🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. باب فضل الخدمة فى الغزو:
باب: جہاد میں خدمت کرنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2889
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" يَقُولُ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ أَخْدُمُهُ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا وَبَدَا لَهُ أُحُدٌ، قَالَ:" هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، ثُمَّ أَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَتَحْرِيمِ إِبْرَاهِيمَ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کا، ان سے مطلب بن حنطب کے مولیٰ عمرو بن ابی عمرو نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر (غزوہ کے موقع پر) گیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے اور احد پہاڑ دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جس سے ہم محبت کرتے ہیں اور وہ ہم سے محبت کرتا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔ اے اللہ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کے خطے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں، جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دیا تھا، اے اللہ! ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2889]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی طرف نکلا تو راستے میں آپ کی خدمت کرتا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور احد پہاڑ سامنے ظاہر ہوا تو فرمایا: یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر آپ نے مدینہ طیبہ کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا: اے اللہ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیانی خطے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں، جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا تھا۔ اے اللہ! تو ہمارے صاع اور مد میں برکت عطا فرما۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2889]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 371
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ، فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ، وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ حَسَرَ الْإِزَارَ عَنْ فَخِذِهِ حَتَّى إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: وَخَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ، فَقَالُوا: مُحَمَّدٌ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَالْخَمِيسُ يَعْنِي الْجَيْشَ، قَالَ: فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً فَجُمِعَ السَّبْيُ فَجَاءَ دِحْيَةُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ، قَالَ: اذْهَبْ، فَخُذْ جَارِيَةً، فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ، قَالَ: ادْعُوهُ بِهَا، فَجَاءَ بِهَا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا، قَالَ: فَأَعْتَقَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَزَوَّجَهَا، فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، مَا أَصْدَقَهَا؟ قَالَ: نَفْسَهَا، أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا، فَقَالَ: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلْيَجِئْ بِهِ، وَبَسَطَ نِطَعًا فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَدْ ذَكَرَ السَّوِيقَ، قَالَ: فَحَاسُوا حَيْسًا، فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے کہ کہا ہمیں عبدالعزیز بن صہیب نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کر کے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر میں تشریف لے گئے۔ ہم نے وہاں فجر کی نماز اندھیرے ہی میں پڑھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے۔ اور ابوطلحہ بھی سوار ہوئے۔ میں ابوطلحہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کا رخ خیبر کی گلیوں کی طرف کر دیا۔ میرا گھٹنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے چھو جاتا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران سے تہبند کو ہٹایا۔ یہاں تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاف اور سفید رانوں کی سفیدی اور چمک دیکھنے لگا۔ جب آپ خیبر کی بستی میں داخل ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «الله اكبر» اللہ سب سے بڑا ہے، خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے آنگن میں اتر جائیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح منحوس ہو جاتی ہے۔ آپ نے یہ تین مرتبہ فرمایا، اس نے کہا کہ خیبر کے یہودی لوگ اپنے کاموں کے لیے باہر نکلے ہی تھے کہ وہ چلا اٹھے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آن پہنچے۔ اور عبدالعزیز راوی نے کہا کہ بعض انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے ہمارے ساتھیوں نے «والخميس‏» کا لفظ بھی نقل کیا ہے (یعنی وہ چلا اٹھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لشکر لے کر پہنچ گئے) پس ہم نے خیبر لڑ کر فتح کر لیا اور قیدی جمع کئے گئے۔ پھر دحیہ رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! قیدیوں میں سے کوئی باندی مجھے عنایت کیجیئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ کوئی باندی لے لو۔ انہوں نے صفیہ بنت حیی کو لے لیا۔ پھر ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! صفیہ جو قریظہ اور نضیر کے سردار کی بیٹی ہیں، انہیں آپ نے دحیہ کو دے دیا۔ وہ تو صرف آپ ہی کے لیے مناسب تھیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دحیہ کو صفیہ کے ساتھ بلاؤ، وہ لائے گئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا کہ قیدیوں میں سے کوئی اور باندی لے لو۔ راوی نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو آزاد کر دیا اور انہیں اپنے نکاح میں لے لیا۔ ثابت بنانی نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ابوحمزہ! ان کا مہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا رکھا تھا؟ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خود انہیں کی آزادی ان کا مہر تھا اور اسی پر آپ نے نکاح کیا۔ پھر راستے ہی میں ام سلیم رضی اللہ عنہا (انس رضی اللہ عنہ کی والدہ) نے انہیں دلہن بنایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات کے وقت بھیجا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس بھی کچھ کھانے کی چیز ہو تو یہاں لائے۔ آپ نے ایک چمڑے کا دستر خوان بچھایا۔ بعض صحابہ کھجور لائے، بعض گھی، عبدالعزیز نے کہا کہ میرا خیال ہے انس رضی اللہ عنہ نے ستو کا بھی ذکر کیا۔ پھر لوگوں نے ان کا حلوہ بنا لیا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 371]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا رخ کیا تو ہم نے نماز فجر خیبر کے نزدیک اندھیرے میں (اول وقت میں) ادا کی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سوار ہوئے۔ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی گلیوں میں اپنی سواری کو ایڑی لگائی، (دوڑتے وقت) میرا گھٹنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک سے چھو جاتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران سے چادر ہٹا دی یہاں تک کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک کی سفیدی نظر آنے لگی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستی کے اندر داخل ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ یہ کلمات فرمائے: «اللهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ» اللہ بہت بڑا ہے، خیبر ویران ہوا۔ جب ہم کسی قوم کے آنگن میں پڑاؤ کرتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح بڑی ہولناک ہوتی ہے جو قبل ازیں متنبہ کیے گئے ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بستی کے لوگ اپنے کام کاج کے لیے نکلے تو کہنے لگے: یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کا لشکر آ پہنچا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے خیبر کو بزور شمشیر فتح کیا۔ پھر قیدی جمع کیے گئے تو حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! مجھے ان قیدیوں میں سے ایک لونڈی عطا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ کوئی لونڈی لے لو۔ چنانچہ انہوں نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لے لیا۔ پھر ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا: اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ قریظہ اور نضیر کے سردار کی بیٹی صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کو دے دی، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی اس کے مناسب نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اسے (حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کو) صفیہ رضی اللہ عنہا سمیت بلاؤ۔ چنانچہ وہ صفیہ رضی اللہ عنہا سمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صفیہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو (حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: تم اس کے علاوہ قیدیوں میں سے کوئی اور لونڈی لے لو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے ابوحمزہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حق مہر کیا مقرر کیا تھا؟ انہوں نے کہا: خود ان کی آزادی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا حتی کہ جب روانہ ہوئے تو راستے ہی میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آراستہ کر کے رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور صبح کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بحیثیت دولہا فرمایا: جس کے پاس جو کچھ ہے وہ یہاں لے آئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کا ایک دسترخوان بچھا دیا تو کوئی کھجوریں لایا اور کوئی گھی لایا۔ راوی حدیث (عبدالعزیز رحمہ اللہ) کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ستو کا بھی ذکر کیا۔ پھر انہوں نے ملیدہ تیار کیا اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ولیمہ تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 371]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3367
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ، فَقَالَ: هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا"، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے مطلب کے آزاد کردہ غلام عمرو بن ابی عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرمت والا شہر قرار دیا تھا اور میں مدینہ کے دو پتھریلے علاقے کے درمیانی علاقے کے حصے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں۔ اس حدیث کو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3367]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جبلِ احد آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ اے اللہ! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا تھا اور میں مدینہ طیبہ کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان والی جگہ حرم قرار دیتا ہوں۔ اس روایت کو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3367]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4083
حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ".
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، انہیں قرہ بن خالد نے، انہیں قتادہ نے اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4083]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اُحد پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4083]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4084
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ:" هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ , اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں مطلب کے غلام عمرو بن ابی عمرو نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (خیبر سے واپس ہوتے ہوئے) احد پہاڑ دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دیا تھا اور میں ان دو پتھریلے میدانوں کے درمیان والے علاقے (مدینہ منورہ) کو حرمت والا شہر قرار دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4084]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب احد پہاڑ ظاہر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ» یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ «اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا» اے اللہ! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ طیبہ کے دونوں کناروں کے درمیانی علاقے کو حرم قرار دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4084]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7333
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ، فَقَالَ: هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا"، تَابَعَهُ سَهْلٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُحُدٍ.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے مطلب کے مولیٰ عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ احد پہاڑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (راستے میں) دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا تھا اور میں تیرے حکم سے اس کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیانی علاقہ کو حرمت والا قرار دیتا ہوں۔ اس روایت کی متابعت سہل رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احد کے متعلق کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 7333]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دفعہ احد پہاڑ ظاہر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ اے اللہ! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ طیبہ کے دونوں کناروں کی درمیانی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔ احد پہاڑ کے متعلق حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرنے میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 7333]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں