صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
150. باب ما يتخير من الدعاء بعد التشهد وليس بواجب:
باب: تشہد کے بعد جو دعا اختیار کی جاتی ہے اس کا بیان اور یہ بیان کہ اس دعا کا پڑھنا کچھ واجب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 835
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُولُوا السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، وَلَكِنْ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ فِي السَّمَاءِ أَوْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُو".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے اعمش سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے شقیق نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے فرمایا کہ (پہلے) جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم (قعدہ میں) یہ کہا کرتے تھے کہ اس کے بندوں کی طرف سے اللہ پر سلام ہو اور فلاں پر اور فلاں پر سلام ہو۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ ”اللہ پر سلام ہو“ کیونکہ اللہ تو خود سلام ہے۔ بلکہ یہ کہو «التحيات لله، والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» آداب بندگان اور تمام عبادات اور تمام پاکیزہ خیراتیں اللہ ہی کے لیے ہیں آپ پر اے نبی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ کے صالح بندوں پر سلام ہو اور جب تم یہ کہو گے تو آسمان پر اللہ کے تمام بندوں کو پہنچے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان اور زمین کے درمیان تمام بندوں کو پہنچے گا «أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اس کے بعد دعا کا اختیار ہے جو اسے پسند ہو کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 835]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو یوں کہتے: اللہ کے بندوں کی طرف سے اس پر سلامتی ہو۔ فلاں اور فلاں پر بھی سلامتی ہو۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کہو کہ اللہ پر سلامتی ہو، اللہ تو خود سراپا سلامتی ہے، البتہ یوں کہا کرو: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام قولی، بدنی اور مالی عبادات صرف اللہ کے لیے ہیں۔ سلامتی ہو آپ پر اے اللہ کے نبی! اس کی رحمت اور برکات کا نزول ہو۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ جب تم ایسا کہو گے تو یہ سلامتی اللہ کے ہر اس بندے کو پہنچ جائے گی جو آسمانوں میں ہے یا زمین و آسمان کے درمیان ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ اس کے بعد جو دعا اسے پسند ہو پڑھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 835]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 831
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، فَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيقُلِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمُوهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے شقیق بن سلمہ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو کہتے (ترجمہ) سلام ہو جبرائیل اور میکائیل پر سلام ہو فلاں اور فلاں پر (اللہ پر سلام) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اللہ تو خود ”سلام“ ہے۔ (تم اللہ کو کیا سلام کرتے ہو) اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو یہ کہے «التحيات لله، والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» تمام آداب بندگی، تمام عبادات اور تمام بہترین تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ آپ پر سلام ہو اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہم پر سلام اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر سلام۔ جب تم یہ کہو گے تو تمہارا سلام آسمان و زمین میں جہاں کوئی اللہ کا نیک بندہ ہے اس کو پہنچ جائے گا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 831]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں یہ پڑھا کرتے تھے: ”جبرائیل اور میکائیل پر سلام ہو۔ فلاں اور فلاں پر سلام ہو۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تو خود ہی سلام ہے، لہٰذا تم میں سے جب کوئی نماز پڑھے تو کہے: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ» ”تمام قولی، بدنی اور مالی عبادات اللہ کے لیے خاص ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ کی رحمت، سلامتی اور برکتیں ہوں، نیز ہم پر اور اللہ کے (دوسرے) نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔“ جب تم یہ دعائیہ کلمات کہو گے تو اللہ کے ہر نیک بندے کو پہنچ جائیں گے، خواہ وہ آسمان میں ہو یا زمین میں۔ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔““ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 831]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1202
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" كُنَّا نَقُولُ التَّحِيَّةُ فِي الصَّلَاةِ وَنُسَمِّي وَيُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ , فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَإِنَّكُمْ إِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فَقَدْ سَلَّمْتُمْ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ".
ہم سے عمرو بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعبدالصمد العمی عبدالعزیز بن عبدالصمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ ہم پہلے نماز میں یوں کہا کرتے تھے فلاں پر سلام اور نام لیتے تھے۔ اور آپس میں ایک شخص دوسرے کو سلام کر لیتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا اس طرح کہا کرو۔ «التحيات لله والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”یعنی ساری تحیات، بندگیاں اور کوششیں اور اچھی باتیں خاص اللہ ہی کے لیے ہیں اور اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر سلام ہو اور اللہ کے سب نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ اگر تم نے یہ پڑھ لیا تو گویا اللہ کے ان تمام صالح بندوں پر سلام پہنچا دیا جو آسمان اور زمین میں ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 1202]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ نماز میں سلام کرتے اور ایک دوسرے کا نام لیتے تھے، علاوہ ازیں ایک شخص دوسرے کو سلام بھی کہہ لیتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ”اس طرح کہا کرو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”ہر قسم کی زبانی، بدنی اور مالی عبادات صرف اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ ہم پر سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، نیز گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ جب تم نے یہ پڑھ لیا تو یقینا تم نے اللہ کے ان تمام نیک بندوں کو سلام پہنچا دیا جو زمین و آسمان میں ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 1202]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6230
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ، السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ، السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَقُلِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ، أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَتَخَيَّرْ بَعْدُ مِنَ الْكَلَامِ مَا شَاءَ".
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے شقیق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم (ابتداء اسلام میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے ”سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے، سلام ہو جبرائیل پر، سلام ہو میکائیل پر، سلام ہو فلاں پر، پھر (ایک مرتبہ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اللہ ہی سلام ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو «التحيات لله، والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين.» الخ پڑھا کرے۔ کیونکہ جب وہ یہ دعا پڑھے گا تو آسمان و زمین کے ہر صالح بندے کو اس کی یہ دعا پہنچے گی۔ «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.» اس کے بعد اسے اختیار ہے جو دعا چاہے پڑھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 6230]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو اس طرح کہتے تھے: ”اللہ کے بندوں کی طرف سے اللہ پر سلام ہو، حضرت میکائیل علیہ السلام پر سلامتی ہو، فلاں پر سلام ہو۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تو خود سلام ہے۔ جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ» ”تمام عبادتیں، نمازیں اور پاکیزہ کلمات اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو، آپ پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکات نازل ہوں۔ ہم پر بھی سلام ہو اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر بھی۔“ جب نمازی یہ کہے گا تو زمین و آسمان کے ہر نیک بندے کو یہ سلام پہنچ جائے گا۔ پھر یہ کہو: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں نیز میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ اس کے بعد جو دعا نمازی کو پسند ہو وہ پڑھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 6230]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6265
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ:" عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ التَّشَهُّدَ، كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا، فَلَمَّا قُبِضَ، قُلْنَا السَّلَامُ"، يَعْنِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سیف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن بخرہ ابومعمر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا، اس وقت میرا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیوں کے درمیان میں تھا (اس طرح سکھایا) جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے۔ «التحيات لله والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حیات تھے۔ جب آپ کی وفات ہو گئی تو ہم (خطاب کا صیغہ کے بجائے) اس طرح پڑھنے لگے «السلام. على النبي» یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 6265]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد سکھایا، اس وقت میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھا۔ یہ تشہد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انداز سے سکھایا جس طرح قرآن کی تعلیم دیتے تھے۔ (وہ یہ ہے:) «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر سلام ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہم میں موجود تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو ہم (خطاب کے صیغے کے بجائے) اس طرح پڑھنے لگے: «السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ» ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام ہو۔““ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 6265]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6328
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ:" إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَقُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ إِلَى قَوْلِهِ: الصَّالِحِينَ، فَإِذَا قَالَهَا أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ صَالِحٍ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الثَّنَاءِ مَا شَاءَ".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے منصور بن معتمر نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نماز میں یہ کہا کرتے تھے کہ اللہ پر سلام ہو، فلاں پر سلام ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک دن فرمایا کہ اللہ خود سلام ہے اس لیے جب تم نماز میں بیٹھو تو یہ پڑھا کرو «التحيات لله» ارشاد «الصالحين.» تک اس لیے کہ جب تم یہ کہو گے تو آسمان و زمین میں موجود اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہر صالح بندہ کو (یہ سلام) پہنچے گا۔ «أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.» اس کے بعد ثنا میں اختیار ہے جو دعا چاہو پڑھو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 6328]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم نماز میں یہ کہا کرتے تھے: ”اللہ پر سلام ہو، فلاں پر سلام ہو“، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تو خود سلام ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ... الصَّالِحِينَ» تک۔ جب نماز پڑھنے والا یہ کہے گا تو اس کا سلام زمین و آسمان میں رہنے والے اللہ کے ہر نیک بندے کو پہنچے گا۔ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ اس کے بعد اسے ثنا یعنی دعا میں اختیار ہے جو چاہے مانگے۔“” [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 6328]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7381
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ، حَدَّثَنَا شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَقُولُ: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ وَلَكِنْ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے مغیرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شقیق بن سلمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم (ابتداء اسلام میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور کہتے تھے «السلام على الله.» تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اللہ تو خود ہی «السلام.» ہے، البتہ اس طرح کہا کرو «التحيات لله والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 7381]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم (ابتدائے اسلام میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو اس طرح کہتے: ”اللہ پر سلام۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ» ”اللہ تعالیٰ تو خود سلام ہے (اسے تمہاری دعائے سلامتی کی ضرورت نہیں) البتہ اس طرح کہا کرو: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام عبادتیں، نمازیں اور پاکیزہ کلمات اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی ہو۔ آپ پر اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہو۔ سلام ہو ہم پر بھی اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔““ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 7381]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة