صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب: {وأن تجمعوا بين الأختين إلا ما قد سلف} :
باب: آیت کہ تفسیر ”تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرو (یہ تم پر حرام ہے) سوا اس کے جو گزر چکا (کہ وہ معاف ہے)“۔
حدیث نمبر: 5107
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّأُمَّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ:" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: وَتُحِبِّينَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ ذَلِكِ لَا يَحِلُّ لِي، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہن (غرہ) بنت ابی سفیان سے آپ نکاح کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور تمہیں بھی پسند ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں کوئی میں تنہا تو ہوں نہیں اور میری خواہش ہے کہ آپ کی بھلائی میں میرے ساتھ میری بہن بھی شریک ہو جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! اس طرح کی باتیں سننے میں آتی ہیں کہ آپ ابوسلمہ کی صاحبزادی درہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ام سلمہ کی لڑکی سے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا اللہ کی قسم اگر وہ میری پرورش میں نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لیے حلال نہیں تھی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔ مجھے اور ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا۔ (اس لیے وہ میری رضاعی بھتیجی ہو گئی) تم لوگ میرے نکاح کے لیے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5107]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! آپ میری بہن ابو سفیان کی بیٹی سے نکاح کر لیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں پسند ہے؟“ میں نے عرض کی: ”جی ہاں، میں تنہا تو آپ کی بیوی نہیں ہوں، اور مجھے زیادہ پسند ہے کہ میری بہن بھی خیر و برکت میں میرے ساتھ شریک ہو جائے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو میرے لیے حلال نہیں۔“ میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! ہمیں تو یہ خبریں مل رہی ہیں کہ آپ ابو سلمہ کی بیٹی درہ کو پیغامِ نکاح بھیجنا چاہتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی دختر ہے؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری گود میں نہ ہوتی تو بھی میرے لیے حلال نہ تھی کیونکہ وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ مجھے اور ابو سلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ تم اپنی بیٹیاں اور بہنیں مجھے نکاح کے لیے پیش نہ کیا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5107]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2644
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ، فَلَمْ آذَنْ لَهُ، فَقَالَ: أَتَحْتَجِبِينَ مِنِّي وَأَنَا عَمُّكِ؟ فَقُلْتُ: وَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي بِلَبَنِ أَخِي، فَقَالَتْ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صَدَقَ أَفْلَحُ، ائْذَنِي لَهُ".
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو حکم نے خبر دی، انہیں عراک بن مالک نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ (پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد) افلح رضی اللہ عنہ نے مجھ سے (گھر میں آنے کی) اجازت چاہی تو میں نے ان کو اجازت نہیں دی۔ وہ بولے کہ آپ مجھ سے پردہ کرتی ہیں حالانکہ میں آپ کا (دودھ) کا چچا ہوں۔ میں نے کہا کہ یہ کیسے؟ تو انہوں نے بتایا کہ میرے بھائی (وائل) کی عورت نے آپ کو میرے بھائی کا ہی دودھ پلایا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افلح نے سچ کہا ہے۔ انہیں (اندر آنے کی) اجازت دے دیا کرو (ان سے پردہ نہیں ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2644]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت افلح رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں اجازت نہ دی۔ وہ کہنے لگے: تم مجھ سے پردہ کرتی ہو، حالانکہ میں تو تمہارا چچا ہوں۔ میں نے کہا: وہ کیسے؟ انہوں نے کہا: میرے بھائی کی بیوی نے تمہیں دودھ پلایا ہے، وہ دودھ میرے بھائی کی وجہ سے تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”افلح سچ کہتا ہے (اسے اندر آنے کی) اجازت دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2644]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2645
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِنْتِ حَمْزَةَ:" لَا تَحِلُّ لِي يَحْرُمُ مِنِ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنِ النَّسَبِ هِيَ بِنْتُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا جابر بن زید سے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے متعلق فرمایا ”یہ میرے لیے حلال نہیں ہو سکتیں، جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہو جاتے ہیں، وہی دودھ کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔ یہ تو میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2645]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے متعلق فرمایا: ”اس سے نکاح کرنا میرے لیے جائز نہیں کیونکہ جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہ دودھ کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔ یہ لڑکی تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2645]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2646
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا، وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ؟ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ،" إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی عبداللہ بن ابی بکر سے، وہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف فرما تھے۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک صحابی کی آواز سنی جو (ام المؤمنین) حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آنے کی اجازت چاہتا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے کہا، یا رسول اللہ! میرا خیال ہے یہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! یہ صحابی آپ کے گھر میں (جس میں حفصہ رضی اللہ عنہا رہتی ہیں) آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا، میرا خیال ہے یہ فلاں صاحب، حفصہ کے رضاعی چچا ہیں۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی اپنے ایک رضاعی چچا کے متعلق پوچھا کہ اگر فلاں زندہ ہوتے تو کیا وہ بے حجاب میرے پاس آ سکتے تھے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں! دودھ سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2646]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس موجود تھے کہ اس دوران میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک شخص کی آواز سنی جو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے خیال کے مطابق یہ فلاں شخص ہے جو دودھ کے رشتے سے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا چچا ہے۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ شخص آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سمجھتا ہوں کہ یہ فلاں شخص ہے جو حفصہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی چچا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اگر فلاں شخص، جو میرا رضاعی چچا تھا، آج زندہ ہوتا تو کیا وہ میرے گھر میں بھی داخل ہو سکتا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جو رشتے نسب کی وجہ سے محرم ہوتے ہیں وہ دودھ کے باعث بھی محرم بن جاتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2646]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3105
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ الرَّضَاعَةُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن ابی بکر نے ‘ انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں موجود تھے۔ اچانک انہوں نے سنا کہ کوئی صاحب حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ دیکھتے نہیں، یہ شخص گھر میں جانے کی اجازت مانگ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میرا خیال ہے یہ فلاں صاحب ہیں، حفصہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا! رضاعت بھی ان تمام چیزوں کو حرام کر دیتی ہے جنہیں ولادت حرام کرتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 3105]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے کہ انہوں نے ایک انسان کی آواز سنی جو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ شخص آپ کے گھر جانے کی اجازت مانگ رہا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال ہے یہ فلاں شخص ہے جو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی چچا ہے۔“ نیز فرمایا: ”رضاعت ہر اس چیز کو حرام کر دیتی ہے جو نسب حرام کرتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 3105]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4796
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ أَخُوأَبِي الْقُعَيْسِ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ، فَقُلْتُ: لَا آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ أَخَاهُ أَبَا الْقُعَيْسِ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ، فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ اسْتَأْذَنَ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا مَنَعَكِ أَنْ تَأْذَنِي عَمُّكِ؟" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ، فَقَالَ:" ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ تَرِبَتْ يَمِينُكِ"، قَالَ عُرْوَةُ: فَلِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ، تَقُولُ: حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا تُحَرِّمُونَ مِنَ النَّسَبِ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد ابوالقعیس کے بھائی افلح رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ملنے کی اجازت چاہی، لیکن میں نے کہلوا دیا کہ جب تک اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت حاصل نہ لے لوں، ان سے نہیں مل سکتی۔ میں نے سوچا کہ ان کے بھائی ابوالقعیس نے مجھے تھوڑا ہی دودھ پلایا تھا، دودھ پلانے والی تو ابوالقعیس کی بیوی تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ابوالقعیس کے بھائی افلح رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ملنے کی اجازت چاہی، لیکن میں نے یہ کہلوا دیا کہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں ان سے ملاقات نہیں کر سکتی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے چچا سے ملنے سے تم نے کیوں انکار کر دیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوالقعیس نے مجھے تھوڑا ہی دودھ پلایا تھا، دودھ پلانے والی تو ان کی بیوی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو وہ تمہارے چچا ہیں۔ عروہ نے بیان کیا کہ اسی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ رضاعت سے بھی وہ چیز یں (مثلاً نکاح وغیرہ) حرام ہو جاتی ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 4796]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد ابو قعیس کے بھائی حضرت افلح رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ملنے کی اجازت طلب کی تو میں نے کہا: جب تک میں اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ حاصل کر لوں، ان سے نہیں مل سکتی کیونکہ ان کے بھائی ابو قعیس رضی اللہ عنہ نے مجھے کون سا دودھ پلایا ہے؟ مجھے تو ابو قعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے عرض کی: اللہ کے رسول! ابو قعیس رضی اللہ عنہ کے بھائی افلح رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ملنے کی اجازت مانگی تھی تو میں نے اسے کہہ دیا کہ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں، ان سے ملاقات نہیں کر سکتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے چچا کو ملنے سے تمہیں کیوں انکار ہے؟“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے ابو قعیس نے دودھ نہیں پلایا بلکہ دودھ پلانے والی تو اس کی بیوی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہیں، انہیں اندر آنے کی اجازت دو۔ وہ تمہارے چچا ہیں۔ «تَرِبَتْ يَمِينُكِ» ”تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں!““ حضرت عروہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ ”رضاعت سے بھی ان چیزوں کو حرام سمجھو جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتی ہیں۔““ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 4796]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5099
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا، وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ:" نَعَمْ، الرَّضَاعَةُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے عبداللہ بن ابوبکر نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف رکھتے تھے اور آپ نے سنا کہ کوئی صاحب ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ شخص آپ کے گھر میں آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ یہ فلاں شخص ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ رضی اللہ عنہا کے ایک دودھ کے چچا کا نام لیا۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا فلاں، جو ان کے دودھ کے چچا تھے، اگر زندہ ہوتے تو میرے یہاں آ جا سکتے تھے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جیسے خون ملنے سے حرمت ہوتی ہے، ویسے ہی دودھ پینے سے بھی حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5099]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف فرما تھے اور انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے سنا کہ کوئی صاحب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! یہ شخص آپ کے گھر میں آنے کی اجازت چاہتا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال ہے یہ فلاں شخص ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا کا نام لیا۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا کہ ”فلاں، جو ان کے رضاعی چچا تھے، اگر زندہ ہوتے تو میرے پاس آ سکتے تھے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، دودھ بھی ان رشتوں کو محرم بنا دیتا ہے جنہیں خون بناتا ہے، یعنی دودھ پینے سے وہی رشتہ قائم ہو جاتا ہے جو خون سے قائم ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5099]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5100
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تَتَزَوَّجُ ابْنَةَ حَمْزَةَ؟ قَالَ: إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ"، وَقَالَ بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ، مِثْلَهُ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے، ان سے جابر بن زید نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ میرے دودھ کے بھائی کی بیٹی ہے۔ اور بشر بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے اسی طرح جابر بن زید سے سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5100]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: ”آپ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، یعنی رضاعی بھتیجی ہے۔“ بشر بن عمر نے کہا: ”ہم سے شعبہ نے بیان کیا“، انہوں نے کہا: ”میں نے قتادہ سے سنا“، انہوں نے کہا: ”میں نے جابر بن زید سے اسی طرح اس حدیث کو سنا۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5100]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5101
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ: أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ ذَلِكِ لَا يَحِلُّ لِي، قُلْتُ: فَإِنَّا نُحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ! قُلْتُ: نَعَمْ. فَقَالَ:" لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي، مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي، وأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ"، قَالَ عُرْوَةُ وَثُوَيْبَةُ: مَوْلَاةٌ لِأَبِي لَهَبٍ، كَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا، فَأَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ بِشَرِّ حِيبَةٍ، قَالَ لَهُ: مَاذَا لَقِيتَ؟ قَالَ أَبُو لَهَبٍ: لَمْ أَلْقَ بَعْدَكُمْ غَيْرَ أَنِّي سُقِيتُ فِي هَذِهِ بِعَتَاقَتِي ثُوَيْبَةَ.
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے خبر دی اور انہیں ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے خبر دی کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری بہن (ابوسفیان کی لڑکی) سے نکاح کر لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اسے پسند کرو گی (کہ تمہاری سوکن بہن بنے)؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، میں تو پسند کرتی ہوں اگر میں اکیلی آپ کی بیوی ہوتی تو پسند نہ کرتی۔ پھر میری بہن اگر میرے ساتھ بھلائی میں شریک ہو تو میں کیونکر نہ چاہوں گی (غیروں سے تو بہن ہی اچھی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! لوگ کہتے ہیں آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے جو ام سلمہ کے پیٹ سے ہے، نکاح کرنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ میری ربیبہ اور میری پرورش میں نہ ہوتی (یعنی میری بیوی کی بیٹی نہ ہوتی) جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ وہ دوسرے رشتے سے میری دودھ بھتیجی ہے، مجھ کو اور ابوسلمہ کے باپ کو دونوں کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے۔ دیکھو، ایسا مت کرو اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ سے نکاح کرنے کے لیے نہ کہو۔ عروہ راوی نے کہا ثوبیہ ابولہب کی لونڈی تھی۔ ابولہب نے اس کو آزاد کر دیا تھا۔ (جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے کی خبر ابولہب کو دی تھی) پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا جب ابولہب مر گیا تو اس کے کسی عزیز نے مرنے کے بعد اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کیا حال ہے کیا گزری؟ وہ کہنے لگا جب سے میں تم سے جدا ہوا ہوں کبھی آرام نہیں ملا مگر ایک ذرا سا پانی (پیر کے دن مل جاتا ہے) ابولہب نے اس گڑھے کی طرف اشارہ کیا جو انگوٹھے اور کلمہ کے انگلی کے بیچ میں ہوتا ہے یہ بھی اس وجہ سے کہ میں نے ثوبیہ کو آزاد کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5101]
حضرت ام المومنین ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول! آپ میری بہن جو ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی دختر ہے، سے نکاح کر لیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے پسند کرو گی؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں، اب بھی تو میں آپ کی اکیلی بیوی نہیں ہوں، میری خواہش ہے کہ میری بہن میرے ساتھ خیر و برکت میں شریک ہو۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو میرے لیے حلال نہیں۔“ میں نے عرض کی: ”ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بیٹی جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ میری رہیبہ (پہلے خاوند سے اولاد، سوتیلی بیٹی) نہ ہوتی تو بھی میرے لیے حلال نہ تھی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور ابو سلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا۔ تم مجھ پر اپنی بہنیں اور بیٹیاں نکاح کے لیے نہ پیش کیا کرو۔“ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: ”ثوبیہ ابو لہب کی لونڈی تھی، ابو لہب نے اسے آزاد کر دیا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا، جب ابو لہب مر گیا تو اس کے کسی عزیز نے اسے (خواب میں) بری حالت میں دیکھا، اس نے پوچھا: ”تجھ پر کیا بیتی؟“ اس نے کہا: ”جب سے میں تم سے جدا ہوا ہوں مجھے کبھی آرام نہیں ملا، سوائے اس بات کے کہ میں اس انگلی سے پانی پلایا جاتا ہوں، یہ بھی اس وجہ سے کہ میں نے ثوبیہ کو آزاد کیا تھا۔““ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5101]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5103
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ، جَاءَيَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا وَهُوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوقعیس کے بھائی افلح نے ان کے یہاں اندر آنے کی اجازت چاہی۔ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا تھے (یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ساتھ اپنے معاملے کو بتایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں اندر آنے کی اجازت دے دوں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5103]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو قعیس کا بھائی افلح آیا اور اس نے گھر آنے کی اجازت طلب کی جبکہ وہ آپ کا رضاعی چچا تھا۔ یہ پردے کی آیات اترنے کے بعد کا واقعہ ہے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں: ”میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اسے اجازت دے دیا کروں۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5103]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5106
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ:" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ؟ قَالَ: فَأَفْعَلُ مَاذَا؟ قُلْتُ: تَنْكِحُ، قَالَ: أَتُحِبِّينَ؟ قُلْتُ: لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِيكَ أُخْتِي، قَالَ: إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي، قُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ، قَالَ: ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي مَا حَلَّتْ لِي، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ"، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ابوسفیان کی صاحبزادی (غرہ یا درہ یا حمنہ) کو چاہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں اس کے ساتھ کیا کروں گا؟ میں نے عرض کیا کہ اس سے آپ نکاح کر لیں۔ فرمایا کیا تم اسے پسند کرو گی؟ میں نے عرض کیا میں کوئی تنہا تو ہوں نہیں اور میں اپنی بہن کے لیے یہ پسند کرتی ہوں کہ وہ بھی میرے ساتھ آپ کے تعلق میں شریک ہو جائے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ میرے لیے حلال نہیں ہے میں نے عرض کیا مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے (زینب سے) نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام سلمہ کی لڑکی کے پاس؟ میں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واہ واہ، اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ مجھے اور اس کے والد ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا۔ دیکھو تم آئندہ میرے نکاح کے لیے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو۔ اور لیث بن سعد نے بھی اس حدیث کو ہشام سے روایت کیا ہے اس میں ابوسلمہ کی بیٹی کا نام درہ مذکور ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5106]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! کیا آپ کو حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سے کوئی دلچسپی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے کیا کروں گا؟“ میں نے عرض کی: ”آپ ان سے نکاح کر لیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو؟“ میں نے عرض کی: ”میں آپ کی اکیلی بیوی تو نہیں ہوں، مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ آپ کی زوجیت میں جو میری شریک ہو وہ میری بہن ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو میرے لیے حلال نہیں۔“ میں نے عرض کی: ”مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے پیغامِ نکاح بھیجا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی کو؟“ میں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(وہ میری ربیبہ ہے) اگر وہ میری ربیبہ نہ بھی ہوتی تب بھی میرے لیے حلال نہ تھی کیونکہ ثوبیہ نے مجھے اور اس کے والد (ابو سلمہ رضی اللہ عنہ) کو دودھ پلایا ہے، لہٰذا مجھے نکاح کے لیے اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی پیش کش نہ کیا کرو۔“ لیث رحمہ اللہ نے کہا: ”ہمیں ہشام نے خبر دی کہ اس کا نام درہ بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5106]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5124
وَقَالَ لِي طَلْقٌ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ سورة البقرة آية 235، يَقُولُ: إِنِّي أُرِيدُ التَّزْوِيجَ وَلَوَدِدْتُ أَنَّهُ تَيَسَّرَ لِي امْرَأَةٌ صَالِحَةٌ، وَقَالَ الْقَاسِمُ: يَقُولُ: إِنَّكِ عَلَيَّ كَرِيمَةٌ وَإِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ وَإِنَّ اللَّهَ لَسَائِقٌ إِلَيْكِ خَيْرًا أَوْ نَحْوَ هَذَا، وَقَالَ عَطَاءٌ: يُعَرِّضُ وَلَا يَبُوحُ، يَقُولُ: إِنَّ لِي حَاجَةً وَأَبْشِرِي وَأَنْتِ بِحَمْدِ اللَّهِ نَافِقَةٌ، وَتَقُولُ هِيَ: قَدْ أَسْمَعُ مَا تَقُولُ وَلَا تَعِدُ شَيْئًا وَلَا يُوَاعِدُ وَلِيُّهَا بِغَيْرِ عِلْمِهَا، وَإِنْ وَاعَدَتْ رَجُلًا فِي عِدَّتِهَا، ثُمَّ نَكَحَهَا بَعْدُ لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ الْحَسَنُ:" لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا الزِّنَا، وَيُذْكَرُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ:" حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ".
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا مجھ سے طلق بن غنام نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ بن قدام نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے مجاہد نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «فيما عرضتم» کی تفسیر میں کہا کہ کوئی شخص کسی ایسی عورت سے جو عدت میں ہو کہے کہ میرا ارادہ نکاح کا ہے اور میری خواہش ہے کہ مجھے کوئی نیک بخت عورت میسر آ جائے اور اس نکاح میں قاسم بن محمد نے کہا کہ (تعریض یہ ہے کہ) عدت میں عورت سے کہے کہ تم میری نظر میں بہت اچھی ہو اور میرا خیال نکاح کرنے کا ہے اور اللہ تمہیں بھلائی پہنچائے گا یا اسی طرح کے جملے کہے اور عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ تعریض و کنایہ سے کہے۔ صاف صاف نہ کہے (مثلاً) کہے کہ مجھے نکاح کی ضرورت ہے اور تمہیں بشارت ہو اور اللہ کے فضل سے اچھی ہو اور عورت اس کے جواب میں کہے کہ تمہاری بات میں نے سن لی ہے (بصراحت) کوئی وعدہ نہ کرے ایسی عورت کا ولی بھی اس کے علم کے بغیر کوئی وعدہ نہ کرے اور اگر عورت نے زمانہ عدت میں کسی مرد سے نکاح کا وعدہ کر لیا اور پھر بعد میں اس سے نکاح کیا تو دونوں میں جدائی نہیں کرائی جائے گی۔ حسن نے کہا کہ «لا تواعدوهن سرا» سے یہ مراد ہے کہ عورت سے چھپ کر بدکاری نہ کرو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ «الكتاب أجله» سے مراد عدت کا پورا کرنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5124]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے درج ذیل آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”ایسی عورتوں کو اشارے کے ساتھ پیغامِ نکاح دو۔ یعنی میں شادی کا ارادہ رکھتا ہوں، میری آرزو ہے کہ مجھے نیک بیوی میسر ہو جائے۔“ امام قاسم رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”(کہ وہ کہے) بلاشبہ تو میرے ہاں قابلِ احترام اور معزز ہے، بے شک میں تیرے متعلق نیک جذبات رکھتا ہوں، یقیناً اللہ تیری طرف خیر و برکت بھیجنے والا ہے، یا اس طرح کے اور الفاظ کہے۔“ امام عطاء رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”(نکاح کے لیے صرف) اشارہ کرے واضح طور پر نہ کہے، مثلاً یوں کہے: مجھے نکاح کی ضرورت ہے، تو بڑی خوش قسمت ہے، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں“ تم اچھی عورت ہو۔“ اور عورت اس کے جواب میں کہے: ”جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں میں اسے سن رہی ہوں“ لیکن (صراحت کے ساتھ) کسی بات کا وعدہ نہ کرے۔ عورت کا سر پرست بھی اس کے علم کے بغیر کوئی وعدہ نہ کرے، اگر کسی عورت نے دورانِ عدت میں کسی آدمی سے نکاح کا وعدہ کر لیا، بعد میں اس کے ساتھ نکاح رچا لیا تو ان دونوں میں جدائی نہیں کرائی جائے گی، امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: ”تم ان سے خفیہ معاہدہ نہ کرو۔“ اس سے مراد چھپ کر بدکاری کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، آپ نے ﴿حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ﴾ [سورة البقرة: 235] کے متعلق فرمایا کہ ”اس سے مراد عورت کا اپنی عدت پوری کرلینا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5124]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5239
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّهُ عَمُّكِ، فَأْذَنِي لَهُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے دودھ چچا (رضاعی چچا، افلح) آئے اور میرے پاس اندر آنے کی اجازت چاہی لیکن میں نے کہا کہ جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، اجازت نہیں دے سکتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے رضاعی چچا ہیں، انہیں اندر بلا لو۔ میں نے اس پر کہا کہ یا رسول اللہ! عورت نے مجھے دودھ پلایا تھا کوئی مرد نے تھوڑا ہی پلایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہیں تو وہ تمہارے چچا ہی (رضاعی) اس لیے وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں، یہ واقعہ ہمارے لیے پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ خون سے جو چیزیں حرام ہوتی ہیں رضاعت سے بھی وہ حرام ہو جاتی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5239]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرا رضاعی چچا آیا اور اس نے مجھ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے اسے اجازت دینے سے انکار کر دیا تا آنکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس متعلق سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے اور اسے اندر آنے دو۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے (اس کے) مرد نے دودھ نہیں پلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے اور تمہارے پاس آ سکتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: یہ واقعہ ہم پر پردے کی پابندی عائد ہونے کے بعد کا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا: ”دودھ پلانے سے بھی وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5239]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5372
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ،" أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: وَتُحِبِّينَ ذَلِكِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي الْخَيْرِ أُخْتِي، فَقَالَ: إِنَّ ذَلِكِ لَا يَحِلُّ لِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَوَاللَّهِ إِنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا بِنْتُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ. وَقَالَ شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ: ثُوَيْبَةُ أَعْتَقَهَا أَبُو لَهَبٍ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے خبر دی، ان کو ابوسلمہ کی صاحبزادی زینب نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہن (عزہ بنت ابی سفیان) بنت ابی سفیان سے نکاح کر لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور تم اسے پسند بھی کرو گی (کہ تمہاری بہن تمہاری سوکن بن جائے)؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، اس سے خالی تو میں اب بھی نہیں ہوں اور میں پسند کرتی ہوں کہ اپنی بہن کو بھی بھلائی میں اپنے ساتھ شریک کر لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ یہ میرے لیے جائز نہیں ہے۔ (دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنا) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! واللہ اس طرح کی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ام سلمہ کی بیٹی۔ جب میں نے عرض کیا، جی ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ میری پرورش میں نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لیے حلال نہیں تھی وہ تو میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔ مجھے اور ابوسلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا۔ پس تم میرے لیے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو۔ اور شعیب نے بیان کیا، ان سے زہری نے اور ان سے عروہ نے، کہا کہ ثوبیہ کو ابولہب نے آزاد کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5372]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! آپ میری بہن، ابوسفیان کی بیٹی سے نکاح کر لیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اسے پسند کرتی ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں، اب بھی میں کوئی تنہا تو آپ کے عقد میں نہیں ہوں، میں چاہتی ہوں کہ اگر کوئی بھلائی ہو تو اس میں میری جو شریک ہو وہ میری بہن ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو میرے لیے حلال نہیں۔“ میں نے کہا: ”اللہ کے رسول! «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ ہمیں بیان کیا جاتا ہے کہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی درہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میرے زیرِ پرورش نہ ہوتی تو بھی میرے لیے حلال نہ تھی کیونکہ وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور ابوسلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا، لہذا تم مجھ پر اپنی بیٹیاں اور بہنیں پیش نہ کیا کرو۔“ ایک روایت میں ہے کہ ثوبیہ کو ابولہب نے آزاد کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5372]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6156
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ بَعْدَ مَا نَزَلَ الْحِجَابُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَةُ أَبِي الْقُعَيْسِ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ، قَالَ:" ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ تَرِبَتْ يَمِينُكِ" قَالَ عُرْوَةُ: فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوقعیس کے بھائی افلح (میرے رضاعی چچا نے) مجھ سے پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد اندر آنے کی اجازت چاہی، میں نے کہا کہ اللہ کی قسم جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دیں گے میں اندر آنے کی اجازت نہیں دوں گی۔ کیونکہ ابوقعیس کے بھائی نے مجھے دودھ نہیں پلایا بلکہ ابوقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مرد نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا تھا، دودھ تو ان کی بیوی نے پلایا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو، کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں، تمہارے ہاتھ میں مٹی لگے۔ عروہ نے کہا کہ اسی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ جتنے رشتے خون کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہی سمجھو۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 6156]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ پردے کے احکام نازل ہونے کے بعد ابوقُعیس کے بھائی افلح نے مجھ سے (گھر میں) آنے کی اجازت طلب کی، تو میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں اسے اندر آنے کی اجازت نہیں دوں گی جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق اجازت نہ لے لوں، کیونکہ ابوقُعیس کے بھائی نے مجھے دودھ نہیں پلایا بلکہ ابوقُعیس کی بیوی نے مجھے دودھ پلایا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! اس مرد نے مجھے دودھ نہیں پلایا تھا بلکہ دودھ تو اس کی بیوی نے پلایا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «تَرِبَتْ يَمِينُكِ» ”تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں! انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں۔““ حضرت عروہ رحمہ اللہ نے کہا کہ اسی وجہ سے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: ”جتنے رشتے ولادت (نسب) کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں، دودھ پینے کی وجہ سے بھی انہیں حرام ہی قرار دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 6156]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة