🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب فضل الصلاة لوقتها:
باب: نماز وقت پر پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 527
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا صَاحِبُ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ، هَذِهِ الدَّارِ، قَالَ:" سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي".
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ولید بن عیزار کوفی نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوعمر و شیبانی سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے اس گھر کے مالک سے سنا، (آپ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کر رہے تھے) انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا، پھر پوچھا، اس کے بعد، فرمایا والدین کے ساتھ نیک معاملہ رکھنا۔ پوچھا اس کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تفصیل بتائی اور اگر میں اور سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ بھی بتلاتے۔ (لیکن میں نے بطور ادب خاموشی اختیار کی)۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 527]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی بروقت ادائیگی۔ انہوں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والدین سے حسن سلوک۔ انہوں نے عرض کیا: اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اسی قدر بیان کیا، اگر میں مزید پوچھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور بیان فرماتے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 527]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2782
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْوَلِيدَ بْنَ الْعَيْزَارِ ذَكَرَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سَأَلْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الصَّلَاةُ عَلَى مِيقَاتِهَا، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ، قَالَ: ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ، قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَسَكَتُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي".
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ولید بن عیزار سے سنا ‘ ان سے سعید بن ایاس ابوعمرو شیبانی نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ دین کے کاموں میں کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وقت پر نماز پڑھنا۔ میں نے پوچھا اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا اور اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سوالات نہیں کئے ‘ ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ان کے جوابات عنایت فرماتے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 2782]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بروقت نماز ادا کرنا۔ میں نے عرض کیا: اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنا۔ میں نے عرض کیا: پھر اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے میں سکوت اختیار کیا۔ اگر میں زیادہ پوچھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مزید جوابات سے نوازتے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 2782]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5970
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ عَيْزَارٍ أَخْبَرَنِي قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ يَقُولُ أَخْبَرَنَا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ- وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ- قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ: «الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا» . قَالَ ثُمَّ أَيُّ قَالَ: «ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» . قَالَ ثُمَّ أَيّ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» . قَالَ: حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي.
ہم سے ابوالولید ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ولید بن عیزار نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوعمرو شیبانی سے سنا، کہا کہ ہمیں اس گھر والے نے خبر دی اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھنا۔ پوچھا کہ پھر کون سا؟ فرمایا کہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ان کاموں کے متعلق بیان کیا اور اگر میں اسی طرح سوال کرتا رہتا تو آپ جواب دیتے رہتے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 5970]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ عزوجل کے ہاں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بروقت نماز ادا کرنا۔ پھر پوچھا: اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ پھر پوچھا: اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان ہدایات سے مطلع کیا، اگر میں اس طرح سوال کرتا رہتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جواب دیتے رہتے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 5970]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7534
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْوَلِيدِ. ح وحَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ، ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
مجھ سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے ولید بن عیزار نے (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے عباد بن یعقوب اسدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عباد بن العوام نے خبر دی، انہیں شیبانی نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا اور والدین کے ساتھ نیک معاملہ کرنا، پھر اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 7534]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بر وقت نماز پڑھنا، والدین سے حسن سلوک کرنا، پھر اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 7534]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں