🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب مناقب عثمان بن عفان أبى عمرو القرشي رضي الله عنه:
باب: ابوعمرو عثمان بن عفان القرشی (اموی) رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3697
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ، وَقَالَ:" اسْكُنْ أُحُدُ أَظُنُّهُ ضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ فَلَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب احد پہاڑ پر چڑھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے تو پہاڑ کانپنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا احد ٹھہر جا۔ میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاؤں سے مارا بھی تھا کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہی تو ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3697]
حضرت عثمان بن موہب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اہل مصر میں سے ایک شخص آیا، اس نے بیت اللہ کا حج کیا تو لوگوں کو ایک جگہ بیٹھے ہوئے دیکھا، اس نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ قریش کے لوگ ہیں۔ اس نے پوچھا: ان میں یہ بزرگ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ مصری نے کہا: اے عبد اللہ بن عمر! میں آپ سے چند باتوں کی وضاحت چاہتا ہوں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اُحد کے دن میدان سے ہٹ گئے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں (مجھے اس بات کا علم ہے)۔ پھر اس نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ جنگِ بدر سے بھی غائب تھے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں (مجھے اس کا بھی علم ہے)۔ اس نے کہا: کیا آپ اس سے آگاہ ہیں کہ وہ بیعتِ رضوان سے بھی غائب تھے اور اس میں شریک نہ ہوئے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں (جانتا ہوں)۔ تب اس شخص نے «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ بہت بڑا ہے کا نعرہ بلند کیا۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ادھر آ، میں تجھے ان کی وضاحت کرتا ہوں۔ اُحد سے ہٹ جانے کی بابت تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا اور انہیں بخش دیا۔ رہا بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہونا! تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں، وہ ان دنوں بیمار ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: (تم ان کی تیمارداری کرو) تمہیں جنگِ بدر میں شریک ہونے والوں کے برابر حصہ اور ثواب ملے گا۔ باقی رہا ان کا بیعتِ رضوان سے غائب رہنا! تو اگر کوئی شخص مکہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ باعزت ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کرتے، لہٰذا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا تو وہ چلے گئے اور جب بیعتِ رضوان ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دے کر اسے اپنے بائیں ہاتھ کے اوپر رکھا اور فرمایا: یہ عثمان کی بیعت ہے۔ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس شخص سے فرمایا: اب ان باتوں کو بھی اپنے ساتھ لے جا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3697]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3655
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كُنَّا نُخَيِّرُ بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنُخَيِّرُ أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ".
ہم سے عبدالعزیزبن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ہی میں جب ہمیں صحابہ کے درمیان انتخاب کے لیے کہا جاتا تو سب میں افضل اور بہتر ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قرار دیتے، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3655]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک ہی میں جب ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان انتخاب کے لیے کہا جاتا تو ہم سب سے افضل اور بہتر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قرار دیتے، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا درجہ آتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3655]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3675
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ:" اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر احد پہاڑ پر چڑھے تو احد کانپ اٹھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا احد! قرار پکڑ کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3675]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ احد پہاڑ پر چڑھے۔ آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ اتنے میں پہاڑ لرزنے اور کانپنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے احد! ٹھہر جا کیونکہ تجھ پر اس وقت ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3675]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں