صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب جمع القرآن:
باب: قرآن مجید کے جمع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4987
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ،" أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ وَكَانَ يُغَازِي أَهْلَ الشَّأْمِ فِي فَتْحِ إِرْمِينِيَةَ وَأَذْرَبِيجَانَ مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَأَفْزَعَ حُذَيْفَةَ اخْتِلَافُهُمْ فِي الْقِرَاءَةِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ لِعُثْمَانَ:" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَدْرِكْ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْكِتَابِ اخْتِلَافَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، فَأَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلَى حَفْصَةَ، أَنْ أَرْسِلِي إِلَيْنَا بِالصُّحُفِ نَنْسَخُهَا فِي الْمَصَاحِفِ ثُمَّ نَرُدُّهَا إِلَيْكِ، فَأَرْسَلَتْ بِهَا حَفْصَةُ إِلَى عُثْمَانَ، فَأَمَرَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وسَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَنَسَخُوهَا فِي الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ عُثْمَانُ لِلرَّهْطِ الْقُرَشِيِّينَ الثَّلَاثَةِ: إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَاكْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ، فَفَعَلُوا حَتَّى إِذَا نَسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ إِلَى حَفْصَةَ، وَأَرْسَلَ إِلَى كُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِمَّا نَسَخُوا، وَأَمَرَ بِمَا سِوَاهُ مِنَ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ صَحِيفَةٍ أَوْ مُصْحَفٍ أَنْ يُحْرَقَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد عوفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ امیرالمؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اس وقت عثمان رضی اللہ عنہ ارمینیہ اور آذربیجان کی فتح کے سلسلے میں شام کے غازیوں کے لیے جنگ کی تیاریوں میں مصروف تھے، تاکہ وہ اہل عراق کو ساتھ لے کر جنگ کریں۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی قرآت کے اختلاف کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ آپ نے عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ امیرالمؤمنین اس سے پہلے کہ یہ امت (امت مسلمہ) بھی یہودیوں اور نصرانیوں کی طرح کتاب اللہ میں اختلاف کرنے لگے، آپ اس کی خبر لیجئے۔ چنانچہ عثمان رضی اللہ عنہ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں کہلایا کہ صحیفے (جنہیں زید رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم سے جمع کیا تھا اور جن پر مکمل قرآن مجید لکھا ہوا تھا) ہمیں دے دیں تاکہ ہم انہیں مصحفوں میں (کتابی شکل میں) نقل کروا لیں۔ پھر اصل ہم آپ کو لوٹا دیں گے حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ صحیفے عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دئیے اور آپ نے زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعد بن العاص، عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ ان صحیفوں کو مصحفوں میں نقل کر لیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس جماعت کے تین قریشی صحابیوں سے کہا کہ اگر آپ لوگوں کا قرآن مجید کے کسی لفظ کے سلسلے میں زید رضی اللہ عنہ سے اختلاف ہو تو اسے قریش ہی کی زبان کے مطابق لکھ لیں کیونکہ قرآن مجید بھی قریش ہی کی زبان میں نازل ہوا تھا۔ چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور جب تمام صحیفے مختلف نسخوں میں نقل کر لیے گئے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ان صحیفوں کو واپس لوٹا دیا اور اپنی سلطنت کے ہر علاقہ میں نقل شدہ مصحف کا ایک ایک نسخہ بھیجوا دیا اور حکم دیا کے اس کے سوا کوئی چیز اگر قرآن کی طرف منسوب کی جاتی ہے خواہ وہ کسی صحیفہ یا مصحف میں ہو تو اسے جلا دیا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 4987]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جبکہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس وقت آرمینیا اور آذربائیجان کی فتح کے سلسلے میں شام کے غازیوں کے لیے جنگی تیاریوں میں مصروف تھے تاکہ وہ اہل عراق کو ساتھ لے کر جنگ کریں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے قرآن پڑھنے میں اختلاف کے باعث سخت پریشان تھے، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے عرض کی: ”اے امیر المومنین! اس سے پہلے کہ یہ امت بھی یہود و نصاریٰ کی طرح کتاب اللہ میں اختلاف کرنے لگے آپ اس کی خبر لیں۔“ چنانچہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کسی کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ وہ صحیفے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو پہنچا دیں۔ آپ نے حضرت زید بن ثابت، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت سعید بن العاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ ان صحیفوں کو مصاحف میں نقل کر لیں۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے تینوں قریشیوں کو فرمایا: ”جب تمہارا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ قرآن کریم کے کسی کلمے میں اختلاف ہو جائے تو اسے قریش کے محاورے کے مطابق لکھنا، کیونکہ قرآن مجید قریش کی زبان میں نازل ہوا تھا۔“ چنانچہ ان حضرات نے ایسا ہی کیا، جب تمام صحیفوں کو مختلف مصاحف میں نقل کر لیا گیا تو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وہ صحیفے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو واپس بھیج دیے اور اپنی سلطنت کے ہر علاقے میں نقل شدہ مصحف کا ایک ایک نسخہ بھیج دیا اور حکم دیا کہ اس کے علاوہ اگر کوئی چیز قرآن کی طرف منسوب کی جاتی ہے، خواہ کسی صحیفے میں ہو یا مصحف میں، اسے جلا دیا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 4987]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3506
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنَّ عُثْمَانَ دَعَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَنَسَخُوهَا فِي الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ عُثْمَانُ" لِلرَّهْطِ الْقُرَشِيِّينَ الثَّلَاثَةِ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَاكْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ فَفَعَلُوا ذَلِكَ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعید بن عاص اور عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو بلایا (اور ان کو قرآن مجید کی کتابت پر مقرر فرمایا، چنانچہ ان حضرات نے) قرآن مجید کو کئی مصحفوں میں نقل فرمایا اور عثمان رضی اللہ عنہ نے (ان چاروں میں سے) تین قریشی صحابہ سے فرمایا تھا کہ جب آپ لوگوں کا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے (جو مدینہ منورہ کے رہنے والے تھے) قرآن کے کسی مقام پر (اس کے کسی محاورے میں) اختلاف ہو جائے تو اس کو قریش کے محاورے کے مطابق لکھنا، کیونکہ قرآن شریف قریش کے محاورہ میں نازل ہوا ہے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 3506]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمان بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ کو بلایا تو انہوں نے قرآن مجید کو مصاحف میں نقل فرمایا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تین قریشی صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا: جب تمہارا اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قرآن کے کسی مقام کے متعلق اختلاف ہو جائے تو اسے محاورہ قریش کے مطابق لکھیں کیونکہ قرآن کریم انہی کے محاورے کے مطابق نازل ہوا ہے، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 3506]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة