صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب القراءة في الظهر والعصر:
باب: ظہر اور عصر کی نمازوں میں قرأت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 454 ترقیم شاملہ: -- 1020
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ العَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزْعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " لَقَدْ كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْبَقِيعِ، فَيَقْضِي حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَأْتِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى، مِمَّا يُطَوِّلُهَا ".
عطیہ بن قیس نے قزعہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ظہر کی نماز اقامت کہی جاتی اور کوئی جانے والا بقیع جاتا، اپنی ضرورت سے فارغ ہو کر وضو کرتا، پھر (مسجد میں) آتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لمبا کرنے کی وجہ سے ابھی پہلی رکعت میں ہوتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1020]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ظہر کی نماز کھڑی کی جاتی تو کوئی جانے والا بقیع جاتا اور اپنی ضرورت سے فارغ ہو کر وضو کرتا، پھر مسجد میں آتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت کے قیام کے طویل ہونے کی بنا پر ابھی پہلی رکعت میں ہی ہوتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1020]
ترقیم فوادعبدالباقی: 454
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 454 ترقیم شاملہ: -- 1021
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَزْعَةُ ، قَالَ: " أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ، قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ، قُلْتُ: أَسْأَلُكَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لَكَ فِي ذَاكَ مِنْ خَيْرٍ، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ، فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ، فَيَقْضِي حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ، فَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى ".
ربیعہ نے کہا: قزعہ نے مجھے حدیث سنائی، کہا: میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کے پاس (استفادے کے لیے) کثرت سے لوگ موجود تھے۔ جب یہ لوگ ان سے (رخصت ہو کر) منتشر ہو گئے تو میں نے عرض کی: میں آپ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں کروں گا جن کے بارے میں لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے۔ میں نے کہا: میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھتا ہوں۔ انہوں نے کہا: اس سوال میں تیرے لیے بھلائی نہیں ہے (کیونکہ تم نماز پڑھانے والے حکمرانوں کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھ سکو گے)۔ انہوں نے ان کے سامنے دوبارہ اپنا مسئلہ پیش کیا تو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ظہر کی نماز کھڑی کی جاتی اور ہم میں سے کوئی بقیع کی طرف جاتا، اپنی ضرورت پوری کرتا، پھر اپنے گھر آ کر وضو کرتا، اس کے بعد واپس مسجد میں آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی پہلی رکعت میں ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1021]
حضرت قزعہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے پاس (استفادہ کے لیے) بہت سے لوگ موجود تھے تو جب لوگ منتشر ہو گئے (چلے گئے) میں نے عرض کیا، ”میں آپ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں کروں گا، جن کے بارے میں یہ لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے، میں نے کہا، میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھتا ہوں“ تو انہوں نے کہا، ”اس سوال میں تیرے لیے بہتری یا بھلائی نہیں ہے (کیونکہ تم ایسی نماز ہمیشہ پڑھ نہیں سکو گے)“ اس نے دوبارہ یہی سوال کیا تو انہوں نے کہا، ”ظہر کی نماز کھڑی کی جاتی اور ہم میں سے کوئی بقیع کی طرف جاتا اور اپنی ضرورت پوری کرتا، پھر اپنے گھر آ کر وضو کرتا، پھر واپس مسجد میں آتا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی پہلی رکعت میں ہی ہوتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1021]
ترقیم فوادعبدالباقی: 454
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة