🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب قول الله تعالى: {إن الذين تولوا منكم يوم التقى الجمعان إنما استزلهم الشيطان ببعض ما كسبوا ولقد عفا الله عنهم إن الله غفور حليم} :
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ”بیشک تم میں سے جو لوگ اس دن واپس لوٹ گئے جس دن کہ دونوں جماعتیں آپس میں مقابل ہوئی تھیں تو یہ تو بس اس سبب سے ہوا کہ شیطان نے انہیں ان کے بعض کاموں کی وجہ سے بہکا دیا تھا اور بیشک اللہ انہیں معاف کر چکا ہے، یقیناً اللہ بڑا مغفرت والا، بڑا حلم والا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4066
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ حَجَّ الْبَيْتَ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ مَنْ هَؤُلاَءِ الْقُعُودُ قَالُوا هَؤُلاَءِ قُرَيْشٌ. قَالَ مَنِ الشَّيْخُ قَالُوا ابْنُ عُمَرَ. فَأَتَاهُ فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ أَتُحَدِّثُنِي، قَالَ أَنْشُدُكَ بِحُرْمَةِ هَذَا الْبَيْتِ أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَتَعْلَمُهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ فَلَمْ يَشْهَدْهَا قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَتَعْلَمُ أَنَّهُ تَخَلَّفَ عَنْ بَيْعَةِ الرُّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَكَبَّرَ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ تَعَالَ لأُخْبِرَكَ وَلأُبَيِّنَ لَكَ عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ، أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ، وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيضَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ» . وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرُّضْوَانِ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ لَبَعَثَهُ مَكَانَهُ، فَبَعَثَ عُثْمَانَ، وَكَانَ بَيْعَةُ الرُّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى: «هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ» . فَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ فَقَالَ: «هَذِهِ لِعُثْمَانَ» . اذْهَبْ بِهَذَا الآنَ مَعَكَ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوحمزہ نے خبر دی، ان سے عثمان بن موہب نے بیان کیا کہ ایک صاحب بیت اللہ کے حج کے لیے آئے تھے۔ دیکھا کہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ پوچھا کہ یہ بیٹھے ہوئے کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ قریش ہیں۔ پوچھا کہ ان میں شیخ کون ہیں؟ بتایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما۔ وہ صاحب ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ میں آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں۔ آپ مجھ سے واقعات (صحیح) بیان کر دیجئیے۔ اس گھر کی حرمت کی قسم دے کر میں آپ سے پوچھتا ہوں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے غزوہ احد کے موقع پر راہ فرار اختیار کی تھی؟ انہوں نے کہا کہ ہاں صحیح ہے۔ انہوں نے پوچھا آپ کو یہ بھی معلوم ہے عثمان رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک نہیں تھے؟ کہا کہ ہاں یہ بھی ہوا تھا۔ انہوں نے پوچھا اور آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ بیعت رضوان (صلح حدیبیہ) میں بھی پیچھے رہ گئے تھے اور حاضر نہ ہو سکے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں یہ بھی صحیح ہے۔ اس پر ان صاحب نے (مارے خوشی کے) اللہ اکبر کہا لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا۔ یہاں آؤ میں تمہیں بتاؤں گا اور جو سوالات تم نے کئے ہیں ان کی میں تمہارے سامنے تفصیل بیان کر دوں گا۔ احد کی لڑائی میں فرار سے متعلق جو تم نے کہا تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی غلطی معاف کر دی ہے۔ بدر کی لڑائی میں ان کے نہ ہونے کے متعلق جو تم نے کہا تو اس کی وجہ یہ تھی۔ کہ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی (رقیہ رضی اللہ عنہا) تھیں اور وہ بیمار تھیں۔ آپ نے فرمایا تھا کہ تمہیں اس شخص کے برابر ثواب ملے گا جو بدر کی لڑائی میں شریک ہو گا اور اسی کے برابر مال غنیمت سے حصہ بھی ملے گا۔ بیعت رضوان میں ان کی عدم شرکت کا جہاں تک سوال ہے تو وادی مکہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی شخص ہر دل عزیز ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بجائے اسی کو بھیجتے۔ اس لیے عثمان رضی اللہ عنہ کو وہاں بھیجنا پڑا اور بیعت رضوان اس وقت ہوئی جب وہ مکہ میں تھے۔ (بیعت لیتے ہوئے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کو اٹھا کر فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور اسے اپنے (بائیں) ہاتھ پر مار کر فرمایا کہ یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے۔ اب جا سکتے ہو۔ البتہ میری باتوں کو یاد رکھنا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4066]
حضرت عثمان بن موہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص بیت اللہ کا حج کرنے آیا تو کچھ لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ اس نے پوچھا: یہ بیٹھے ہوئے لوگ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ قریش ہیں۔ اس نے پھر پوچھا: یہ بوڑھا بزرگ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ وہ آپ کے پاس آ کر کہنے لگا: میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں کیا آپ مجھے جواب دیں گے؟ پھر اس نے کہا: میں آپ کو اس گھر کی حرمت و عزت کی قسم دیتا ہوں کیا آپ کو علم ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ احد کی لڑائی سے بھاگ گئے تھے؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ غزوہ بدر میں بھی موجود نہیں تھے بلکہ غیر حاضر تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ پھر اس نے کہا: کیا آپ کے علم میں ہے کہ وہ بیعت رضوان سے بھی پیچھے رہ گئے تھے اور وہاں حاضر نہ تھے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ تب اس نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ادھر آ! میں تجھے بتاؤں اور جو تو نے سوال کیا اس کی حقیقت سے آگاہ کروں۔ رہا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا احد کے دن راہ فرار اختیار کرنا تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ہے۔ اور ان کا غزوہ بدر سے غائب رہنا اس وجہ سے تھا کہ ان کی شریک حیات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں وہ بیمار تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: اے عثمان! تم ان کی تیمارداری کرو۔ تمہیں شرکائے بدر کے برابر ثواب ملے گا اور ان کے حصے کے برابر تمہیں مال غنیمت بھی ملے گا۔ اور بیعت رضوان سے ان کا پیچھے رہنا اس وجہ سے تھا کہ اگر مکہ مکرمہ میں کوئی شخص حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے عزیز تر ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جگہ اسے مکے بھیجتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور بیعت رضوان ان کے مکہ جانے کے بعد عمل میں آئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ اور اسے اپنے دست اقدس پر رکھتے ہوئے فرمایا: یہ عثمان کی بیعت ہے۔ اب ان جوابات کو ساتھ لے جاؤ اور جو کچھ دل میں آئے کہتے پھرو۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4066]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3130
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَوْهَبٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: إِنَّمَا تَغَيَّبَ عُثْمَانُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيضَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ".
ہم سے موسیٰ بن اسمعٰیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عثمان بن موہب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عثمان رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی تھیں اور وہ بیمار تھیں۔ ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا بدر میں شریک ہونے والے کسی شخص کو ‘ اور اتنا ہی حصہ بھی ملے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3130]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں اس لیے حاضر نہ ہو سکے کہ ان کی بیوی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں، ان دنوں بیمار تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: (تم ٹھہر جاؤ) تمہیں اس شخص کے برابر ثواب اور حصہ دیا جائے گا جو بدر میں شریک ہوا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3130]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3698
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا , ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثْمَانَ ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ". تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
مجھ سے محمد بن حاتم بن بزیع نے بیان کیا، کہا ہم سے شاذان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ ماجشون نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں قرار دیتے تھے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کو پھر عثمان رضی اللہ عنہ کو۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر ہم کوئی بحث نہیں کرتے تھے اور کسی کو ایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے، اس حدیث کو عبداللہ بن صالح نے بھی عبدالعزیز سے روایت کیا ہے۔ اس کو اسماعیلی نے وصل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3698]
حضرت عثمان بن مواہب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اہل مصر سے ایک شخص آیا، اس نے بیت اللہ کا حج کیا تو لوگوں کو ایک جگہ بیٹھے ہوئے دیکھا۔ پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ قریش کے لوگ ہیں۔ اس نے پوچھا: ان میں یہ بزرگ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ مصری نے کہا: اے عبد اللہ بن عمر! میں آپ سے چند باتوں کی وضاحت چاہتا ہوں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اُحد کے دن میدان سے بھاگ نکلے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں (مجھے اس بات کا علم ہے)۔ پھر اس نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ جنگ بدر سے بھی غائب تھے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں (مجھے اس کا بھی علم ہے)۔ اس نے کہا: کیا آپ اس سے آگاہ ہیں کہ وہ بیعت رضوان سے بھی غائب تھے اور اس میں شریک نہ ہوئے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں (جانتا ہوں)۔ تب اس شخص نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ادھر آ، میں تجھے ان کی وضاحت کرتا ہوں۔ اُحد سے بھاگ جانے کی بابت تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا اور انہیں بخش دیا۔ رہا بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہونا! تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر تھیں، وہ ان دنوں بیمار ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: (تم اس کی تیمارداری کرو) تمہیں جنگ بدر میں شریک ہونے والوں کے برابر حصہ اور ثواب ملے گا۔ باقی رہا ان کا بیعت رضوان سے غائب رہنا! تو اگر کوئی شخص مکہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ باعزت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے روانہ کر دیتے، لہٰذا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا تو وہ چلے گئے اور جب بیعت رضوان ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دے کر اسے اپنے بائیں ہاتھ کے اوپر رکھا اور فرمایا: یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت ہے۔ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا: اب ان باتوں کو بھی اپنے ساتھ لے جا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3698]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں