صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ:
باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
حدیث نمبر: 3966
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَزَلَتْ هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ سورة الحج آية 19 فِي سِتَّةٍ مِنْ قُرَيْشٍ , عَلِيٍّ , وَحَمْزَةَ , وَعُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ , وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ , وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ , وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ".
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابوہاشم نے، ان سے ابومجلز نے، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا آیت کریمہ «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ”یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اللہ کے بارے میں مقابلہ کیا“ قریش کے چھ شخصوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی (تین مسلمانوں کی طرف کے یعنی علی، حمزہ اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم اور (تین کفار کی طرف کے یعنی) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3966]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا یہ آیتِ کریمہ ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ﴾ [سورة الحج: 19] ”یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اللہ کے بارے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کیا۔“ قریش کے چھ آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی: (تین مسلمانوں کی طرف سے، یعنی) حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور (تین کفار کی طرف سے، یعنی) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3966]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3968
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" يُقْسِمُ لَنَزَلَتْ هَؤُلَاءِ الْآيَاتُ فِي هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ السِّتَّةِ يَوْمَ بَدْرٍ" نَحْوَهُ.
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں سفیان نے، انہیں ابوہاشم نے، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس بن عباد نے اور انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ قسمیہ بیان کرتے تھے کہ یہ آیت ( «هذان خصمان اختصموا في ربهم») انہیں چھ آدمیوں کے بارے میں، بدر کی لڑائی کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔ پہلی حدیث کی طرح راوی نے اسے بھی بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3968]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ خوب قسم اٹھا کر فرمایا کرتے تھے کہ ”سورہ حج کی یہ آیات ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ﴾ [سورة الحج: 19] ان چھ آدمیوں کے متعلق نازل ہوئی تھیں جو بدر کی لڑائی میں ایک دوسرے کے مقابلے میں آئے تھے۔“ راوی نے پہلی حدیث کی طرح اسے بھی بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3968]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3969
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُقْسِمُ قَسَمًا إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ سورة الحج آية 19 نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ بَرَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ , حَمْزَةَ , وَعَلِيٍّ , وَعُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ , وَعُتْبَةَ , وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ , وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ہم کو ابوہاشم نے خبر دی، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ قسمیہ کہتے تھے کہ یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ان کے بارے میں اتری جو بدر کی لڑائی میں مقابلے کے لیے نکلے تھے یعنی حمزہ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم (مسلمانوں کی طرف سے) اور عتبہ، شیبہ، ربیعہ کے بیٹے اور ولید بن عتبہ (کافروں کی طرف سے)۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3969]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ قسم اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ یہ آیت ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ﴾ [سورة الحج: 19] ”یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا“ ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جو بدر کی لڑائی میں ایک دوسرے کے مقابلے کے لیے نکلے تھے، یعنی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی طرف سے اور عتبہ، شیبہ، جو ربیعہ کے بیٹے تھے، نیز ولید بن عتبہ کفار کی طرف سے (نکلے تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3969]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4743
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ كَانَ يُقْسِمُ قَسَمًا إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ: هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ سورة الحج آية 19، نَزَلَتْ فِي حَمْزَةَ وَصَاحِبَيْهِ، وَعُتْبَةَ وَصَاحِبَيْهِ يَوْمَ بَرَزُوا فِي يَوْمِ بَدْرٍ". رَوَاهُ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، وَقَالَ عُثْمَانُ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَوْلَهُ.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوہاشم نے خبر دی، انہیں ابومجلز نے، انہیں قیس بن عباد نے اور انہیں ابوذر رضی اللہ عنہ نے وہ قسم کھا کر بیان کرتے تھے کہ یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ”یہ دو فریق ہیں، جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا۔“ حمزہ اور آپ کے دونوں ساتھیوں (علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی طرف سے) اور (مشرکین کی طرف سے) عتبہ اور اس کے دونوں ساتھیوں (شیبہ اور ولید بن عتبہ) کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب انہوں نے بدر کی لڑائی میں میدان میں آ کر مقابلہ کی دعوت دی تھی۔ اس روایت کو سفیان نے ابوہاشم سے اور عثمان نے جریر سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابوہاشم سے اور انہوں نے ابومجلز سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4743]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ قسم اٹھا کر بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت: ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ﴾ [سورة الحج: 19] ”یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے متعلق جھگڑا کیا“ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے دونوں ساتھیوں (حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ)، نیز عتبہ اور اس کے دونوں ساتھیوں (شیبہ اور ولید) کے متعلق نازل ہوئی تھی جب انہوں نے بدر کے دن میدان میں آ کر مقابلے کی دعوت دی تھی۔ اس روایت کو سفیان نے بھی ابوہاشم سے بیان کیا ہے، اور عثمان نے جریر سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابوہاشم سے، انہوں نے ابومجلز سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4743]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة