🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب ما جاء فى القبلة، ومن لا يرى الإعادة على من سها فصلى إلى غير القبلة:
باب: قبلہ سے متعلق مزید احادیث اور جس نے یہ کہا کہ اگر کوئی بھول سے قبلہ کے علاوہ کسی دوسری طرف منہ کر کے نماز پڑھ لے تو اس پر نماز کا لوٹانا واجب نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 403
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ:" إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا"، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّأْمِ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے عبداللہ بن دینار کے واسطہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر سے، آپ نے فرمایا کہ لوگ قباء میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں ایک آنے والا آیا۔ اس نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کل وحی نازل ہوئی ہے اور انہیں کعبہ کی طرف (نماز میں) منہ کرنے کا حکم ہو گیا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے بھی کعبہ کی جانب منہ کر لیے جب کہ اس وقت وہ شام کی جانب منہ کئے ہوئے تھے، اس لیے وہ سب کعبہ کی جانب گھوم گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 403]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک ایک آنے والا آیا اور اس نے اطلاع دی کہ آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے اور اس میں آپ کو استقبال کعبہ کا حکم دے دیا گیا ہے، لہذا تم بھی کعبے کی طرف اپنا رخ کر لو، چنانچہ وہ (سنتے ہی) کعبے کی طرف گھوم گئے جب کہ اس وقت ان کا رخ شام کی طرف تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 403]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 41
قَالَ مَالِكٌ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا أَسْلَمَ الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ سَيِّئَةٍ كَانَ زَلَفَهَا، وَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ الْقِصَاصُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا، إِلَّا أَنْ يَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهَا"
امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے زید بن اسلم نے خبر دی، انہیں عطاء بن یسار نے، ان کو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جب (ایک) بندہ مسلمان ہو جائے اور اس کا اسلام عمدہ ہو (یقین و خلوص کے ساتھ ہو) تو اللہ اس کے گناہ کو جو اس نے اس (اسلام لانے) سے پہلے کیا معاف فرما دیتا ہے اور اب اس کے بعد کے لیے بدلا شروع ہو جاتا ہے (یعنی) ایک نیکی کے عوض دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک (ثواب) اور ایک برائی کا اسی برائی کے مطابق (بدلا دیا جاتا ہے) مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس برائی سے بھی درگزر کرے۔ (اور اسے بھی معاف فرما دے۔ یہ بھی اس کے لیے آسان ہے۔) [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 41]
حضرت حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جب کوئی بندہ مسلمان ہو جاتا ہے، پھر اسلام پر اچھی طرح کاربند رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے جن کا اس نے قبل از اسلام ارتکاب کیا تھا۔ اور اس کے بعد پھر قصاص کا اصول چلتا ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک دیا جاتا ہے۔ اور برائی کا بدلہ تو برائی کے مطابق ہی دیا جاتا ہے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرما لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 41]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 399
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ سورة البقرة آية 144، فَتَوَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ، وَقَالَ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ وَهُمْ الْيَهُودُ: مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا، قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ سورة البقرة آية 142، فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ مَا صَلَّى، فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ تَوَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ فَتَحَرَّفَ الْقَوْمُ حَتَّى تَوَجَّهُوا نَحْوَ الْكَعْبَةِ".
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا، کہا انہوں نے ابواسحاق سے بیان کیا، کہا انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم (دل سے) چاہتے تھے کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں۔ آخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہم آپ کا آسمان کی طرف باربار چہرہ اٹھانا دیکھتے ہیں۔ پھر آپ نے کعبہ کی طرف منہ کر لیا اور احمقوں نے جو یہودی تھے کہنا شروع کیا کہ انہیں اگلے قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا۔ آپ فرما دیجیئے کہ اللہ ہی کی ملکیت ہے مشرق اور مغرب، اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت کر دیتا ہے۔ (جب قبلہ بدلا تو) ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی پھر نماز کے بعد وہ چلا اور انصار کی ایک جماعت پر اس کا گزر ہوا جو عصر کی نماز بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھ رہے تھے۔ اس شخص نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ نماز پڑھی ہے جس میں آپ نے موجودہ قبلہ (کعبہ) کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے۔ پھر وہ جماعت (نماز کی حالت میں ہی) مڑ گئی اور کعبہ کی طرف منہ کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 399]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ انہیں کعبے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم ہو جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ﴾ [سورة البقرة: 144] ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ اس حکم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبے کی طرف رخ کر لیا۔ اس پر بے عقل لوگوں نے، جو یہود تھے، کہا: ﴿سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ۚ قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [سورة البقرة: 142] ان لوگوں کو کس چیز نے اس قبلے سے پھیر دیا ہے جس کی طرف وہ متوجہ تھے؟ کہہ دیجیے! مشرق و مغرب اللہ ہی کی ملکیت ہیں، اللہ جسے چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔ پھر ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (قبلہ رخ ہو کر) نماز پڑھی اور نماز کے بعد وہ چلا گیا، پھر نماز عصر میں یہ شخص انصار کی جماعت کے پاس سے گزرا، یہ اس وقت بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے۔ اس شخص نے انہیں اطلاع دی کہ وہ اس بات کا عینی گواہ ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے، چنانچہ یہ لوگ اسی وقت گھوم گئے اور اپنا رخ کعبے کی طرف کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 399]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4486
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، سَمِعَ زُهَيْرًا , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ الْبَيْتِ، وَأَنَّهُ صَلَّى أَوْ صَلَّاهَا صَلَاةَ الْعَصْرِ وَصَلَّى مَعَهُ قَوْمٌ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ صَلَّى مَعَهُ، فَمَرَّ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ وَهُمْ رَاكِعُونَ، قَالَ: أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ مَكَّةَ فَدَارُوا كَمَا هُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ، وَكَانَ الَّذِي مَاتَ عَلَى الْقِبْلَةِ قَبْلَ أَنْ تُحَوَّلَ قِبَلَ الْبَيْتِ رِجَالٌ قُتِلُوا لَمْ نَدْرِ مَا نَقُولُ فِيهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ سورة البقرة آية 143.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا میں نے زہیر سے سنا، انہوں نے ابواسحاق سے اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ یا سترہ مہینے تک نماز پڑھی لیکن آپ چاہتے تھے کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ (کعبہ) ہو جائے (آخر ایک دن اللہ کے حکم سے) آپ نے عصر کی نماز (بیت اللہ کی طرف رخ کر کے) پڑھی اور آپ کے ساتھ بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی پڑھی۔ جن صحابہ نے یہ نماز آپ کے ساتھ پڑھی تھی، ان میں سے ایک صحابی مدینہ کی ایک مسجد کے قریب سے گزرے۔ اس مسجد میں لوگ رکوع میں تھے، انہوں نے اس پر کہا کہ میں اللہ کا نام لے کر گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے، تمام نمازی اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے۔ اس کے بعد لوگوں نے کہا کہ جو لوگ کعبہ کے قبلہ ہونے سے پہلے انتقال کر گئے، ان کے متعلق ہم کیا کہیں۔ (ان کی نمازیں قبول ہوئیں یا نہیں؟) اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وما كان الله ليضيع إيمانكم إن الله بالناس لرءوف رحيم‏» اللہ ایسا نہیں کہ تمہاری عبادات کو ضائع کرے، بیشک اللہ اپنے بندوں پر بہت بڑا مہربان اور بڑا رحیم ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4486]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے سولہ یا سترہ مہینے تک نماز پڑھی، البتہ آپ کی خواہش تھی کہ قبلہ، بیت اللہ (کعبہ) ہو جائے۔ بالآخر آپ نے ایک دن نماز عصر (بیت اللہ کی طرف رخ کر کے) پڑھی اور آپ کے ہمراہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ جن حضرات نے آپ کے ہمراہ یہ نماز پڑھی تھی، ان میں سے ایک شخص مدینہ طیبہ کی ایک مسجد کے قریب سے گزرا تو نمازی مسجد میں بحالت رکوع تھے۔ اس (صحابی) نے کہا: میں اللہ کا نام لے کر گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے۔ یہ سن کر مسجد کے تمام نمازی اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے۔ (سلام کے بعد آپس میں) کہنے لگے کہ جو حضرات کعبہ کے قبلہ بننے سے قبل انتقال کر گئے ہیں ان کے متعلق ہم کیا کہیں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة البقرة: 143] اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان (نمازوں) کو ضائع کر دے، یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد شفقت کرنے والا، انتہائی مہربان ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4486]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4488
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: بَيْنَا النَّاسُ يُصَلُّونَ الصُّبْحَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ إِذْ جَاءَ جَاءٍ، فَقَالَ:" أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرْآنًا أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا فَتَوَجَّهُوا إِلَى الْكَعْبَةِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ ایک صاحب آئے اور انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا ہے کہ آپ نماز میں کعبہ کی طرف منہ کریں، لہٰذا آپ لوگ بھی کعبہ کی طرف رخ کر لیں۔ سب نمازی اسی وقت کعبہ کی طرف پھر گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4488]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ مسجدِ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک صاحب آئے اور انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا ہے کہ آپ نماز میں کعبہ کی طرف منہ کریں، لہذا آپ حضرات بھی کعبہ کی طرف منہ کر لیں، تو سب نمازی اسی وقت کعبہ کی طرف پھر گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4488]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4490
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ , حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: بَيْنَمَا النَّاسُ فِي الصُّبْحِ بِقُبَاءٍ جَاءَهُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، وَأُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ، أَلَا فَاسْتَقْبِلُوهَا وَكَانَ وَجْهُ النَّاسِ إِلَى الشَّأْمِ فَاسْتَدَارُوا بِوُجُوهِهِمْ إِلَى الْكَعْبَةِ".
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک صاحب وہاں آئے اور کہا کہ رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے کہ (نماز میں) کعبہ کی طرف منہ کریں، پس آپ لوگ بھی اب کعبہ کی طرف رخ کر لیں۔ راوی نے بیان کیا کہ لوگوں کا منہ اس وقت شام (بیت المقدس) کی طرف تھا، اسی وقت لوگ کعبہ کی طرف پھر گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4490]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک ایک صاحب ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے اور آپ کو بیت اللہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، لہذا آپ لوگ بھی اپنا رخ بیت اللہ کی طرف کر لیں۔ اس وقت لوگوں کا رخ شام (بیت المقدس) کی طرف تھا تو وہ اسی حالت میں کعبہ کی طرف پھر گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4490]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4491
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: بَيْنَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ، فَاسْتَقْبِلُوهَا وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّأْمِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ".
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک صاحب (مدینہ سے) آئے اور کہا کہ رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے اور آپ کو حکم ہوا ہے کہ کعبہ کی طرف منہ کر لیں۔ اس لیے آپ لوگ بھی کعبہ کی طرف پھر جائیں۔ اس وقت ان کا منہ شام کی طرف تھا۔ چنانچہ سب نمازی کعبہ کی طرف پھر گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4491]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک وقت لوگ مسجدِ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے ان کے پاس آ کر کہا: آج رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے اور آپ کو حکم ہوا ہے کہ کعبے کی طرف منہ کر لیں، اس لیے آپ لوگ کعبے کی طرف منہ کر لیں۔ اس وقت ان کا منہ شام (بیت المقدس) کی طرف تھا، چنانچہ سب نمازی کعبے کی طرف پھر گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4491]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4492
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ سُفْيَانَ , حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ صَرَفَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4492]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4492]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4493
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ:" بَيْنَا النَّاسُ فِي الصُّبْحِ بِقُبَاءٍ إِذْ جَاءَهُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ:" أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، فَأُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا وَاسْتَدَارُوا كَهَيْئَتِهِمْ فَتَوَجَّهُوا إِلَى الْكَعْبَةِ، وَكَانَ وَجْهُ النَّاس إِلَى الشَّأْمِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک صاحب آئے اور کہا کہ رات قرآن نازل ہوا ہے اور کعبہ کی طرف منہ کر لینے کا حکم ہوا ہے۔ اس لیے آپ لوگ بھی کعبہ کی طرف منہ کر لیں اور جس حالت میں ہیں، اسی طرح اس کی طرف متوجہ ہو جائیں (یہ سنتے ہی) تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کعبہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اس وقت لوگوں کا منہ شام کی طرف تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4493]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ مسجدِ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کے پاس ایک صاحب آئے اور انہوں نے کہا: آج رات قرآن نازل ہوا ہے اور کعبہ کی طرف منہ کر لینے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے آپ لوگ خانہ کعبہ کی طرف منہ کر لیں، چنانچہ وہ لوگ اسی حالت میں پھر گئے اور خانہ کعبہ کی طرف منہ کر لیا، پہلے ان کا منہ شام کی طرف تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4493]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4494
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بِقُبَاءٍ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ , فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّأْمِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْقِبْلَةِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابھی لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والے صاحب آئے اور کہا کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے اور آپ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ اس لیے آپ لوگ بھی اسی طرف منہ کر لیں۔ وہ لوگ شام کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے لیکن اسی وقت کعبہ کی طرف پھر گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4494]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ ابھی مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والے نے آ کر خبر دی: آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے اور آپ کو خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے آپ لوگ بھی اسی طرح منہ کر لیں۔ وہ لوگ اس وقت شام (بیت المقدس) کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، وہ اسی حالت میں کعبے کی طرف پھر گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 4494]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7251
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:" بَيْنَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ، فَقَال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ، فَاسْتَقْبِلُوهَا، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّأْمِ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مسجد قباء میں لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والے نے ان کے پاس پہنچ کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رات قرآن کی آیت نازل ہوئی ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ نماز میں کعبہ کی طرف منہ کر لیں پس تم بھی اسی طرف رخ کر لو۔ ان لوگوں کے چہرے شام (یعنی بیت المقدس) کی طرف تھے، پھر وہ لوگ کعبہ کی طرف مڑ گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 7251]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، اچانک ان کے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رات قرآن نازل ہوا ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ نماز میں کعبے کی طرف منہ کر لو۔ ان کے منہ شام کی جانب تھے، پھر وہ لوگ کعبے کی طرف پھر گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 7251]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7252
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ"صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ، أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا سورة البقرة آية 144، فَوُجِّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ وَصَلَّى مَعَهُ رَجُلٌ الْعَصْرَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ، قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَانْحَرَفُوا وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ".
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع بن جراح نے بیان کیا، ان سے اسرائیل بن یونس نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے لیکن آپ کی آرزو تھی کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے (سورۃ البقرہ میں) یہ آیت نازل کی «قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها‏» ہم آپ کے منہ کے باربار آسمان کی طرف اٹھنے کو دیکھتے ہیں، عنقریب ہم آپ کو منہ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس سے آپ خوش ہوں گے۔ چنانچہ رخ کعبہ کی طرف کر دیا گیا۔ ایک صاحب نے عصر کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر وہ مدینہ سے نکل کر انصار کی ایک جماعت تک پہنچے اور کہا کہ وہ گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہو گیا ہے چنانچہ سب لوگ کعبہ رخ ہو گئے حالانکہ وہ عصر کی نماز کے رکوع میں تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 7252]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے لیکن آپ کی خواہش تھی کہ بیت اللہ کی طرف منہ کریں، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا﴾ [سورة البقرة: 144] یقیناً ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھتے ہیں، ہم آپ کو اس قبلے کی طرف ضرور پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ کا رخ کعبے کی طرف پھیر دیا گیا۔ آپ کے ساتھ ایک آدمی نے عصر کی نماز پڑھی، پھر وہ انصار کی ایک جماعت کے پاس گزرا تو کہا: وہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی ہے اور آپ کو کعبے کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ یہ سن کر وہ لوگ کعبہ رخ ہو گئے حالانکہ وہ نماز عصر کے رکوع میں تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 7252]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں