صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
122. باب طلب الولد:
باب: جماع سے بچہ کی خواہش رکھنے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 5245
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَلَمَّا قَفَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ قَطُوفٍ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا يُعْجِلُكَ؟ قُلْتُ: إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، قَالَ: فَبِكْرًا تَزَوَّجْتَ أَمْ ثَيِّبًا؟ قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، فَقَالَ: أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلًا أَيْ عِشَاءً لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ"، قَالَ: وَحَدَّثَنِي الثِّقَةُ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: الْكَيْسَ الْكَيْسَ يَا جَابِرُ يَعْنِي الْوَلَدَ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے ہشیم بن بشیر نے، ان سے سیار بن دروان نے، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد (غزوہ تبوک) میں تھا، جب ہم واپس ہو رہے تھے تو میں اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اتنے میں میرے پیچھے سے ایک سوار میرے قریب آئے۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جلدی کیوں کر رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میری شادی ابھی نئی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کنواری عورت سے تم نے شادی کی یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا، کنواری سے کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ جابر نے بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم نے چاہا کہ شہر میں داخل ہو جائیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ۔ رات ہو جائے پھر داخل ہونا تاکہ تمہاری بیویاں جو پراگندہ بال ہیں وہ کنگھی چوٹی کر لیں اور جن کے خاوند غائب تھے وہ موئے زیر ناف صاف کر لیں۔ ہشیم نے بیان کیا کہ مجھ سے ایک معتبر راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ «الكيس، الكيس» یعنی اے جابر! جب تو گھر پہنچے تو خوب خوب «كيس» کیجؤ (امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) «كيس» کا مطلب ہے کہ اولاد ہونے کی خواہش کیجؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5245]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ جب ہم واپس آئے تو میں اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس دوران میرے پیچھے سے ایک سوار میرے قریب آیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس قدر جلدی کیوں کر رہے ہو؟“ میں نے عرض کی: میں نے نئی نئی شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری عورت سے شادی کی ہے یا شوہر دیدہ کو بیاہ لائے ہو؟“ میں نے کہا: بیوہ سے نکاح کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ شادی کی تاکہ تم اس کے ساتھ دل لگی کرتے اور وہ تیرے ساتھ کھیلتی؟“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر جب ہم مدینہ طیبہ پہنچے اور اپنے گھروں میں جانا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذرا ٹھہر جاؤ، رات ہونے کے بعد گھر جانا تاکہ پراگندہ بالوں والی کنگھی کر لیں اور جن کے خاوند غائب تھے وہ زیرِ ناف بال صاف کر لیں۔“ راوی کہتا ہے کہ مجھ سے ایک معتبر راوی نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: ”اے جابر! «الْكَيْسَ الْكَيْسَ» ۔“ کیس کے معنی جماع کے وقت اولاد کی طلب کرنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5245]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 443
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ مِسْعَرٌ: أُرَاهُ قَالَ: ضُحًى، فَقَالَ:" صَلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لِي عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي".
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے، کہا ہم سے محارب بن دثار نے جابر بن عبداللہ کے واسطہ سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے۔ مسعر نے کہا میرا خیال ہے کہ محارب نے چاشت کا وقت بتایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (پہلے) دو رکعت نماز پڑھ اور میرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ قرض تھا۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کیا اور زیادہ ہی دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 443]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ یہ چاشت کا وقت تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) فرمایا: ”دو رکعت نماز پڑھ لو۔“ میرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے قرض تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا فرمایا اور مجھے قرض سے زیادہ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 443]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2097
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:"كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا، فَأَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: جَابِرٌ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قُلْتُ: أَبْطَأَ عَلَيَّ جَمَلِي، وَأَعْيَا، فَتَخَلَّفْتُ، فَنَزَلَ يَحْجُنُهُ بِمِحْجَنِهِ، ثُمَّ قَالَ: ارْكَبْ، فَرَكِبْتُ، فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَكُفُّهُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَزَوَّجْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا، قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: أَفَلَا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، قُلْتُ: إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ: أَمَّا إِنَّكَ قَادِمٌ، فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ، ثُمَّ قَالَ: أَتَبِيعُ جَمَلَكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ، فَجِئْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: آلْآنَ قَدِمْتَ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَعْ جَمَلَكَ فَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ، فَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَزِنَ لَهُ أُوقِيَّةً، فَوَزَنَ لِي بِلَالٌ، فَأَرْجَحَ لِي فِي الْمِيزَانِ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى وَلَّيْتُ، فَقَالَ: ادْعُ لِيجَابِرًا، قُلْتُ: الْآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُ، قَالَ: خُذْ جَمَلَكَ وَلَكَ ثَمَنُهُ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے وہب بن کیسان نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ (ذات الرقاع یا تبوک) میں تھا۔ میرا اونٹ تھک کر سست ہو گیا۔ اتنے میں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا جابر! میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! حاضر ہوں۔ فرمایا کیا بات ہوئی؟ میں نے کہا کہ میرا اونٹ تھک کر سست ہو گیا ہے، چلتا ہی نہیں اس لیے میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ پھر آپ اپنی سواری سے اترے اور میرے اسی اونٹ کو ایک ٹیرھے منہ کی لکڑی سے کھینچنے لگے (یعنی ہانکنے لگے) اور فرمایا کہ اب سوار ہو جا۔ چنانچہ میں سوار ہو گیا۔ اب تو یہ حال ہوا کہ مجھے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر پہنچنے سے روکنا پڑ جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، جابر تو نے شادی بھی کر لی ہے؟ میں نے عرض کی جی ہاں! دریافت فرمایا کسی کنواری لڑکی سے کی ہے یا بیوہ سے۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے تو ایک بیوہ سے کر لی ہے۔ فرمایا، کسی کنواری لڑکی سے کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ بھی تمہارے ساتھ کھیلتی۔ (جابر بھی کنوارے تھے) میں نے عرض کیا کہ میری کئی بہنیں ہیں۔ (اور میری ماں کا انتقال ہو چکا ہے) اس لیے میں نے یہی پسند کیا کہ ایسی عورت سے شادی کروں، جو انہیں جمع رکھے۔ ان کے کنگھا کرے اور ان کی نگرانی کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اب تم گھر پہنچ کر خیر و عافیت کے ساتھ خوب مزے اڑانا۔ اس کے بعد فرمایا، کیا تم اپنا اونٹ بیچو گے؟ میں نے کہا جی ہاں! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ چاندی میں خرید لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے ہی مدینہ پہنچ گئے تھے۔ اور میں دوسرے دن صبح کو پہنچا۔ پھر ہم مسجد آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازہ پر ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا ابھی آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں! فرمایا، پھر اپنا اونٹ چھوڑ دے اور مسجد میں جا کے دو رکعت نماز پڑھ۔ میں اندر گیا اور نماز پڑھی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ میرے لیے ایک اوقیہ چاندی تول دے۔ انہوں نے ایک اوقیہ چاندی جھکتی ہوئی تول دی۔ میں پیٹھ موڑ کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جابر کو ذرا بلاؤ۔ میں نے سوچا کہ شاید اب میرا اونٹ پھر مجھے واپس کریں گے۔ حالانکہ اس سے زیادہ ناگوار میرے لیے کوئی چیز نہیں تھی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ یہ اپنا اونٹ لے جا اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2097]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں کسی جنگ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، میرے اونٹ نے چلنے میں سستی کی اور تھک گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”جابر ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کیا حال ہے؟“ میں نے عرض کیا: میرا اونٹ چلنے میں سستی کرتا ہے اور تھک بھی گیا ہے، اس لیے میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور اسے اپنی چھڑی سے مار کر فرمایا: ”اب سوار ہو جاؤ۔“ چنانچہ میں سوار ہو گیا، پھر تو اونٹ ایسا تیز ہو گیا کہ میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے برابر ہونے) سے روکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوشیزہ سے یا شوہر دیدہ سے؟“ میں نے عرض کیا: بیوہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نو عمر سے شادی کیوں نہیں کی؟ تم اس سے دل لگی کرتے وہ تم سے خوش طبعی سے پیش آتی۔“ میں نے عرض کیا: میری بہت سی بہنیں ہیں، اس لیے میں نے نکاح کے لیے ایک ایسی عورت کا انتخاب کیا ہے جو انہیں اکٹھا رکھے، ان کی کنگھی کرے اور ان کی خبر گیری بھی کرتی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اب تم جا رہے ہو، جب اپنے گھر پہنچو تو عقل و احتیاط کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑنا۔“ پھر فرمایا: ”کیا تم اپنا اونٹ فروخت کرنا چاہتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ چاندی کے عوض مجھ سے خرید لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے مدینہ پہنچ گئے اور میں صبح کو وہاں پہنچا۔ ہم لوگ مسجد کی طرف گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ابھی آ رہے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا اونٹ یہیں چھوڑ کر مسجد میں جاؤ اور دو رکعت نماز پڑھو۔“ چنانچہ میں نے مسجد کے اندر دو رکعت نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ مجھے ایک اوقیہ چاندی دیں، تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے جھکاؤ کے ساتھ مجھے ایک اوقیہ چاندی تول دی۔ پھر میں نے واپس جانے کا ارادہ کیا۔ جب میں نے پیٹھ پھیری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر کو میرے پاس بلاؤ۔“ میں نے دل میں سوچا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرا اونٹ مجھے واپس کر دیں گے اور مجھے یہ بات بہت ہی ناپسند تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اونٹ بھی لے لو اور اس کی قیمت بھی لے جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2097]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2309
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَغَيْرِهِ، يزيد بعضهم على بعض، ولم يبلغه كلهم رجل واحد منهم، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَكُنْتُ عَلَى جَمَلٍ ثَفَالٍ، إِنَّمَا هُوَ فِي آخِرِ الْقَوْمِ، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: مَا لَكَ؟ قُلْتُ: إِنِّي عَلَى جَمَلٍ ثَفَالٍ، قَالَ: أَمَعَكَ قَضِيبٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَعْطِنِيهِ، فَأَعْطَيْتُهُ فَضَرَبَهُ فَزَجَرَهُ فَكَانَ مِنْ ذَلِكَ الْمَكَانِ مِنْ أَوَّلِ الْقَوْمِ، قَالَ: بِعْنِيهِ، فَقُلْتُ: بَلْ، هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: بَلْ بِعْنِيهِ قَدْ أَخَذْتُهُ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ، وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ أَخَذْتُ أَرْتَحِلُ، قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قُلْتُ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً قَدْ خَلَا مِنْهَا، قَالَ: فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، قُلْتُ: إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ وَتَرَكَ بَنَاتٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْكِحَ امْرَأَةً قَدْ جَرَّبَتْ خَلَا مِنْهَا، قَالَ: فَذَلِكَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، قَالَ: يَا بِلَالُ اقْضِهِ، وَزِدْهُ، فَأَعْطَاهُ أَرْبَعَةَ دَنَانِيرَ وَزَادَهُ قِيرَاطًا، قَالَ جَابِرٌ: لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَكُنِ الْقِيرَاطُ يُفَارِقُ جِرَابَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ".
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح اور کئی لوگوں نے ایک دوسرے کی روایت میں زیادتی کے ساتھ۔ سب راویوں نے اس حدیث کو جابر رضی اللہ عنہ تک نہیں پہنچایا بلکہ ایک راوی نے ان میں سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ وہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا اور میں ایک سست اونٹ پر سوار تھا اور وہ سب سے آخر میں رہتا تھا۔ اتفاق سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر میری طرف سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون صاحب ہیں؟ میں نے عرض کیا جابر بن عبداللہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہوئی (کہ اتنے پیچھے رہ گئے ہو) میں بولا کہ ایک نہایت سست رفتار اونٹ پر سوار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارے پاس کوئی چھڑی بھی ہے؟ میں نے کہا کہ جی ہاں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ مجھے دیدے۔ میں نے آپ کی خدمت میں وہ پیش کر دی۔ آپ نے اس چھڑی سے اونٹ کو جو مارا اور ڈانٹا تو اس کے بعد وہ سب سے آگے رہنے لگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے فروخت کر دے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مجھے فروخت کر دے۔ یہ بھی فرمایا کہ چار دینار میں اسے میں خریدتا ہوں ویسے تم مدینہ تک اسی پر سوار ہو کر چل سکتے ہو۔ پھر جب مدینہ کے قریب ہم پہنچے تو میں (دوسری طرف) جانے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کہاں جا رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے ایک بیوہ عورت سے شادی کر لی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی باکرہ سے کیوں نہ کی کہ تم بھی اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ بھی تمہارے ساتھ کھیلتی۔ میں نے عرض کیا کہ والد شہادت پا چکے ہیں۔ اور گھر میں کئی بہنیں ہیں۔ اس لیے میں نے سوچا کہ کسی ایسی خاتون سے شادی کروں جو بیوہ اور تجربہ کار ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو ٹھیک ہے، پھر مدینہ پہنچنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال! ان کی قیمت ادا کر دو اور کچھ بڑھا کر دے دو۔ چنانچہ انہوں نے چار دینار بھی دئیے۔ اور فالتو ایک قیراط بھی دیا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انعام میں اپنے سے کبھی جدا نہیں کرتا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ قیراط جابر رضی اللہ عنہ ہمیشہ اپنی تھیلی میں محفوظ رکھا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2309]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، چونکہ میں ایک سست رفتار اونٹ پر سوار تھا جو سب لوگوں سے بالکل پیچھے تھا، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: جابر بن عبد اللہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ماجرا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں ایک سست رفتار اونٹ پر سوار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارے پاس کوئی چھڑی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مجھے دو۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھڑی دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو رسید کی اور ڈانٹا، اب وہ تمام لوگوں سے آگے پہنچ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اونٹ مجھے بیچ دو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ ہی کا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اسے میرے ہاتھ بیچ دو، میں نے اسے چار دینار میں خرید لیا، نیز تمہیں اجازت ہو گی کہ مدینہ طیبہ تک تم اس پر سوار ہو کر جاؤ۔“ جب ہم مدینہ طیبہ کے قریب آئے تو میں نے الگ راہ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہاں کا ارادہ ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے ایک بیوہ سے شادی کی ہے جس کا شوہر فوت ہو گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نوخیز سے شادی کیوں نہیں کی، وہ تمہاری خوش طبعی کا ذریعہ ہوتی اور تم اسے خوش کرتے؟“ میں نے عرض کیا: میرا باپ فوت ہو گیا ہے، پس ماندگان میں چند بیٹیاں ہیں، میں نے چاہا کہ ایسی عورت سے شادی کروں جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو اور وہ خود تجربہ کار ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی چاہیے تھا۔“ جب ہم مدینہ طیبہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے بلال! ان (جابر) کو پیسے دو اور کچھ زیادہ دو۔“ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے چار دینار دیے اور ایک قیراط زیادہ دیا۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ عنایت کردہ قیراط ہمیشہ میرے پاس رہتا تھا، چنانچہ وہ اس قیراط کو اپنے بٹوے میں ہمیشہ ساتھ رکھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2309]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2385
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَيْفَ تَرَى بَعِيرَكَ، أَتَبِيعُنِيهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْبَعِيرِ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ".
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں مغیرہ نے، انہیں شعبی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اپنے اونٹ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ کیا تم اسے بیچو گے؟ میں نے کہا ہاں، چنانچہ اونٹ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیچ دیا۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے۔ تو صبح اونٹ کو لے کر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت ادا کر دی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2385]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ایک جنگ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، آپ نے میرے اونٹ کے متعلق پوچھا: ”تم اسے کیسا پا رہے ہو؟ کیا تم اسے میرے ہاتھ بیچتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، چنانچہ میں نے وہ اونٹ آپ کو فروخت کر دیا۔ جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو میں آپ کی خدمت میں اونٹ لے کر حاضر ہوا۔ آپ نے مجھے اس کی قیمت ادا کر دی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2385]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2470
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلْتُ إِلَيْهِ وَعَقَلْتُ الْجَمَلَ فِي نَاحِيَةِ الْبَلَاطِ، فَقُلْتُ: هَذَا جَمَلُكَ، فَخَرَجَ، فَجَعَلَ يُطِيفُ بِالْجَمَلِ، قَالَ: الثَّمَنُ وَالْجَمَلُ لَكَ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعقیل نے بیان کیا، ان سے ابوالمتوکل ناجی نے بیان کیا کہ میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔ اس لیے میں بھی مسجد کے اندر چلا گیا۔ البتہ اونٹ بلاط کے ایک کنارے پر باندھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کا اونٹ حاضر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور اونٹ کے چاروں طرف ٹہلنے لگے۔ پھر فرمایا کہ قیمت بھی لے اور اونٹ بھی لے جا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2470]
ابوالمتوکل کہتے ہیں: میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اس لیے میں بھی مسجد میں چلا گیا اور اپنے اونٹ کو (مسجد کے سامنے) بچھے ہوئے پتھروں کے کنارے باندھ دیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ رہا آپ کا اونٹ؛ آپ باہر تشریف لائے اور اونٹ کے پاس گھومنے لگے پھر فرمایا: ”قیمت اور اونٹ دونوں تمہارے ہوئے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2470]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2604
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ:" بِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ، قَالَ: ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ فَوَزَنَ". قَالَ شُعْبَةُ: أُرَاهُ فَوَزَنَ لِي فَأَرْجَحَ، فَمَا زَالَ مَعِي مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى أَصَابَهَا أَهْلُ الشَّأْمِ يَوْمَ الْحَرَّةِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا محارب بن دثار سے اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں ایک اونٹ بیچا تھا۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وزن کیا۔ شعبہ نے بیان کیا، میرا خیال ہے کہ (جابر رضی اللہ عنہ نے کہا) میرے لیے وزن کیا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بلال رضی اللہ عنہ نے) اور (اس پلڑے کو جس میں سکہ تھا) جھکا دیا۔ (تاکہ مجھے زیادہ ملے) اس میں سے کچھ تھوڑا سا میرے پاس جب سے محفوظ تھا۔ لیکن شام والے (اموی لشکر) یوم حرہ کے موقع پر مجھ سے چھین کر لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2604]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اونٹ فروخت کیا۔ جب ہم مدینہ طیبہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں آؤ اور دو رکعت نماز ادا کرو۔“ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت تول کر دی۔ (راوی حدیث) شعبہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت جھکاؤ کے ساتھ تول کر دی۔ اس نقدی سے کچھ نہ کچھ ہمیشہ میرے پاس رہا یہاں تک کہ حرہ کی لڑائی میں اہل شام کے ہاتھ لگ گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2604]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2718
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا، فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَهُ، فَدَعَا لَهُ، فَسَارَ بِسَيْرٍ لَيْسَ يَسِيرُ مِثْلَهُ، ثُمَّ قَالَ: بِعْنِيهِ بِوَقِيَّةٍ؟ قُلْتُ: لَا، ثُمَّ قَالَ: بِعْنِيهِ بِوَقِيَّةٍ، فَبِعْتُهُ، فَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ وَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَأَرْسَلَ عَلَى إِثْرِي، قَالَ: مَا كُنْتُ لِآخُذَ جَمَلَكَ، فَخُذْ جَمَلَكَ ذَلِكَ فَهُوَ مَالُكَ". قَالَ شُعْبَةُ: عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَفْقَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ. وَقَالَ إِسْحَاقُ: عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، فَبِعْتُهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ. وَقَالَ عَطَاءٌ، وَغَيْرُهُ: لَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ: عَنْ جَابِرٍ، شَرَطَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ. وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: عَنْ جَابِرٍ، وَلَكَ ظَهْرُهُ حَتَّى تَرْجِعَ. وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: عَنْ جَابِرٍ، أَفْقَرْنَاكَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ. وَقَالَ الْأَعْمَشُ: عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ، تَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى أَهْلِكَ. وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ، وَابْنُ إِسْحَاقَ: عَنْ وَهْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، اشْتَرَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقِيَّةٍ. وَتَابَعَهُ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرٍ. وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: عَنْ عَطَاءٍ وَغَيْرِهِ عَنْ جَابِرٍ، أَخَذْتُهُ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ، وَهَذَا يَكُونُ وَقِيَّةً عَلَى حِسَابِ الدِّينَارِ بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ، وَلَمْ يُبَيِّنْ الثَّمَنَ مُغِيرَةُ. عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، وَابْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ وَقَالَ الْأَعْمَشُ: عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَقِيَّةُ ذَهَبٍ. وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ. وَقَالَ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ، اشْتَرَاهُ بِطَرِيقِ تَبُوكَ، أَحْسِبُهُ قَالَ بِأَرْبَعِ أَوَاقٍ.وَقَالَ أَبُو نَضْرَةَ: عَنْ جَابِرٍ اشْتَرَاهُ بِعِشْرِينَ دِينَارًا. وَقَوْلُ الشَّعْبِيِّ: بِوَقِيَّةٍ أَكْثَرُ الِاشْتِرَاطُ أَكْثَرُ وَأَصَحُّ عِنْدِي. قَالَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عامر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ (ایک غزوہ کے موقع پر) اپنے اونٹ پر سوار آ رہے تھے، اونٹ تھک گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو ایک ضرب لگائی اور اس کے حق میں دعا فرمائی، چنانچہ اونٹ اتنی تیزی سے چلنے لگا کہ کبھی اس طرح نہیں چلا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ایک اوقیہ میں مجھے بیچ دو۔ میں نے انکار کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچ دیا، لیکن اپنے گھر تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کرا لیا۔ پھر جب ہم (مدینہ) پہنچ گئے، تو میں نے اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت بھی ادا کر دی، لیکن جب میں واپس ہونے لگا تو میرے پیچھے ایک صاحب کو مجھے بلانے کے لیے بھیجا (میں حاضر ہوا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارا اونٹ کوئی لے تھوڑا ہی رہا تھا، اپنا اونٹ لے جاؤ، یہ تمہارا ہی مال ہے۔ (اور قیمت واپس نہیں لی) شعبہ نے مغیرہ کے واسطے سے بیان کیا، ان سے عامر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تک اونٹ پر مجھے سوار ہونے کی اجازت دی تھی، اسحاق نے جریر سے بیان کیا اور ان سے مغیرہ نے کہ (جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا) پس میں نے اونٹ اس شرط پر بیچ دیا کہ مدینہ پہنچنے تک اس پر میں سوار رہوں گا۔ عطاء وغیرہ نے بیان کیا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا) اس پر مدینہ تک کی سواری تمہاری ہے۔ محمد بن منکدر نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے مدینہ تک سواری کی شرط لگائی تھی۔ زید بن اسلم نے جابر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا) مدینہ تک اس پر تم ہی رہو گے۔ ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ مدینہ تک کی سواری کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی تھی۔ اعمش نے سالم سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اپنے گھر تک تم اسی پر سوار ہو کے جاؤ۔ عبیداللہ اور ابن اسحاق نے وہب سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ اونٹ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ میں خریدا تھا۔ اس روایت کی متابعت زید بن اسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔ ابن جریج نے عطاء وغیرہ سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا) میں تمہارا یہ اونٹ چار دینار میں لیتا ہوں، اس حساب سے کہ ایک دینار دس درہم کا ہوتا ہے، چار دینار کا ایک اوقیہ ہو گا۔ مغیرہ نے شعبی کے واسطہ سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے (ان کی روایت میں اور) اسی طرح ابن المنکدر اور ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں قیمت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اعمش نے سالم سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں ایک اوقیہ سونے کی وضاحت کی ہے۔ ابواسحاق نے سالم سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں دو سو درہم بیان کیے ہیں اور داود بن قیس نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن مقسم نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ تبوک کے راستے میں (غزوہ سے واپس ہوتے ہوئے) خریدا تھا۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ چار اوقیہ میں (خریدا تھا) ابونضرہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت میں بیان کیا کہ بیس دینار میں خریدا تھا۔ شعبی کے بیان کے مطابق ایک اوقیہ ہی زیادہ روایتوں میں ہے۔ اسی طرح شرط لگانا بھی زیادہ روایتوں سے ثابت ہے اور میرے نزدیک صحیح بھی یہی ہے، یہ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2718]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک اونٹ پر سوار ہو کر سفر کر رہے تھے جو تھک چکا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان کے پاس سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کو مارا اور اس کے لیے دعا فرمائی تو وہ اتنا تیز چلنے لگا کہ اس جیسا کبھی نہیں چلا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے ایک اوقیے کے عوض میرے ہاتھ فروخت کر دو۔“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ”ایک اوقیے کے عوض یہ اونٹ مجھے فروخت کر دو۔“ چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اسے فروخت کر دیا لیکن اپنے گھر تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کرا لیا۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو میں اونٹ لے کر حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت مجھے نقد ادا کر دی لیکن جب میں واپس ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے آدمی بھیجا۔ (میرے پہنچنے پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو تمہارا اونٹ لینا نہیں چاہتا تھا، اپنا اونٹ لے جاؤ، یہ تمہارا ہی مال ہے۔“ شعبہ رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق حضرت جابر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے اونٹ اس شرط پر فروخت کیا کہ مدینہ طیبہ تک کی مجھے اجازت دی تھی۔ اسحاق رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق حضرت جابر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے اونٹ اس شرط پر فروخت کیا کہ مدینہ طیبہ پہنچنے تک اس پر سوار رہوں گا۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ وغیرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اس پر مدینہ طیبہ تک سواری تمہاری ہے۔“ محمد بن منکدر رحمہ اللہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ انہوں نے مدینہ طیبہ تک سواری کی شرط لگائی تھی۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ طیبہ تک تم ہی اس پر سوار رہو گے۔“ ابو زبیر رحمہ اللہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے مدینہ طیبہ تک اس پر سواری کی آپ کو اجازت دی۔“ اعمش رحمہ اللہ نے بواسطہ سالم رحمہ اللہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر تک تم اس پر سوار ہو کر جاؤ۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا: میرے نزدیک شرط والی بات اکثر اور زیادہ صحیح ہے۔ عبید اللہ رحمہ اللہ اور ابن اسحاق رحمہ اللہ کے بیان کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ ایک اوقیے میں خریدا تھا۔ اس روایت کی متابعت زید بن اسلم رحمہ اللہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے کی ہے۔ ابن جریج رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارا یہ اونٹ چار دینار میں لیتا ہوں۔“ اس حساب کے مطابق ایک دینار دس درہم کا اور دینار کا ایک اوقیہ ہو گا۔ مغیرہ رحمہ اللہ وغیرہ نے اپنی روایت میں قیمت کا ذکر نہیں کیا۔ اعمش رحمہ اللہ نے بواسطہ سالم رحمہ اللہ اپنی روایت میں ایک اوقیہ سونے کی وضاحت کی ہے۔ ابو اسحاق رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں دو سو درہم بیان کیے ہیں۔ داود بن قیس رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ تبوک کے راستے میں خریدا تھا۔ نیز کہا کہ میرے خیال کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار اوقیے میں خریدا تھا۔ ابو نضرہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ بیس دینار میں خریدا تھا۔ شعبی رحمہ اللہ کے بیان کے مطابق ایک اوقیہ ہی زیادہ روایات میں ہے۔ اسی طرح شرط لگانا بھی بیشتر روایات سے ثابت ہے۔ میرے نزدیک یہی صحیح ہے۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کا بھی یہی قول ہے (جیسا کہ پہلے گزرا ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2718]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2967
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَلَاحَقَ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ لَنَا قَدْ أَعْيَا فَلَا يَكَادُ يَسِيرُ، فَقَالَ لِي: مَا لِبَعِيرِكَ، قَالَ: قُلْتُ: عَيِيَ، قَالَ: فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ، فَقَالَ لِي:" كَيْفَ تَرَى بَعِيرَكَ؟، قَالَ: قُلْتُ: بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ، قَالَ: أَفَتَبِيعُنِيهِ، قَالَ: فَاسْتَحْيَيْتُ وَلَمْ يَكُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَبِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ، قَالَ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي عَرُوسٌ فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي، فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَنِي خَالِي فَسَأَلَنِي عَنِ الْبَعِيرِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلَامَنِي، قَالَ: وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِي: حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ، هَلْ تَزَوَّجْتَ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟ فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا، فَقَالَ: هَلَّا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوُفِّيَ وَالِدِي أَوِ اسْتُشْهِدَ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مِثْلَهُنَّ فَلَا تُؤَدِّبُهُنَّ، وَلَا تَقُومُ عَلَيْهِنَّ فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ عَلَيْهِ بِالْبَعِيرِ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَيَّ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: هَذَا فِي قَضَائِنَا حَسَنٌ لَا نَرَى بِهِ بَأْسًا".
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں مغیرہ نے، انہیں شعبی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ (جنگ تبوک) میں شریک تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے سے آ کر میرے پاس تشریف لائے۔ میں اپنے پانی لادنے والے ایک اونٹ پر سوار تھا۔ چونکہ وہ تھک چکا تھا، اس لیے آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ جابر! تمہارے اونٹ کو کیا ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ تھک گیا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے گئے اور اسے ڈانٹا اور اس کے لیے دعا کی۔ پھر تو وہ برابر دوسرے اونٹوں کے آگے آگے چلتا رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، اپنے اونٹ کے متعلق کیا خیال ہے؟ میں نے کہا کہ اب اچھا ہے۔ آپ کی برکت سے ایسا ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کیا اسے بیچو گے؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں شرمندہ ہو گیا، کیونکہ ہمارے پاس پانی لانے کو اس کے سوا اور کوئی اونٹ نہیں رہا تھا۔ مگر میں نے عرض کیا، جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بیچ دے۔ چنانچہ میں نے وہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیچ دیا اور یہ طے پایا کہ مدینہ تک میں اسی پر سوار ہو کر جاؤں گا۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میری شادی ابھی نئی ہوئی ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (آگے بڑھ کر اپنے گھر جانے کی) اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت عنایت فرما دی۔ اس لیے میں سب سے پہلے مدینہ پہنچ آیا۔ جب ماموں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے اونٹ کے متعلق پوچھا۔ جو معاملہ میں کر چکا تھا اس کی انہیں اطلاع دی۔ تو انہوں نے مجھے برا بھلا کہا۔ (ایک اونٹ تھا تیرے پاس وہ بھی بیچ ڈالا اب پانی کس پر لائے گا) جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا تھا کہ کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا تھا بیوہ سے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ باکرہ سے کیوں نہ کی، وہ بھی تمہارے ساتھ کھیلتی اور تم بھی اس کے ساتھ کھیلتے۔ (کیونکہ جابر رضی اللہ عنہ بھی ابھی کنوارے تھے) میں نے کہا یا رسول اللہ! میرے باپ کی وفات ہو گئی ہے یا (یہ کہا کہ) وہ (احد) میں شہید ہو چکے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں۔ اس لیے مجھے اچھا نہیں معلوم ہوا کہ انہیں جیسی کسی لڑکی کو بیاہ کے لاؤں، جو نہ انہیں ادب سکھا سکے نہ ان کی نگرانی کر سکے۔ اس لیے میں نے بیوہ سے شادی کی تاکہ وہ ان کی نگرانی کرے اور انہیں ادب سکھائے۔ انہوں نے بیان کیا، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو صبح کے وقت میں اسی اونٹ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس اونٹ کی قیمت عطا فرمائی اور پھر وہ اونٹ بھی واپس کر دیا۔ مغیرہ راوی رحمہ اللہ نے کہا کہ ہمارے نزدیک بیع میں یہ شرط لگانا اچھا ہے کچھ برا نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2967]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ میدانِ جنگ میں تھا، مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ملے جبکہ میں اپنے پانی لانے والے اونٹ پر سوار تھا جو اس وقت تھکاوٹ کی وجہ سے چلنے کے قابل نہیں رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیرے اونٹ کو کیا ہو گیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ تھک گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پیچھے آئے، اسے ڈانٹا اور اس کے لیے دعا فرمائی، چنانچہ وہ سب اونٹوں سے آگے آگے چلنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اب اپنے اونٹ کو کیسے دیکھ رہے ہو؟“ میں نے عرض کیا: بہت اچھا ہو گیا ہے اور اسے آپ کی برکت حاصل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اسے میرے ہاتھ فروخت کرو گے؟“ مجھے شرم آگئی کیونکہ ہمارے ہاں اس کے علاوہ کوئی دوسرا اونٹ پانی لانے والا نہیں تھا۔ اس کے باوجود میں نے عرض کیا: (میں بیچتا ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو۔“ تو میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ فروخت کر دیا اور یہ شرط کی کہ مدینہ طیبہ پہنچنے تک اس پر سواری کروں گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے حال ہی میں شادی کی ہے، اس لیے مجھے پہلے جانے کی اجازت دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، چنانچہ میں مدینہ طیبہ جانے کے لیے لوگوں کے آگے آگے ہوا۔ جب میں مدینہ طیبہ پہنچا تو میرے ماموں نے اونٹ کے متعلق دریافت کیا۔ میں نے جو کچھ واقعہ ہوا تھا ان سے بیان کیا تو انہوں نے مجھے ملامت کی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”کیا تم نے کنواری سے شادی کی ہے یا کسی بیوہ سے؟“ میں نے عرض کیا: شادی شدہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی، تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد گرامی فوت ہو گئے یا شہید ہو گئے اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں تو میں نے ان جیسی لڑکی سے نکاح کرنا اچھا نہ سمجھا جو نہ تو انہیں ادب سکھا سکے اور نہ ان کا انتظام کر سکے، اس لیے میں نے ایک بیوہ سے نکاح کیا ہے جو ان کا انتظام بھی کرے اور انہیں ادب بھی سکھائے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو میں صبح سویرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اونٹ لے کر حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت بھی ادا کر دی اور اونٹ بھی مجھے واپس کر دیا۔ (راوی حدیث) مغیرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ ادائیگی کی بہتر صورت ہے، ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2967]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3089
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَحَرَ جَزُورًا أَوْ بَقَرَةً" زَادَ مُعَاذٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَارِبٍ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ" اشْتَرَى مِنِّي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بِوَقِيَّتَيْنِ وَدِرْهَمٍ أَوْ دِرْهَمَيْنِ فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ فَذُبِحَتْ فَأَكَلُوا مِنْهَا، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، وَوَزَنَ لِي ثَمَنَ الْبَعِيرِ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو وکیع نے خبر دی ‘ انہیں شعبہ نے ‘ انہیں محارب بن دثار نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے (غزوہ تبوک یا ذات الرقاع سے) تو اونٹ یا گائے ذبح کی (راوی کو شبہ ہے) معاذ عنبری نے (اپنی روایت میں) کچھ زیادتی کے ساتھ کہا۔ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے محارب بن دثار نے ‘ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اونٹ خریدا تھا۔ دو اوقیہ اور ایک درہم یا (راوی کو شبہ ہے کہ دو اوقیہ) دو درہم میں۔ جب آپ مقام صرار پر پہنچے تو آپ نے حکم دیا اور گائے ذبح کی گئی اور لوگوں نے اس کا گوشت کھایا۔ پھر جب آپ مدینہ منورہ پہنچے تو مجھے حکم دیا کہ پہلے مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھوں ‘ اس کے بعد مجھے میرے اونٹ کی قیمت وزن کر کے عنایت فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 3089]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (تبوک سے) مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اونٹ یا گائے کو ذبح کیا۔ معاذ عنبری کی روایت میں کچھ اضافہ ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دو اوقیہ اور ایک درہم یا دو درہم کے عوض اونٹ خریدا۔ جب آپ مقام صرار پر پہنچے تو آپ نے گائے ذبح کرنے کا حکم دیا، چنانچہ اسے ذبح کیا گیا اور لوگوں نے اس کا گوشت کھایا۔ جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو مجھے حکم دیا کہ میں (پہلے) مسجد میں جاؤں اور وہاں دو رکعتیں ادا کروں۔ اس کے بعد مجھے میرے اونٹ کی قیمت وزن کرکے عطا فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 3089]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4052
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , أَخْبَرَنَا عَمْرٌو , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ نَكَحْتَ يَا جَابِرُ؟" قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ:" مَاذَا أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا" , قُلْتُ: لَا بَلْ ثَيِّبًا , قَالَ:" فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُكَ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبِي قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ كُنَّ لِي تِسْعَ أَخَوَاتٍ , فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِنَّ جَارِيَةً خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ , وَلَكِنْ امْرَأَةً تَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ , قَالَ:" أَصَبْتَ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عمرو بن دینار نے خبر دی اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا ”جابر! کیا نکاح کر لیا؟“ میں نے عرض کیا، جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی کنواری لڑکی سے کیوں نہ کیا؟ جو تمہارے ساتھ کھیلا کرتی۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے والد احد کی لڑائی میں شہید ہو گئے۔ نو لڑکیاں چھوڑیں۔ پس میری نو بہنیں موجود ہیں۔ اسی لیے میں نے مناسب نہیں خیال کیا کہ انہیں جیسی نا تجربہ کار لڑکی ان کے پاس لا کر بٹھا دوں، بلکہ ایک ایسی عورت لاؤں جو ان کی دیکھ بھال کر سکے اور ان کی صفائی و ستھرائی کا خیال رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 4052]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے جابر! کیا تم نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟“ میں نے عرض کیا: بیوہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کنواری سے کیوں نہ کی تاکہ وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے والد گرامی غزوہ اُحد میں شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے نو لڑکیاں چھوڑ گئے ہیں، وہ میری نو بہنیں ہیں۔ مجھے یہ پسند نہیں تھا کہ میں ان کے پاس ان جیسی ہی کوئی ناتجربہ کار لڑکی لے آؤں، لہٰذا میں نے شادی کے لیے ایک ایسی عورت کا انتخاب کیا ہے جو ان کی کنگھی پٹی کرے گی اور ان کی نگہداشت کا فریضہ بھی ادا کرتی رہے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے بالکل ٹھیک کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 4052]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5079
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" قَفَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ فَتَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنَزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ، فَانْطَلَقَ بَعِيرِي كَأَجْوَدِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الْإِبِلِ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا يُعْجِلُكَ؟ قُلْتُ: كُنْتُ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرُسٍ، قَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا، قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، قَالَ: فَلَمَّا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، قَالَ: أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلًا أَيْ عِشَاءً لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سیار بن ابی سیار نے بیان کیا، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد سے واپس ہو رہے تھے۔ میں اپنے اونٹ کو، جو سست تھا تیز چلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اتنے میں میرے پیچھے سے ایک سوار مجھ سے آ کر ملا اور اپنا نیزہ میرے اونٹ کو چبھو دیا۔ اس کی وجہ سے میرا اونٹ تیز چل پڑا جیسا کہ کسی عمدہ قسم کے اونٹ کی چال تم نے دیکھی ہو گی۔ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا جلدی کیوں کر رہے ہو؟ میں نے عرض کیا ابھی میری شادی نئی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کسی کنواری سے کیوں نہ کی تم اس کے ساتھ کھیل کود کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کرتی۔ بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ میں داخل ہونے والے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ اور رات ہو جائے تب داخل ہو تاکہ پریشان بالوں والی کنگھا کر لیوے اور جن کے شوہر موجود نہیں تھے وہ اپنے بال صاف کر لیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5079]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم ایک غزوے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ واپس آئے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ پر چلنے میں جلدی کی۔ اس دوران میرے پیچھے سے ایک سوار مجھے آ کر ملا اور اس نے میرے اونٹ کو اپنا چھوٹا سا نیزہ مارا، جس کی وہ چال تم نے دیکھی ہو گی۔ میں نے دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تمہیں کس چیز کی جلدی ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”میری نئی نئی شادی ہوئی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کنواری سے ہو یا بیوہ سے؟“ میں نے عرض کیا: ”بیوہ سے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کنواری سے شادی کیوں نہ کی تاکہ تو اس سے دل لگی کرتا اور وہ تجھ سے خوش طبعی کرتی۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر جب ہم مدینہ طیبہ میں داخل ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ، رات کو گھروں میں جاؤ، تاکہ پراگندہ بالوں والی کنگھی کر لے اور جن کے شوہر موجود نہیں تھے وہ اپنے زیر ناف بال صاف کر لیں۔۔“““ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5079]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5080
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَارِبٌ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: تَزَوَّجْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَزَوَّجْتَ؟ فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا، فَقَالَ: مَا لَكَ وَلِلْعَذَارَى وَلِعَابِهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فَقَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محارب بن دثار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے عرض کیا کہ میں نے شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کس سے شادی کی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک عورت سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے کیوں نہ کی کہ اس کے ساتھ تم کھیل کود کرتے۔ محارب نے کہا کہ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد عمرو بن دینار سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ہے۔ مجھ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس طرح بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم نے کسی کنواری عورت سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیل کود کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5080]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”تم نے کیسی عورت سے شادی کی ہے؟“ میں نے کہا: ایک بیوہ سے شادی کی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم کنواری لڑکیوں کے ساتھ اٹکھیلیاں کرنے سے اجتناب کرتے ہو؟“ راویِ حدیث (شعبہ) نے کہا: میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری لڑکی سے (شادی) کیوں نہ کی کہ تو اس سے ہنسی مذاق کرتا اور وہ تجھ سے کھیل کود کرتی؟“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5080]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5247
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَلَمَّا قَفَلْنَا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ الْمَدِينَةِ تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنَزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ فَسَارَ بَعِيرِي كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الْإِبِلِ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، قَالَ: أَتَزَوَّجْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، فَقَالَ: أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلًا أَيْ عِشَاءً لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ".
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو سیار نے خبر دی، انہیں شعبی نے، انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ (غزوہ تبوک) میں تھے۔ واپس ہوتے ہوئے جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے لگا۔ ایک صاحب نے پیچھے سے میرے قریب پہنچ کر میرے اونٹ کو ایک چھڑی سے جو ان کے پاس تھی، مارا۔ اس سے اونٹ بڑی اچھی چال چلنے لگا، جیسا کہ تم نے اچھے اونٹوں کو چلتے ہوئے دیکھا ہو گا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری نئی شادی ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پوچھا، کیا تم نے شادی کر لی؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ دریافت فرمایا، کنواری سے کی ہے یا بیوہ سے؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ بیان کیا کہ پھر جب ہم مدینہ پہنچے تو شہر میں داخل ہونے لگے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ رات ہو جائے پھر داخل ہونا تاکہ پراگندہ بال عورت چوٹی کنگھا کر لے اور جس کا شوہر موجود نہ رہا ہو وہ موئے زیر ناف صاف کر لے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5247]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوے میں تھے۔ واپسی کے وقت جب ہم مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے تو میں اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے لگا تو میرے پیچھے سے ایک سوار آیا اور میرے قریب پہنچ کر اپنی چھڑی سے میرے اونٹ کو ٹھونکا۔ اس سے میرا اونٹ بڑی اچھی چال چلنے لگا جیسا کہ تم نے اچھی چال چلنے والے اونٹ کو دیکھا ہوگا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میری نئی نئی شادی ہوئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے بھی شادی کر لی ہے؟“ عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے نکاح کیا ہے؟“ میں نے کہا: شوہر دیدہ سے نکاح کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تیرے ساتھ کھیلتی؟“ پھر جب ہم مدینہ طیبہ پہنچے تو اپنے گھروں میں جانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ عشاء کے وقت گھروں کو جاؤ تاکہ بکھرے بالوں والی عورت کنگھی کرلے اور شہر سے غائب خاوند والی عورت اپنے زیرِ ناف بال صاف کرلے۔““ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5247]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5367
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" هَلَكَ أَبِي وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟ قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنَاتٍ وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ، فَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْ قَالَ: خَيْرًا".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے عمرو نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ میرے والد شہید ہو گئے اور انہوں نے سات لڑکیاں چھوڑیں یا (راوی نے کہا کہ) نو لڑکیاں۔ چنانچہ میں نے ایک پہلے کی شادی شدہ عورت سے نکاح کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ جابر! تم نے شادی کی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا، کنواری سے یا بیاہی سے۔ میں نے عرض کیا کہ بیاہی سے۔ فرمایا تم نے کسی کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی۔ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔ تم اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے اور وہ تمہارے ساتھ ہنسی کرتی۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ عبداللہ (میرے والد) شہید ہو گئے اور انہوں نے کئی لڑکیاں چھوڑی ہیں، اس لیے میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ان کے پاس ان ہی جیسی لڑکی بیاہ لاؤں، اس لیے میں نے ایک ایسی عورت سے شادی کی ہے جو ان کی دیکھ بھال کر سکے اور ان کی اصلاح کا خیال رکھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت دے یا (راوی کو شک تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «خيرا.» فرمایا یعنی اللہ تم کو خیر عطا کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5367]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب میرے والد گرامی شہید ہوئے تو انہوں نے سات یا نو بیٹیاں چھوڑیں۔ میں نے ایک شوہر دیدہ عورت سے نکاح کیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! کیا تم نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: ”بیوہ سے نکاح کیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی، تم اس سے دل لگی کرتے وہ تم سے اپنا دل بہلاتی، تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی؟“ میں نے عرض کی: ”(میرے والد گرامی) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے کچھ بیٹیاں چھوڑ گئے۔ میں نے اس بات کو پسند نہ کیا کہ ان کے پاس ان جیسی (کوئی با تجربہ کار) لے آؤں اس لیے میں نے ایک ایسی عورت سے نکاح کیا جو ان کی نگہداشت اور اصلاح کرتی رہے“، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تمہیں برکت دے یا تمہیں بھلائی نصیب کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5367]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6387
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: هَلَكَ أَبِي وَتَرَكَ سَبْعَ، أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا"، قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ:" هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، أَوْ تُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ"، قُلْتُ: هَلَكَ أَبِي، فَتَرَكَ سَبْعَ أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ:" فَبَارَكَ اللَّهُ عَلَيْكَ"، لَمْ يَقُلْ ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرٍو: بَارَكَ اللَّهُ عَلَيْكَ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ میرے والد شہید ہوئے تو انہوں نے سات یا نو لڑکیاں چھوڑی تھیں (راوی کو تعداد میں شبہ تھا) پھر میں نے ایک عورت سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ جابر کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے کہا بیاہی سے۔ فرمایا، کسی لڑکی (کنواری) سے کیوں نہ کی۔ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی۔ میں نے عرض کی، میرے والد (عبداللہ) شہید ہوئے اور سات یا نو لڑکیاں چھوڑی ہیں۔ اس لیے میں نے پسند نہیں کیا کہ میں ان کے پاس انہی جیسی لڑکی لاؤں۔ چنانچہ میں نے ایسی عورت سے شادی کی جو ان کی نگرانی کر سکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے۔ ابن عیینہ اور محمد بن مسلمہ نے عمرو سے روایت میں ”اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے“ کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 6387]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے والد شہید ہوئے تو انہوں نے سات یا نو بیٹیاں چھوڑی تھیں۔ پھر میں نے ایک عورت سے نکاح کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے جابر! کیا تو نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟“ میں نے کہا: شوہر دیدہ عورت سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا تو اس سے دل لگی کرتا اور وہ تجھ سے دل لگی کرتی؟ یا تو اسے ہنساتا اور وہ تجھے ہنساتی؟“ میں نے کہا: میرے والد جب شہید ہوئے تو انہوں نے سات یا نو بیٹیاں چھوڑی تھیں اس لیے میں نے پسند نہیں کیا کہ ان کے ہاں ان جیسی کوئی ناتجربہ کار لے آؤں، چنانچہ میں نے ایسی عورت سے نکاح کیا ہے جو ان کی دیکھ بھال کا اہتمام کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اللہ تمہیں بھرپور برکت عطا فرمائے۔“ ابن عیینہ اور محمد بن مسلم نے عمرو سے یہ روایت بیان کی تو اس میں «بَارَكَ اللّٰهُ عَلَيْكَ» ”اللہ تم پر برکت نازل فرمائے“ کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 6387]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة