صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. باب فى الحوض:
باب: حوض کوثر کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 6581
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ، إِذَا أَنَا بِنَهَرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ الْمُجَوَّفِ، قُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ، فَإِذَا طِينُهُ أَوْ طِيبُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ"، شَكَّ هُدْبَةُ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند) اور ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں جنت میں چل رہا تھا کہ میں ایک نہر پر پہنچا اس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے گنبد بنے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا یہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو دیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ اس کی خوشبو یا مٹی تیز مشک جیسی تھی۔ راوی ہدبہ کو شک تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6581]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت کی سیر کرتے کرتے ایک نہر پر پہنچا جس کے دونوں کناروں پر خول دار موتیوں کے گنبد بنے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا: جبرئیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ «الْكَوْثَرُ» ”کوثر“ ہے جو آپ کو آپ کے رب نے دیا ہے، میں نے دیکھا کہ اس کی خوشبو یا مٹی تیز مشک جیسی تھی، خوشبو یا مٹی کے الفاظ میں راوی ہدبہ کو شک تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6581]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3570
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُنَا، عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ جَاءَهُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي مَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَقَالَ" أَوَّلُهُمْ أَيُّهُمْ هُوَ، فَقَالَ: أَوْسَطُهُمْ هُوَ خَيْرُهُمْ، وَقَالَ: آخِرُهُمْ خُذُوا خَيْرَهُمْ فَكَانَتْ تِلْكَ فَلَمْ يَرَهُمْ حَتَّى جَاءُوا لَيْلَةً أُخْرَى، فِيمَا يَرَى قَلْبُهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمَةٌ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ، وَكَذَلِكَ الْأَنْبِيَاءُ تَنَامُ أَعْيُنُهُمْ وَلَا تَنَامُ قُلُوبُهُمْ، فَتَوَلَّاهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ عَرَجَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی (عبدالحمید) نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مسجد الحرام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کا واقعہ بیان کر رہے تھے کہ (معراج سے پہلے) تین فرشتے آئے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے سے بھی پہلے کا واقعہ ہے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام میں (دو آدمیوں حمزہ اور جعفر بن ابی طالب کے درمیان) سو رہے تھے۔ ایک فرشتے نے پوچھا: وہ کون ہیں؟ (جن کو لے جانے کا حکم ہے) دوسرے نے کہا کہ وہ درمیان والے ہیں۔ وہی سب سے بہتر ہیں۔ تیسرے نے کہا کہ پھر جو سب سے بہتر ہیں انہیں ساتھ لے چلو۔ اس رات صرف اتنا ہی واقعہ ہو کر رہ گیا۔ پھر آپ نے انہیں نہیں دیکھا۔ لیکن فرشتے ایک اور رات میں آئے۔ آپ دل کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور آپ کی آنکھیں سوتی تھیں پر دل نہیں سوتا تھا، اور تمام انبیاء کی یہی کیفیت ہوتی ہے کہ جب ان کی آنکھیں سوتی ہیں تو دل اس وقت بھی بیدار ہوتا ہے۔ غرض کہ پھر جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو اپنے ساتھ لیا اور آسمان پر چڑھا لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 3570]
شریک بن عبداللہ بن ابو نمرہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے ہمیں اس رات کا حال بیان کیا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد حرام (بیت اللہ شریف) سے سیر کرائی گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی آنے سے پہلے تین شخص آئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں محوِ استراحت تھے۔ ان تینوں میں سے ایک نے کہا: وہ کون شخص ہیں؟ دوسرے نے کہا: وہی جو ان سب سے بہتر ہیں۔ تیسرے نے کہا، جو آخر میں تھا: ان سب سے بہتر کو لے چلو۔ اس رات اتنی ہی باتیں ہوئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو دیکھا نہیں یہاں تک کہ وہ کسی دوسری رات پھر آئے بایں حالت کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل بیدار تھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سو جاتی تھیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل نہیں سوتا تھا، بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کا ہی حال تھا کہ ان کی آنکھیں سو جاتی تھیں لیکن ان کے دل نہیں سوتے تھے۔ پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اپنے ذمہ یہ کام لیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان کی طرف چڑھا کر لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 3570]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4964
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا عُرِجَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ، قَالَ:"أَتَيْتُ عَلَى نَهَرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ مُجَوَّفًا، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟" قَالَ:" هَذَا الْكَوْثَرُ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک نہر پر پہنچا جس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے ڈیرے لگے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا اے جبرائیل! یہ نہر کیسی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حوض کوثر ہے (جو اللہ نے آپ کو دیا ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 4964]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معراج ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”میں ایک نہر کے کنارے پر پہنچا جس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ نہر کیسی ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ کوثر ہے (جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے)۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 4964]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4965
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْكَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَ:" سَأَلْتُهَا عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1، قَالَتْ:" نَهَرٌ أُعْطِيَهُ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاطِئَاهُ عَلَيْهِ دُرٌّ مُجَوَّفٌ آنِيَتُهُ كَعَدَدِ النُّجُومِ".رَوَاهُ زَكَرِيَّاءُ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ، وَمُطَرِّفٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
ہم سے خالد بن یزید کاہلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے ابوعبیدہ نے کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إنا أعطيناك الكوثر» یعنی ”ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا ہے“ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ یہ (کوثر) ایک نہر ہے جو تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بخشی گئی ہے، اس کے دو کنارے ہیں جن پر خولدار موتیوں کے ڈیرے ہیں۔ اس کے آبخورے ستاروں کی طرح ان گنت ہیں۔ اس حدیث کی روایت زکریا اور ابوالاحوص اور مطرف نے ابواسحاق سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 4965]
حضرت ابوعبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ﴿إِنَّآ أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ ایک نہر ہے جو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی گئی ہے، اس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے خیمے ہیں اور اس کے آبخورے ستاروں کی طرح اَن گنت ہیں۔““ اس حدیث کو زکریا، ابوالاحوص اور مطرف نے ابواسحاق سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 4965]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6578
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" الْكَوْثَرُ الْخَيْرُ الْكَثِيرُ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ"، قَالَ أَبُو بِشْرٍ: قُلْتُ لِسَعِيدٍ: إِنَّ أُنَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّهُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: النَّهَرُ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ مِنَ الْخَيْرِ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ.
مجھ سے عمرو بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابوبشر اور عطاء بن سائب نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ کوثر سے مراد بہت زیادہ بھلائی (خیر کثیر) ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔ ابوبشر نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے کہا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے تو انہوں نے کہا کہ جو نہر جنت میں ہے وہ بھی اس خیر (بھلائی) کا ایک حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6578]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ” «الْكَوْثَرُ» (کوثر) سے مراد خیر کثیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی تھی۔“ (راویِ حدیث) ابوبشر نے کہا: میں نے حضرت سعید بن جبیر سے کہا: ”کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے“، تو انہوں نے جواب دیا: ”جو نہر جنت میں ہے وہ بھی خیر کثیر کا ایک حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6578]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة