🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب يلبس أحسن ما يجد:
باب: جمعہ کے دن عمدہ سے عمدہ کپڑے پہنے جو اس کو مل سکے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 886
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا فَكَسَاهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخًا لَهُ بِمَكَّةَ مُشْرِكًا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے نافع سے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (ریشم کا) دھاری دار جوڑا مسجد نبوی کے دروازے پر بکتا دیکھا تو کہنے لگے یا رسول اللہ! بہتر ہو اگر آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے دن اور وفود جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو ان کی ملاقات کے لیے آپ اسے پہنا کریں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے تو وہی پہن سکتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی طرح کے کچھ جوڑے آئے تو اس میں سے ایک جوڑا آپ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے یہ جوڑا پہنا رہے ہیں حالانکہ اس سے پہلے عطارد کے جوڑے کے بارے میں آپ نے کچھ ایسا فرمایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تمہیں خود پہننے کے لیے نہیں دیا ہے، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو پہنا دیا جو مکے میں رہتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 886]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا فروخت ہوتے دیکھا تو عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اسے خرید لیں تو اچھا ہے تاکہ جمعہ اور سفیروں کی آمد کے وقت اسے زیب تن فرما لیا کریں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تو وہ شخص پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ اس کے بعد کہیں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس قسم کے ریشمی جوڑے آ گئے۔ ان میں سے آپ نے ایک جوڑا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے یہ جوڑا عنایت فرمایا ہے، حالانکہ آپ خود ہی حلّۂ عطارد کے متعلق کچھ فرما چکے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ اس لیے نہیں دیا کہ اسے خود پہنو۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ جوڑا اپنے مشرک بھائی کو پہنچا دیا جو مکہ مکرمہ میں رہائش پذیر تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 886]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 938
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ:" كَانَتْ فِينَا امْرَأَةٌ تَجْعَلُ عَلَى أَرْبِعَاءَ فِي مَزْرَعَةٍ لَهَا سِلْقًا، فَكَانَتْ إِذَا كَانَ يَوْمُ جُمُعَةٍ تَنْزِعُ أُصُولَ السِّلْقِ فَتَجْعَلُهُ فِي قِدْرٍ، ثُمَّ تَجْعَلُ عَلَيْهِ قَبْضَةً مِنْ شَعِيرٍ تَطْحَنُهَا فَتَكُونُ أُصُولُ السِّلْقِ عَرْقَهُ، وَكُنَّا نَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ فَنُسَلِّمُ عَلَيْهَا فَتُقَرِّبُ ذَلِكَ الطَّعَامَ إِلَيْنَا فَنَلْعَقُهُ، وَكُنَّا نَتَمَنَّى يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِطَعَامِهَا ذَلِكَ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوغسان محمد بن مطر مدنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے سہل بن سعد کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ ہمارے یہاں ایک عورت تھی جو نالوں پر اپنے ایک کھیت میں چقندر بوتی۔ جمعہ کا دن آتا تو وہ چقندر اکھاڑ لاتیں اور اسے ایک ہانڈی میں پکاتیں پھر اوپر سے ایک مٹھی جو کا آٹا چھڑک دیتیں۔ اس طرح یہ چقندر گوشت کی طرح ہو جاتے۔ جمعہ سے واپسی میں ہم انہیں سلام کرنے کے لیے حاضر ہوتے تو یہی پکوان ہمارے آگے کر دیتیں اور ہم اسے چاٹ جاتے۔ ہم لوگ ہر جمعہ کو ان کے اس کھانے کے آرزومند رہا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 938]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم میں ایک عورت تھی جس نے چھوٹی سی نہر کے کنارے اپنے کھیت میں چقندر کاشت کر رکھے تھے۔ جب جمعہ کا دن ہوتا تو وہ چقندر کے چند پودے جڑوں سے کھینچ لاتی اور انہیں ہنڈیا میں ڈال کر پکاتی، اس کے اوپر مٹھی بھر جو کا آٹا ڈالتی جو اس نے پیس کر رکھا ہوا تھا۔ تیار ہونے کے بعد وہ چقندر (ذائقے میں) یوں لگتے جس طرح ہڈی پر لگا گوشت ہوتا ہے۔ جب ہم نمازِ جمعہ سے فارغ ہوتے تو اس عورت کے پاس آ کر اسے سلام کرتے اور وہ تیار شدہ کھانا ہمارے پاس لا کر رکھ دیتی تھی تو ہم اسے تناول کرتے تھے، چنانچہ ہم لوگوں کو اس کے کھانے کی وجہ سے جمعہ کے دن کی تمنا ہوتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 938]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 948
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: أَخَذَ عُمَرُ جُبَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِي السُّوقِ فَأَخَذَهَا، فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْتَعْ هَذِهِ تَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَالْوُفُودِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ، فَأَقْبَلَ بِهَا عُمَرُ، فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قُلْتَ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ وَأَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ الْجُبَّةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَبِيعُهَا أَوْ تُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ ایک موٹے ریشمی کپڑے کا چغہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جو بازار میں بک رہا تھا کہنے لگے: یا رسول اللہ! آپ اسے خرید لیجئے اور عید اور وفود کی پذیرائی کے لیے اسے پہن کر زینت فرمایا کیجئے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو وہ پہنے گا جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔ اس کے بعد جب تک اللہ نے چاہا عمر رہی پھر ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کے پاس ایک ریشمی چغہ تحفہ میں بھیجا۔ عمر رضی اللہ عنہ اسے لیے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! آپ نے تو یہ فرمایا کہ اس کو وہ پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں پھر آپ نے یہ میرے پاس کیوں بھیجا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تیرے پہننے کو نہیں بھیجا بلکہ اس لیے کہ تم اسے بیچ کر اس کی قیمت اپنے کام میں لاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 948]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی جبہ لیا جو بازار میں فروخت ہو رہا تھا، پھر اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اسے خرید لیں تاکہ عید کے دن اور وفود کی آمد کے وقت زیب تن فرما کر خود کو آراستہ کیا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ان لوگوں کا لباس ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ، جس قدر اللہ کو منظور تھا، ٹھہرے رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے تو فرمایا تھا: یہ ان لوگوں کا لباس ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اس کے باوجود آپ نے یہ جبہ میرے ہاں بھیج دیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اسے فروخت کر کے اپنی کوئی ضرورت پوری کر لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 948]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2104
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحُلَّةِ حَرِيرٍ أَوْ سِيَرَاءَ، فَرَآهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أُرْسِلْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ، إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِتَسْتَمْتِعَ بِهَا يَعْنِي تَبِيعَهَا".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن حفص نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان کے باپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک ریشمی جبہ بھیجا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ اسے (ایک دن) پہنے ہوئے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اسے تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے پہن لو، اسے تو وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ میں نے تو اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس سے (بیچ کر) فائدہ اٹھاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 2104]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا: میں نے یہ تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے پہن لو بلکہ اسے تو وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، میں نے صرف اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ یعنی اسے فروخت کرکے اپنی کوئی غرض پوری کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 2104]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2612
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَلِلْوَفْدِ قَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ"، ثُمَّ جَاءَتْ حُلَلٌ فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً، وَقَالَ: أَكَسَوْتَنِيهَا، وَقُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ؟ فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ بِمَكَّةَ مُشْرِكًا".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے نافع سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسجد کے دروازے پر ایک ریشمی حلہ (فروخت ہو رہا) ہے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، کہ کیا اچھا ہوتا اگر آپ اسے خرید لیتے اور جمعہ کے دن اور وفود کی ملاقات کے موقع پر اسے زیب تن فرما لیا کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب یہ دیا کہ اسے وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ کچھ دنوں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بہت سے (ریشمی) حلے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلہ ان میں سے عمر رضی اللہ عنہ کو بھی عنایت فرمایا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر عرض کیا کہ آپ یہ مجھے پہننے کے لیے عنایت فرما رہے ہیں۔ حالانکہ آپ خود عطارد کے حلوں کے بارے میں جو کچھ فرمانا تھا فرما چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا ہے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا، جو مکے میں رہتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 2612]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا فروخت ہوتے دیکھا تو عرض کرنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہی اچھا ہو اگر آپ اسے خرید لیں اور جمعے کے دن، نیز کسی وفد کی آمد کے موقع پر اسے زیب تن فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے جوڑے تو وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ پھر کچھ اور جوڑے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ یہ خلعت مجھے عنایت فرما رہے ہیں، حالانکہ آپ نے حلہ عطارد کے متعلق تو جو کچھ فرمانا تھا، فرما چکے ہیں۔ (یعنی آپ نے ان کے متعلق تو بہت سخت وعید سنائی تھی۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ خلعت تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ جوڑا اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں رہتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 2612]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2614
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:"أَهْدَى إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةَ سِيَرَاءَ فَلَبِسْتُهَا، فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھے عبدالمالک بن میسرہ نے خبر دی، کہا کہ میں نے زید بن وہب سے سنا کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی حلہ ہدیہ میں دیا تو میں نے اسے پہن لیا۔ لیکن جب غصے کے آثار روئے مبارک پر دیکھے تو اسے اپنی عورتوں میں پھاڑ کر تقسیم کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 2614]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا تو میں نے اسے پہن لیا، لیکن میں نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہِ انور پر غصہ دیکھا تو اسے پھاڑ کر خاندان کی عورتوں میں تقسیم کردیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 2614]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2619
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" رَأَى عُمَرُحُلَّةً عَلَى رَجُلٍ تُبَاعُ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَعْ هَذِهِ الْحُلَّةَ تَلْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَإِذَا جَاءَكَ الْوَفْدُ، فَقَالَ: إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا بِحُلَلٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ مِنْهَا بِحُلَّةٍ، فَقَالَ عُمَرُ: كَيْفَ أَلْبَسُهَا وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ؟ قَالَ: إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا تَبِيعُهَا أَوْ تَكْسُوهَا، فَأَرْسَلَ بِهَا عُمَرُ إِلَى أَخٍ لَهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ".
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ایک شخص کے یہاں ایک ریشمی جوڑا فروخت ہو رہا ہے۔ تو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ یہ جوڑا خرید لیجئیے تاکہ جمعہ کے دن اور جب کوئی وفد آئے تو آپ اسے پہنا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سے ریشمی جوڑے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اسے کس طرح پہن سکتا ہوں جب کہ آپ خود ہی اس کے متعلق جو کچھ ارشاد فرمانا تھا، فرما چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا بلکہ اس لیے دیا کہ تم اسے بیچ دو یا کسی (غیر مسلم) کو پہنا دو۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مکے میں اپنے ایک بھائی کے گھر بھیج دیا جو ابھی اسلام نہیں لایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 2619]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو ریشمی حلہ فروخت کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ اس حلے کو خرید لیں تاکہ جمعے کے دن، نیز جب آپ کے پاس وفد آئے تو اسے زیب تن فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا لباس وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ پھر (ایسا ہوا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس قسم کے چند حلے لائے گئے تو آپ نے ان میں سے ایک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اس کو کیونکر پہن سکتا ہوں جبکہ آپ نے اس کے متعلق جو کچھ فرمانا تھا، فرما چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا بلکہ تم اسے فروخت کر کے اس کی قیمت اپنے کام میں لاؤ یا کسی اور کو پہنا دو۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ اپنے ایک بھائی کو بھیج دیا جو مکہ میں رہتا تھا اور ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 2619]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3054
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: وَجَدَ عُمَرُ حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِي السُّوقِ فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْتَعْ هَذِهِ الْحُلَّةَ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوُفُودِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فَلَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ فَأَقْبَلَ بِهَا عُمَرُ حَتَّى أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ: إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ، فَقَالَ: تَبِيعُهَا أَوْ تُصِيبُ بِهَا بَعْضَ حَاجَتِكَ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ بازار میں ایک ریشمی جوڑا فروخت ہو رہا ہے۔ پھر اسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا یا رسول اللہ! یہ جوڑا آپ خرید لیں اور عید اور وفود کی ملاقات پر اس سے اپنی زیبائش فرمایا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان لوگوں کا لباس ہے جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں یا (آپ نے یہ جملہ فرمایا) اسے تو وہی لوگ پہن سکتے ہیں جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔ پھر اللہ نے جتنے دنوں چاہا عمر رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔ پھر جب ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا تو عمر رضی اللہ عنہ اسے لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے تو یہ فرمایا تھا کہ یہ ان کا لباس ہے جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں ‘ یا (عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی بات اس طرح دہرائی کہ) اسے وہی لوگ پہن سکتے ہیں جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔ اور پھر آپ نے یہی میرے پاس ارسال فرما دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (میرے بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ) تم اسے بیچ لو ‘ یا (فرمایا کہ) اس سے اپنی کوئی ضرورت پوری کر سکو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 3054]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی جوڑا بازار میں فروخت ہوتا پایا تو وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ یہ جوڑا خرید لیں تاکہ عید اور وفود کی آمد پر اسے زیب تن کیا کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لباس تو ان لوگوں کے لیے ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ یا (فرمایا:) یہ تو وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جتنے دن چاہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموش رہے، آخر ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ریشمی جبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا تھا: یہ ان لوگوں کا لباس ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا یا اسے وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اس کے باوجود آپ نے اسے میری طرف ارسال فرمایا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم اسے فروخت کر دو۔ یا (فرمایا:) اس سے اپنی کوئی اور ضرورت پوری کر لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 3054]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5366
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" آتَى إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً سِيَرَاءَ فَلَبِسْتُهَا، فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَشَقَّقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان، کہا کہ مجھے عبدالملک بن میسرہ نے خبر دی، کہا کہ میں نے زید بن وہب سے سنا اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرا کپڑے کا جوڑا ہدیہ میں دیا تو میں نے اسے خود پہن لیا، پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر خفگی دیکھی تو میں نے اسے پھاڑ کر اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 5366]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ریشمی دھاری دار حلہ دیا، میں نے اسے خود پہن لیا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناراضی کے اثرات دیکھے تو میں نے اسے پھاڑ کر اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 5366]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5835
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْحَرِيرِ، فَقَالَتْ: ائْتِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَلْهُ، قَالَ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: سَلِ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو حَفْصٍ، يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ"، فَقُلْتُ: صَدَقَ، وَمَا كَذَبَ أَبُو حَفْصٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ: حَدَّثَنَا حَرْبٌ عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ، وَقَصَّ الْحَدِيثَ.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے علی مبارک نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عمران بن حطان نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ریشم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔ بیان کی کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوحفص یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں ریشم تو وہی مرد پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ میں نے اس پر کہا کہ سچ کہا اور ابوحفص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات نسبت نہیں کر سکتے اور عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے اور ان سے عمران نے اور پوری حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 5835]
حضرت عمران بن حطان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ریشم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: تم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کرو۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے ابوحفص، یعنی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ریشم تو دنیا میں وہی شخص پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ میں نے کہا: انہوں نے سچ کہا اور ابوحفص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں بولا۔ عبداللہ بن رجاء نے کہا: ہم نے کہا: ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے یحیٰی نے، ان سے عمران نے پوری حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 5835]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5840
ع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَسَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً سِيَرَاءَ، فَخَرَجْتُ فِيهَا فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَشَقَّقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے اور ان سے زید بن وہب نے کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا، حلہ عنایت فرمایا۔ میں اسے پہن کر نکلا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار دیکھے۔ چنانچہ میں نے اس کے ٹکڑے کر کے اپنی عزیز عورتوں میں بانٹ دیئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 5840]
حضرت علی بن طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ریشمی حلہ دیا، میں اسے پہن کر باہر نکلا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہِ انور پر غصے کے آثار دیکھے، چنانچہ میں نے اس کے ٹکڑے کر کے اپنے گھر کی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 5840]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5841
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءَ تُبَاعُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ ابْتَعْتَهَا تَلْبَسُهَا لِلْوَفْدِ إِذَا أَتَوْكَ وَالْجُمُعَةِ، قَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ" وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ حُلَّةَ سِيَرَاءَ حَرِيرٍ كَسَاهَا إِيَّاهُ، فَقَالَ عُمَرُ: كَسَوْتَنِيهَا، وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِيهَا مَا قُلْتَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا أَوْ تَكْسُوَهَا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا فروخت ہوتے دیکھا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بہتر ہے کہ آپ اسے خرید لیں اور وفود سے ملاقات کے وقت اور جمعہ کے دن اسے زیب تن کیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے وہ پہنتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ریشم کی دھاریوں والا ایک جوڑا حلہ بھیجا، ہدیہ کے طور پر۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ نے مجھے یہ جوڑا حلہ عنایت فرمایا ہے حالانکہ میں خود آپ سے اس کے بارے میں وہ بات سن چکا ہوں جو آپ نے فرمائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں یہ کپڑا اس لیے دیا ہے کہ اسے بیچ دو یا (عورتوں وغیرہ میں سے) کسی کو پہنا دو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 5841]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دھاری دار ریشمی جوڑا فروخت ہوتے دیکھا تو عرض کی: اللہ کے رسول! آپ اسے خرید لیں تاکہ وفود سے ملاقات کے وقت اور جمعہ کے دن اسے زیب تن کیا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس کے بعد خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار ریشمی جوڑا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بطور ہدیہ بھیجا، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ نے مجھے یہ جوڑا عنایت فرمایا ہے حالانکہ میں خود آپ سے اس کے متعلق وہ بات سن چکا ہوں جو آپ نے فرمائی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے یہ جوڑا اس لیے دیا ہے کہ تم اسے فروخت کر دو یا کسی کو پہنا دو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 5841]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5981
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: رَأَى عُمَرُ حُلَّةَ سِيَرَاءَ تُبَاعُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْتَعْ هَذِهِ وَالْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَإِذَا جَاءَكَ الْوُفُودُ قَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ" فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا بِحُلَلٍ فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ، فَقَالَ: كَيْفَ أَلْبَسُهَا وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، قَالَ:" إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا وَلَكِنْ تَبِيعُهَا أَوْ تَكْسُوهَا" فَأَرْسَلَ بِهَا عُمَرُ إِلَى أَخٍ لَهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے سیراء کا (ایک ریشمی) حلہ بکتے دیکھا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے دن اور جب آپ کے پاس وفود آئیں تو اسے پہنا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے تو وہی پہن سکتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہو۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے کئی حلے آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک حلہ عمر رضی اللہ عنہ کے لیے بھیجا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں اسے کیسے پہن سکتا ہوں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق پہلے ممانعت فرما چکے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا بلکہ اس لیے دیا ہے کہ تم اسے بیچ دو یا کسی دوسرے کو پہنا دو چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ اپنے ایک بھائی کو بھیج دیا جو مکہ مکرمہ میں تھے اور اسلام نہیں لائے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 5981]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی دھاری دار جوڑا فروخت ہوتے دیکھا تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اسے خرید لیں تاکہ جمعہ کے دن اور وفود کی آمد پر اسے زیب تن کیا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تو صرف وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے کئی ریشمی جوڑے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوڑا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ انہوں نے عرض کیا: میں اسے کیونکر پہن سکتا ہوں جبکہ آپ نے قبل ازیں اس کے متعلق وہ فرمایا تھا جو فرمایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ تمہیں پہننے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ اس لیے دیا ہے کہ تم اسے بازار میں فروخت کر دو یا کسی کو پہنا دو۔ چنانچہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے وہ جوڑا اپنے ایک بھائی کو بھیج دیا جو مکہ مکرمہ میں رہتا تھا اور ابھی تک وہ مسلمان نہیں ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 5981]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6081
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ لِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: مَا الْإِسْتَبْرَقُ؟ قُلْتُ: مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ: رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَرِ هَذِهِ فَالْبَسْهَا لِوَفْدِ النَّاسِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ" فَمَضَى مِنْ ذَلِكَ مَا مَضَى، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيْهِ بِحُلَّةٍ فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ فِي مِثْلِهَا مَا قُلْتَ، قَالَ:" إِنَّمَا بَعَثْتُ إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالًا" فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ لِهَذَا الْحَدِيثِ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے، کہا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ نے پوچھا کہ «إستبرق» کیا چیز ہے؟ میں نے کہا کہ دیبا سے بنا ہوا دبیز اور کھردرا کپڑا پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو استبرق کا جوڑا پہنے ہوئے دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسے لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اسے آپ خرید لیں اور وفد جب آپ سے ملاقات کے لیے آئیں تو ان کی ملاقات کے وقت اسے پہن لیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ریشم تو وہی پہن سکتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہو خیر اس بات پر ایک مدت گزر گئی پھر ایسا ہوا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود انہیں ایک جوڑا بھیجا تو وہ اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا آپ نے یہ جوڑا میرے لیے بھیجا ہے، حالانکہ اس کے بارے میں آپ اس سے پہلے ایسا ارشاد فرما چکے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے تاکہ تم اس کے ذریعہ (بیچ کر) مال حاصل کرو۔ چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اسی حدیث کی وجہ سے کپڑے میں (ریشم کے) بیل بوٹوں کو بھی مکروہ جانتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 6081]
حضرت یحیٰی بن ابی اسحاق سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حضرت سالم بن عبداللہ نے پوچھا: «اِسْتَبْرَقٌ» کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا: دیبا سے بنا ہوا موٹا اور خوبصورت کپڑا۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو «اِسْتَبْرَقٌ» کا جوڑا پہنے ہوئے دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسے لے کر حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! آپ اسے خرید لیں اور جب لوگوں کے وفد آپ کے پاس آئیں تو اسے زیب تن کر لیا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تو صرف وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس کے بعد کچھ مدت گزری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود انہیں ایک ریشمی جوڑا بھیجا، چنانچہ وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! آپ نے یہ جوڑا میرے لیے بھیجا ہے، حالانکہ آپ اس کے متعلق جو ارشاد فرمانا تھا وہ فرما چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس کے ذریعے سے مال حاصل کرو۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس حدیث کی وجہ سے کپڑوں پر بیل بوٹے اور نقش و نگار پسند کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجمعة/حدیث: 6081]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں