🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب التناوب فى العلم:
باب: اس بارے میں کہ (طلباء کا حصول) علم کے لیے (استاد کی خدمت میں) اپنی اپنی باری مقرر کرنا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 89
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. ح قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ:" كُنْتُ أَنَا وَجَارٌ لِي مِنْ الْأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ وَهِيَ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا، فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِخَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ، وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَنَزَلَ صَاحِبِي الْأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا، فَقَالَ: أَثَمَّ هُوَ، فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: طَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: لَا أَدْرِي، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ: أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ، قَالَ: لَا، فَقُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہیں شعیب نے زہری سے خبر دی (ایک دوسری سند سے) امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن وہب کو یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، وہ عبیداللہ بن عبداللہ ابن ابی ثور سے نقل کرتے ہیں، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، وہ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں اور میرا ایک انصاری پڑوسی دونوں اطراف مدینہ کے ایک گاؤں بنی امیہ بن زید میں رہتے تھے جو مدینہ کے (پورب کی طرف) بلند گاؤں میں سے ہے۔ ہم دونوں باری باری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت شریف میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ ایک دن وہ آتا، ایک دن میں آتا۔ جس دن میں آتا اس دن کی وحی کی اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمودہ) دیگر باتوں کی اس کو خبر دے دیتا تھا اور جب وہ آتا تھا تو وہ بھی اسی طرح کرتا۔ تو ایک دن وہ میرا انصاری ساتھی اپنی باری کے روز حاضر خدمت ہوا (جب واپس آیا) تو اس نے میرا دروازہ بہت زور سے کھٹکھٹایا اور (میرے بارے میں پوچھا کہ) کیا عمر یہاں ہیں؟ میں گھبرا کر اس کے پاس آیا۔ وہ کہنے لگا کہ ایک بڑا معاملہ پیش آ گیا ہے۔ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے) پھر میں (اپنی بیٹی) حفصہ کے پاس گیا، وہ رو رہی تھی۔ میں نے پوچھا، کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی ہے؟ وہ کہنے لگی میں نہیں جانتی۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کھڑے کھڑے کہا کہ کیا آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ (یہ افواہ غلط ہے) تب میں نے (تعجب سے) کہا «الله اكبر» اللہ بہت بڑا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 89]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اور میرا ایک انصاری پڑوسی بنو امیہ بن زید کے گاؤں میں رہا کرتے تھے جو مدینہ کی (مشرقی جانب) بلندی کی طرف تھا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باری باری آتے تھے۔ ایک دن وہ آتا اور ایک دن میں۔ جس دن میں آتا، اس روز کی وحی وغیرہ کا حال میں اسے بتا دیتا اور جس دن وہ آتا وہ بھی ایسا ہی کرتا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ میرا انصاری دوست اپنی باری پر گیا۔ (جب واپس آیا تو) اس نے میرے دروازے پر زور سے دستک دی اور کہنے لگا: کیا وہ (عمر) یہاں ہیں؟ میں گھبرا کر باہر آیا تو وہ بولا: آج ایک بہت بڑا سانحہ ہوا ہے۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے۔) میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھیں۔ میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ وہ بولیں: مجھے علم نہیں ہے۔ پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کھڑے کھڑے عرض کی: کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ تو میں نے (مارے خوشی کے) «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ بہت بڑا ہے کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 89]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2468
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا عَلَى أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ، قَالَ اللَّهُ لَهُمَا: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 فَحَجَجْتُ مَعَه، فَعَدَلَ، وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِالْإِدَاوَةِ، فَتَبَرَّزَ حَتَّى جَاءَ، فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ، فَتَوَضَّأَ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4، فَقَالَ: وَا عَجَبِي لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ: عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ عُمَرُ الْحَدِيثَ يَسُوقُهُ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ وَجَارٌ لِي مِنْ الْأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ، وَهِيَ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا، فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ مِنْ خَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْأَمْرِ وَغَيْرِهِ، وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَهُ، وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى الْأَنْصَارِ إِذَا هُمْ قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَأْخُذْنَ مِنْ أَدَبِ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ، فَصِحْتُ عَلَى امْرَأَتِي فَرَاجَعَتْنِي فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي، فَقَالَتْ: وَلِمَ تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ، فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ليُرَاجِعْنَهُ، وَإِنَّ إِحْدَاهُنَّ لَتَهْجُرُهُ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ، فَأَفْزَعَنِي، فَقُلْتُ: خَابَتْ مَنْ فَعَلَ مِنْهُنَّ بِعَظِيمٍ، ثُمَّ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: أَيْ حَفْصَةُ أَتُغَاضِبُ إِحْدَاكُنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: خَابَتْ وَخَسِرَتْ، أَفَتَأْمَنُ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَهْلِكِينَ، لَا تَسْتَكْثِرِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تُرَاجِعِيهِ فِي شَيْءٍ، وَلَا تَهْجُرِيهِ وَاسْأَلِينِي مَا بَدَا لَكِ، وَلَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكَ هِيَ أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ، وَكُنَّا تَحَدَّثْنَا أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ النِّعَالَ لِغَزْوِنَا، فَنَزَلَ صَاحِبِي يَوْمَ نَوْبَتِهِ فَرَجَعَ عِشَاءً، فَضَرَبَ بابِي ضَرْبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: أَنَائِمٌ هُوَ، فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، وَقَالَ: حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ، قُلْتُ: مَا هُوَ، أَجَاءَتْ غَسَّانُ؟ قَالَ: لَا، بَلْ أَعْظَمُ مِنْهُ وَأَطْوَلُ، طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، قَالَ: قَدْ خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ، كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ هَذَا يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ فَجَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، فَصَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ مَشْرُبَةً لَهُ فَاعْتَزَلَ فِيهَا، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْكِي، قُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ، أَوَلَمْ أَكُنْ حَذَّرْتُكِ أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: لَا أَدْرِي، هُوَ ذَا فِي الْمَشْرُبَةِ، فَخَرَجْتُ فَجِئْتُ الْمِنْبَرَ، فَإِذَا حَوْلَهُ رَهْطٌ يَبْكِي بَعْضُهُمْ، فَجَلَسْتُ مَعَهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ الْمَشْرُبَةَ الَّتِي هُوَ فِيهَا، فَقُلْتُ لِغُلَامٍ لَهُ أَسْوَدَ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، فَدَخَلَ فَكَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ: ذَكَرْتُكَ لَهُ، فَصَمَتَ، فَانْصَرَفْتُ حَتَّى جَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ الْغُلَامَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، فَلَمَّا وَلَّيْتُ مُنْصَرِفًا، فَإِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي، قَالَ: أَذِنَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ، قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ: طَلَّقْتَ نِسَاءَكَ؟ فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَيَّ، فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ: أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ رَأَيْتَنِي وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى قَوْمٍ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَذَكَرَهُ، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْتُ: لَوْ رَأَيْتَنِي وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: لَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ، فَتَبَسَّمَ أُخْرَى، فَجَلَسْتُ حِينَ رَأَيْتُهُ تَبَسَّمَ، ثُمَّ رَفَعْتُ بَصَرِي فِي بَيْتِهِ، فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ غَيْرَ أَهَبَةٍ ثَلَاثَةٍ، فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ فَلْيُوَسِّعْ عَلَى أُمَّتِكَ، فَإِنَّ فَارِسَ، وَالرُّومَ وُسِّعَ عَلَيْهِمْ وَأُعْطُوا الدُّنْيَا وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ، وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَقَالَ: أَوَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، فَاعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ حِينَ أَفْشَتْهُ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ، وَكَانَ قَدْ قَالَ: مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حِينَ عَاتَبَهُ اللَّهُ، فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَبَدَأَ بِهَا، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، وَإِنَّا أَصْبَحْنَا لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَعُدُّهَا عَدًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ وَكَانَ ذَلِكَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأُنْزِلَتْ آيَةُ التَّخْيِيرِ، فَبَدَأَ بِي أَوَّلَ امْرَأَةٍ، فَقَالَ: إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، وَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، قَالَتْ: قَدْ أَعْلَمُ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِكَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِلَى قَوْلِهِ عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29، قُلْتُ: أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ، فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ خَيَّرَ نِسَاءَهُ، فَقُلْنَ: مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے اور ان سے ابن شہاب نے کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ہمیشہ اس بات کا آروز مند رہتا تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے نام پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے (سورۃ التحریم میں) فرمایا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما‏» اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرو (تو بہتر ہے) کہ تمہارے دل بگڑ گئے ہیں۔ پھر میں ان کے ساتھ حج کو گیا۔ عمر رضی اللہ عنہ راستے سے قضائے حاجت کے لیے ہٹے تو میں بھی ان کے ساتھ (پانی کا ایک) چھاگل لے کر گیا۔ پھر وہ قضائے حاجت کے لیے چلے گئے۔ اور جب واپس آئے تو میں نے ان کے دونوں ہاتھوں پر چھاگل سے پانی ڈالا۔ اور انہوں نے وضو کیا، پھر میں نے پوچھا، یا امیرالمؤمنین! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں وہ دو خواتین کون سی ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ «إن تتوبا إلى الله‏» تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرو انہوں نے فرمایا، ابن عباس! تم پر حیرت ہے۔ وہ تو عائشہ اور حفصہ (رضی اللہ عنہا) ہیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہو کر پورا واقعہ بیان کرنے لگے۔ آپ نے بتلایا کہ بنوامیہ بن زید کے قبیلے میں جو مدینہ سے ملا ہوا تھا۔ میں اپنے ایک انصاری پڑوسی کے ساتھ رہتا تھا۔ ہم دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کی باری مقرر کر رکھی تھی۔ ایک دن وہ حاضر ہوتے اور ایک دن میں۔ جب میں حاضری دیتا تو اس دن کی تمام خبریں وغیرہ لاتا۔ (اور ان کو سناتا) اور جب وہ حاضر ہوتے تو وہ بھی اسی طرح کرتے۔ ہم قریش کے لوگ (مکہ میں) اپنی عورتوں پر غالب رہا کرتے تھے۔ لیکن جب ہم (ہجرت کر کے) انصار کے یہاں آئے تو انہیں دیکھا کہ ان کی عورتیں خود ان پر غالب تھیں۔ ہماری عورتوں نے بھی ان کا طریقہ اختیار کرنا شروع کر دیا۔ میں نے ایک دن اپنی بیوی کو ڈانٹا تو انہوں نے بھی اس کا جواب دیا۔ ان کا یہ جواب مجھے ناگوار معلوم ہوا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ میں اگر جواب دیتی ہوں تو تمہیں ناگواری کیوں ہوتی ہے۔ قسم اللہ کی! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تک آپ کو جواب دے دیتی ہیں اور بعض بیویاں تو آپ سے پورے دن اور پوری رات خفا رہتی ہیں۔ اس بات سے میں بہت گھبرایا اور میں نے کہا کہ ان میں سے جس نے بھی ایسا کیا ہو گا وہ بہت بڑے نقصان اور خسارے میں ہے۔ اس کے بعد میں نے کپڑے پہنے اور حفصہ رضی اللہ عنہا (عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ام المؤمنین) کے پاس پہنچا اور کہا اے حفصہ! کیا تم میں سے کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پورے دن رات تک ناراض رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں! میں بول اٹھا کہ پھر تو وہ تباہی اور نقصان میں رہیں۔ کیا تمہیں اس سے امن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی کی وجہ سے (تم پر) غصہ ہو جائے اور تم ہلاک ہو جاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ چیزوں کا مطالبہ ہرگز نہ کیا کرو، نہ کسی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات کا جواب دو اور نہ آپ پر خفگی کا اظہار ہونے دو، البتہ جس چیز کی تمہیں ضرورت ہو، وہ مجھ سے مانگ لیا کرو، کسی خود فریبی میں مبتلا نہ رہنا، تمہاری یہ پڑوسن تم سے زیادہ جمیل اور نظیف ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پیاری بھی ہیں۔ آپ کی مراد عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، ان دنوں یہ چرچا ہو رہا تھا کہ غسان کے فوجی ہم سے لڑنے کے لیے گھوڑوں کو سم لگا رہے ہیں۔ میرے پڑوسی ایک دن اپنی باری پر مدینہ گئے ہوئے تھے۔ پھر عشاء کے وقت واپس لوٹے۔ آ کر میرا دروازہ انہوں نے بڑی زور سے کھٹکھٹایا، اور کہا کیا آپ سو گئے ہیں؟ میں بہت گھبرایا ہوا باہر آیا انہوں نے کہا کہ ایک بہت بڑا حادثہ پیش آ گیا ہے۔ میں نے پوچھا کیا ہوا؟ کیا غسان کا لشکر آ گیا؟ انہوں نے کہا بلکہ اس سے بھی بڑا اور سنگین حادثہ، وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، حفصہ تو تباہ و برباد ہو گئی۔ مجھے تو پہلے ہی کھٹکا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے (عمر رضی اللہ عنہ نے کہا) پھر میں نے کپڑے پہنے۔ صبح کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی (نماز پڑھتے ہی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں تشریف لے گئے اور وہیں تنہائی اختیار کر لی۔ میں حفصہ کے یہاں گیا، دیکھا تو وہ رو رہی تھیں، میں نے کہا، رو کیوں رہی ہو؟ کیا پہلے ہی میں نے تمہیں نہیں کہہ دیا تھا؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سب کو طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانہ میں تشریف رکھتے ہیں۔ پھر میں باہر نکلا اور منبر کے پاس آیا۔ وہاں کچھ لوگ موجود تھے اور بعض رو بھی رہے تھے۔ تھوڑی دیر تو میں ان کے ساتھ بیٹھا رہا۔ لیکن مجھ پر رنج کا غلبہ ہوا، اور میں بالاخانے کے پاس پہنچا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سیاہ غلام سے کہا، (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو) کہ عمر اجازت چاہتا ہے۔ وہ غلام اندر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر کے واپس آیا اور کہا کہ میں نے آپ کی بات پہنچا دی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، چنانچہ میں واپس آ کر انہیں لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس موجود تھے۔ پھر مجھ پر رنج غالب آیا اور میں دوبارہ آیا۔ لیکن اس دفعہ بھی وہی ہوا۔ پھر آ کر انہیں لوگوں میں بیٹھ گیا جو منبر کے پاس تھے۔ لیکن اس مرتبہ پھر مجھ سے نہیں رہا گیا اور میں نے غلام سے آ کر کہا، کہ عمر کے لیے اجازت چاہو۔ لیکن بات جوں کی توں رہی۔ جب میں واپس ہو رہا تھا کہ غلام نے مجھ کو پکارا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ جس پر کوئی بستر بھی نہیں تھا۔ اس لیے چٹائی کے ابھرے ہوئے حصوں کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں پڑ گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک ایسے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے جس کے اندر کھجور کی چھال بھری گئی تھی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کھڑے ہی کھڑے عرض کی، کہ کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ میری طرف کر کے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے آپ کے غم کو ہلکا کرنے کی کوشش کی اور کہنے لگا .... اب بھی میں کھڑا ہی تھا .... یا رسول اللہ! آپ جانتے ہی ہیں کہ ہم قریش کے لوگ اپنی بیویوں پر غالب رہتے تھے، لیکن جب ہم ایک ایسی قوم میں آ گئے جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے تفصیل ذکر کی۔ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ پھر میں نے کہا میں حفصہ کے یہاں بھی گیا تھا اور اس سے کہہ آیا تھا کہ کہیں کسی خود فریبی میں نہ مبتلا رہنا۔ یہ تمہاری پڑوسن تم سے زیادہ خوبصورت اور پاک ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب بھی ہیں۔ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ اس بات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسکرا دیئے۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے دیکھا، تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) بیٹھ گیا۔ اور آپ کے گھر میں چاروں طرف دیکھنے لگا۔ بخدا! سوائے تین کھالوں کے اور کوئی چیز وہاں نظر نہ آئی۔ میں نے کہا۔ یا رسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ آپ کی امت کو کشادگی عطا فرما دے۔ فارس اور روم کے لوگ تو پوری فراخی کے ساتھ رہتے ہیں۔ دنیا انہیں خوب ملی ہوئی ہے۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے خطاب کے بیٹے! کیا تمہیں ابھی کچھ شبہ ہے؟ (تو دنیا کی دولت کو اچھی سمجھتا ہے) یہ تو ایسے لوگ ہیں کہ ان کے اچھے اعمال (جو وہ معاملات کی حد تک کرتے ہیں ان کی جزا) اسی دنیا میں ان کو دے دی گئی ہے۔ (یہ سن کر) میں بول اٹھا۔ یا رسول اللہ! میرے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کیجئے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی ازواج سے) اس بات پر علیحدگی اختیار کر لی تھی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حفصہ رضی اللہ عنہ نے پوشیدہ بات کہہ دی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انتہائی خفگی کی وجہ سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تھی، فرمایا تھا کہ میں اب ان کے پاس ایک مہینے تک نہیں جاؤں گا۔ اور یہی موقعہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو متنبہ کیا تھا۔ پھر جب انتیس دن گزر گئے تو آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور انہیں کے یہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ نے تو عہد کیا تھا کہ ہمارے یہاں ایک مہینے تک نہیں تشریف لائیں گے۔ اور آج ابھی انتیسویں کی صبح ہے۔ میں تو دن گن رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ مہینہ انتیس دن کا ہے اور وہ مہینہ انتیس ہی دن کا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر وہ آیت نازل ہوئی جس میں (ازواج النبی کو) اختیار دیا گیا تھا۔ اس کی بھی ابتداء آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ ہی سے کی اور فرمایا کہ میں تم سے ایک بات کہتا ہوں، اور یہ ضروری نہیں کہ جواب فوراً دو، بلکہ اپنے والدین سے بھی مشورہ کر لو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آپ کو یہ معلوم تھا کہ میرے ماں باپ کبھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دے سکتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو اللہ تعالیٰ کے قول عظیما تک۔ میں نے عرض کیا کیا اب اس معاملے میں بھی میں اپنے والدین سے مشورہ کرنے جاؤں گی! اس میں تو کسی شبہ کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ کہ میں اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو پسند کرتی ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری بیویوں کو بھی اختیار دیا اور انہوں نے بھی وہی جواب دیا جو عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 2468]
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میری یہ خواہش رہی کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کروں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے وہ کون سی دو بیویاں ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ اور رجوع کرو (تو بہتر ہے) پس تمہارے دل (حق سے) کچھ ہٹ گئے ہیں۔ واقعہ یہ ہوا کہ میں ان کے ہمراہ حج کو گیا تو وہ (قضائے حاجت کے لیے) راستے سے ایک طرف ہٹے۔ میں بھی پانی کا مشکیزہ لیے ان کے ہمراہ ہو گیا، چنانچہ جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر مشکیزے سے پانی ڈالا۔ انہوں نے وضو کیا تو میں نے عرض کیا: اے امیر المومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضوان اللہ علیہن اجمعین میں سے وہ کون سی دو عورتیں ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] اگر تم توبہ کرو (تو تمہارے لیے بہتر ہے) پس تمہارے دل (حق سے) کچھ ہٹ گئے ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! تم پر تعجب ہے۔ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ پھر حضرت فاروق رضی اللہ عنہ نے پورا واقعہ بیان کرنا شروع کیا۔ انہوں نے فرمایا: میں اور میرا ایک انصاری ہمسایہ بنو امیہ بن زید کے محلے میں رہتے تھے، یہ قبیلہ عوالیِ مدینہ میں رہتا تھا۔ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باری باری آیا کرتے تھے۔ ایک دن وہ آتا اور دوسرے دن میں حاضر ہوتا۔ جب میں آتا تو اس دن کے جملہ احکامِ وحی اس کو بتاتا اور جب وہ آتا تو وہ بھی اسی طرح کرتا۔ قریشی لوگ عورتوں کو اپنے دباؤ میں رکھتے تھے لیکن جب ہم انصار میں آئے تو ہم نے دیکھا کہ ان کی عورتیں ان پر غالب رہتی ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی ہماری عورتیں بھی ان کے طور طریقے اختیار کرنے لگیں۔ ایک روز ایسا ہوا کہ میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے فوراً مجھے جواب دیا۔ اس کی یہ بات مجھے بری لگی تو اس نے کہا: اگر میں نے تمہاری بات کا جواب دیا ہے تو برا کیوں مناتے ہو؟ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں۔ ان میں سے کوئی ایسی بھی ہے جو دن سے لے کر رات تک آپ کو چھوڑے رہتی ہے۔ مجھے اس بات سے بہت گھبراہٹ ہوئی، میں نے دل میں کہا: ان میں سے جس نے ایسا کیا وہ عظیم خسارے میں ہے۔ پھر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور (اپنی بیٹی) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور اس سے کہا: حفصہ! کیا تم میں سے کوئی دن سے لے کر رات تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روٹھے رہتی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں نے کہا: وہ تو نامراد رہی اور خسارے میں پڑ گئی۔ کیا تم اس بات سے بے خوف ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کے باعث اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے تو تم تباہ ہو جاؤ؟ (دیکھو!) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نہ مانگو اور آپ کو جواب بھی نہ دیا کرو اور آپ سے خفا نہ ہوا کرو. جو ضرورت ہو وہ مجھ سے لو۔ اور یہ بات بھی تمہیں دھوکے میں نہ رکھے کہ تمہاری سوکن تم سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ چہیتی ہے۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو مراد لیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم دونوں آپس میں اس طرح کی باتیں بھی کیا کرتے تھے کہ غسانی لوگ ہم پر چڑھائی کرنے کے لیے گھوڑوں کی فعل بندی (جنگ کی تیاری) کر رہے ہیں۔ ہوا یوں کہ میرا ساتھی اپنی باری کے دن شہر گیا اور عشاء کے وقت لوٹا تو میرا دروازہ زور سے کھٹکھٹایا اور کہا: کیا وہ یہاں (گھر میں) ہیں؟ میں نے یہ سنا تو بہت گھبرایا اور باہر نکلا تو انہوں نے کہا: ایک بہت بڑا حادثہ ہوا ہے۔ میں نے کہا: وہ کیا؟ کیا غسان کے لوگوں نے حملہ کر دیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ اس سے بھی بڑا واقعہ اور لمبی بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے کہا: حفصہ کی قسمت پھوٹ گئی۔ میں پہلے ہی خیال کرتا تھا کہ عنقریب ایسا ہو جائے گا۔ میں نے اپنے کپڑے پہنے اور نمازِ فجر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ادا کی۔ فراغت کے بعد آپ بالاخانے میں تشریف لے گئے اور وہاں تنہا بیٹھ رہے، چنانچہ میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں۔ میں نے پوچھا: کیوں رو رہی ہو؟ کیا میں نے تمہیں اس انجام سے آگاہ نہیں کیا تھا؟ کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی؟ اس نے کہا: مجھے معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بالاخانے میں تشریف رکھتے ہیں۔ میں باہر نکل کر مسجد میں منبر کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہاں کچھ لوگ بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں بھی تھوڑی دیر کے لیے ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ پھر وہ پریشانی مجھ پر غالب آئی جو مجھے لاحق تھی۔ میں اس بالاخانے کی طرف گیا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ وہاں میں نے آپ کے سیاہ فام غلام سے کہا: عمر کے لیے اجازت حاصل کرو۔ وہ اندر گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی، پھر باہر نکلا اور کہنے لگا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارا ذکر کیا ہے لیکن آپ خاموش رہے ہیں، چنانچہ میں واپس آکر ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، پھر مجھے اس بات نے بے چین کر دیا جس کے لیے میں آیا تھا۔ میں (دوبارہ) غلام کے پاس آیا اور کہا: عمر کے لیے اجازت حاصل کرو۔ لیکن معاملہ پہلے کی طرح ہوا۔ میں پھر منبر کے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس بیٹھ گیا۔ پھر مجھے اس بات نے بے چین کر دیا جو میرے دل میں تھی۔ میں پھر غلام کے پاس آیا اور کہا: عمر کے لیے اجازت حاصل کرو۔ پھر معاملہ پہلے کی طرح ہوا۔ جب میں واپس ہونے لگا تو غلام نے مجھے آواز دی اور کہا: تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی ہے۔ یہ سن کر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں۔ آپ کے جسم اور چٹائی کے درمیان کوئی بستر نہیں ہے۔ اور کھجور کے پتوں کے نشانات آپ کے پہلو پر نمایاں ہیں۔ آپ ایک تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں جس میں کھجور کے پتوں کا بھراؤ ہے، میں نے سلام کیا اور کھڑے ہی کھڑے عرض کیا: آپ نے ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے میری طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا: «لَا» نہیں۔ میں کھڑا کھڑا آپ کا موڈ بھانپ رہا تھا کہ کیسا ہے؟ میں نے دل بہلاوے کے طور پر کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ ہم قریشی لوگ اپنی عورتوں کو دباؤ میں رکھتے تھے اور جب ایسے لوگوں میں آئے جن کی عورتیں ان پر غالب ہیں، میرا اتنا کہنا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے۔ پھر میں نے عرض کیا: کاش آپ مجھے اس وقت دیکھتے جب حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور میں نے اسے کہا: تمہیں یہ بات دھوکے میں نہ رکھے کہ تمہاری سوکن تم سے زیادہ خوبصورت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے۔ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو مراد لیا تھا۔ تب بھی آپ مسکرا دیے۔ جب میں نے دیکھا کہ آپ مسکرا رہے ہیں تو میں بیٹھ گیا۔ پھر میں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو اللہ کی قسم! مجھے تین کچی کھالوں کے علاوہ وہاں کوئی چیز نظر نہ آئی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کی امت پر وسعت کرے کیونکہ فارس اور روم کے لوگوں پر اللہ نے فراخی کی ہے اور انہیں خوب دنیا ملی، حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: اے ابن خطاب رضی اللہ عنہ! ایسی باتیں کرتے ہو کیا تمہیں شک ہے؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کی تمام لذتیں اسی دنیا کی زندگی میں دے دی گئی ہیں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے لیے استغفار فرمائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ تنہائی اس وجہ سے اختیار کیا تھا کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے راز ظاہر کر دیا تھا اور اسی سلسلے میں آپ نے عہد کیا تھا: میں ان سے ایک مہینے تک ملاقات نہیں کروں گا۔ کیونکہ آپ کو ان پر سخت غصہ آیا تھا جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی وجہ سے آپ کو عتاب فرمایا۔ پھر جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور وہاں سے از سر نو عائلی زندگی کا آغاز فرمایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا: آپ نے تو ایک مہینے تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم اٹھائی تھی، ابھی تو انتیس دن گزرے ہیں، میں انہیں شمار کرتی رہی ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ» مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اور وہ مہینہ انتیس دن کا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب آیتِ تخییر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: میں تم سے ایک بات کہہ رہا ہوں اور تم پر کوئی حرج نہیں ہوگا اگر تم جلدی نہ کرو حتی کہ تم اپنے والدین سے مشورہ کرلو۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: میں جانتی ہوں کہ میرے والدین آپ کے فراق کا کبھی مشورہ نہیں دیں گے۔ پھر آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ... أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 28-29] اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے۔۔۔ بہت بڑا (اجر تیار کر رکھا ہے۔) میں نے عرض کیا: آیا میں اس کے متعلق اپنے ماں باپ سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دارِ آخرت ہی کو پسند کرتی ہوں۔ پھر آپ نے اپنی سب بیویوں کو اختیار دیا تو سب نے وہی جواب دیا جو ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 2468]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2469
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ، حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ قَدَمُهُ فَجَلَسَ فِي عُلِّيَّةٍ لَهُ، فَجَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ: أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنِّي آلَيْتُ مِنْهُنَّ شَهْرًا، فَمَكَثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ".
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ فزاری نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کے پاس ایک مہینہ تک نہ جانے کی قسم کھائی تھی، اور (ایلاء کے واقعہ سے پہلے 5 ھ میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک میں موچ آ گئی تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں قیام پذیر ہوئے تھے۔ (ایلاء کے موقع پر) عمر رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ البتہ ایک مہینے کے لیے ان کے پاس نہ جانے کی قسم کھا لی ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتیس دن تک بیویوں کے پاس نہیں گئے (اور انتیس تاریخ کو ہی چاند ہو گیا تھا) اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانے سے اترے اور بیویوں کے پاس گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 2469]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی تھی کہ ایک مہینہ اپنی بیویوں کے قریب نہیں جائیں گے، اور آپ کے پاؤں کا جوڑ نکل گیا، آپ اپنے بالاخانے میں تشریف فرما ہوئے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن میں نے ان کے پاس ایک ماہ کے لیے نہ جانے کی قسم اٹھائی ہے۔ چنانچہ آپ انتیس روز وہاں ٹھہرے، پھر اس بالاخانے سے اتر کر اپنی بیویوں کے پاس تشریف لائے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 2469]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4483
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: قَالَ عُمَرُ: وَافَقْتُ اللَّهَ فِي ثَلَاثٍ أَوْ وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلَاثٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اتَّخَذْتَ مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَلَوْ أَمَرْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْحِجَابِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ، قَالَ: وَبَلَغَنِي مُعَاتَبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ نِسَائِهِ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِنَّ، قُلْتُ: إِنِ انْتَهَيْتُنَّ أَوْ لَيُبَدِّلَنَّ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا مِنْكُنَّ حَتَّى أَتَيْتُ إِحْدَى نِسَائِهِ، قَالَتْ: يَا عُمَرُ، أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ حَتَّى تَعِظَهُنَّ أَنْتَ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ سورة التحريم آية 5 الْآيَةَ , وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ , سَمِعْتُ أَنَسًا , عَنْ عُمَرَ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ فرمایا، تین مواقع پر اللہ تعالیٰ کے نازل ہونے والے حکم سے میری رائے نے پہلے ہی موافقت کی یا میرے رب نے تین مواقع پر میری رائے کے موافق حکم نازل فرمایا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! کیا اچھا ہوتا کہ آپ مقام ابراہیم کو طواف کے بعد نماز پڑھنے کی جگہ بناتے تو بعد میں یہی آیت نازل ہوئی۔ اور میں نے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! آپ کے گھر میں اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں۔ کیا اچھا ہوتا کہ آپ امہات المؤمنین کو پردہ کا حکم دے دیتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت حجاب (پردہ کی آیت) نازل فرمائی اور انہوں نے بیان کیا اور مجھے بعض ازواج مطہرات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی کی خبر ملی۔ میں نے ان کے یہاں گیا اور ان سے کہا کہ تم باز آ جاؤ، ورنہ اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بدل دے گا۔ بعد میں ازواج مطہرات میں سے ایک کے ہاں گیا تو وہ مجھ سے کہنے لگیں کہ عمر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی ازواج کو اتنی نصیحتیں نہیں کرتے جتنی تم انہیں کرتے رہتے ہو۔ آخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «عسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجا خيرا منكن مسلمات» کوئی تعجب نہ ہونا چاہئیے اگر اس نبی کا رب تمہیں طلاق دلا دے اور دوسری مسلمان بیویاں تم سے بہتر بدل دے۔ آخر آیت تک۔ اور ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، ان سے حمید نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 4483]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری تین باتیں بالکل اللہ (کی وحی) کے مطابق ہوئیں یا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تین باتوں میں میرے ساتھ اتفاق کیا۔ (اول) میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر آپ مقام ابراہیم کو جائے نماز قرار دے لیں (تو بہت اچھا ہو۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] تم مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ۔) (دوم) میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کے پاس اچھے برے ہر قسم کے لوگ آتے ہیں۔ اگر آپ امہات المومنین کو پردے کا حکم دے دیں (تو مناسب ہے)۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیتِ حجاب نازل فرمائی۔ (سوم) مجھے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی بیوی سے ناراض ہیں تو میں ان کے پاس گیا اور انہیں کہا: دیکھو! تم اس قسم کی باتوں سے باز آ جاؤ بصورتِ دیگر اللہ تعالیٰ اپنے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے بہتر بیویاں بدل دے گا۔ اس کے بعد جب میں آپ کی ایک اہلیہ کے پاس گیا تو وہ بول اٹھیں: اے عمر! تم جو نصیحت کرتے ہو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو وہ نصیحت نہیں کر سکتے؟ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ﴾ [سورة التحريم: 5] اگر پیغمبر تمہیں طلاق دے دے تو عجب نہیں کہ اس کا پروردگار تمہارے بدلے میں اسے تم سے بہتر بیویاں دے دے جو فرمانبردار ہوں گی۔۔ ابن ابی مریم نے کہا: ہمیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، انہیں حمید نے حدیث بیان کی ہے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 4483]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4913
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ، أَنَّهُ قَالَ:" مَكَثْتُ سَنَةً أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ آيَةٍ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَسْأَلَهُ هَيْبَةً لَهُ، حَتَّى خَرَجَ حَاجًّا، فَخَرَجْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا رَجَعْنَا وَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ إِلَى الْأَرَاكِ لِحَاجَةٍ لَهُ، قَالَ: فَوَقَفْتُ لَهُ حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ سِرْتُ مَعَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَزْوَاجِهِ؟ فَقَالَ: تِلْكَ حَفْصَةُ، وَعَائِشَةُ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ هَذَا مُنْذُ سَنَةٍ فَمَا أَسْتَطِيعُ هَيْبَةً لَكَ، قَالَ: فَلَا تَفْعَلْ مَا ظَنَنْتَ أَنَّ عِنْدِي مِنْ عِلْمٍ فَاسْأَلْنِي، فَإِنْ كَانَ لِي عِلْمٌ خَبَّرْتُكَ بِهِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ إِنْ كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَا نَعُدُّ لِلنِّسَاءِ أَمْرًا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِنَّ مَا أَنْزَلَ، وَقَسَمَ لَهُنَّ مَا قَسَمَ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا فِي أَمْرٍ أَتَأَمَّرُهُ إِذْ قَالَتِ امْرَأَتِي لَوْ صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: مَا لَكَ وَلِمَا هَا هُنَا وَفِيمَ تَكَلُّفُكِ فِي أَمْرٍ أُرِيدُهُ، فَقَالَتْ لِي: عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا تُرِيدُ أَنْ تُرَاجَعَ أَنْتَ وَإِنَّ ابْنَتَكَ لَتُرَاجِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ، فَقَامَ عُمَرُ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ مَكَانَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، فَقَالَ لَهَا: يَا بُنَيَّةُ إِنَّكِ لَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: وَاللَّهِ إِنَّا لَنُرَاجِعُهُ، فَقُلْتُ: تَعْلَمِينَ أَنِّي أُحَذِّرُكِ عُقُوبَةَ اللَّهِ وَغَضَبَ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بُنَيَّةُ لَا يَغُرَّنَّكِ هَذِهِ الَّتِي أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا حُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا، يُرِيدُ عَائِشَةَ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ لِقَرَابَتِي مِنْهَا فَكَلَّمْتُهَا، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ دَخَلْتَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَبْتَغِيَ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجِهِ، فَأَخَذَتْنِي وَاللَّهِ أَخْذًا كَسَرَتْنِي عَنْ بَعْضِ مَا كُنْتُ أَجِدُ، فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهَا وَكَانَ لِي صَاحِبٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِذَا غِبْتُ أَتَانِي بِالْخَبَرِ، وَإِذَا غَابَ كُنْتُ أَنَا آتِيهِ بِالْخَبَرِ، وَنَحْنُ نَتَخَوَّفُ مَلِكًا مِنْ مُلُوكِ غَسَّانَ ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسِيرَ إِلَيْنَا، فَقَدِ امْتَلَأَتْ صُدُورُنَا مِنْهُ فَإِذَا صَاحِبِي الْأَنْصَارِيُّ يَدُقُّ الْبَابَ، فَقَالَ: افْتَحْ افْتَحْ، فَقُلْتُ: جَاءَ الْغَسَّانِيُّ، فَقَالَ: بَلْ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ اعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْوَاجَهُ، فَقُلْتُ: رَغَمَ أَنْفُ حَفْصَةَ وَعَائِشَةَ، فَأَخَذْتُ ثَوْبِي، فَأَخْرُجُ حَتَّى جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ يَرْقَى عَلَيْهَا بِعَجَلَةٍ وَغُلَامٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْوَدُ عَلَى رَأْسِ الدَّرَجَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: قُلْ هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَأَذِنَ لِي، قَالَ عُمَرُ: فَقَصَصْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمَّا بَلَغْتُ حَدِيثَ أُمِّ سَلَمَةَ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّهُ لَعَلَى حَصِيرٍ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، وَتَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، وَإِنَّ عِنْدَ رِجْلَيْهِ قَرَظًا مَصْبُوبًا وَعِنْدَ رَأْسِهِ أَهَبٌ مُعَلَّقَةٌ، فَرَأَيْتُ أَثَرَ الْحَصِيرِ فِي جَنْبِهِ، فَبَكَيْتُ، فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكَ؟" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ كِسْرَى وَقَيْصَرَ فِيمَا هُمَا فِيهِ، وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ:" أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبید بن حنین نے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا ایک آیت کے متعلق عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھنے کے لیے ایک سال تک میں تردد میں رہا، ان کا اتنا ڈر غالب تھا کہ میں ان سے نہ پوچھ سکا۔ آخر وہ حج کے لیے گئے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا، واپسی میں جب ہم راستہ میں تھے تو رفع حاجت کے لیے وہ پیلو کے درخت میں گئے۔ بیان کیا کہ میں ان کے انتظار میں کھڑا رہا جب وہ فارغ ہو کر آئے تو پھر میں ان کے ساتھ چلا اس وقت میں نے عرض کیا۔ امیرالمؤمنین! امہات المؤمنین میں وہ کون دو عورتیں تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے متفقہ منصوبہ بنایا تھا؟ انہوں نے بتلایا کہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما تھیں۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا اللہ کی قسم میں یہ سوال آپ سے کرنے کے لیے ایک سال سے ارادہ کر رہا تھا لیکن آپ کے رعب کی وجہ سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ایسا نہ کیا کرو جس مسئلہ کے متعلق تمہارا خیال ہو کہ میرے پاس اس سلسلے میں کوئی علم ہے تو اسے پوچھ لیا کرو، اگر میرے پاس اس کا کوئی علم ہو گا تو تمہیں بتا دیا کروں گا۔ بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جاہلیت میں ہماری نظر میں عورتوں کی کوئی عزت نہ تھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں وہ احکام نازل کئے جو نازل کرنے تھے اور ان کے حقوق مقرر کئے جو مقرر کرنے تھے۔ بتلایا کہ ایک دن میں سوچ رہا تھا کہ میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ بہتر ہے اگر تم اس معاملہ کا فلاں فلاں طرح کرو، میں نے کہا تمہارا اس میں کیا کام۔ معاملہ مجھ سے متعلق ہے تم اس میں دخل دینے والی کون ہوتی ہو؟ میری بیوی نے اس پر کہا: خطاب کے بیٹے! تمہارے اس طرز عمل پر حیرت ہے تم اپنی باتوں کا جواب برداشت نہیں کر سکتے تمہاری لڑکی (حفصہ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جواب دے دیتی ہیں ایک دن تو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ بھی کر دیا تھا۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر اوڑھ کر حفصہ کے گھر پہنچے اور فرمایا بیٹی! کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا جواب دے دیتی ہو یہاں تک کہ ایک دن تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دن بھر ناراض بھی رکھا ہے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کی قسم! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی جواب دے دیتے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کہا جان لو میں تمہیں اللہ کی سزا اور اس کے رسول کی سزا (ناراضگی) سے ڈراتا ہوں۔ بیٹی! اس عورت کی وجہ سے دھوکا میں نہ آ جانا جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت حاصل کر لی ہے۔ ان کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا کہا کہ پھر میں وہاں سے نکل کر ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا کیونکہ وہ بھی میری رشتہ دار تھیں۔ میں نے ان سے بھی گفتگو کی انہوں نے کہا ابن خطاب! تعجب ہے کہ آپ ہر معاملہ میں دخل اندازی کرتے ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی ازواج کے معاملات میں بھی دخل دیں۔ اللہ کی قسم! انہوں نے میری ایسی گرفت کی کہ میرے غصہ کو ٹھنڈا کر کے رکھ دیا، میں ان کے گھر سے باہر نکل آیا۔ میرے ایک انصاری دوست تھے، جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر نہ ہوتا تو وہ مجلس کی تمام باتیں مجھ سے آ کر بتایا کرتے اور جب وہ حاضر نہ ہوتے تو میں انہیں آ کر بتایا کرتا تھا۔ اس زمانہ میں ہمیں غسان کے بادشاہ کی طرف سے ڈر تھا اطلاع ملی تھی کہ وہ مدینہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کر رہا ہے، اس زمانہ میں کئی عیسائی اور ایرانی بادشاہ ایسا غلط گھمنڈ رکھتے تھے کہ یہ مسلمان کیا ہیں ہم جب چاہیں گے ان کا صفایا کر دیں گے مگر یہ سارے خیالات غلط ثابت ہوئے اللہ نے اسلام کو غالب کیا۔ چنانچہ ہم کو ہر وقت یہی خطرہ رہتا تھا، ایک دن اچانک میرے انصاری دوست نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کھولو! کھولو! کھولو! میں نے کہا معلوم ہوتا ہے غسانی آ گئے۔ انہوں نے کہا بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم معاملہ پیش آ گیا ہے، وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ میں نے کہا حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما کی ناک غبار آلود ہو۔ چنانچہ میں نے اپنا کپڑا پہنا اور باہر نکل آیا۔ میں جب پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالاخانہ میں تشریف رکھتے تھے جس پر سیڑھی سے چڑھا جاتا تھا۔ نبی کریم کا ایک حبشی غلام (رباح) سیڑھی کے سرے پر موجود تھا، میں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ عمر بن خطاب آیا ہے اور اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ کر اپنا سارا واقعہ سنایا۔ جب میں ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی گفتگو پر پہنچا تو آپ کو ہنسی آ گئی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک اور اس چٹائی کے درمیان کوئی اور چیز نہیں تھی آپ کے سر کے نیچے ایک چمڑے کا تکیہ تھا۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ پاؤں کی طرف کیکر کے پتوں کا ڈھیر تھا اور سر کی طرف مشکیزہ لٹک رہا تھا۔ میں نے چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو پر دیکھے تو رو پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کس بات پر رونے لگے ہو میں نے عرض کی یا رسول اللہ! قیصر و کسریٰ کو دنیا کا ہر طرح کا آرام مل رہا ہے آپ اللہ کے رسول ہیں (آپ پھر ایسی تنگ زندگی گزارتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ ان کے حصہ میں دنیا ہے اور ہمارے حصہ میں آخرت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 4913]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک آیت کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھنے کے لیے ایک سال تک ٹھہرا رہا لیکن ان کی ہیبت کی وجہ سے میری ہمت نہ پڑتی تھی۔ آخر وہ ایک مرتبہ حج کے لیے تشریف لے گئے تو میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ واپسی کے وقت جب ہم راستے میں تھے تو آپ رفع حاجت کے لیے ایک پیلو کے درخت کے پاس گئے۔ میں ان کے انتظار میں کھڑا رہا۔ جب آپ فارغ ہو کر آئے تو میں بھی آپ کے ساتھ چلا۔ اس وقت میں نے عرض کی: اے امیر المومنین! امہات المومنین میں سے وہ کون دو عورتیں تھیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک منصوبہ تشکیل دیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ وہ حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما تھیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے یہ سوال کرنے کے لیے ایک سال سے ارادہ کر رہا تھا، لیکن آپ کے رعب کی وجہ سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو، جس مسئلے کی بابت تمہارا خیال ہو کہ میرے پاس اس کے متعلق معلومات ہیں تو وہ پوچھ لیا کرو۔ اگر میرے پاس اس کے متعلق کچھ علم ہو گا تو میں تمہیں ضرور بتا دیا کروں گا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! دور جاہلیت کے وقت ہماری نظر میں عورتوں کی کوئی حیثیت نہ تھی حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق وہ احکام نازل فرمائے جو نازل کرنے تھے اور ان کے حقوق مقرر کیے جو کرنے تھے۔ ایک دن یوں ہوا کہ میں کچھ سوچ بچار میں تھا کہ میری بیوی نے مجھ سے کہا: بہتر ہے تم یہ معاملہ فلاں فلاں طرح حل کرو۔ میں نے اس سے کہا: تمہارا اس کام میں کیا داخل؟ یہ معاملہ مجھ سے متعلق ہے، تمہیں دخل اندازی کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ میری بیوی نے کہا: اے خطاب کے بیٹے! تمہارے اس طرز عمل پر مجھے حیرت ہے کہ تم اپنی باتوں کا جواب برداشت نہیں کرتے جبکہ تمہاری بیٹی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جواب دے دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ سارا سارا دن ان سے ناراض رہتے ہیں۔ یہ سن کر عمر کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر اوڑھ کر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے اور کہا: بیٹی! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تکرار کرتی ہو یہاں تک کہ وہ سارا سارا دن تم سے ناراض رہتے ہیں؟ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ہاں، اللہ کی قسم! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض اوقات تکرار کرتی ہیں۔ میں نے کہا: تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں تمہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی سے خبردار کرتا ہوں۔ اے بیٹی! تم اس عورت کی وجہ سے دھوکے میں نہ آ جانا جسے اپنے حسن پر بڑا ناز ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وہ پیاری ہے۔ (ان کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا)۔ پھر میں وہاں سے نکل کر ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا جو میری رشتے دار تھیں۔ میں نے اس معاملے میں ان سے بات کی تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: اے ابن خطاب! تم عجیب آدمی ہو! ہر معاملے میں دخل اندازی کرتے ہو، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی ازواج مطہرات کے متعلق بھی دخل دینے چلے ہو۔ اللہ کی قسم! ان کی اس بات نے میری ہمت پست کر دی، چنانچہ میں ان کے گھر سے باہر نکل آیا۔ میرے ایک انصاری دوست تھے، جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر نہ ہوتا تو وہ مجلس کی تمام باتیں آ کر مجھے بتاتے اور جب وہ حاضر نہ ہوتے تو میں انہیں مجلس کی باتوں سے آگاہ کرتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ہمیں غسان کے ایک بادشاہ کے حملے کا خطرہ لگا ہوا تھا کیونکہ ہمیں اطلاع ملی تھی کہ وہ مدینہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ رکھے ہوئے ہے۔ اس کے خوف سے ہمارے سینے بھرے ہوئے تھے۔ ایک دن اچانک میرے دوست نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا: دروازہ کھولو، دروازہ کھولو! میں نے پوچھا: کیا غسانی چڑھ آئے؟ اس نے کہا: اس سے بھی اہم معاملہ پیش آ گیا ہے، وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ میں نے کہا: حفصہ اور عائشہ کی ناک خاک آلود ہو! چنانچہ میں نے اپنا لباس پہنا اور باہر نکل آیا۔ جب میں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں تشریف فرما تھے جس پر آپ سیڑھی سے چڑھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حبشی غلام سیڑھی کے کنارے پر موجود تھا۔ میں نے اسے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ عمر بن خطاب آیا ہے اور اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ کر سارا واقعہ گوش گزار کیا۔ جب میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو پر پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک اور چٹائی کے درمیان کوئی اور چیز نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے نیچے ایک چمڑے کا تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، پاؤں کی طرف کیکر کے پتوں کا ڈھیر تھا اور سر کی طرف ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا۔ میں نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر چٹائی کے نشانات دیکھے تو آبدیدہ ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کس بات پر رونے لگے ہو؟ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! قیصر و کسریٰ کو دنیا کی تمام سہولیات میسر ہیں اور آپ تو اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ ان کے حصے میں دنیا ہے اور ہمارے حصے میں آخرت ہے؟ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 4913]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4914
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ الْمَرْأَتَانِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا أَتْمَمْتُ كَلَامِي حَتَّى، قَالَ:" عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، کہا میں نے عبید بن حنین سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ایک بات پوچھنے کا ارادہ کیا اور عرض کیا امیرالمؤمنین! وہ کون دو عورتیں تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستانے کے لیے منصوبہ بنایا تھا؟ ابھی میں نے اپنی بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ انہوں نے کہا وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 4914]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک بات پوچھنے کا ارادہ کیا اور عرض کی: اے امیر المومنین! وہ دو عورتیں کون تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ستانے کے لیے منصوبہ بنایا تھا؟ ابھی میں نے اپنی بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ انہوں نے فرمایا: وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 4914]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4915
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَكَثْتُ سَنَةً، فَلَمْ أَجِدْ لَهُ مَوْضِعًا حَتَّى خَرَجْتُ مَعَهُ حَاجًّا، فَلَمَّا كُنَّا بِظَهْرَانَ ذَهَبَ عُمَرُ لِحَاجَتِهِ، فَقَالَ: أَدْرِكْنِي بِالْوَضُوءِ فَأَدْرَكْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ، فَجَعَلْتُ أَسْكُبُ عَلَيْهِ الْمَاءَ، وَرَأَيْتُ مَوْضِعًا، فَقُلْتُ:" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ الْمَرْأَتَانِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَا أَتْمَمْتُ كَلَامِي حَتَّى، قَالَ:" عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ".
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن انصاری نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبید بن حنین سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ان عورتوں کے متعلق سوال کرنا چاہا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر زور کیا تھا۔ ایک سال اسی فکر میں رہا اور مجھے کوئی موقع نہیں ملتا تھا آخر ان کے ساتھ حج کے لیے نکلا (واپسی میں) جب ہم مقام ظہران میں تھے تو عمر رضی اللہ عنہ رفع حاجت کے لیے گئے۔ پھر کہا کہ میرے لیے وضو کا پانی لاؤ، میں ایک برتن میں پانی لایا اور ان کو وضو کرانے لگا اس وقت مجھ کو موقع ملا۔ میں نے عرض کیا امیرالمؤمنین! وہ عورتیں کون تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل ایسا کیا تھا؟ ابھی میں نے اپنی بات پوری نہ کی تھی انہوں نے کہا کہ وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 4915]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان دو عورتوں کے متعلق سوال کرنا چاہا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایکا کیا تھا۔ میں ایک سال اسی فکر میں رہا اور مجھے کوئی موقع نہیں ملتا تھا۔ آخر میں ان کے ساتھ ایک مرتبہ حج کے لیے نکلا، واپسی پر جب ہم مقام ظہران میں تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ رفع حاجت کے لیے باہر گئے۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: میرے لیے وضو کا پانی لاؤ۔ میں ایک برتن میں پانی لایا اور آپ کو وضو کرانے لگا۔ اس وقت مجھے موقع ملا تو میں نے عرض کی: امیر المؤمنین! وہ عورتیں کون تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف منصوبہ سازی کی تھی؟ ابھی میں نے اپنی بات پوری نہ کی تھی کہ انہوں نے فرمایا: وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 4915]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4916
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" اجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَيْرَةِ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُنَّ: عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبَدِّلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ".
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیرت دلانے کے لیے جمع ہو گئیں تو میں نے ان سے کہا اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم طلاق دے دیں تو ان کا پروردگار تمہارے بدلے میں انہیں تم سے بہتر بیویاں دیدے گا۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «عسى ربه إن طلقكن» آخر تک۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 4916]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ازواجِ مطہرات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف غیرت کا رعب جمانے کے لیے باہمی اتفاق کر لیا تو میں نے ان سے کہا: ﴿اگر نبی تم کو طلاق دے دے تو بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بدلے میں انہیں تم سے بہتر بیویاں عطا کر دے﴾ [سورة التحريم: 5] ، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (جو باب میں مذکور ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 4916]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5191
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا عَلَى أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 حَتَّى حَجَّ وَحَجَجْتُ مَعَهُ وَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِإِدَاوَةٍ، فَتَبَرَّزَ، ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنْهَا فَتَوَضَّأَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4؟ قَالَ: وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، هُمَا عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ عُمَرُ الْحَدِيثَ يَسُوقُهُ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَجَارٌ لِي مِنْ الْأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ وَهُمْ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا، فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِمَا حَدَثَ مِنْ خَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْيِ أَوْ غَيْرِهِ، وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى الْأَنْصَارِ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَأْخُذْنَ مِنْ أَدَبِ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ، فَصَخِبْتُ عَلَى امْرَأَتِي فَرَاجَعَتْنِي فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي، قَالَتْ: وَلِمَ تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَإِنَّ إِحْدَاهُنَّ لَتَهْجُرُهُ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ، فَأَفْزَعَنِي ذَلِكَ، وَقُلْتُ لَهَا: قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكِ مِنْهُنَّ، ثُمَّ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، فَنَزَلْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ لَهَا أَيْ حَفْصَةُ: أَتُغَاضِبُ إِحْدَاكُنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ، قَالَتْ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: قَدْ خِبْتِ وَخَسِرْتِ أَفَتَأْمَنِينَ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَهْلِكِي، لَا تَسْتَكْثِرِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تُرَاجِعِيهِ فِي شَيْءٍ وَلَا تَهْجُرِيهِ وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ، وَلَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ، قَالَ عُمَرُ: وَكُنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِغَزْوِنَا، فَنَزَلَ صَاحِبِي الْأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ، فَرَجَعَ إِلَيْنَا عِشَاءً فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: أَثَمَّ هُوَ فَفَزِعْتُ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ حَدَثَ الْيَوْمَ أَمْرٌ عَظِيمٌ، قُلْتُ: مَا هُوَ؟ أَجَاءَ غَسَّانُ؟ قَالَ: لَا، بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَأَهْوَلُ، طَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، وَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ: سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، فَقَالَ: اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْوَاجَهُ، فَقُلْتُ: خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ، فَجَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، فَصَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْرُبَةً لَهُ، فَاعْتَزَلَ فِيهَا وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ؟ أَلَمْ أَكُنْ حَذَّرْتُكِ هَذَا؟ أَطَلَّقَكُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: لَا أَدْرِي، هَا هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِي الْمَشْرُبَةِ، فَخَرَجْتُ فَجِئْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ فَإِذَا حَوْلَهُ رَهْطٌ يَبْكِي بَعْضُهُمْ، فَجَلَسْتُ مَعَهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ الْمَشْرُبَةَ الَّتِي فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِغُلَامٍ لَهُ أَسْوَدَ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، فَدَخَلَ الْغُلَامُ، فَكَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: كَلَّمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ فَانْصَرَفْتُ حَتَّى جَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ فَجِئْتُ، فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ الْغُلَامَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ، فَلَمَّا وَلَّيْتُ مُنْصَرِفًا، قَالَ: إِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي، فَقَالَ: قَدْ أَذِنَ لَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ؟ فَرَفَعَ إِلَيَّ بَصَرَهُ، فَقَالَ: لَا، فَقُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ: أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَنِي وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ رَأَيْتَنِي وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: لَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَسُّمَةً أُخْرَى، فَجَلَسْتُ حِينَ رَأَيْتُهُ تَبَسَّمَ فَرَفَعْتُ بَصَرِي فِي بَيْتِهِ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ غَيْرَ أَهَبَةٍ ثَلَاثَةٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ فَلْيُوَسِّعْ عَلَى أُمَّتِكَ، فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ قَدْ وُسِّعَ عَلَيْهِمْ وَأُعْطُوا الدُّنْيَا وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَقَالَ: أَوَفِي هَذَا أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنَّأُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، فَاعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ حِينَ أَفْشَتْهُ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ قَالَ: مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حِينَ عَاتَبَهُ اللَّهُ، فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَبَدَأَ بِهَا، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ كُنْتَ قَدْ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّمَا أَصْبَحْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَعُدُّهَا عَدًّا، فَقَالَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، فَكَانَ ذَلِكَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرونَ لَيْلَةً، قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى آيَةَ التَّخَيُّرِ، فَبَدَأَ بِي أَوَّلَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ، فَاخْتَرْتُهُ ثُمَّ خَيَّرَ نِسَاءَهُ كُلَّهُنَّ، فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بہت دنوں تک میرے دل میں خواہش رہی کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے متعلق پوچھوں جن کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل کی تھی۔ «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما‏» الخ۔ ایک مرتبہ انہوں نے حج کیا اور ان کے ساتھ میں نے بھی حج کیا۔ ایک جگہ جب وہ راستہ سے ہٹ کر (قضائے حاجت کے لیے) گئے تو میں بھی ایک برتن میں پانی لے کر ان کے ساتھ راستہ سے ہٹ گیا۔ پھر انہوں نے قضائے حاجت کی اور واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا۔ پھر انہوں نے وضو کیا تو میں نے اس وقت ان سے پوچھا کہ یا امیرالمؤمنین! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں وہ کون ہیں جن کے متعلق اللہ نے یہ ارشاد فرمایا کہ «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما‏» عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا اے ابن عباس! تم پر حیرت ہے۔ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہ نے تفصیل کے ساتھ حدیث بیان کرنی شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اور میرے ایک انصاری پڑوسی جو بنو امیہ بن زید سے تھے اور عوالی مدینہ میں رہتے تھے۔ ہم نے (عوالی سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے باری مقرر کر رکھی تھی۔ ایک دن وہ حاضری دیتے اور ایک دن میں حاضری دیتا، جب میں حاضر ہوتا تو اس دن کی تمام خبریں جو وحی وغیرہ سے متعلق ہوتیں لاتا (اور اپنے پڑوسی سے بیان کرتا) اور جس دن وہ حاضر ہوتے تو وہ بھی ایسے کرتے۔ ہم قریشی لوگ اپنی عورتوں پر غالب تھے لیکن جب ہم مدینہ تشریف لائے تو یہ لوگ ایسے تھے کہ عورتوں سے مغلوب تھے، ہماری عورتوں نے بھی انصار کی عورتوں کا طریقہ سیکھنا شروع کر دیا۔ ایک دن میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے بھی میرا ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ میں نے اس کے اس طرح جواب دینے پر ناگواری کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ میرا جواب دینا تمہیں برا کیوں لگتا ہے، اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی ان کو جوابات دے دیتی ہیں اور بعض تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن رات تک الگ رہتی ہیں۔ میں اس بات پر کانپ اٹھا اور کہا کہ ان میں سے جس نے بھی یہ معاملہ کیا یقیناً وہ نامراد ہو گئی۔ پھر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور (مدینہ کے لیے) روانہ ہوا پھر میں حفصہ کے گھر گیا اور میں نے اس سے کہا: اے حفصہ! کیا تم میں سے کوئی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایک دن رات تک غصہ رہتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں کبھی (ایسا ہو جاتا ہے) میں نے اس پر کہا کہ پھر تم نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال لیا اور نامراد ہوئی۔ کیا تمہیں اس کا کوئی ڈر نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ تم پر غصہ ہو جائے اور پھر تم تنہا ہی ہو جاؤ گی۔ خبردار! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبات نہ کیا کرو نہ کسی معاملہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا کرو اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا کرو۔ اگر تمہیں کوئی ضرورت ہو تو مجھ سے مانگ لیا کرو۔ تمہاری سوکن جو تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ پیاری ہے، ان کی وجہ سے تم کسی غلط فہمی میں نہ مبتلا ہو جانا۔ ان کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں معلوم ہوا تھا کہ ملک غسان ہم پر حملہ کے لیے فوجی تیاریاں کر رہا ہے۔ میرے انصاری ساتھی اپنی باری پر مدینہ منورہ گئے ہوئے تھے۔ وہ رات گئے واپس آئے اور میرے دروازے پر بڑی زور زور سے دستک دی اور کہا کہ کیا عمر رضی اللہ عنہ گھر میں ہیں۔ میں گھبرا کر باہر نکلا تو انہوں نے کہا کہ آج تو بڑا حادثہ ہو گیا۔ میں نے کہا کیا بات ہوئی، کیا غسانی چڑھ آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، حادثہ اس سے بھی بڑا اور اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے کہا کہ حفصہ تو خاسر و نامراد ہوئی۔ مجھے تو اس کا خطرہ لگا ہی رہتا تھا کہ اس طرح کا کوئی حادثہ جلد ہی ہو گا پھر میں نے اپنے تمام کپڑے پہنے (اور مدینہ کے لیے روانہ ہو گیا) میں نے فجر کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی (نماز کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک بالا خانہ میں چلے گئے اور وہاں تنہائی اختیار کر لی۔ میں حفصہ کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھی۔ میں نے کہا اب روتی کیا ہو۔ میں نے تمہیں پہلے ہی متنبہ کر دیا تھا۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بالا خانہ میں تنہا تشریف رکھتے ہیں۔ میں وہاں سے نکلا اور منبر کے پاس آیا۔ اس کے گرد کچھ صحابہ کرام موجود تھے اور ان میں سے بعض رو رہے تھے۔ تھوڑی دیر تک میں ان کے ساتھ بیٹھا رہا۔ اس کے بعد میرا غم مجھ پر غالب آ گیا اور میں اس بالا خانہ کے پاس آیا۔ جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حبشی غلام سے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے لیے اندر آنے کی اجازت لے لو۔ غلام اندر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر کے واپس آ گیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا ذکر کیا لیکن آپ خاموش رہے۔ چنانچہ میں واپس چلا آیا اور پھر ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس موجود تھے۔ میرا غم مجھ پر غالب آیا اور دوبارہ آ کر میں نے غلام سے کہا کہ عمر کے لیے اجازت لے لو۔ اس غلام نے واپس آ کر پھر کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں پھر واپس آ گیا اور منبر کے پاس جو لوگ موجود تھے ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ لیکن میرا غم مجھ پر غالب آیا اور میں نے پھر آ کر غلام سے کہا کہ عمر کے لیے اجازت طلب کرو۔ غلام اندر گیا اور واپس آ کر جواب دیا کہ میں نے آپ کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں وہاں سے واپس آ رہا تھا کہ غلام نے مجھ کو پکارا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اجازت دے دی ہے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس بان کی چارپائی پر جس سے چٹائی بنی جاتی ہے لیٹے ہوئے تھے۔ اس پر کوئی بستر نہیں تھا۔ بان کے نشانات آپ کے پہلو مبارک پر پڑے ہوئے تھے۔ جس تکیہ پر آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے اس میں چھال بھری ہوئی تھی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کھڑے ہی کھڑے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا نہیں۔ میں (خوشی کی وجہ سے) کہہ اٹھا۔ اللہ اکبر۔ پھر میں نے کھڑے ہی کھڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے کے لیے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے ہم قریش کے لوگ عورتوں پر غالب رہا کرتے تھے۔ پھر جب ہم مدینہ آئے تو یہاں کے لوگوں پر ان کی عورتیں غالب تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرا دیئے۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے میں حفصہ کے پاس ایک مرتبہ گیا تھا اور اس سے کہہ آیا تھا کہ اپنی سوکن کی وجہ سے جو تم سے زیادہ خوبصورت اور تم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزیز ہے، دھوکا میں مت رہنا۔ ان کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسکرا دیئے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے دیکھا تو بیٹھ گیا پھر نظر اٹھا کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا جائزہ لیا۔ اللہ کی قسم! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس پر نظر رکتی۔ سوا تین چمڑوں کے (جو وہاں موجود تھے) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ آپ کی امت کو فراخی عطا فرمائے۔ فارس و روم کو فراخی اور وسعت حاصل ہے اور انہیں دنیا دی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: ابن خطاب! تمہاری نظر میں بھی یہ چیزیں اہمیت رکھتی ہیں، یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں جو کچھ بھلائی ملنے والی تھی سب اسی دنیا میں دے دی گئی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کر دیجئیے (کہ میں نے دنیاوی شان و شوکت کے متعلق یہ غلط خیال دل میں رکھا) چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو اسی وجہ سے انتیس دن تک الگ رکھا کہ حفصہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز عائشہ سے کہہ دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک مہینہ تک میں اپنی ازواج کے پاس نہیں جاؤں گا۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر عتاب کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا بہت رنج ہوا (اور آپ نے ازواج سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا) پھر جب انتیسویں رات گزر گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور آپ سے ابتداء کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمارے یہاں ایک مہینہ تک تشریف نہیں لائیں گے اور ابھی تو انتیس ہی دن گزرے ہیں میں تو ایک ایک دن گن رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس کا ہے۔ وہ مہینہ انتیس ہی کا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت «تخير» نازل کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج میں سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے (اور مجھ سے اللہ کی وحی کا ذکر کیا) تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی پسند کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام دوسری ازواج کو اختیار دیا اور سب نے وہی کہا جو عائشہ رضی اللہ عنہا کہہ چکی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5191]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے دل میں یہ خواہش رہی کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے متعلق سوال کروں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] اگر تم دونوں (بیویاں) اللہ کے حضور توبہ کرتی ہو تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل راہ راست سے ہٹ گئے ہیں۔ حتیٰ کہ آپ نے حج کیا اور میں بھی آپ کے ہمراہ حج کے لیے گیا۔ چنانچہ جب وہ ایک دفعہ راستے سے ایک طرف ہوئے تو میں بھی پانی کا ایک برتن لے کر ان کے ہمراہ راستے سے الگ ہو گیا۔ پھر جب وہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس آئے تو میں نے ان سے عرض کی: اے امیر المومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے وہ دو کون سی تھیں جن کے متعلق اللہ تعالٰی فرماتا ہے: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] اگر تم دونوں اللہ کی طرف رجوع کرو تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل راہ راست سے کچھ ہٹ گئے ہیں۔؟ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس! تم پر حیرت ہے، وہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ پھر آپ نے تفصیل سے یہ واقعہ بیان کرنا شروع کیا۔ انہوں نے فرمایا: میں اور میرے انصاری پڑوسی جو بنو امیہ بن زید سے تھے، ہم باری باری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دیتے تھے؛ ایک دن وہ جاتا اور دوسرے دن میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ جب میں آتا تو اس دن کی وحی وغیرہ کی خبریں اسے بتاتا اور جب وہ آتا تو وہ بھی اسی طرح کرتا۔ ہم قریشی لوگ اپنی عورتوں پر رعب و دبدبہ رکھتے تھے لیکن جب ہم مدینہ طیبہ آئے تو دیکھا کہ انصار کی عورتیں ان پر غالب رہتی ہیں، چنانچہ ہماری عورتیں انصاری عورتوں کے آداب سیکھنے لگیں۔ ایک دن میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے مجھے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ میں نے اس کے جواب دینے پر جب ناگواری کا اظہار کیا تو اس نے کہا: میرا جواب دینا تمہیں برا کیوں لگا ہے؟ اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں حتیٰ کہ بعض تو آپ سے دن سے رات تک الگ رہتی ہیں۔ میں یہ بات سن کر کانپ اٹھا اور کہا: ان میں سے جس نے بھی یہ رویہ اختیار کیا ہے وہ یقیناً بڑے خسارے میں ہے۔ پھر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ پھر میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گیا اور ان سے کہا: اے حفصہ! کیا تم میں سے کچھ بیویاں دن سے رات تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض رکھتی ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: پھر تم نے خود کو خسارے میں ڈال لیا ہے اور سراسر نقصان میں رکھا ہے۔ کیا تمہیں اس امر کا اندیشہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے کی وجہ سے اللہ تعالٰی ناراض ہو جائے گا، پھر تم تباہ ہو جاؤ گی۔ خبردار! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مطالبات نہ کیا کرو اور نہ کسی معاملے میں آپ کو جواب ہی دیا کرو اور نہ آپ سے علیحدہ ہی رہو۔ اگر تمہیں کوئی ضرورت ہو تو مجھ سے مانگ لیا کرو۔ تمہاری سوکن جو تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ پیاری ہے، اس کی وجہ سے تم کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جاؤ۔ (ان کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے فرمایا: ہمیں معلوم ہوا تھا کہ غسانی ہمارے ساتھ لڑائی کرنے کے لیے گھوڑوں کی نعل بندی کر رہے ہیں۔ ہوا یوں کہ ایک دن میرا انصاری ساتھی اپنی باری کے دن دربارِ رسالت گیا ہوا تھا، وہ رات گئے واپس آیا تو اس نے میرا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹانا شروع کر دیا اور کہا: کیا عمر گھر میں موجود ہیں؟ میں گھبراہٹ کے عالم میں باہر نکلا تو اس نے کہا: آج تو بہت بڑا حادثہ ہو گیا ہے۔ میں نے کہا: کیا بات ہوئی؟ کیا غسانی چڑھ آئے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ معاملہ اس سے بھی زیادہ ہولناک اور خطرناک ہے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے (اپنے دل میں) کہا: حفصہ تو نقصان میں پڑ گئی اور نامراد ہو گئی، میں تو پہلے ہی خیال کیا کرتا تھا کہ عنقریب ایسا ہو جائے گا۔ پھر میں نے اپنے کپڑے پہن لیے اور نمازِ فجر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو بالا خانہ میں تشریف لے گئے اور وہاں جا کر تنہائی اختیار کر لی۔ میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ وہ رو رہی ہے، میں نے کہا: اب روتی کیا ہو؟ میں نے تمہیں پہلے متنبہ نہیں کیا تھا؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس وقت بالا خانہ میں تشریف رکھے ہوئے ہیں۔ میں وہاں سے نکلا اور منبر کے پاس آیا، وہاں منبر کے ارد گرد کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔ میں تھوڑی دیر تک ان کے ہمراہ بیٹھا رہا، پھر جب پریشانی کا مجھ پر غلبہ ہوا تو میں اس بالا خانے کے پاس آیا جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حبشی غلام سے کہا: عمر کے لیے اندر جانے کی اجازت لو۔ غلام اندر گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر کے واپس آ گیا۔ اس نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تھی اور تمہارا ذکر بھی کیا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار کی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پھر واپس ان لوگوں کے پاس جا کر بیٹھ گیا جو منبر کے ارد گرد تھے۔ پھر جب پریشانی نے زور مارا تو دوبارہ آ کر غلام سے کہا: عمر کے لیے اندر آنے کی اجازت لو۔ اس غلام نے واپس آ کر دوبارہ کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں پھر واپس آ گیا اور منبر کے پاس جو لوگ تھے ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ میرا غم پھر غالب آیا تو میں نے پھر غلام کے پاس آ کر اس سے کہا: عمر کے لیے اجازت طلب کرو۔ غلام اندر گیا اور واپس آ کر اس نے جواب دیا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں وہاں سے واپس آ رہا تھا کہ غلام نے مجھے آواز دی اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسیوں سے بنی ہوئی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، جسم مبارک اور چٹائی کے درمیان کوئی بچھونا نہ تھا، بان کے نشانات آپ کے پہلو مبارک پر پڑے تھے اور جس تکیے پر آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ میں نے آپ کو سلام کیا اور کھڑے کھڑے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف ایک نظر اٹھا کر فرمایا: نہیں۔ میں نے (خوشی کی وجہ سے) نعرہ تکبیر بلند کیا اور آپ کو خوش کرنے کے لیے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ ہم قریش کے لوگ عورتوں کو دبا کر رکھتے تھے، پھر جب ہم مدینہ طیبہ آئے۔ (یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے)۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ میں ایک دفعہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تھا اور اس سے کہا تھا: اپنی اس سوکن کی وجہ سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہونا کیونکہ وہ آپ سے زیادہ خوبصورت اور آپ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاری ہے۔ (ان کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا)۔ میری یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسکرا دیے۔ میں نے جب آپ کا تبسم دیکھا تو بیٹھ گیا، پھر میں نے نظر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا جائزہ لیا، اللہ کی قسم! میں نے وہاں تین کچی کھالوں کے علاوہ اور کوئی چیز نہ دیکھی۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا کریں اللہ آپ کی امت پر وسعت کرے، فارس اور روم کے لوگوں کو وسعت اور فراخی دی گئی ہے اور انہیں دنیا کا وافر حصہ دیا گیا ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: اے ابن خطاب! کیا تمہاری نظر میں بھی یہ چیزیں اہمیت رکھتی ہیں؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں جو بھلائی ملنے والی تھی وہ سب اس دنیا میں دے دی گئی ہے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کریں۔ بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے انتیس دن تک علیحدگی اختیار کیے رکھی۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک راز افشا کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: میں مہینہ بھر اپنی ازواج کے پاس نہیں جاؤں گا۔ کیونکہ جب اللہ تعالٰی نے آپ پر عتاب فرمایا تو آپ کو اس کا بہت رنج ہوا تھا۔ پھر جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور بیویوں کے گھروں میں جانے کی ابتدا ان سے کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو قسم اٹھائی تھی کہ ہمارے گھروں میں مہینہ بھر تشریف نہیں لائیں گے، آج آپ نے انتیسویں رات کی صبح کی ہے، میں نے تو گن گن کر یہ دن گزارے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ انتیس کا ہے۔ واقعی وہ مہینہ انتیس دن ہی کا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ پھر اللہ تعالٰی نے آیاتِ تخییر نازل فرمائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج میں سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپ ہی کا انتخاب کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام دوسری ازواج کو اختیار دیا تو سب نے وہی کچھ کیا جو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5191]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5203
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا عِنْدَ أَبِي الضُّحَى، فَقَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَصْبَحْنَا يَوْمًا وَنِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِينَ عِنْدَ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ أَهْلُهَا، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا هُوَ مَلْآنُ مِنَ النَّاسِ، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَصَعِدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي غُرْفَةٍ لَهُ، فَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَنَادَاهُ فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ آلَيْتُ مِنْهُنَّ شَهْرًا، فَمَكَثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ نے، کہا ہم سے ابویعفور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوالضحیٰ کی مجلس میں (مہینہ پر) بحث کی تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ایک دن صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج رو رہی تھیں، ہر زوجہ مطہرہ کے پاس ان کے گھر والے موجود تھے۔ مسجد کی طرف گیا تو وہ بھی لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اوپر گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک کمرہ میں تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے سلام کیا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ انہوں نے پھر سلام کیا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ پھر سلام کیا اور اس مرتبہ بھی کسی نے جواب نہیں دیا۔ تو آواز دی (بعد میں اجازت ملنے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور عرض کیا: کیا آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ایک مہینہ تک ان سے الگ رہنے کی قسم کھائی ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انتیس دن تک الگ رہے اور پھر اپنے بیویوں کے پاس گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5203]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دن ہم نے صبح کے وقت دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں رو رہی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کے اہل خانہ بھی جمع تھے۔ میں مسجد گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے میں تھے لیکن انہیں کسی نے جواب نہ دیا۔ انہوں نے پھر سلام کیا تو بھی کسی طرف سے جواب نہ آیا۔ پھر سلام کیا تو بھی جواب نہ آیا۔ پھر جب کسی نے انہیں آواز دی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اوپر پہنچ گئے۔ اور جاتے ہی عرض کی: آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: نہیں البتہ مہینہ بھر ان کے پاس نہ جانے کی قسم اٹھائی ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتیس دن تک بالا خانے میں ٹھہرے، پھر اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے آئے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5203]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5218
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ،" دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّةِ، لَا يَغُرَّنَّكِ هَذِهِ الَّتِي أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا حُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا، يُرِيدُ عَائِشَةَ، فَقَصَصْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبَسَّمَ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبید بن حنین نے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہ آپ حفصہ کے یہاں گئے اور ان سے کہا کہ بیٹی اپنی اس سوکن کو دیکھ کر دھوکے میں نہ آ جانا جسے اپنے حسن پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ناز ہے۔ آپ کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا (عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) کہ پھر میں نے یہی بات آپ کے سامنے دہرائی آپ مسکرا دیئے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5218]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے کہا: اے میری پیاری بیٹی! یہ خاتون تجھے مغرور نہ کر دے جسے اپنے حسن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کے ساتھ محبت پر بہت ناز ہے۔ آپ کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) میں نے یہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرائی تو آپ مسکرا دیے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5218]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5843
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَبِثْتُ سَنَةً وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَهَابُهُ، فَنَزَلَ يَوْمًا مَنْزِلًا فَدَخَلَ الْأَرَاكَ فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا نَعُدُّ النِّسَاءَ شَيْئًا، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ وَذَكَرَهُنَّ اللَّهُ، رَأَيْنَا لَهُنَّ بِذَلِكَ عَلَيْنَا حَقًّا مِنْ غَيْرِ أَنْ نُدْخِلَهُنَّ فِي شَيْءٍ مِنْ أُمُورِنَا، وَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي كَلَامٌ فَأَغْلَظَتْ لِي، فَقُلْتُ لَهَا: وَإِنَّكِ لَهُنَاكِ قَالَتْ: تَقُولُ: هَذَا لِي وَابْنَتُكَ تُؤْذِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ حَفْصَةَ فَقُلْتُ: لَهَا إِنِّي أُحَذِّرُكِ أَنْ تَعْصِي اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَتَقَدَّمْتُ إِلَيْهَا فِي أَذَاهُ، فَأَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، فَقُلْتُ لَهَا، فَقَالَتْ: أَعْجَبُ مِنْكَ يَا عُمَرُ، قَدْ دَخَلْتَ فِي أُمُورِنَا فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجِهِ فَرَدَّدَتْ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِذَا غَابَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُهُ أَتَيْتُهُ بِمَا يَكُونُ، وَإِذَا غِبْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَ أَتَانِي بِمَا يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَنْ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اسْتَقَامَ لَهُ فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا مَلِكُ غَسَّانَ بِالشَّأْمِ، كُنَّا نَخَافُ أَنْ يَأْتِيَنَا فَمَا شَعَرْتُ إِلَّا بِالْأَنْصَارِيِّ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ قُلْتُ لَهُ: وَمَا هُوَ أَجَاءَ الْغَسَّانِيُّ؟ قَالَ: أَعْظَمُ مِنْ ذَاكَ، طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، فَجِئْتُ فَإِذَا الْبُكَاءُ مِنْ حُجَرِهِنَّ كُلِّهَا وَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَعِدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، وَعَلَى باب الْمَشْرُبَةِ وَصِيفٌ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: اسْتَأْذِنْ لِي، فَأَذِنَ لِي، فَدَخَلْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، وَتَحْتَ رَأْسِهِ مِرْفَقَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، وَإِذَا أُهُبٌ مُعَلَّقَةٌ وَقَرَظٌ، فَذَكَرْتُ الَّذِي قُلْتُ لِحَفْصَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ وَالَّذِي رَدَّتْ عَلَيَّ أُمُّ سَلَمَةَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نَزَلَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عبید بن حنین نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ سے ان عورتوں کے بارے میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں اتفاق کر لیا تھا، پوچھنے کا ارادہ کرتا رہا لیکن ان کا رعب سامنے آ جاتا تھا۔ ایک دن (مکہ کے راستہ میں) ایک منزل پر قیام کیا اور پیلو کے درختوں میں (وہ قضائے حاجت کے لیے) تشریف لے گئے۔ جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس تشریف لائے تو میں نے پوچھا انہوں نے بتلایا کہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں پھر کہا کہ جاہلیت میں ہم عورتوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے۔ جب اسلام آیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر کیا (اور ان کے حقوق) مردوں پر بتائے تب ہم نے جانا کہ ان کے بھی ہم پر کچھ حقوق ہیں لیکن اب بھی ہم اپنے معاملات میں ان کا دخیل بننا پسند نہیں کرتے تھے۔ میرے اور میری بیوی میں کچھ گفتگو ہو گئی اور اس نے تیز و تند جواب مجھے دیا تو میں نے اس سے کہا اچھا اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی۔ اس نے کہا تم مجھے یہ کہتے ہو اور تمہاری بیٹی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تکلیف پہنچاتی ہے۔ میں (اپنی بیٹی ام المؤمنین) حفصہ کے پاس آیا اور اس سے کہا میں تجھے تنبیہ کرتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے کے معاملہ میں سب سے پہلے میں ہی حفصہ کے یہاں گیا پھر میں ام سلمہ کے پاس آیا اور ان سے بھی یہی بات کہی لیکن انہوں نے کہا کہ حیرت ہے تم پر عمر! تم ہمارے معاملات میں دخیل ہو گئے ہو۔ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج کے معاملات میں دخل دینا باقی تھا۔ (سو اب وہ بھی شروع کر دیا) انہوں نے میری بات رد کر دی۔ قبیلہ انصار کے ایک صحابی تھے جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں موجود نہ ہوتے اور میں حاضر ہوتا تو تمام خبریں ان سے آ کر بیان کرتا تھا اور جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے غیر حاضر ہوتا اور وہ موجود ہوتے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تمام خبریں مجھے آ کر سناتے تھے۔ آپ کے چاروں طرف جتنے (بادشاہ وغیرہ) تھے ان سب سے آپ کے تعلقات ٹھیک تھے۔ صرف شام کے ملک غسان کا ہمیں خوف رہتا تھا کہ وہ کہیں ہم پر حملہ نہ کر دے۔ میں نے جو ہوش و حواس درست کئے تو وہی انصاری صحابی تھے اور کہہ رہے تھے کہ ایک حادثہ ہو گیا۔ میں نے کہا کیا بات ہوئی۔ کیا غسان چڑھ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بڑا حادثہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی۔ میں جب (مدینہ) حاضر ہوا تو تمام ازواج کے حجروں سے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ پر چلے گئے تھے اور بالا خانہ کے دروازہ پر ایک نوجوان پہرے دار موجود تھا میں نے اس کے پاس پہنچ کر اس سے کہا کہ میرے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر حاضر ہونے کی اجازت مانگ لو پھر میں اندر گیا تو آپ ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے جس کے نشانات آپ کے پہلو پر پڑے ہوئے تھے اور آپ کے سر کے نیچے ایک چھوٹا سا چمڑے کا تکیہ تھا۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ چند کچی کھالیں لٹک رہی تھیں اور ببول کے پتے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ان باتوں کا ذکر کیا جو میں نے حفصہ اور ام سلمہ سے کہی تھیں اور وہ بھی جو ام سلمہ نے میری بات رد کرتے ہوئے کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرا دیئے۔ آپ نے اس بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام کیا پھر آپ وہاں سے نیچے اتر آئے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5843]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک سال تک ٹھہرا رہا حالانکہ میں خواہش مند تھا کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان دو عورتوں کے متعلق دریافت کروں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق باہمی اتفاق کر لیا تھا لیکن آپ کا رعب سامنے آ جاتا۔ ایک دن آپ نے دورانِ سفر میں ایک مقام پر قیام کیا اور پیلو کے درختوں کے جھنڈ میں چلے گئے، جب فارغ ہو کر واپس تشریف لائے تو میں نے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں۔ پھر فرمایا: ہم دورِ جاہلیت میں عورتوں کو کوئی حیثیت نہ دیتے تھے، جب اسلام آیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے حقوق کا ذکر کیا تو ہمیں معلوم ہوا کہ عورتوں کے بھی ہم پر کچھ حقوق ہیں لیکن پھر بھی ہم اپنے معاملات میں انہیں داخل نہ ہونے دیتے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دن میرے اور میری بیوی کے درمیان کوئی بات ہو رہی تھی تو اس نے مجھے تیز و تند جواب دیا۔ میں نے اس سے کہا: اچھا نوبت اب یہاں تک پہنچ گئی ہے؟ اس نے مجھے کہا: تم مجھے تو یہ کہتے ہو حالانکہ تمہاری دختر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچاتی ہے؟ (یہ سن کر) میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور اسے کہا: بیٹی! میں تجھے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی سے ڈراتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اذیت کے معاملے میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، پھر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا اور ان سے بھی یہی بات کہی۔ انہوں نے یہ جواب دیا: اے عمر! مجھے آپ پر تعجب ہے کہ آپ خواہ مخواہ ہمارے معاملات میں دخل دینے لگے ہو، صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواجِ مطہرات کے معاملات میں دخل دینا باقی تھا اب آپ نے وہ بھی شروع کر دیا، انہوں نے مجھے یہ بات بار بار کہی۔ قبیلہ انصار کے ایک صحابی تھے جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں موجود نہ ہوتے تو میں حاضر ہوتا اور وہاں کی تمام خبریں انہیں آ کر بتاتا اور جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے غائب ہوتا تو وہ حاضری دیتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے مجھے آگاہ کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جتنے بھی سلاطین تھے ان سب کے ساتھ آپ کے تعلقات ٹھیک تھے، صرف شام کا غسانی بادشاہ رہ گیا تھا، اس سے ہمیں ڈر لگا رہتا تھا کہ مبادا ہم پر حملہ کر دے۔ ایک دن میں نے اپنے انصاری ساتھی کو دیکھا وہ کہہ رہا تھا: آج ایک عظیم تر حادثہ ہو گیا ہے، میں نے پوچھا: کیا بات ہوئی؟ کیا غسانی بادشاہ نے حملہ کر دیا ہے؟ اس نے کہا: اس سے بھی عظیم تر حادثہ رونما ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ میں جلدی سے آیا تو تمام ازواج کے حجروں سے رونے کی آواز آ رہی تھی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانے میں تشریف لے گئے تھے۔ بالا خانے کے دروازے پر ایک نوجوان پہرے دار موجود تھا۔ میں اس کے پاس گیا اور اس سے کہا: میرے لیے اندر جانے کی اجازت طلب کرو، اجازت ملی تو اندر گیا دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر تشریف فرما ہیں، چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو پر پڑے ہوئے ہیں، اور آپ کے سر کے نیچے کھال کا ایک تکیہ ہے جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی اور چند کچی کھالیں لٹک رہی تھیں اور کیکر کے پتے پڑے ہوئے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں کا ذکر کیا جو میں نے حضرت حفصہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے کہی تھیں اور وہ جواب بھی بتایا جو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرا دیے۔ آپ نے اس بالا خانے میں انتیس دن تک قیام فرمایا، پھر (وہاں سے) نیچے اتر آئے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 5843]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7256
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ:" وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِذَا غَابَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُهُ أَتَيْتُهُ بِمَا يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا غِبْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَهُ أَتَانِي بِمَا يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبید بن حنین نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب تھے (اوس بن خولیٰ نام) جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شرکت نہ کر سکتے اور میں شریک ہوتا تو انہیں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کی خبریں بتاتا اور جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک نہ ہو پاتا اور وہ شریک ہوتے تو وہ آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کی خبر مجھے بتاتے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7256]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: انصار میں سے ایک آدمی تھا، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شرکت نہ کرتا اور میں ہوتا تو جو کچھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا اسے آکر بیان کر دیتا، اور جب میں غائب ہوتا اور وہ مجلس میں شریک ہوتا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا وہ مجھے بیان کر دیتا۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7256]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7263
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ:" جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، وَغُلَامٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْوَدُ عَلَى رَأْسِ الدَّرَجَةِ، فَقُلْتُ: قُلْ هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَأَذِنَ لِي".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبید بن حنین نے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں تشریف رکھتے تھے اور آپ کا ایک کالا غلام سیڑھی کے اوپر (نگرانی کر رہا) تھا میں نے اس سے کہا کہ کہو کہ عمر بن خطاب کھڑا ہے اور اجازت چاہتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7263]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالاخانہ میں تشریف فرما تھے اور آپ کا سیاہ غلام سیڑھی کے اوپر تعینات تھا۔ میں نے اس سے کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) عرض کرو: عمر بن خطاب کھڑا اجازت طلب کر رہا ہے، چنانچہ آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7263]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں