الفطر مناتے ہو اور دوسرا وہ دن ہے جس دن تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 5571]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5573
قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: ثُمَّ شَهِدْتُهُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِكُمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ"، وعَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ نَحْوَهُ.
ابوعبید نے بیان کیا کہ پھر میں عید کی نماز میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا۔ انہوں نے بھی نماز خطبہ سے پہلے پڑھائی پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اپنی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی ممانعت کی ہے اور معمر نے زہری سے اور ان سے ابوعبیدہ نے اسی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 5573]
حضرت ابو عبید ہی روایت کرتے ہیں کہ پھر میں عید کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا، انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز عید پڑھی، پھر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اپنی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ تک کھانے کی ممانعت کی ہے، معمر نے امام زہری سے، انہوں نے ابو عبید سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 5573]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6705
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ أَبِي حُرَّةَ الْأَسْلَمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيْهِ يَوْمٌ إِلَّا صَامَ، فَوَافَقَ يَوْمَ أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ، فَقَالَ:" لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ، لَمْ يَكُنْ يَصُومُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ، وَلَا يَرَى صِيَامَهُمَا".
ہم سے محمد بن ابوبکر مقدمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حکیم بن ابی حرہ اسلمی نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے نذر مانی ہو کہ کچھ مخصوص دنوں میں روزے رکھے گا۔ پھر اتفاق سے انہیں دنوں میں بقر عید یا عید کے دن پڑ گئے ہوں؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقر عید اور عید کے دن روزے نہیں رکھتے تھے اور نہ ان دنوں میں روزے کو جائز سمجھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 6705]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان سے ایک آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس نے نذر مانی تھی کہ اس پر کوئی دن (فلاں دن) نہیں آئے گا مگر وہ اسی روز روزے سے ہو گا۔ اگر اتفاق سے عید الفطر یا عید الاضحیٰ کا دن آ جائے تو کیا کرے؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: یقیناً تمہارے لیے ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یومِ فطر اور یومِ اضحیٰ کا روزہ نہیں رکھتے تھے اور نہ ہم ان دونوں میں روزہ رکھنا جائز سمجھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 6705]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں