🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب هجرة الحبشة:
باب: مسلمانوں کا حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3872
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَخْبَرَهُ , أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ , وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، قَالَا لَهُ:" مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُكَلِّمَ خَالَكَ عُثْمَانَ فِي أَخِيهِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ وَكَانَ أَكْثَرَ النَّاسُ فِيمَا فَعَلَ بِهِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَانْتَصَبْتُ لِعُثْمَانَ حِينَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقُلْتُ: لَهُ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً وَهِيَ نَصِيحَةٌ، فَقَالَ: أَيُّهَا الْمَرْءُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ , فَانْصَرَفْتُ فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلَاةَ جَلَسْتُ إِلَى الْمِسْوَرِ وَإِلَى ابْنِ عَبْدِ يَغُوثَ فَحَدَّثْتُهُمَا بِالَّذِي قُلْتُ لِعُثْمَانَ وَقَالَ لِي , فَقَالَا: قَدْ قَضَيْتَ الَّذِي كَانَ عَلَيْكَ , فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَهُمَا إِذْ جَاءَنِي رَسُولُ عُثْمَانَ، فَقَالَا لِي: قَدِ ابْتَلَاكَ اللَّهُ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا نَصِيحَتُكَ الَّتِي ذَكَرْتَ آنِفًا، قَالَ: فَتَشَهَّدْتُ، ثُمَّ قُلْتُ: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ , وَكُنْتَ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَآمَنْتَ بِهِ وَهَاجَرْتَ الْهِجْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ , وَصَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتَ هَدْيَهُ , وَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ فَحَقٌّ عَلَيْكَ أَنْ تُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ لِي: يَا ابْنَ أَخِي أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا وَلَكِنْ قَدْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ مَا خَلَصَ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا، قَالَ: فَتَشَهَّدَ عُثْمَانُ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ , وَكُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآمَنْتُ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَمَا قُلْتَ , وَصَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَبَايَعْتُهُ وَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ , ثُمَّ اسْتَخْلَفَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ , ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ , ثُمَّ اسْتُخْلِفْتُ , أَفَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ مِثْلُ الَّذِي كَانَ لَهُمْ عَلَيَّ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَا هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي تَبْلُغُنِي عَنْكُمْ؟ فَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ شَأْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ , فَسَنَأْخُذُ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِالْحَقِّ , قَالَ: فَجَلَدَ الْوَلِيدَ أَرْبَعِينَ جَلْدَةً , وَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يَجْلِدَهُ , وَكَانَ هُوَ يَجْلِدُهُ"، وَقَالَ يُونُسُ , وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ: أَفَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ مِنَ الْحَقِّ مِثْلُ الَّذِي كَانَ لَهُمْ؟ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ مَا ابْتُلِيتُمْ بِهِ مِنْ شِدَّةٍ , وَفِي مَوْضِعٍ الْبَلَاءُ الِابْتِلَاءُ وَالتَّمْحِيصُ مَنْ بَلَوْتُهُ , وَمَحَّصْتُهُ أَيْ: اسْتَخْرَجْتُ مَا عِنْدَهُ يَبْلُو يَخْتَبِرُ مُبْتَلِيكُمْ مُخْتَبِرُكُمْ , وَأَمَّا قَوْلُهُ بَلَاءٌ عَظِيمٌ: النِّعَمُ وَهِيَ مِنْ أَبْلَيْتُهُ وَتِلْكَ مِنَ ابْتَلَيْتُهُ.
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ ہم سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیار نے خبر دی، انہیں مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث ان دونوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہا کہ تم اپنے ماموں (امیرالمؤمنین) عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے باب میں گفتگو کیوں نہیں کرتے (ہوا یہ تھا کہ لوگوں نے اس پر بہت اعتراض کیا تھا جو عثمان نے ولید کے ساتھ کیا تھا)۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے نکلے تو میں ان کے راستے میں کھڑا ہو گیا اور میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، آپ کو ایک خیر خواہانہ مشورہ دینا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بھلے آدمی! تم سے تو میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ یہ سن کر میں وہاں سے واپس چلا آیا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں مسور بن مخرمہ اور ابن عبدیغوث کی خدمت میں حاضر ہوا اور عثمان رضی اللہ عنہ سے جو کچھ میں نے کہا تھا اور انہوں نے اس کا جواب مجھے جو دیا تھا، سب میں نے بیان کر دیا۔ ان لوگوں نے کہا تم نے اپنا حق ادا کر دیا۔ ابھی میں اس مجلس میں بیٹھا تھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا آدمی میرے پاس (بلانے کے لیے) آیا۔ ان لوگوں نے مجھ سے کہا تمہیں اللہ تعالیٰ نے امتحان میں ڈالا ہے۔ آخر میں وہاں سے چلا اور عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے دریافت کیا تم ابھی جس خیر خواہی کا ذکر کر رہے تھے وہ کیا تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے کہا اللہ گواہ ہے پھر میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی، آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے دو ہجرتیں کیں (ایک حبشہ کو اور دوسری مدینہ کو) آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو دیکھا ہے۔ بات یہ ہے کہ ولید بن عقبہ کے بارے میں لوگوں میں اب بہت چرچا ہونے لگا ہے۔ اس لیے آپ کے لیے ضروری ہے کہ اس پر (شراب نوشی کی) حد قائم کریں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے بھتیجے یا میرے بھانجے کیا تم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی باتیں اس طرح میں نے حاصل کی تھیں جو ایک کنواری لڑکی کو بھی اپنے پردے میں معلوم ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ سن کر پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ کو گواہ کر کے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر اپنی کتاب نازل کی تھی اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر (ابتداء ہی میں) لبیک کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لے کر آئے تھے میں اس پر ایمان لایا اور جیسا کہ تم نے کہا میں نے دو ہجرتیں کیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی۔ اللہ کی قسم! میں نے آپ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی۔ آخر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دے دی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتحب ہوئے۔ اللہ کی قسم! میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ ان کے کسی معاملہ میں کوئی خیانت کی۔ ان کے بعد عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی۔ اس کے بعد میں خلیفہ ہوا۔ کیا اب میرا تم لوگوں پر وہی حق نہیں ہے جو ان کا مجھ پر تھا؟ عبیداللہ نے عرض کیا یقیناً آپ کا حق ہے پھر انہوں نے کہا پھر ان باتوں کی کیا حقیقت ہے جو تم لوگوں کی طرف سے پہنچ رہی ہیں؟ جہاں تک تم نے ولید بن عقبہ کے بارے میں ذکر کیا ہے تو ہم ان شاءاللہ اس معاملے میں اس کی گرفت حق کے ساتھ کریں گے۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر (گواہی کے بعد) ولید بن عقبہ کو چالیس کوڑے لگوائے گئے اور علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کوڑے لگائیں۔ علی رضی اللہ عنہ ہی نے اس کو کوڑے مارے تھے۔ اس حدیث کو یونس اور زہری کے بھتیجے نے بھی زہری سے روایت کیا اس میں عثمان رضی اللہ عنہ کا قول اس طرح بیان کیا، کیا تم لوگوں پر میرا وہی حق نہیں ہے جو ان لوگوں کا تم پر تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3872]
حضرت عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن اسود بن عبدیغوث رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں اپنے ماموں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید بن عقبہ کے متعلق گفتگو کرنے سے کون منع کرتا ہے؟ لوگ اس بارے میں بکثرت چہ مگوئیاں کر رہے ہیں۔ عبیداللہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نماز کے لیے باہر نکلے تو میں ان کے راستے میں کھڑا ہو گیا اور ان سے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے اور کوئی خیرخواہی کی بات کرنی ہے؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: بھلے آدمی! میں تجھ سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ یہ سن کر میں وہاں سے واپس آ گیا۔ جب میں نماز پڑھ چکا تو مسور اور ابن عبدیغوث رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھ گیا اور ان سے وہ گفتگو کی جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے میں نے کی اور جو انہوں نے مجھ سے کہا تھا۔ ان دونوں نے کہا کہ تم نے اپنا حق ادا کر دیا ہے۔ اس دوران میں جب میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ میرے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قاصد آ گیا۔ ان دونوں نے مجھے کہا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے امتحان میں ڈالا ہے۔ آخر میں وہاں سے چلا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ انہوں نے فرمایا: وہ کون سی خیرخواہی تھی جس کا ذکر آپ نے ابھی کیا تھا؟ میں نے تشہد پڑھا اور ان سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا، آپ پر کتاب نازل فرمائی۔ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا اور آپ پر ایمان لائے، پہلی دو ہجرتیں کیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر آپ کی سیرت اور طریقے کو دیکھا ہے۔ بات یہ ہے کہ ولید بن عقبہ کے بارے میں لوگ بہت باتیں کرتے ہیں، لہٰذا آپ پر ضروری ہے کہ اس پر حد قائم کریں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں سے میرے پاس اتنا ضروری علم پہنچ چکا ہے جس قدر ایک کنواری لڑکی کو اس کے پردے میں پہنچتا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا اور فرمایا: بے شک اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر مبعوث کیا۔ ان پر اپنی کتاب نازل کی۔ اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے آپ کی دعوت کو قبول کیا اور اس حق پر ایمان لایا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کر بھیجا گیا تھا اور پہلی دو ہجرتیں کیں جیسا کہ تو نے کہا ہے۔ بلاشبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا اور آپ سے بیعت کی۔ اللہ کی قسم! نہ تو میں نے آپ کی نافرمانی کی اور نہ آپ سے کوئی دھوکا فریب ہی کیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا۔ اللہ کی قسم! میں نے کبھی ان کی نافرمانی نہ کی اور نہ انہیں کوئی دھوکا فریب ہی دیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو منتخب کر لیا گیا تو اللہ کی قسم! میں نے ان کی بھی نافرمانی نہ کی اور نہ ان سے دھوکا فریب ہی کیا۔ پھر مجھے خلیفہ بنایا گیا تو کیا میرا تم پر اتنا بھی حق نہیں جتنا ان کا مجھ پر تھا؟ عبیداللہ نے کہا: کیوں نہیں، پھر انہوں نے فرمایا: ان باتوں کی کیا حقیقت ہے جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچ رہی ہیں؟ جہاں تک تم نے ولید بن عقبہ کے بارے میں ذکر کیا ہے تو ہم ان شاء اللہ اس معاملے میں حق کے ساتھ اس کی گرفت کریں گے۔ پھر آپ نے ولید بن عقبہ کو چالیس کوڑے مارنے کا حکم دیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ اسے کوڑے لگائیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی کوڑے مارا کرتے تھے۔ اس حدیث کو یونس اور زہری کے بھتیجے نے بھی زہری سے بیان کیا ہے۔ اس روایت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قول بایں الفاظ بیان ہوا ہے: کیا تم لوگوں پر میرا وہی حق نہیں ہے جو ان لوگوں کا تم پر تھا؟! ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا: ﴿بَلَاءٌ مِّن رَّبِّكُمْ﴾ [سورة البقرة: 49] کا مطلب ہے کہ جس شدت اور تنگی میں ڈال کر تمہیں آزمایا گیا۔ اور (ابوعبیدہ نے) ایک جگہ مقام پر کہا کہ بلاء کے معنی ابتلاء اور تمحیص کے ہیں، یعنی جو اس کے پاس تھا وہ میں نے نکالا۔ «يَبْلُو» کے معنی وہ آزماتا ہے۔ اور «مُبْتَلِيكُمْ» کے معنی ہیں وہ تمہارا امتحان لینے والا ہے۔ اور جہاں تک بلائے عظیم کا تعلق ہے تو اس میں بلاء سے مراد نعمتیں ہیں۔ جب یہ نعمت کے معنی میں ہو تو «أَبْلَيْتُهُ» سے ہو گا۔ اور امتحان کے معنی میں اس صورت میں ہو گا جب «ابْتَلَيْتُهُ» سے ہو گا، یعنی اگر آپ کہنا چاہیں کہ میں نے اس پر انعام کیا تو آپ کہیں گے «أَبْلَيْتُهُ» اور اگر کہنا چاہیں کہ میں نے اس کا امتحان لیا تو کہیں گے «ابْتَلَيْتُهُ» ۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3872]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3696
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَخْبَرَهُ , أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ , وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، قَالَا:" مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُكَلِّمَ عُثْمَانَ لِأَخِيهِ الْوَلِيدِ فَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِيهِ فَقَصَدْتُ لِعُثْمَانَ حَتَّى خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، قُلْتُ: إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً وَهِيَ نَصِيحَةٌ لَكَ، قَالَ: يَا أَيُّهَا الْمَرْءُ، قَالَ: مَعْمَرٌ أُرَاهُ، قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ فَانْصَرَفْتُ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ إِذْ جَاءَ رَسُولُ عُثْمَانَ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: مَا نَصِيحَتُكَ، فَقُلْتُ:" إِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ , وَكُنْتَ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَهَاجَرْتَ الْهِجْرَتَيْنِ وَصَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتَ هَدْيَهُ وَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ الْوَلِيدِ"، قَالَ: أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: لَا وَلَكِنْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ مَا يَخْلُصُ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا، قَالَ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ , فَكُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَآمَنْتُ بِمَا بُعِثَ بِهِ وَهَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ كَمَا، قُلْتَ: وَصَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعْتُهُ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ مِثْلُهُ ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُهُ ثُمَّ اسْتُخْلِفْتُ أَفَلَيْسَ لِي مِنَ الْحَقِّ مِثْلُ الَّذِي لَهُمْ، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَمَا هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي تَبْلُغُنِي عَنْكُمْ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ شَأْنِ الْوَلِيدِ فَسَنَأْخُذُ فِيهِ بِالْحَقِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ دَعَا عَلِيًّا فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِدَهُ فَجَلَدَهُ ثَمَانِينَ".
ہم سے احمد بن شبیب بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے یونس نے کہ ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو عروہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیار نے خبر دی کہ مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ تم عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید کے مقدمہ میں (جسے عثمان رضی اللہ عنہ نے کوفہ کا گورنر بنایا تھا) کیوں گفتگو نہیں کرتے، لوگ اس سے بہت ناراض ہیں۔ چنانچہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور جب وہ نماز کے لیے باہر تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے اور وہ ہے آپ کے ساتھ ایک خیر خواہی! اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بھلے آدمی تم سے (میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ معمر نے یوں روایت کیا، میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ میں واپس ان دونوں کے پاس گیا، اتنے میں عثمان رضی اللہ عنہ کا قاصد مجھ کو بلانے کے لیے آیا میں جب اس کے ساتھ عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے دریافت فرمایا کہ تمہاری خیر خواہی کیا تھی؟ میں نے عرض کیا: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور ان پر کتاب نازل کی آپ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت کو قبول کیا تھا۔ آپ نے دو ہجرتیں کیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی اور آپ کے طریقے اور سنت کو دیکھا، لیکن بات یہ ہے کہ لوگ ولید کی بہت شکایتیں کر رہے ہیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پر پوچھا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ایک کنواری لڑکی تک کو اس کے تمام پردوں کے باوجود جب پہنچ چکی ہیں تو مجھے کیوں نہ معلوم ہوتیں۔ اس پر عثمان نے فرمایا: امابعد: بیشک اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور میں اللہ اور اس کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے والوں میں بھی تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس دعوت کو لے کر بھیجے گئے تھے میں اس پر پورے طور سے ایمان لایا اور جیسا کہ تم نے کہا دو ہجرتیں بھی کیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بھی رہا ہوں اور آپ سے بیعت بھی کی ہے۔ پس اللہ کی قسم میں نے کبھی آپ کے حکم سے سرتابی نہیں کی۔ اور نہ آپ کے ساتھ کبھی کوئی دھوکا کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی میرا یہی معاملہ رہا۔ اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی یہی معاملہ رہا تو کیا جب کہ مجھے ان کا جانشیں بنا دیا گیا ہے تو مجھے وہ حقوق حاصل نہیں ہوں گے جو انہیں تھے؟ میں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں، آپ نے فرمایا کہ پھر ان باتوں کے لیے کیا جواز رہ جاتا ہے جو تم لوگوں کی طرف سے مجھے پہنچتی رہتی ہیں لیکن تم نے جو ولید کے حالات کا ذکر کیا ہے، ان شاءاللہ ہم اس کی سزا جو واجبی ہے اس کو دیں گے۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے فرمایا کہ ولید کو حد لگائیں۔ چنانچہ انہوں نے ولید کو اسی کوڑے حد کے لگائے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3696]
حضرت عبید اللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد الرحمن بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تمہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید کے متعلق گفتگو کرنے میں کیا امر مانع ہے؟ لوگ اس کے متعلق بہت چہ میگویاں کرتے ہیں۔ چنانچہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ جب وہ نماز کے لیے تشریف لائے تو میں نے عرض کی: مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے جس میں آپ کے لیے خیر خواہی ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بھلے آدمی! میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ میں واپس آکر ان لوگوں کے پاس آگیا۔ اتنے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قاصد مجھے بلانے کے لیے آگیا۔ میں جب اس کے ہمراہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے دریافت فرمایا: بتاؤ، تمہاری خیر خواہی کیا تھی؟ میں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر مبعوث فرمایا اور آپ پر قرآن نازل کیا، نیز آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا۔ آپ نے دو ہجرتیں کیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی اور آپ کے طریقے اور سنت کو ملاحظہ کیا۔ بات یہ ہے کہ لوگ ولید کے متعلق بہت باتیں کر رہے ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مجھے پہنچی ہیں جیسا کہ کنواری لڑکی تک کو اس کے پردے کے باوجود پہنچ چکی ہیں۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر مبعوث فرمایا اور میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کرنے والوں میں ہی تھا۔ میں اس حق پر ایمان لایا جسے دے کر آپ کو بھیجا گیا تھا اور میں نے دو ہجرتیں کی ہیں جیسا کہ تو نے ذکر کیا ہے۔ بلا شبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور آپ کی صحبت میں رہا، اللہ کی قسم! میں نے کبھی آپ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی آپ سے خیانت ہی کا ارتکاب کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔ اسی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی میرا یہی معاملہ رہا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی میرا یہی رویہ تھا۔ پھر مجھے ان کا جانشین بنا دیا گیا۔ تو کیا مجھے وہ حقوق حاصل نہیں ہوں گے جو انہیں حاصل تھے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور حاصل ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: پھر ان باتوں کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے جو وقتاً فوقتاً تم لوگوں کی طرف سے مجھے پہنچتی رہتی ہیں؟ باقی جو تم نے ولید کے متعلق شکایت کی ہے، ان شاء اللہ ہم اس کی سزا جو واجب ہے ضرور دیں گے۔ اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں فرمایا کہ وہ ولید کو کوڑے ماریں، چنانچہ انہوں نے ولید کو اسی (80) کوڑے بطور حد لگائے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3696]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں