صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب لا يجاهد إلا بإذن الأبوين:
باب: والدین کی اجازت کے بغیر کسی کو جہاد کے لیے نہ جانا چاہیئے۔
حدیث نمبر: 5972
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، قَالَ:. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُجَاهِدُ قَالَ:" لَكَ أَبَوَانِ" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان اور شعبہ نے بیان کیا کہ ہم سے حبیب نے بیان کیا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں حبیب نے، انہیں ابوعباس نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں بھی جہاد میں شریک ہو جاؤں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے ماں باپ موجود ہیں انہوں نے کہا کہ جی ہاں موجود ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر انہیں میں جہاد کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5972]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ”میں جہاد میں شریک ہو جاؤں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے ان کی خدمت کرنا ہی جہاد ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5972]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3004
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ وَكَانَ لَا يُتَّهَمُ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ:" أَحَيٌّ وَالِدَاكَ"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے کہا، ہم سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوالعباس (شاعر ہونے کے ساتھ) روایت حدیث میں بھی ثقہ اور قابل اعتماد تھے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا ”کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟“ انہوں نے کہا کہ جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر انہیں میں جہاد کرو۔ (یعنی ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرو)۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 3004]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کی، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں (زندہ ہیں)، آپ نے فرمایا: ”ان کی خدمت کرنے میں خوب محنت کر (یہی تیرا جہاد ہے)۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 3004]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة