صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب غزوة الحديبية:
باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4150
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا , وَنَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ , كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا , فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً , فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهَا فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا , ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ , فَتَوَضَّأَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَدَعَا , ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا فَتَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ إِنَّهَا أَصْدَرَتْنَا مَا شِئْنَا نَحْنُ وَرِكَابَنَا".
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے ابواسحاق نے ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ‘ تم لوگ (سورۃ انا فتحنا میں) فتح سے مراد مکہ کی فتح لیتے ہو۔ فتح مکہ تو بہرحال فتح ہی تھی لیکن ہم غزوہ حدیبیہ کی بیعت رضوان کو حقیقی فتح سمجھتے ہیں۔ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو آدمی تھے۔ حدیبیہ نامی ایک کنواں وہاں پر تھا ‘ ہم نے اس میں سے اتنا پانی کھینچا کہ اس کے اندر ایک قطرہ بھی پانی باقی نہ رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ہوئی (کہ پانی ختم ہو گیا ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ کر کسی ایک برتن میں پانی طلب فرمایا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور کلی کی اور دعا فرمائی۔ پھر سارا پانی اس کنویں میں ڈال دیا۔ تھوڑی دیر کے لیے ہم نے کنویں کو یوں ہی رہنے دیا اور اس کے بعد جتنا ہم نے چاہا اس میں سے پانی پیا اور اپنی سواریوں کو پلایا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4150]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تم لوگ فتح سے مراد فتح مکہ لیتے ہو، ٹھیک ہے فتح مکہ تو فتح تھی ہی، لیکن ہم لوگ حدیبیہ کے روز بیعتِ رضوان کو فتح شمار کرتے ہیں۔ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم چودہ سو افراد تھے۔ حدیبیہ نامی وہاں ایک کنواں تھا۔ ہم نے اس سے اتنا پانی نکالا کہ اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہ چھوڑا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ کر ایک برتن میں پانی طلب کیا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر کلی کی اور دعا فرمائی، پھر اس پانی کو کنویں میں ڈال دیا۔ تھوڑی دیر کے لیے ہم نے اس کنویں کو یوں ہی رہنے دیا، پھر تو یوں ہوا کہ اس نے ہماری چاہت کے مطابق ہمیں اور ہمارے اونٹوں کو بھی سیراب کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4150]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3577
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا حَتَّى لَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَفِيرِ الْبِئْرِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَمَجَّ فِي الْبِئْرِ فَمَكَثْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ اسْتَقَيْنَا حَتَّى رَوِينَا وَرَوَتْ أَوْ صَدَرَتْ رَكَائِبُنَا".
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ کے دن ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے۔ حدیبیہ ایک کنویں کا نام ہے ہم نے اس سے اتنا پانی کھینچا کہ اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہ رہا (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ تشریف لائے) اور کنویں کے کنارے بیٹھ کر پانی کی دعا کی اور اس پانی سے کلی کی اور کلی کا پانی کنویں میں ڈال دیا۔ ابھی تھوڑی دیر بھی نہیں ہوئی تھی کہ کنواں پھر پانی سے بھر گیا۔ ہم بھی اس سے خوب سیر ہوئے اور ہمارے اونٹ بھی سیراب ہو گئے یا پانی پی کر لوٹے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3577]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو افراد تھے۔ حدیبیہ ایک کنواں ہے۔ ہم نے اس سے اتنا پانی نکالا کہ اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہ چھوڑا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کے کنارے پر بیٹھ گئے۔ آپ نے پانی منگوایا اور کنویں میں پانی کی کلی ڈالی، چنانچہ ہم تھوڑا سا وقت وہاں ٹھہرے ہوں گے (کہ کنواں پانی سے بھر گیا)۔ ہم نے خوب سیر ہو کر وہاں سے پانی پیا اور ہمارے مویشی بھی وہاں سے سیراب ہو کر لوٹے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3577]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة