صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب الكهانة:
باب: کہانت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5760
وَعَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْجَنِينِ، يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ، فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ: كَيْفَ أَغْرَمُ مَا لَا أَكَلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا نَطَقَ، وَلَا اسْتَهَلَّ، وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ".
اور ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین جسے اس کی ماں کے پیٹ میں مار ڈالا گیا ہو، کی دیت کے طور پر ایک غلام یا ایک باندی دیئے جانے کا فیصلہ کیا تھا جسے دیت دینی تھی اس نے کہا کہ ایسے بچہ کی دیت آخر کیوں دوں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ بولا اور نہ ولادت کے وقت ہی آواز نکالی؟ ایسی صورت میں تو دیت نہیں ہو سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5760]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5758
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ، اقْتَتَلَتَا فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَأَصَابَ بَطْنَهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَتَلَتْ وَلَدَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، فَقَالَ وَلِيُّ الْمَرْأَةِ الَّتِي غَرِمَتْ: كَيْفَ أَغْرَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلَ، وَلَا نَطَقَ، وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ".
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں کے بارے میں جنہوں نے جھگڑا کیا تھا یہاں تک کہ ان میں سے ایک عورت (ام عطیف بنت مروح) نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا (جس کا نام ملیکہ بنت عویمر تھا) وہ پتھر عورت کے پیٹ میں جا کر لگا۔ یہ عورت حاملہ تھی اس لیے اس کے پیٹ کا بچہ (پتھر کی چوٹ سے) مر گیا۔ یہ معاملہ دونوں فریق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ نے فیصلہ کیا کہ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت ایک غلام یا باندی آزاد کرنا ہے جس عورت پر تاوان واجب ہوا تھا اس کے ولی (حمل بن مالک بن نابغہ) نے کہا یا رسول اللہ! میں ایسی چیز کی دیت کیسے دے دوں جس نے نہ کھایا نہ پیا نہ بولا اور نہ ولادت کے وقت اس کی آواز ہی سنائی دی؟ ایسی صورت میں تو کچھ بھی دیت نہیں ہو سکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ یہ شخص تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5758]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6740
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا، بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى لَهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا، وَزَوْجِهَا، وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی ایک عورت ملیا بنت عویمر کے بچے کے بارے میں جو ایک عورت کی مار سے مردہ پیدا ہوا تھا کہ مارنے والی عورت کو خون بہا کے طور پر ایک غلام یا لونڈی ادا کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ پھر وہ عورت بچہ گرانے والی جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا مر گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور شوہر کو دے دی جائے اور یہ دیت ادا کرنے کا حکم اس کے کنبہ والوں کو دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 6740]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6904
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں نے ایک دوسری کو (پتھر سے) مارا جس سے ایک کے پیٹ کا بچہ (جنین) گر گیا پھر اس (سلسلہ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 6904]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6906
فَشَهِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِهِ".
پھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے بھی گواہی دی کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا تھا تو وہ موجود تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 6906]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6908
قَالَ: ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ عَلَى هَذَا، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: أَنَا أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا".
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس پر اپنا کوئی گواہ لاؤ۔ چنانچہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 6908]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6909
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی ایک عورت کے جنین (کے گرنے) پر ایک غلام یا کنیز کا فیصلہ کیا تھا۔ پھر وہ عورت جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت دینے کا فیصلہ کیا تھا اس کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور اس کے شوہر کو ملے گی اور دیت اس کے ددھیال والوں کو دینی ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 6909]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6910
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحَمْنِ، أن أبا هريرة رضي الله عنه، قَالَ:" اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَى أَنَّ دِيَةَ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا".
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن المسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنی ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑیں اور ایک نے دوسری عورت پر پتھر پھینک مارا جس سے وہ عورت اپنے پیٹ کے بچے (جنین) سمیت مر گئی۔ پھر (مقتولہ کے رشتہ دار) مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ پیٹ کے بچے کا خون بہا ایک غلام یا کنیز دینی ہو گی اور عورت کے خون بہا کو قاتل عورت کے عاقلہ (عورت کے باپ کی طرف سے رشتہ دار عصبہ) کے ذمہ واجب قرار دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 6910]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7317
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: سَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ هِيَ الَّتِي يُضْرَبُ بَطْنُهَا فَتُلْقِي جَنِينًا؟، فَقَالَ: أَيُّكُمْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا؟، فَقُلْتُ: أَنَا، فَقَالَ: مَا هُوَ؟، قُلْتُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِيهِ:" غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، فَقَالَ: لَا تَبْرَحْ حَتَّى تَجِيئَنِي بِالْمَخْرَجِ فِيمَا قُلْتَ.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے متعلق (صحابہ سے) پوچھا۔ یہ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے پیٹ پر مار دیا گیا (جبکہ وہ حاملہ ہو) ہو اور اس کا ناتمام (ادھورا) بچہ گر گیا ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا آپ لوگوں میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کوئی حدیث سنی ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے سنی ہے۔ پوچھا کیا حدیث ہے؟ میں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایسی صورت میں ایک غلام یا باندی تاوان کے طور پر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم اب چھوٹ نہیں سکتے یہاں تک کہ تم نے جو حدیث بیان کی ہے اس سلسلے میں نجات کا کوئی ذریعہ (یعنی کوئی شہادت کہ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث فرمائی تھی) لاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 7317]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة