صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب المكثرون هم المقلون:
باب: جو لوگ دنیا میں زیادہ (مالدار) ہیں وہی آخرت میں کم ہوں گے۔
حدیث نمبر: 6443
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَحْدَهُ وَلَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ، قَالَ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ فَالْتَفَتَ فَرَآنِي، فَقَالَ: مَنْ هَذَا، قُلْتُ: أَبُو ذَرٍّ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَالَهْ، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، فَقَالَ:" إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ خَيْرًا، فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ، وَشِمَالَهُ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ، وَوَرَاءَهُ، وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا"، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، فَقَالَ لِي: اجْلِسْ هَا هُنَا، قَالَ: فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ، فَقَالَ لِي:" اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لَا أَرَاهُ، فَلَبِثَ عَنِّي، فَأَطَالَ اللُّبْثَ، ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ وَهُوَ يَقُولُ:" وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى"، قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ، مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا، قَالَ:" ذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ، قَالَ: بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ، قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ سَرَقَ، وَإِنْ زَنَى، قَالَ: نَعَمْ، وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ"، قَالَ النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَالْأَعْمَشُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، بِهَذَا. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ مُرْسَلٌ، لَا يَصِحُّ إِنَّمَا أَرَدْنَا لِلْمَعْرِفَةِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: مُرْسَلٌ أَيْضًا لَا يَصِحُّ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ، وَقَالَ: اضْرِبُوا عَلَى حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، هَذَا إِذَا مَاتَ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن رفیع نے، ان سے زید بن وہب نے اور ان سے ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک روز میں باہر نکلا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا، ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس سے میں سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند نہیں فرمائیں گے کہ آپ کے ساتھ اس وقت کوئی رہے۔ اس لیے میں چاند کے سائے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ اس کے بعد آپ مڑے تو مجھے دیکھا اور دریافت فرمایا کون ہے؟ میں نے عرض کیا: ابوذر! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابوذر! یہاں آؤ۔ بیان کیا کہ پھر میں تھوڑی دیر تک آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ (دنیا میں) زیادہ مال و دولت جمع کئے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہی خسارے میں ہوں گے۔ سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور انہوں نے اسے دائیں بائیں، آگے پیچھے خرچ کیا ہو اور اسے بھلے کاموں میں لگایا ہو۔ (ابوذر رضی اللہ عنہ نے) بیان کیا کہ پھر تھوڑی دیر تک میں آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں بیٹھ جاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ہموار زمین پر بٹھا دیا جس کے چاروں طرف پتھر تھے اور فرمایا کہ یہاں اس وقت تک بیٹھے رہو جب تک میں تمہارے پاس لوٹ آؤں۔ پھر آپ پتھریلی زمین کی طرف چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ آپ وہاں رہے اور دیر تک وہیں رہے۔ پھر میں نے آپ سے سنا، آپ یہ کہتے ہوئے تشریف لا رہے تھے ”چاہے چوری ہو، چاہے زنا ہو“ ابوذر کہتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو مجھ سے صبر نہیں ہو سکا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے۔ اس پتھریلی زمین کے کنارے آپ کس سے باتیں کر رہے تھے۔ میں نے تو کسی دوسرے کو آپ سے بات کرتے نہیں دیکھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ پتھریلی زمین (حرہ) کے کنارے وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ اپنی امت کو خوشخبری سنا دو کہ جو بھی اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا: اے جبرائیل! خواہ اس نے چوری کی ہو، زنا کیا ہو؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا ہاں، خواہ اس نے شراب ہی پی ہو۔ نضر نے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی (کہا) ہم سے حبیب بن ابی ثابت، اعمش اور عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، ان سے زید بن وہب نے اسی طرح بیان کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ابوصالح نے جو اسی باب میں ابودرداء سے روایت کی ہے وہ منقطع ہے (ابوصالح نے ابودرداء سے نہیں سنا) اور صحیح نہیں ہے ہم نے یہ بیان کر دیا تاکہ اس حدیث کا حال معلوم ہو جائے اور صحیح ابوذر کی حدیث ہے (جو اوپر مذکور ہوئی) کسی نے امام بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا عطاء بن یسار نے بھی تو یہ حدیث ابودرداء سے روایت کی ہے۔ انہوں نے کہا وہ بھی منقطع ہے اور صحیح نہیں ہے۔ آخر صحیح وہی ابوذر کی حدیث نکلی۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ابودرداء کی حدیث کو چھوڑو (وہ سند لینے کے لائق نہیں ہے کیونکہ وہ منقطع ہے) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ابوذر کی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مرتے وقت آدمی «لا إله إلا الله» کہے اور توحید پر خاتمہ ہو (تو وہ ایک نہ ایک دن ضرور جنت میں جائے گا گو کتنا ہی گنہگار ہو)۔ بعض نسخوں میں یہ ہے «هذا اذا تاب وقال لا إله إلا الله عند الموت» یعنی ابوذر کی حدیث اس شخص کے بارے میں ہے جو گناہ سے توبہ کرے اور مرتے وقت «لا إله إلا الله» کہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6443]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ایک رات باہر نکلا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا ہی جا رہے ہیں، اور آپ کے ساتھ کوئی بھی نہیں۔ میں نے (دل میں) کہا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ کسی کے چلنے کو پسند نہیں کرتے ہوں گے“، اس لیے میں چاند کے سائے میں آپ کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ آپ نے میری طرف توجہ فرمائی تو مجھے دیکھ کر فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: ”ابوذر ہوں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے!“ آپ نے فرمایا: ”ابوذر! آگے آجاؤ۔“ پھر میں تھوڑی دیر تک آپ کے ساتھ چلتا رہا، اس کے بعد آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ جو لوگ دنیا میں زیادہ مال دار ہیں وہی قیامت کے دن نادار ہوں گے مگر جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور وہ اسے دائیں، بائیں اور آگے پیچھے خرچ کرے اور اسے اچھے کاموں میں صرف کرے۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں تھوڑی دیر تک آپ کے ساتھ چلتا رہا، آپ نے فرمایا: ”یہاں بیٹھ جاؤ۔“ آپ نے مجھے ایک صاف میدان میں بٹھا دیا جس کے چاروں طرف پتھر تھے اور آپ نے مجھے تاکید کی: ”یہاں بیٹھے رہو حتیٰ کہ میں تمہارے پاس واپس آؤں۔“ پھر آپ پتھریلے میدان میں چلے گئے حتیٰ کہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے اور مجھ سے بہت دیر تک غائب رہے، پھر میں نے آپ سے سنا، آپ یہ کہتے ہوئے تشریف لا رہے ہیں: ”اگرچہ چوری کرے یا بدکاری کرے؟“ جب آپ میرے پاس تشریف لائے تو مجھ سے صبر نہ ہو سکا، میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے! اس پتھریلے میدان کی طرف آپ کس سے باتیں کر رہے تھے؟ میں نے کسی کو آپ سے گفتگو کرتے نہیں سنا۔“ آپ نے فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام تھے جو پتھریلے میدان کی ایک طرف مجھے ملے اور کہا: اپنی امت کو خوشخبری سنائیں کہ جو کوئی اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس نے کسی کو اللہ کے ساتھ شریک نہ بنایا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔“ میں نے کہا: ”اے جبریل علیہ السلام! اگرچہ اس نے چوری کی ہو اور زنا کیا ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ میں نے پھر کہا: ”اگرچہ اس نے چوری کی ہو اور بدکاری کی ہو؟“ انہوں نے (جبریل نے) کہا: ”ہاں، اگرچہ اس نے شراب نوشی کی ہو۔“ نضر نے کہا: ”हमें شعبہ نے خبر دی، انہیں حبیب بن ابی ثابت، اعمش اور عبدالعزیز بن رفیع نے بتایا، ان سے زید بن وہب نے اسی طرح بیان کیا۔“ ابو عبد اللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ ”ابوصالح نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے جو روایت بیان کی ہے وہ منقطع ہونے کی بنا پر صحیح نہیں۔ ہم نے یہ بیان کر دیا تاکہ اس حدیث کا حال معلوم ہو جائے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہی صحیح ہے۔“ کسی نے امام بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا: ”عطا بن یسار نے بھی یہ حدیث ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”وہ بھی منقطع ہونے کی وجہ سے صحیح نہیں۔ صحیح حدیث حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے، اس لیے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کو نظر انداز کر دو۔“ ابو عبد اللہ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کا مطلب ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث والا ہے: جب وہ مرتے وقت «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”لا الہ الا اللہ“ کہہ دے، یعنی توحید پر خاتمہ ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6443]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1237
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَأَخْبَرَنِي أَوْ قَالَ بَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ , قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مہدی بن میمون نے، کہا کہ ہم سے واصل بن حیان احدب (کبڑے) نے، ان سے معرور بن سوید نے بیان کیا اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (کہ خواب میں) میرے پاس میرے رب کا ایک آنے والا (فرشتہ) آیا۔ اس نے مجھے خبر دی، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اس نے مجھے خوشخبری دی کہ میری امت میں سے جو کوئی اس حال میں مرے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس نے کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ اس پر میں نے پوچھا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو، اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگرچہ زنا کیا ہو اگرچہ چوری کی ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 1237]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے رب کی طرف سے میرے پاس ایک آنے والا آیا اور مجھے خوشخبری دی کہ میری اُمت میں سے جو شخص بایں حالت فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے عرض کیا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 1237]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة