Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. باب الحراسة فى الغزو فى سبيل الله:
باب: اللہ کے راستے میں جہاد میں پہرہ دینا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2885
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَهِرَ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ، قَالَ: لَيْتَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي صَالِحًا يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ سِلَاحٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا، فَقَالَ: أَنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ جِئْتُ لِأَحْرُسَكَ، وَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی، کہا ہم کو عبداللہ بن ربیعہ بن عامر نے خبر دی، کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک رات) بیداری میں گزاری، مدینہ پہنچنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش! میرے اصحاب میں سے کوئی نیک مرد ایسا ہوتا جو رات بھر ہمارا پہرہ دیتا! ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ہم نے ہتھیار کی جھنکار سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ کون صاحب ہیں؟ (آنے والے نے) کہا میں ہوں سعد بن ابی وقاص، آپ کا پہرہ دینے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے۔ ان کے لیے دعا فرمائی اور آپ سو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2885]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن عامر العنزي، أبو محمد
Newعبد الله بن عامر العنزي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
له رؤية
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← عبد الله بن عامر العنزي
ثقة ثبت
👤←👥علي بن مسهر القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن مسهر القرشي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة
👤←👥إسماعيل بن الخليل الخزاز، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن الخليل الخزاز ← علي بن مسهر القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7231
ليت رجلا صالحا من أصحابي يحرسني الليلة إذ سمعنا صوت السلاح قال من هذا قال سعد يا رسول الله جئت أحرسك فنام النبي حتى سمعنا غطيطه ألا ليت شعري هل أبيتن ليلة بواد وحولي إذخر وجليل فأخبرت النبي
صحيح البخاري
2885
ليت رجلا من أصحابي صالحا يحرسني الليلة إذ سمعنا صوت سلاح فقال من هذا فقال أنا سعد بن أبي وقاص جئت لأحرسك ونام النبي
صحيح مسلم
6230
ليت رجلا صالحا من أصحابي يحرسني الليلة قالت وسمعنا صوت السلاح فقال رسول الله من هذا قال سعد بن أبي وقاص يا رسول الله جئت أحرسك قالت عائشة فنام رسول الله حتى سمعت غطيطه
صحيح مسلم
6231
ليت رجلا صالحا من أصحابي يحرسني الليلة قالت فبينا نحن كذلك سمعنا خشخشة سلاح فقال من هذا قال سعد بن أبي وقاص فقال له رسول الله ما جاء بك قال وقع في نفسي خوف على رسول الله فجئت أحرسه فدعا له رسول الله
جامع الترمذي
3756
ليت رجلا صالحا يحرسني الليلة قالت فبينما نحن كذلك إذ سمعنا خشخشة السلاح فقال من هذا فقال سعد بن أبي وقاص فقال له رسول الله ما جاء بك فقال سعد وقع في نفسي خوف على رسول الله فجئت أحرسه فدعا له رسول الله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2885 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2885
حدیث حاشیہ:
دوسری روایت میں ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹے کی آواز سنی۔
ترمذی نے حضرت عائشہ ؓ سے نکالا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چوکی پہرہ رکھتے تھے‘ جب یہ آیت اتری ﴿وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾ (المائدة: 67) (اللہ آپؐ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا)
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوکی پہرہ اٹھا دیا۔
حاکم اور ابن ماجہ نے مرفوعاً نکالا۔
جہاد میں ایک رات چوکی پہرہ دینا ہزار راتوں کی عبادت اور ہزار دنوں کے روزہ سے زیادہ ثواب رکھتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2885]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2885
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس رات آرام سے سوئے حتی کہ ہم نے آپ کےخراٹوں کی آواز سنی۔
(صحیح البخاري، التمني، حدیث 7231)

ظاہر روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مدینہ آنے سے پہلے کا ہے، حالانکہ اس وقت آپ کے پاس عائشہ صدیقہ ؓ نہیں تھیں اور نہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ ہی تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بیداری مدینہ طیبہ میں آنے کے بعد ایک رات پیش آئی جیساکہ ایک روایت میں ہے:
جب آپ بیدار ہوئے توحضرت عائشہ ؓ آپ کے پاس تھیں۔
(مسند أحمد 141/6)
ترمذی ؒ کی روایت میں ہے:
صحابہ کرام ؓ آپ کا پہرہ دیتے تھے،جب یہ آیت اتری:
﴿وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾ اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔
(المآئدة: 67/5)
تو آپ نے پہرہ ختم کرادیا۔
(جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث 3046)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دشمن سے ہروقت محتاط رہنا چاہیے، نیز لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سربراہ کی حفاظت کریں تا کہ کوئی اچانک اسے اذیت نہ دے سکیں۔
یہ بھی معلوم ہواکہ اسباب کی فراہمی توکل کے منافی نہیں کیونکہ توکل دل کا فعل ہے اور اسباب و ذرائع کا استعمال اعضاء وجوارح سے متعلق ہے۔
(فتح الباري: 101/6)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2885]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3756
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی غزوہ سے مدینہ واپس آنے پر ایک رات نیند نہیں آئی، تو آپ نے فرمایا: کاش کوئی مرد صالح ہوتا جو آج رات میری نگہبانی کرتا، ہم اسی خیال میں تھے کہ ہم نے ہتھیاروں کے کھنکھناہٹ کی آواز سنی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ آنے والے نے کہا: میں سعد بن ابی وقاص ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم کیوں آئے ہو؟ تو سعد رضی الله عنہ نے کہا: میرے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3756]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی: اللہ کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان (رَجُلٌ صَالِحٌ) کے مصداق سعد رضی اللہ عنہ قرار پائے،
یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہوئی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو (رَجُلٌ صَالِحٌ) قرار دیا،
 (رَضِیَ اللہُ عَنْهُ وَأَرْضَاهُ)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3756]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6230
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگتے رہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"کاش! میرے ساتھیوں میں سے کوئی صالح شخص آج پہرہ دے۔"حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:اچانک ہم نے ہتھیاروں کی آوازسنی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یہ کون ہے؟حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کا پہرہ دینے کے لئے آیا ہوں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6230]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
أرق:
جاگتے یا بیدار رہے۔
(2)
يحرسني:
میرا پہرہ دے،
حفاظت کرے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کو حزم و احتیاط اختیار کرنا چاہیے اور دشمن سے چوکنا رہنا چاہیے اور اس کے لیے اسباب و وسائل اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں ہے اور خطرات کی صورت میں اپنے حکمرانوں کی حفاظت کا لوگوں کو بندوبست کرنا چاہیے اور اس سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی آپ سے محبت و عقیدت اور آپ کی حفاظت کا جذبہ بھی معلوم ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہ آپ کے فرمان رجلا صالحا کا مصداق بنے ہیں،
لیکن یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کرنے کا ابھی تک مژدہ نہیں سنایا تھا،
جب یہ آیت اتری کہ اللہ آپ کی لوگوں سے حفاظت فرمائے گا تو پھر آپ کو کسی ظاہری پہرہ داری کی ضرورت نہ رہی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6230]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6231
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آنے پر ایک رات جاگتے رہے،چنانچہ فرمایا:"اےکاش! میرے اصحاب میں سے کوئی نیک بخت رات بھر میری حفاظت کرے۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ اتنے میں ہمیں ہتھیاروں کی آواز معلوم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون ہے؟ آواز آئی کہ یا رسول اللہ! سعد بن ابی وقاص ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کیوں آئے؟ وہ بولے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے نفس میں ڈر... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6231]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
خشخشة السلاح:
ہتھیاروں کے باہمی ٹکراؤ کی آواز،
ان سے پیدا ہونے والی جھنکار۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6231]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7231
7231. حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات نیند نہ آئی تو آپ نے فرمایا: کاش! میرے صحابہ میں سے کوئی نیک آدمی آج رات میرے ہاں پہرہ دے۔ اس دوران میں اچانک ہم نے ہتھیاروں کی چھنکار سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:کون صاحب ہیں؟ کہا گیا: اللہ کے رسول! میں سعد بن ابی وقاص ہوں۔ آپ کی حفاظت کے لیے حاضر ہوا ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ ہم نے آپ کے خراٹے بھرنے کی آواز سنی۔ ابو عبد اللہ(امام بخاری) کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: بلالؓ (جب نئے نئے مدینہ طیبہ آئے تو بخار کی حالت میں انہوں) نے کہا: کاش! میں ایسے میدان میں رات گزاروں جہاں میرے ارد گرد اذخر اور جلیل نامی گھاس ہو۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس امر کی خبر دی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7231]
حدیث حاشیہ:
مولانا وحید الزماں نے اس شعر کا ترجمہ شعر میں کیوں کیا ہے کاش میں مکہ کی پاؤں ایک رات گرد میرے ہوں جلیل اذ خر نبات یہ پہرہ کا ذکر مدینہ میں شروع شروع آتے وقت کا ہے کیونکہ دشمنوں کا ہر طرف ہجوم تھا۔
آپ کی دعا سعد رضی اللہ عنہ کے حق میں قبول ہوئی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7231]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7231
7231. حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات نیند نہ آئی تو آپ نے فرمایا: کاش! میرے صحابہ میں سے کوئی نیک آدمی آج رات میرے ہاں پہرہ دے۔ اس دوران میں اچانک ہم نے ہتھیاروں کی چھنکار سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:کون صاحب ہیں؟ کہا گیا: اللہ کے رسول! میں سعد بن ابی وقاص ہوں۔ آپ کی حفاظت کے لیے حاضر ہوا ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ ہم نے آپ کے خراٹے بھرنے کی آواز سنی۔ ابو عبد اللہ(امام بخاری) کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: بلالؓ (جب نئے نئے مدینہ طیبہ آئے تو بخار کی حالت میں انہوں) نے کہا: کاش! میں ایسے میدان میں رات گزاروں جہاں میرے ارد گرد اذخر اور جلیل نامی گھاس ہو۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس امر کی خبر دی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7231]
حدیث حاشیہ:

مدینہ طیبہ میں دشمنانِ اسلام کا ہر طرف ہجوم تھا، اس لیے حفاظت کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرا دیا جاتا تھا کہ کوئی دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان نہ پہنچائے۔
چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے پہرا دیا جاتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:
اور اللہ تعالیٰ آپ کولوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔
(المآئدة: 5/67)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تقریباً سترہ مرتبہ قاتلانہ حملہ ہوا۔
اس آیت کے نزول کے بعد پہرا اٹھا دیا گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نبوت 23 سال ہے، ابتدائی تین سال تو انتہائی خفیہ تبلیغ کے ہیں، باقی بیس سال کے عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سترہ بار قاتلانہ حملے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دینے کی سازشیں تیار ہوئیں، ان میں سے 9 حملے تو قریش مکہ کی طرف سے ہوئے تین یہود سے، تین بدوی قبائل سے، ایک منافقین سے اور ایک شاہ ایران خسرو پرویز سے اورغالباً اس دنیا میں کسی بھی دوسرے شخص پر اتنی بار قاتلانہ حملے نہیں ہوئے اور ہر باراللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی مطلع کرکے یا مدد کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمنوں سے بچا کر اپنا وعدہ پورا کردیا۔

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ بدر، غزوہ اُحد، غزوہ خندق، خیبر سے واپسی کے وقت، وادی قریٰ، عمرہ قضا اور غزوہ حنین میں باقاعدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرا دیا گیا۔
اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ آیت غزوہ حنین کے بعد نازل ہوئی، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرا دینے والوں میں سے تھے۔
جب مذکورہ آیت نازل ہوئی تو پہراختم کردیا گیا اورحضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے ہیں۔
(فتح الباري: 270/13)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ حرف لَيْتَ تمنی ہے۔
اس کا تعلق اکثر وبیشتر ناممکنات میں سے ہوتا ہے لیکن کبھی کبھار ممکنات کے لیے بھی استعمال ہوتاہے، چنانچہ مذکورہ احادیث میں پہرا دینا اورمخصوص وادی میں رات گزارنا ممکنات میں سے ہے۔
مؤخر الذکر کی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمنا کی تھی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرے سے متعلق تمنا پوری کردی گئی تھی۔
(فتح الباري: 269/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7231]