🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب ما كان النبى صلى الله عليه وسلم يتجوز من اللباس والبسط:
باب: اس بیان میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی لباس یا فرش کے پابند نہ تھے جیسا مل جاتا اسی پر قناعت کرتے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5843
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَبِثْتُ سَنَةً وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَهَابُهُ، فَنَزَلَ يَوْمًا مَنْزِلًا فَدَخَلَ الْأَرَاكَ فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا نَعُدُّ النِّسَاءَ شَيْئًا، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ وَذَكَرَهُنَّ اللَّهُ، رَأَيْنَا لَهُنَّ بِذَلِكَ عَلَيْنَا حَقًّا مِنْ غَيْرِ أَنْ نُدْخِلَهُنَّ فِي شَيْءٍ مِنْ أُمُورِنَا، وَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي كَلَامٌ فَأَغْلَظَتْ لِي، فَقُلْتُ لَهَا: وَإِنَّكِ لَهُنَاكِ قَالَتْ: تَقُولُ: هَذَا لِي وَابْنَتُكَ تُؤْذِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ حَفْصَةَ فَقُلْتُ: لَهَا إِنِّي أُحَذِّرُكِ أَنْ تَعْصِي اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَتَقَدَّمْتُ إِلَيْهَا فِي أَذَاهُ، فَأَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، فَقُلْتُ لَهَا، فَقَالَتْ: أَعْجَبُ مِنْكَ يَا عُمَرُ، قَدْ دَخَلْتَ فِي أُمُورِنَا فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجِهِ فَرَدَّدَتْ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِذَا غَابَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُهُ أَتَيْتُهُ بِمَا يَكُونُ، وَإِذَا غِبْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَ أَتَانِي بِمَا يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَنْ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اسْتَقَامَ لَهُ فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا مَلِكُ غَسَّانَ بِالشَّأْمِ، كُنَّا نَخَافُ أَنْ يَأْتِيَنَا فَمَا شَعَرْتُ إِلَّا بِالْأَنْصَارِيِّ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ قُلْتُ لَهُ: وَمَا هُوَ أَجَاءَ الْغَسَّانِيُّ؟ قَالَ: أَعْظَمُ مِنْ ذَاكَ، طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، فَجِئْتُ فَإِذَا الْبُكَاءُ مِنْ حُجَرِهِنَّ كُلِّهَا وَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَعِدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، وَعَلَى باب الْمَشْرُبَةِ وَصِيفٌ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: اسْتَأْذِنْ لِي، فَأَذِنَ لِي، فَدَخَلْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، وَتَحْتَ رَأْسِهِ مِرْفَقَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، وَإِذَا أُهُبٌ مُعَلَّقَةٌ وَقَرَظٌ، فَذَكَرْتُ الَّذِي قُلْتُ لِحَفْصَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ وَالَّذِي رَدَّتْ عَلَيَّ أُمُّ سَلَمَةَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نَزَلَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عبید بن حنین نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ سے ان عورتوں کے بارے میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں اتفاق کر لیا تھا، پوچھنے کا ارادہ کرتا رہا لیکن ان کا رعب سامنے آ جاتا تھا۔ ایک دن (مکہ کے راستہ میں) ایک منزل پر قیام کیا اور پیلو کے درختوں میں (وہ قضائے حاجت کے لیے) تشریف لے گئے۔ جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس تشریف لائے تو میں نے پوچھا انہوں نے بتلایا کہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں پھر کہا کہ جاہلیت میں ہم عورتوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے۔ جب اسلام آیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر کیا (اور ان کے حقوق) مردوں پر بتائے تب ہم نے جانا کہ ان کے بھی ہم پر کچھ حقوق ہیں لیکن اب بھی ہم اپنے معاملات میں ان کا دخیل بننا پسند نہیں کرتے تھے۔ میرے اور میری بیوی میں کچھ گفتگو ہو گئی اور اس نے تیز و تند جواب مجھے دیا تو میں نے اس سے کہا اچھا اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی۔ اس نے کہا تم مجھے یہ کہتے ہو اور تمہاری بیٹی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تکلیف پہنچاتی ہے۔ میں (اپنی بیٹی ام المؤمنین) حفصہ کے پاس آیا اور اس سے کہا میں تجھے تنبیہ کرتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے کے معاملہ میں سب سے پہلے میں ہی حفصہ کے یہاں گیا پھر میں ام سلمہ کے پاس آیا اور ان سے بھی یہی بات کہی لیکن انہوں نے کہا کہ حیرت ہے تم پر عمر! تم ہمارے معاملات میں دخیل ہو گئے ہو۔ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج کے معاملات میں دخل دینا باقی تھا۔ (سو اب وہ بھی شروع کر دیا) انہوں نے میری بات رد کر دی۔ قبیلہ انصار کے ایک صحابی تھے جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں موجود نہ ہوتے اور میں حاضر ہوتا تو تمام خبریں ان سے آ کر بیان کرتا تھا اور جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے غیر حاضر ہوتا اور وہ موجود ہوتے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تمام خبریں مجھے آ کر سناتے تھے۔ آپ کے چاروں طرف جتنے (بادشاہ وغیرہ) تھے ان سب سے آپ کے تعلقات ٹھیک تھے۔ صرف شام کے ملک غسان کا ہمیں خوف رہتا تھا کہ وہ کہیں ہم پر حملہ نہ کر دے۔ میں نے جو ہوش و حواس درست کئے تو وہی انصاری صحابی تھے اور کہہ رہے تھے کہ ایک حادثہ ہو گیا۔ میں نے کہا کیا بات ہوئی۔ کیا غسان چڑھ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بڑا حادثہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی۔ میں جب (مدینہ) حاضر ہوا تو تمام ازواج کے حجروں سے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ پر چلے گئے تھے اور بالا خانہ کے دروازہ پر ایک نوجوان پہرے دار موجود تھا میں نے اس کے پاس پہنچ کر اس سے کہا کہ میرے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر حاضر ہونے کی اجازت مانگ لو پھر میں اندر گیا تو آپ ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے جس کے نشانات آپ کے پہلو پر پڑے ہوئے تھے اور آپ کے سر کے نیچے ایک چھوٹا سا چمڑے کا تکیہ تھا۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ چند کچی کھالیں لٹک رہی تھیں اور ببول کے پتے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ان باتوں کا ذکر کیا جو میں نے حفصہ اور ام سلمہ سے کہی تھیں اور وہ بھی جو ام سلمہ نے میری بات رد کرتے ہوئے کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرا دیئے۔ آپ نے اس بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام کیا پھر آپ وہاں سے نیچے اتر آئے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5843]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک سال تک ٹھہرا رہا حالانکہ میں خواہش مند تھا کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان دو عورتوں کے متعلق دریافت کروں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق باہمی اتفاق کر لیا تھا لیکن آپ کا رعب سامنے آ جاتا۔ ایک دن آپ نے دورانِ سفر میں ایک مقام پر قیام کیا اور پیلو کے درختوں کے جھنڈ میں چلے گئے، جب فارغ ہو کر واپس تشریف لائے تو میں نے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں۔ پھر فرمایا: ہم دورِ جاہلیت میں عورتوں کو کوئی حیثیت نہ دیتے تھے، جب اسلام آیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے حقوق کا ذکر کیا تو ہمیں معلوم ہوا کہ عورتوں کے بھی ہم پر کچھ حقوق ہیں لیکن پھر بھی ہم اپنے معاملات میں انہیں داخل نہ ہونے دیتے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دن میرے اور میری بیوی کے درمیان کوئی بات ہو رہی تھی تو اس نے مجھے تیز و تند جواب دیا۔ میں نے اس سے کہا: اچھا نوبت اب یہاں تک پہنچ گئی ہے؟ اس نے مجھے کہا: تم مجھے تو یہ کہتے ہو حالانکہ تمہاری دختر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچاتی ہے؟ (یہ سن کر) میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور اسے کہا: بیٹی! میں تجھے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی سے ڈراتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اذیت کے معاملے میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، پھر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا اور ان سے بھی یہی بات کہی۔ انہوں نے یہ جواب دیا: اے عمر! مجھے آپ پر تعجب ہے کہ آپ خواہ مخواہ ہمارے معاملات میں دخل دینے لگے ہو، صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواجِ مطہرات کے معاملات میں دخل دینا باقی تھا اب آپ نے وہ بھی شروع کر دیا، انہوں نے مجھے یہ بات بار بار کہی۔ قبیلہ انصار کے ایک صحابی تھے جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں موجود نہ ہوتے تو میں حاضر ہوتا اور وہاں کی تمام خبریں انہیں آ کر بتاتا اور جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے غائب ہوتا تو وہ حاضری دیتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے مجھے آگاہ کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جتنے بھی سلاطین تھے ان سب کے ساتھ آپ کے تعلقات ٹھیک تھے، صرف شام کا غسانی بادشاہ رہ گیا تھا، اس سے ہمیں ڈر لگا رہتا تھا کہ مبادا ہم پر حملہ کر دے۔ ایک دن میں نے اپنے انصاری ساتھی کو دیکھا وہ کہہ رہا تھا: آج ایک عظیم تر حادثہ ہو گیا ہے، میں نے پوچھا: کیا بات ہوئی؟ کیا غسانی بادشاہ نے حملہ کر دیا ہے؟ اس نے کہا: اس سے بھی عظیم تر حادثہ رونما ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ میں جلدی سے آیا تو تمام ازواج کے حجروں سے رونے کی آواز آ رہی تھی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانے میں تشریف لے گئے تھے۔ بالا خانے کے دروازے پر ایک نوجوان پہرے دار موجود تھا۔ میں اس کے پاس گیا اور اس سے کہا: میرے لیے اندر جانے کی اجازت طلب کرو، اجازت ملی تو اندر گیا دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر تشریف فرما ہیں، چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو پر پڑے ہوئے ہیں، اور آپ کے سر کے نیچے کھال کا ایک تکیہ ہے جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی اور چند کچی کھالیں لٹک رہی تھیں اور کیکر کے پتے پڑے ہوئے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں کا ذکر کیا جو میں نے حضرت حفصہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے کہی تھیں اور وہ جواب بھی بتایا جو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرا دیے۔ آپ نے اس بالا خانے میں انتیس دن تک قیام فرمایا، پھر (وہاں سے) نیچے اتر آئے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5843]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبيد بن حنين الطائي، أبو عبد الله
Newعبيد بن حنين الطائي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← عبيد بن حنين الطائي
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة إمام حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5843
كنا في الجاهلية لا نعد النساء شيئا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5843 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5843
حدیث حاشیہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ میں ایک چٹائی پر تشریف فرما تھے چٹائی بھی ایسی کہ جسم مبارک پر اس کے نشانات عیاں تھے اس سے باب کا مضمون نکلتا ہے کہ آ پ کے بستر کا یہ حال تھا چمڑے کا تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
چند کچی کھالیں لٹک رہی تھیں جن کی دباغت کے لیے ببول کے پتے رکھے ہوئے تھے جو جی ساری دنیا کو ترک دنیا کا سبق دینے کے لیے مبعوث ہوا اس کی پاکیزہ زندگی ایسی سادہ ہونی چایئیے۔
صلی اللہ علیه وسلم الف ألف مرة بعدد کل ذرة آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5843]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5843
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر کا بیان ہے، آپ کے نیچے ایک چٹائی تھی جس نے آپ کے پہلو پر نشانات لگا رکھے تھے۔
یہ نہایت ہی سادہ زندگی اور سادگی سے رہنا سہنا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکیہ بھی چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، اس کے علاوہ چند کچی کھالیں لٹک رہی تھیں اور انہیں رنگنے کے لیے کیکر کے پتے بکھرے پڑے تھے۔
(2)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا نقشہ ہمارے سامنے بیان کیا ہے جو رسول دنیا والوں کو ترک دنیا کا سبق دینے کے لیے بھیجے گئے تھے۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ اور تکلفات سے بالاتر تھے، ہمیں بھی زندگی کا یہ نمونہ اختیار کرنا چاہیے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5843]

Sahih Bukhari Hadith 5843 in Urdu