صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب من صلى فى فروج حرير ثم نزعه:
باب: جس نے ریشم کے کوٹ میں نماز پڑھی پھر اسے اتار دیا۔
حدیث نمبر: 375
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ:" أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ، فَلَبِسَهُ فَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ، وَقَالَ: لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے یزید بن حبیب سے بیان کیا، انہوں نے ابوالخیر مرثد سے، انہوں نے عقبہ بن عامر سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشم کی قباء تحفہ میں دی گئی۔ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنا اور نماز پڑھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو بڑی تیزی کے ساتھ اسے اتار دیا۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہن کر ناگواری محسوس کر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پرہیزگاروں کے لائق نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 375]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی کوٹ بطور ہدیہ لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زیب تن فرما کر نماز پڑھی، مگر جب نماز سے فارغ ہوئے تو اسے سختی سے اتار پھینکا، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ سخت ناگوار گزرا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تقویٰ شعار لوگوں کے لیے یہ غیر مناسب ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 375]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5801
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ، فَلَبِسَهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ، ثُمَّ قَالَ: لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ"، تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ اللَّيْثِ، وَقَالَ غَيْرُهُ، فَرُّوجٌ حَرِيرٌ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی فروج (قباء) ہدیہ میں دی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا (ریشم کا مردوں کے لیے حرمت کے حکم سے پہلے) اور اسی کو پہنے ہوئے نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بڑی تیزی کے ساتھ اتار ڈالا جیسے آپ اس سے ناگواری محسوس کرتے ہوں پھر فرمایا کہ یہ متقیوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اس روایت کی متابعت عبداللہ بن یوسف نے کی ان سے لیث نے اور عبداللہ بن یوسف کے علاوہ دوسروں نے کہا کہ «فروج حرير.» ۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 5801]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی قبا بطور ہدیہ دی گئی۔ آپ نے اسے زیب تن فرما کر نماز ادا کی۔ فراغت کے بعد آپ نے اس کو جلدی سے اتار دیا جیسے آپ اس سے ناگواری محسوس کرتے ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا: ”یہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے مناسب نہیں۔“ عبداللہ بن یوسف نے لیث سے روایت کرنے میں قتیبہ کی متابعت کی ہے۔ عبداللہ بن یوسف کے علاوہ دوسروں نے «فَرُّوجُ حَرِيرٍ» کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 5801]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5802
وَقَالَ لِي مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى أَنَسٍ بُرْنُسًا أَصْفَرَ مِنْ خَزٍّ
اور کہا مجھ سے مسدد نے اور کہا ہم سے معتمر نے کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، کہا انہوں نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ پر ریشمی زرد ٹوپی کو دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 5802]
حضرت معتمر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے فرمایا: ”میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ پر زرد رنگ کی ریشمی ٹوپی دیکھی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 5802]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة