صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب الندب إلى وضع الايدي على الركب في الركوع ونسخ التطبيق:
باب: رکوع میں ہاتھوں کا گھٹنوں پر رکھنا اور تطبیق کا منسوخ ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 535 ترقیم شاملہ: -- 1194
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي ، قَالَ: وَجَعَلْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُكْبَتَيَّ، فَقَالَ لِي أَبِي: اضْرِبْ بِكَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، قَالَ: ثُمَّ فَعَلْتُ ذَلِكَ مَرَّةً أُخْرَى، فَضَرَبَ يَدَيَّ، وَقَالَ: إِنَّا نُهِينَا عَنْ هَذَا، " وَأُمِرْنَا أَنْ نَضْرِبَ بِالأَكُفِّ عَلَى الرُّكَبِ ".
(1193 میں غالباً ابراہیم نخعی سے نیچے کسی راوی کو وہم ہوا ہے۔ اسی لیے امام مسلم نے مفصل اور صحیح روایت کو پہلے لایا ہے۔ بعض شارحین نے اسے متعدد واقعات پر بھی محمول کیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1194]
حضرت مصعب بن سعد رحمتہ اللّٰہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے باپ کے پہلو میں نماز پڑھی اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھے تو مجھے میرے باپ نے کہا، اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پہ رکھ۔ وہ (مصعب) کہتے ہیں میں نے دوبارہ یہی کام کیا تو انہوں نے میرے ہاتھوں پر مارا اور کہا، ہمیں اس سے روک دیا گیا ہے۔ اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ہتھیلیاں گھٹنوں پہ رکھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1194]
ترقیم فوادعبدالباقی: 535
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 535 ترقیم شاملہ: -- 1195
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، إِلَى قَوْلِهِ: فَنُهِينَا عَنْهُ، وَلَمْ يَذْكُر: مَا بَعْدَهُ.
ابوعوانہ نے ابویعفور سے اور انہوں نے مصعب بن سعد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے پہلو میں نماز پڑھی اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھے تو مجھے میرے والد نے کہا: اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو۔ (انہوں نے کہا:) میں نے دوبارہ یہی کام کیا تو انہوں نے میرے ہاتھوں پر مارا اور کہا: ہمیں اس سے روک دیا گیا تھا اور حکم دیا گیا تھا کہ ہم ہتھیلیاں گھٹنوں پر ٹکائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1195]
امام صاحب نے اپنے دو اساتذہ سے مذکورہ بالا سند سے ”ہمیں روک دیا گیا ہے“ تک روایت بیان کی اور دونوں نے بعد والا جملہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1195]
ترقیم فوادعبدالباقی: 535
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 535 ترقیم شاملہ: -- 1196
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: " رَكَعْتُ، فَقُلْتُ: بِيَدَيَّ هَكَذَا، يَعْنِي طَبَّقَ بِهِمَا، وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ، فَقَالَ أَبِي : قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمّ أُمِرْنَا بِالرُّكَبِ ".
ابواحوص اور سفیان نے ابویعفور سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ ”ہمیں روک دیا گیا“ تک حدیث بیان کی ہے، ان دونوں نے اس کے بعد والا جملہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1196]
ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے وکیع کے واسطہ سے اسماعیل بن ابی خالد کی زبیر بن عدی سے حضرت مصعب بن سعد رحمتہ اللّٰہ علیہ سے روایت بیان کی کہ میں نے نماز پڑھنی شروع کی اور اپنے ہاتھوں کو اس طرح کرلیا (یعنی ان کو جوڑ کر اپنی رانوں کے درمیان رکھ لیا) تو مجھے میرے باپ نے بتایا، ہم بھی ایسا کیا کرتے تھے۔ پھر ہمیں گھٹنوں پہ رکھنے کا حکم دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1196]
ترقیم فوادعبدالباقی: 535
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 535 ترقیم شاملہ: -- 1197
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنِ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي ، فَلَمَّا رَكَعْتُ، شَبَّكْتُ أَصَابِعِي وَجَعَلْتُهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيَّ، فَضَرَبَ يَدَيَّ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمَّ أُمِرْنَا أَنْ نَرْفَعَ إِلَى الرُّكَبِ.
وکیع نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے زبیر بن عدی سے اور انہوں نے مصعب بن سعد سے روایت کی، کہا: میں نے رکوع کیا اور اپنے ہاتھوں کو اس طرح کر لیا، یعنی ان کو جوڑ کر اپنی رانوں کے درمیان رکھ لیا تو میرے والد نے مجھ سے کہا: ہم اسی طرح کیا کرتے تھے، پھر ہمیں گھٹنوں (پر ہاتھ رکھنے) کا حکم دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1197]
حضرت مصعب بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے باپ کے پہلو میں نماز پڑھی، جب میں نے رکوع کیا تو اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈال کر اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا تو انہوں نے میرے ہاتھوں پر مارا، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا، ہم بھی ایسا کیا کرتے تھے، پھر ہمیں گھٹنوں کی طرف اٹھانے (گھٹنوں پہ رکھنے) کا حکم دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1197]
ترقیم فوادعبدالباقی: 535
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة