صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
68. باب التبسم والضحك:
باب: مسکرانا اور ہنسنا۔
حدیث نمبر: 6086
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّائِفِ قَالَ:" إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، فَقَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَبْرَحُ أَوْ نَفْتَحَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَاغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ" قَالَ: فَغَدَوْا فَقَاتَلُوهُمْ قِتَالًا شَدِيدًا وَكَثُرَ فِيهِمُ الْجِرَاحَاتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ" قَالَ: فَسَكَتُوا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِالْخَبَرِ كُلِّهِ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابو العباس سائب نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں تھے (فتح مکہ کے بعد) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہاں سے کل واپس ہوں گے۔ آپ کے بعض صحابہ نے کہا کہ ہم اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک اسے فتح نہ کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہی بات ہے تو کل صبح لڑائی کرو۔ بیان کیا کہ دوسرے دن صبح کو صحابہ نے گھمسان کی لڑائی لڑی اور بکثرت صحابہ زخمی ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ ہم کل واپس ہوں گے۔ بیان کیا کہ اب سب لوگ خاموش رہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ حمیدی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے پوری سند «خبر.» کے لفظ کے ساتھ بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6086]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کل ہم واپس چلے جائیں گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا کہ جب تک ہم طائف کو فتح نہ کر لیں واپس نہیں جائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہی بات ہے تو صبح لڑائی کرو۔“ چنانچہ دوسرے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنگ کرنے گئے اور گھمسان کی لڑائی ہوئی، اس میں بکثرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم زخمی ہوئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کل ہم واپس ہوں گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خاموشی پر ہنس پڑے۔ حمیدی رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں سفیان رحمہ اللہ نے پوری سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6086]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4325
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الْأَعْمَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ، فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا، قَالَ:" إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ، وَقَالُوا: نَذْهَبُ وَلَا نَفْتَحُهُ، وَقَالَ مَرَّةً: نَقْفُلُ، فَقَالَ:" اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ"، فَغَدَوْا، فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ، فَقَالَ:" إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، فَأَعْجَبَهُمْ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: فَتَبَسَّمَ، قَالَ: قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْخَبَرَ كُلَّهُ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابو العباس نابینا شاعر نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو دشمن کا کچھ بھی نقصان نہیں کیا۔ آخر آپ نے فرمایا کہ اب ان شاءاللہ ہم واپس ہو جائیں گے۔ مسلمانوں کے لیے ناکام لوٹنا بڑا شاق گزرا۔ انہوں نے کہا کہ واہ بغیر فتح کے ہم واپس چلے جائیں (راوی نے) ایک مرتبہ «نذهب» کے بجائے «نقفل» کا لفظ استعمال کیا یعنی ہم۔۔۔ لوٹ جائیں اور طائف کو فتح نہ کریں (یہ کیونکر ہو سکتا ہے) اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر صبح سویرے میدان میں جنگ کے لیے آ جاؤ۔ پس وہ صحابہ سویرے ہی آ گئے لیکن ان کی بڑی تعداد زخمی ہو گئی۔ اب پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ ہم کل واپس چلیں گے۔ صحابہ نے اسے بہت پسند کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہنس پڑے۔ اور سفیان نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے۔ حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے یہ پوری خبر بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 4325]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو دشمن سے کچھ نہ پا سکے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم ان شاء اللہ کل یہاں سے لوٹ جائیں گے۔“ یہ بات مسلمانوں پر بہت گراں گزری اور وہ کہنے لگے: کیا ہم فتح کے بغیر واپس جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا صبح جنگ کا آغاز کرو۔“ چنانچہ انہوں نے صبح جنگ چھیڑ دی تو انہیں بہت زخم آئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل ان شاء اللہ ہم واپس چلیں گے۔“ یہ سن کر مسلمان بہت خوش ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسی آ گئی۔ کبھی سفیان نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبسم فرمانے لگے۔ حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے سارا واقعہ بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 4325]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7480
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:" حَاصَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَفْتَحْهَا، فَقَالَ: إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: نَقْفُلُ وَلَمْ نَفْتَحْ، قَالَ: فَاغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ، فَغَدَوْا، فَأَصَابَتْهُمْ جِرَاحَاتٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَكَأَنَّ ذَلِكَ أَعْجَبَهُمْ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے ابوالعاس (سائب بن فروخ) سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف والوں کو گھیر لیا، اس کو فتح نہیں کیا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل اللہ نے چاہا تو ہم مدینہ کو لوٹ چلیں گے، اس پر مسلمان بولے واہ ہم فتح کئے بغیر لوٹ جائیں، آپ نے فرمایا کہ ایسا ہے تو پھر کل سویرے لڑائی شروع کرو، صبح کو مسلمان لڑنے لگے لیکن (قلع فتح نہیں ہوا) مسلمان زخمی ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبح کو اللہ نے چاہا تو ہم مدینہ لوٹ چلیں گے، اس پر مسلمان خوش ہوئے، مسلمانوں کا یہ حال دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 7480]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا لیکن ابھی فتح نہیں کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ“ کل (مدینہ طیبہ) واپس چلے جائیں گے۔“ مسلمانوں نے کہا: ”اللہ کے رسول! ہم فتح کیے بغیر ہی لوٹ جائیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارا یہی عزم ہے تو پھر کل صبح لڑائی شروع کرو۔“ صبح انہوں نے جنگ کی تو بہت زخمی ہو گئے۔ (یہ دیکھ کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ“ کل واپس جائیں گے۔“ اس پر مسلمان بہت خوش ہوئے تب (یہ دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 7480]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة