صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. باب قول النبى صلى الله عليه وسلم: الماهر بالقرآن مع الكرام البررة :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ ”قرآن کا ماہر (جید حافظ) (قیامت کے دن) لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا جو عزت والے اور اللہ کے تابعدار ہیں“۔
حدیث نمبر: 7549
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ".
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ان کی والدہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی قرآن پڑھتے تھے جب آپ کا سر مبارک میری گود میں ہوتا اور میں حالت حیض میں ہوتی۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7549]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھا کرتے تھے جبکہ آپ کا سر مبارک میری گود میں ہوتا اور میں حالتِ حیض میں ہوتی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7549]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 297
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، سَمِعَ زُهَيْرًا، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ، أَنَّ أُمَّهُ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَّكِئُ فِي حَجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے زہیر سے سنا، انہوں نے منصور بن صفیہ سے کہ ان کی ماں نے ان سے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر قرآن مجید پڑھتے، حالانکہ میں اس وقت حیض والی ہوتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 297]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں تکیہ لگا لیتے تھے جبکہ میں حیض سے ہوتی، پھر آپ قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 297]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 397
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَيْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، قَالَ: أُتِيَ ابْنُ عُمَرَ، فَقِيلَ لَهُ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَأَقْبَلْتُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ وَأَجِدُ بِلَالًا قَائِمًا بَيْنَ الْبَابَيْنِ، فَسَأَلْتُ بِلَالًا، فَقُلْتُ: أَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَكْعَتَيْنِ" بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ اللَّتَيْنِ عَلَى يَسَارِهِ إِذَا دَخَلْتَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ رَكْعَ تَيْنِ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا سیف ابن ابی سلیمان سے، انہوں نے کہا میں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا، اے لو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آن پہنچے اور آپ کعبہ کے اندر داخل ہو گئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں جب آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ سے نکل چکے تھے، میں نے دیکھا کہ بلال دونوں دروازوں کے سامنے کھڑے ہیں۔ میں نے بلال سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! دو رکعت ان دو ستونوں کے درمیان پڑھی تھیں، جو کعبہ میں داخل ہوتے وقت بائیں طرف واقع ہیں۔ پھر جب باہر تشریف لائے تو کعبہ کے سامنے دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 397]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہیں بتایا گیا کہ دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے: میں ادھر پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لا رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ باہر تشریف لا رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ دونوں دروازوں کے درمیان کھڑے ہیں، چنانچہ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، دو رکعت (پڑھیں) ان دو ستونوں کے درمیان جو بیت اللہ میں داخل ہوتے وقت بائیں جانب ہوتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ نے کعبے کے سامنے دو رکعت نماز ادا کی۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 397]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة