🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب الامر بقتال الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله محمد رسول الله ويقيموا الصلاة ويؤتوا الزكاة ويؤمنوا بجميع ما جاء به النبي صلى الله عليه وسلم وان من فعل ذلك عصم نفسه وماله إلا بحقها ووكلت سريرته إلى الله تعالى وقتال من منع الزكاة او غيرها من حقوق الإسلام واهتمام الإمام بشعائر الإسلام 
باب: جب تک لوگ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» نہ کہیں ان سے لڑنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 21 ترقیم شاملہ: -- 125
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا، وقَالَ الآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، عَصَمَ مِنِّي، مَالَهُ، وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ".
سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ» مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لا الٰه الا الله» کے قائل ہو جائیں، چنانچہ جو «لا الٰه الا الله» کا قائل ہو گیا، اس نے میری طرف سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی، الا یہ کہ اس (اقرار) کا حق ہو، اور اس شخص کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 125]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کی شہادت دیں، جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہہ لیا، اس کے میری طرف سے مال و جان محفوظ ہو گئے، إلا یہ کہ اس کا (کلمہ) حق ہو اور اس کا مواخذہ اللہ تعالیٰ کرے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 125]
ترقیم فوادعبدالباقی: 21
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه النسائي فى ((المجتبي)) 6/5 فى الجهاد، باب وجوب الجهاد - انظر ((التحفة)) برقم ((13344)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 21 ترقیم شاملہ: -- 126
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنِ 3 الْعَلَاءِ . ح وحَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، عَصَمُوا مِنِّي، دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ".
عبدالرحمن بن یعقوب نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی شہادت دیں اور مجھ پر اور جو دین میں لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لے آئیں، چنانچہ جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نے میری طرف سے اپنی جان و مال کو محفوظ کر لیا، الا یہ کہ اس شہادت کا حق ہو اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 126]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کی گواہی دیں، اور مجھ پر اور جو (دین) میں لے کر آیا ہوں، اس پر ایمان لے آئیں، سو جب وہ ایسا کر لیں، تو انہوں نے اپنی جان و مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا سوائے اس کے حق کے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 126]
ترقیم فوادعبدالباقی: 21
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14016)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 21 ترقیم شاملہ: -- 127
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ " بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
اعمش نے ابوسفیان سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، نیز اعمش ہی نے ابوصالح سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم) دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے... سعید بن مسیب کی حدیث کی طرح جو انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 127]
ترقیم فوادعبدالباقی: 21
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 21 ترقیم شاملہ: -- 128
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، عَصَمُوا مِنِّي، دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ "، ثُمَّ قَرَأَ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ {21} لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ {22} سورة الغاشية آية 21-22.
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کے قائل ہو جائیں، جب وہ «لا إله إلا الله» کے قائل ہو جائیں گے تو انہوں نے میری طرف سے اپنے خون اور مال محفوظ کر لیے، الا یہ کہ اس (کلمے کے) حق کا (تقاضا) ہو، اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ پھر آپ نے (یہ آیت) تلاوت فرمائی: «إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ» آپ تو بس نصیحت کرنے والے ہیں، آپ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 128]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم ملا ہے، کہ لوگوں سے جنگ لڑوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہیں، جب «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہہ لیں گے، تو اس کے بعد میری طرف سے ان کے خون اور مال محفوظ ہیں الا یہ کہ اس (کلمہ) کے حق کا تقاضا ہو، اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: بس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو نصیحت کرنے والے ہیں۔ ان پر مسلّط (جبر کرنے والے) نہیں ہیں۔ (سورة الغاشیہ: 21،22) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 128]
ترقیم فوادعبدالباقی: 21
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابن ماجة فى ((سننه)) فى الفتن، بابه: الكف عمن قال: لا اله الا الله (3927) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (12367)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں