🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب إذا قال أحدكم آمين. والملائكة فى السماء، فوافقت إحداهما الأخرى، غفر له ما تقدم من ذنبه:
باب: اس حدیث کے بیان میں کہ جب ایک تمہارا (جہری نماز میں سورۃ فاتحہ کے ختم پر باآواز بلند) آمین کہتا ہے تو فرشتے بھی آسمان پر (زور سے) آمین کہتے ہیں اور اس طرح دونوں کی زبان سے ایک ساتھ (با آواز بلند) آمین نکلتی ہے تو بندے کے گزرے ہوئے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3234
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ أَنْبَأَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ، وَلَكِنْ قَدْ رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ، وَخَلْقُهُ سَادٌّ مَا بَيْنَ الْأُفُقِ".
ہم سے محمد بن عبداللہ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے، کہا ہم کو قاسم نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جس نے یہ گمان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تھا تو اس نے بڑی جھوٹی بات زبان سے نکالی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو (معراج کی رات میں) ان کی اصل صورت میں دیکھا تھا۔ ان کے وجود نے آسمان کا کنارہ ڈھانپ لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3234]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جو شخص دعویٰ کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تو اس نے بہت بڑی (جھوٹی) بات کی جبکہ آپ نے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام کو ان کی اصلی پیدائشی شکل و صورت میں اس حالت میں دیکھا کہ انہوں نے آسمان کے کناروں کو بھر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3234]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3235
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ ابْنِ الْأَشْوَعِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَأَيْنَ قَوْلُهُ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى {8} فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى {9} سورة النجم آية 8-9، قَالَتْ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ، وَإِنَّهُ أَتَاهُ هَذِهِ الْمَرَّةَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ فَسَدَّ الْأُفُقَ".
مجھ سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن الاشوع نے، ان سے شعبی نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا (ان کے اس کہنے پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا نہیں تھا) پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد «ثم دنا فتدلى * فكان قاب قوسين أو أدنى‏» کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ آیت تو جبرائیل علیہ السلام کے بارے میں ہے، وہ انسانی شکل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتے تھے اور اس مرتبہ اپنی اس شکل میں آئے جو اصلی تھی اور انہوں نے تمام آسمان کے کناروں کو ڈھانپ لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3235]
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: اس آیتِ کریمہ کے کیا معنی ہیں؟ ﴿ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ * فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ﴾ [سورة النجم: 8-9] پھر وہ نزدیک ہوا اور اتر آیا، پھر وہ دو کمانوں کے فاصلے پر بلکہ اس سے بھی قریب تر ہو گیا۔ حضرت ام المومنین صدیقہ کائنات رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس سے مراد حضرت جبرئیل علیہ السلام ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی انسان کی شکل میں آیا کرتے تھے، تو اس دفعہ وہ اپنی اصلی صورت میں سامنے آئے اور انہوں نے تمام کنارے ڈھانپ رکھے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3235]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4612
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَدْ كَذَبَ، وَاللَّهُ يَقُولُ: يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ سورة المائدة آية 67 الْآيَةَ".
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے شعبی نے، ان سے مسروق نے کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، جو شخص بھی تم سے یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل کیا تھا، اس میں سے آپ نے کچھ چھپا لیا تھا، تو وہ جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك‏» کہ اے پیغمبر! جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے، یہ (سب) آپ (لوگوں تک) پہنچا دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 4612]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جو شخص بھی تم سے یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل کیا تھا، آپ نے اس میں سے کچھ چھپا لیا تھا تو اس نے یقیناً جھوٹ بولا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ﴾ [سورة المائدة: 67] اے پیغمبر! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے، اسے لوگوں تک پہنچا دو۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 4612]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4855
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: يَا أُمَّتَاهْ، هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي مِمَّا قُلْتَ أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلَاثٍ مَنْ حَدَّثَكَهُنَّ، فَقَدْ كَذَبَ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ: لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ سورة الأنعام آية 103 وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سورة الشورى آية 51، وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا سورة لقمان آية 34، وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَتَمَ فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ سورة المائدة آية 67 الْآيَةَ، وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فِي صُورَتِهِ مَرَّتَيْنِ".
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے وکیع نے، ان سے اسمٰعیل بن ابی خالد نے، ان سے عامر نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اے ایمان والوں کی ماں! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں اپنے رب کو دیکھا تھا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تم نے ایسی بات کہی کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کیا تم ان تین باتوں سے بھی ناواقف ہو؟ جو شخص بھی تم میں سے یہ تین باتیں بیان کرے وہ جھوٹا ہے جو شخص یہ کہتا ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں اپنے رب کو دیکھا تھا وہ جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے آیت «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار وهو اللطيف الخبير‏» سے لے کر «من وراء حجاب‏» تک کی تلاوت کی اور کہا کہ کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ سے بات کرے سوا اس کے کہ وحی کے ذریعہ ہو یا پھر پردے کے پیچھے سے ہو اور جو شخص تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے کل کی بات جانتے تھے وہ بھی جھوٹا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے آیت «وما تدري نفس ماذا تكسب غدا‏» یعنی اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل کیا کرے گا۔ کی تلاوت فرمائی۔ اور جو شخص تم میں سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ دین میں کوئی بات چھپائی تھی وہ بھی جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك‏» یعنی اے رسول! پہنچا دیجئیے وہ سب کچھ جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے۔ ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 4855]
مسروق سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: اے امی جان! کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے (شب معراج میں) اپنے رب کو دیکھا تھا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم نے ایسی بات کہہ دی ہے جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ کیا تم ان تین باتوں سے بے خبر ہو؟ جو شخص بھی تم سے یہ باتیں بیان کرے وہ جھوٹا ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے (شب معراج میں) اپنے رب کو دیکھا تھا وہ جھوٹا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ﴾ [سورة الأنعام: 103] اسے نگاہیں نہیں پا سکتی لیکن وہ نگاہوں کا احاطہ کرتا ہے اور وہ نہایت باریک بین، باخبر ہے۔ نیز یہ آیت بھی تلاوت کی: ﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ﴾ [سورة الشورى: 51] کسی بشر کے لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام کرے مگر وحی یا پردے کے پیچھے سے۔ اور جو شخص تم سے یہ بات کہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کل کی بات جانتے تھے، وہ بھی جھوٹا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا﴾ [سورة لقمان: 34] اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا۔ اور جو شخص یہ کہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ دین میں کوئی بات چھپائی تھی، وہ بھی جھوٹا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ﴾ [سورة المائدة: 67] اے رسول! آپ کے رب کی طرف سے جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے (آگے) پہنچا دیں۔ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو اپنی اصل شکل میں دو مرتبہ دیکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 4855]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7380
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ، وَهُوَ يَقُولُ: لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ سورة الأنعام آية 103 وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ الْغَيْبَ فَقَدْ كَذَبَ، وَهُوَ يَقُولُ: لَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے شعبی نے بیان کیا، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اگر تم سے کوئی یہ کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تو وہ غلط کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں خود کہتا ہے کہ نظریں اس کو دیکھ نہیں سکتیں اور جو کوئی کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے تھے تو غلط کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خود کہتا ہے کہ غیب کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 7380]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اگر کوئی تم سے یہ کہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے جھوٹ بولا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ﴾ [سورة الأنعام: 103] نظریں اسے نہیں دیکھ سکتیں اور جو تجھے یہ کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے تھے تو اس نے بھی غلط کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ﴿قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ﴾ [سورة النمل: 65] غیب کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 7380]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7531
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ شَيْئًا، وَقَالَ مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ شَيْئًا مِنَ الْوَحْيِ فَلَا تُصَدِّقْهُ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ سورة المائدة آية 67.
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے، ان سے شعبی نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اگر کوئی تم سے یہ بیان کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز چھپائی، (اور دوسری سند) اور محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے شعبی نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اگر تم سے کوئی یہ بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی میں کچھ چھپا لیا تو اس کی تصدیق نہ کرنا (وہ جھوٹا ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك وإن لم تفعل فما بلغت رسالته‏» کہ اے رسول! پہنچا دیجئیے وہ پیغام جو آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اور اگر آپ نے یہ نہیں کیا تو آپ اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 7531]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اگر کوئی تم سے یہ بیان کرے کہ نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وحیِ الٰہی سے کچھ چھپا لیا ہے تو اس کی تصدیق مت کرنا (کیونکہ وہ جھوٹا ہے)۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ﴾ [سورة المائدة: 67] اے رسول! آپ کے رب کی طرف سے جو پیغام آپ کی طرف اتارا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دیجیے۔ اگر آپ نے یہ کام نہ کیا تو گویا آپ نے اس (اپنے رب) کا پیغام نہیں پہنچایا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 7531]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں