🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب قوله صلى الله عليه وسلم ليت كذا وكذا:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں فرمانا کہ کاش ایسا اور ایسا ہوتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7231
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ:" أَرِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ: لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ، إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ السِّلَاحِ، قَالَ: مَنْ هَذَا؟، قَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُ أَحْرُسُكَ، فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْنَا غَطِيطَهُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ، قَالَ بِلَالٌ: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے سنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہ آئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش میرے صحابہ میں سے کوئی نیک مرد میرے لیے آج رات پہرہ دیتا۔ اتنے میں ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون صاحب ہیں؟ بتایا گیا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہیں یا رسول اللہ! (انہوں نے کہا) میں آپ کے لیے پہرہ دینے آیا ہوں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے یہاں تک کہ ہم نے آپ کے خراٹے کی آواز سنے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بلال رضی اللہ عنہ جب نئے نئے مدینہ آئے تو بحالت بخار حیرانی میں یہ شعر پڑھتے تھے۔ کاش میں جانتا کہ میں ایک رات اس وادی میں گزار سکوں گا۔۔۔ (وادی میں) اور میرے چاروں طرف اذخر اور جیل گھاس ہو گی۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی خبر کی۔ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 7231]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات نیند نہ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش! میرے صحابہ میں سے کوئی نیک آدمی آج رات میرے ہاں پہرہ دے۔ اس دوران میں اچانک ہم نے ہتھیاروں کی چھنکار سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کون صاحب ہیں؟ کہا گیا: اللہ کے رسول! میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہوں۔ آپ کی حفاظت کے لیے حاضر ہوا ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹے بھرنے کی آواز سنی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حضرت بلال رضی اللہ عنہ (جب نئے نئے مدینہ طیبہ آئے تو بخار کی حالت میں انہوں) نے کہا: کاش! میں ایسے میدان میں رات گزاروں جہاں میرے ارد گرد «إِذْخِرٌ» (اذخر) اور «جَلِيلٌ» (جلیل) نامی گھاس ہو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس امر کی خبر دی۔ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 7231]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2775
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ عُمَرَ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَعْطَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَحْمِلَ عَلَيْهَا رَجُلًا، فَأُخْبِرَ عُمَرُ أَنَّهُ قَدْ وَقَفَهَا يَبِيعُهَا، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ يَبْتَاعَهَا، فَقَالَ: لَا تَبْتَعْهَا، وَلَا تَرْجِعَنَّ فِي صَدَقَتِكَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عمری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں (جہاد کرنے کے لیے) ایک آدمی کو دے دیا۔ یہ گھوڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمر رضی اللہ عنہ نے دیا تھا ‘ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد میں کسی کو اس پر سوار کریں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ جس شخص کو یہ گھوڑا ملا تھا ‘ وہ اس گھوڑے کو بازار میں بیچ رہا ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا وہ اسے خرید سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرگز اسے نہ خرید۔ اپنا دیا ہوا صدقہ واپس نہ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 2775]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کسی کو فی سبیل اللہ سواری کے لیے گھوڑا دیا جو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا تھا تاکہ وہ کسی مجاہد کو اس پر سوار کریں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ جس کے لیے گھوڑا وقف کیا تھا وہ اسے فروخت کر رہا ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا کہ کیا وہ اس گھوڑے کو خرید سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مت خریدو اور اپنے صدقے میں کبھی رجوع نہ کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 2775]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2885
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَهِرَ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ، قَالَ: لَيْتَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي صَالِحًا يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ سِلَاحٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا، فَقَالَ: أَنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ جِئْتُ لِأَحْرُسَكَ، وَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی، کہا ہم کو عبداللہ بن ربیعہ بن عامر نے خبر دی، کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک رات) بیداری میں گزاری، مدینہ پہنچنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش! میرے اصحاب میں سے کوئی نیک مرد ایسا ہوتا جو رات بھر ہمارا پہرہ دیتا! ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ہم نے ہتھیار کی جھنکار سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ کون صاحب ہیں؟ (آنے والے نے) کہا میں ہوں سعد بن ابی وقاص، آپ کا پہرہ دینے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے۔ ان کے لیے دعا فرمائی اور آپ سو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 2885]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات بیدار رہے، جب مدینہ طیبہ پہنچے تو فرمایا: کاش! میرے صحابہ میں سے کوئی نیک مرد آج رات ہماری پاسبانی کرے۔ پھر ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاسبانی کے لیے آیا ہوں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم محو استراحت ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب التمني/حدیث: 2885]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں