🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22M. باب: {وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا فأصلحوا بينهما} فسماهم المؤمنين:
باب: ”اور اگر ایمان والوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان دونوں کے درمیان صلح کرا دو“ ان کا نام مومن رکھا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 31
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، عَنْ الْمَعْرُورِ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ حُلَّةٌ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلًا فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا ذَرٍّ،" أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ، إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے اسے واصل احدب سے، انہوں نے معرور سے، کہا میں ابوذر سے ربذہ میں ملا وہ ایک جوڑا پہنے ہوئے تھے اور ان کا غلام بھی جوڑا پہنے ہوئے تھا۔ میں نے اس کا سبب دریافت کیا تو کہنے لگے کہ میں نے ایک شخص یعنی غلام کو برا بھلا کہا تھا اور اس کی ماں کی غیرت دلائی (یعنی گالی دی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معلوم کر کے مجھ سے فرمایا اے ابوذر! تو نے اسے ماں کے نام سے غیرت دلائی، بیشک تجھ میں ابھی کچھ زمانہ جاہلیت کا اثر باقی ہے۔ (یاد رکھو) ماتحت لوگ تمہارے بھائی ہیں۔ اللہ نے (اپنی کسی مصلحت کی بنا پر) انہیں تمہارے قبضے میں دے رکھا ہے تو جس کے ماتحت اس کا کوئی بھائی ہو تو اس کو بھی وہی کھلائے جو آپ کھاتا ہے اور وہی کپڑا اسے پہنائے جو آپ پہنتا ہے اور ان کو اتنے کام کی تکلیف نہ دو کہ ان کے لیے مشکل ہو جائے اور اگر کوئی سخت کام ڈالو تو تم خود بھی ان کی مدد کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 31]
حضرت معرور رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں ربذہ (جگہ) میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ملا، دیکھا تو انہوں نے اور ان کے غلام نے ایک جیسا جوڑا زیبِ تن کیا ہوا ہے۔ میں نے ان سے اس کی بابت پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے ایک شخص کو بایں طور گالی دی کہ اسے ماں کی عار دلائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر) فرمایا: تو نے اسے اس کی ماں کی عار دلائی ہے؟ ابھی تک تجھ میں جاہلیت کا اثر باقی ہے۔ تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے تصرف میں رکھا ہے، چنانچہ جس شخص کا بھائی اس کے قبضے میں ہو، اسے چاہیے کہ اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے اور اسے وہی لباس پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے۔ اور ان سے وہ کام نہ لو جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو، اور اگر ایسے کام کی انہیں زحمت دو تو خود بھی ان کا ہاتھ بٹاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 31]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2545
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمَعْرُورَ بْنَ سُويْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ حُلَّةٌ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلًا فَشَكَانِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ إِخْوَانَكُمْ خَوَلُكُمْ، جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَأَعِينُوهُمْ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ہم سے واصل بن حیان نے جو کبڑے تھے، بیان کیا، کہا کہ میں نے معرور بن سوید سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے بدن پر بھی ایک جوڑا تھا اور ان کے غلام کے بدن پر بھی اسی قسم کا ایک جوڑا تھا۔ ہم نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ایک دفعہ میری ایک صاحب (یعنی بلال رضی اللہ عنہ سے) سے کچھ گالی گلوچ ہو گئی تھی۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے انہیں ان کی ماں کی طرف سے عار دلائی ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دے رکھا ہے۔ اس لیے جس کا بھی کوئی بھائی اس کے قبضہ میں ہو اسے وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ لیکن اگر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالو تو پھر ان کی خود مدد بھی کر دیا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 2545]
حضرت معرور بن سوید سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ایک عمدہ پوشاک زیب تن کیے ہوئے تھے اور ان کے غلام نے بھی اسی طرح کی پوشاک پہنی ہوئی تھی۔ ہم نے ان سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے ایک شخص کو گالی دی تھی۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میری شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تو نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے عار دلائی ہے؟ پھر فرمایا: تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے، اس لیے جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو تو جو وہ خود کھاتا ہے وہی اسے کھلائے اور جو خود پہنتا ہے وہی اسے پہنائے اور انہیں ایسے امور بجالانے کی تکلیف نہ دو جو ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہوں، اگر تم نے ان پر اس طرح کی مشقت ڈالی ہو جو ان پر بھاری ہو تو اس میں ان کی مدد کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 2545]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6050
حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ هُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَيْهِ بُرْدًا وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدًا، فَقُلْتُ: لَوْ أَخَذْتَ هَذَا فَلَبِسْتَهُ كَانَتْ حُلَّةً وَأَعْطَيْتَهُ ثَوْبًا آخَرَ، فَقَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ كَلَامٌ وَكَانَتْ أُمُّهُ أَعْجَمِيَّةً، فَنِلْتُ مِنْهَا فَذَكَرَنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي:" أَسَابَبْتَ فُلَانًا؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَفَنِلْتَ مِنْ أُمِّهِ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ" قُلْتُ عَلَى حِينِ سَاعَتِي: هَذِهِ مِنْ كِبَرِ السِّنِّ، قَالَ:" نَعَمْ، هُمْ إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ جَعَلَ اللَّهُ أَخَاهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا يُكَلِّفُهُ مِنَ الْعَمَلِ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ".
مجھ سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے معرور نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے، معرور نے بیان کیا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک چادر دیکھی اور ان کے غلام کے جسم پر بھی ایک ویسی ہی چادر تھی، میں نے عرض کیا: اگر اپنے غلام کی چادر لے لیں اور اسے بھی پہن لیں تو ایک رنگ کا جوڑا ہو جائے غلام کو دوسرا کپڑا دے دیں۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مجھ میں اور ایک صاحب (بلال رضی اللہ عنہ) میں تکرار ہو گئی تھی تو ان کی ماں عجمی تھیں، میں نے اس بارے میں ان کو طعنہ دے دیا انہوں نے جا کر یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا تم نے اس سے جھگڑا کیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ دریافت کیا تم نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے طعنہ دیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اندر ابھی جاہلیت کی بو باقی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس بڑھاپے میں بھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یاد رکھو یہ (غلام بھی) تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دیا ہے، پس اللہ تعالیٰ جس کی ماتحتی میں بھی اس کے بھائی کو رکھے اسے چاہئے کہ جو وہ کھائے اسے بھی کھلائے اور جو وہ پہنے اسے بھی پہنائے اور اسے ایسا کام کرنے کے لیے نہ کہے، جو اس کے بس میں نہ ہو اگر اسے کوئی ایسا کام کرنے کے لیے کہنا ہی پڑے تو اس کام میں اس کی مدد کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 6050]
حضرت معرور رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ پر ایک چادر دیکھی اور ان کے غلام نے بھی اسی طرح کی چادر اوڑھ رکھی تھی، میں نے کہا: اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے لیں اور اسے زیب تن کریں تو آپ کے لیے ایک رنگ کا جوڑا ہو جائے اور اپنے غلام کو کوئی دوسرا جوڑا پہنا دیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرے اور ایک آدمی کے درمیان کچھ تکرار ہو گئی تھی، اس کی والدہ عجمیہ تھی، میں نے اس کے متعلق اسے طعنہ دے دیا۔ اس نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: تو نے فلاں شخص کو گالی دی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کی ماں کو بھی مطعون کیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اندر ابھی دورِ جاہلیت کی خو باقی ہے۔ میں نے عرض کی: اس وقت بھی جبکہ میں بڑھاپے میں پہنچ چکا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، یاد رکھو! یہ غلام بھی تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ماتحت کر دیا ہے، لہذا جس شخص کے بھائی کو اللہ تعالیٰ نے اس کے زیرِ دست کر دیا ہو اسے وہ کچھ کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور اسے وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور اسے کسی ایسے کام کی تکلیف نہ دے جو اس پر گراں بار ہو۔ اگر ایسا کام اسے کہے جو اس کے بس میں نہ ہو تو وہ کام نمٹانے میں اس کا تعاون کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 6050]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6875
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَيُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قُلْتُ: أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ، قَالَ: ارْجِعْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ، قَالَ: إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ".
ہم سے عبدالرحمٰن بن المبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، کہا ہم سے ایوب اور یونس نے، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے احنف بن قیس نے کہ میں ان صاحب (علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ) کی جنگ جمل میں مدد کے لیے تیار تھا کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پوچھا، کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ ان صاحب کی مدد کے لیے جانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ واپس چلے جاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب دو مسلمان تلوار کھینچ کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں جاتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک تو قاتل تھا لیکن مقتول کو سزا کیوں ملے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر آمادہ تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 6875]
حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اس شخص (حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ) کی مدد کرنے کے لیے نکلا تو مجھے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ملے۔ انہوں نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: اس صاحب کی مدد کرنے جا رہا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: واپس چلے جاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان تلوار سونت کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! قاتل تو جہنمی ہوا، مقتول کو یہ سزا کیوں ملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی اپنے حریف کے قتل پر آمادہ تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 6875]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7083
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: خَرَجْتُ بِسِلَاحِي لَيَالِيَ الْفِتْنَةِ فَاسْتَقْبَلَنِي أَبُو بَكْرَةَ،فَقَالَ:" أَيْنَ تُرِيدُ، قُلْتُ: أُرِيدُ نُصْرَةَ ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَكِلَاهُمَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ، قِيلَ: فَهَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟، قَالَ: إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ"، قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِأَيُّوبَ،وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ يُحَدِّثَانِي بِهِ، فَقَالَا: إِنَّمَا رَويَ هَذَا الحَدِيثَ الْحَسَنُ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بِهَذَا، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَيُونُسُ، وَهِشَامٌ، وَمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَرَوَاهُ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، وَقَالَ غُنْدَرٌ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایک شخص نے جس کا نام نہیں بتایا، ان سے امام حسن بصری نے بیان کیا کہ میں ایک مرتبہ باہمی فسادات کے دنوں میں میں اپنے ہتھیار لگا کر نکلا تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے راستے میں ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے پوچھا کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے لڑکے کی (جنگ جمل و صفین میں) مدد کرنی چاہتا ہوں، انہوں نے کہا لوٹ جاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں کو لے کر آمنے سامنے مقابلہ پر آ جائیں تو دونوں دوزخی ہیں۔ پوچھا گیا یہ تو قاتل تھا، مقتول نے کیا کیا (کہ وہ بھی ناری ہو گیا)؟ فرمایا کہ وہ بھی اپنے مقابل کو قتل کرنے کا ارادہ کئے ہوئے تھا۔ حماد بن زید نے کہا کہ پھر میں نے یہ حدیث ایوب اور یونس بن عبید سے ذکر کی، میرا مقصد تھا کہ یہ دونوں بھی مجھ سے یہ حدیث بیان کریں، ان دونوں نے کہا کہ اس حدیث کی روایت حسن بصری نے احنف بن قیس سے اور انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کی۔ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے یہی حدیث بیان کی اور مؤمل بن ہشام نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب، یونس، ہشام اور معلی بن زیاد نے امام حسن بصری سے بیان کیا، ان سے احنف بن قیس اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس کی روایت معمر نے بھی ایوب سے کی ہے اور اس کی روایت بکار بن عبدالعزیز نے اپنے باپ سے کی اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اور غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ربعی بن حراش نے، ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور سفیان ثوری نے بھی اس حدیث کو منصور بن معتمر سے روایت کیا، پھر یہ روایت مرفوعہ نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 7083]
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے (احنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے) کہا: میں فسادات کے زمانے میں اپنے ہتھیار لے کر نکلا تو راستے میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے پوچھا: کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو دونوں دوزخی ہیں۔ کہا گیا: یہ تو قاتل تھا لیکن مقتول کا قصور ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے بھی تو اپنے مقابل کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 7083]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں