صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفته:
باب: نماز کے بعد کیا ذکر کرنا چاہئیے۔
ترقیم عبدالباقی: 594 ترقیم شاملہ: -- 1343
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، حِينَ يُسَلِّمُ " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ، وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ "، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ.
محمد کے والد عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں ہشام نے ابوزبیر سے حدیث سنائی، کہا: (عبداللہ) بن زبیر رضی اللہ عنہما سلام پھیر کر ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہتے تھے: ”لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، لا حول ولا قوة إلا باللہ، لا إلہ إلا اللہ، ولا نعبدإلا إیاہ، لہ النعمة ولہ الفضل، ولہ الثناء الحسن، لا إلہ إلا اللہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ الکافرون۔ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ گناہوں سے بچنے کی توفیق اور نیکی کرنے کی قوت اللہ ہی سے (ملتی) ہے، اس کے سوا کوئی الہ و معبود نہیں۔ ہم اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرتے، ہر طرح کی نعمت اور سارا فضل و کرم اسی کا ہے، خوبصورت تعریف کا سزاوار بھی وہی ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اس کے لیے دین میں اخلاص رکھنے والے ہیں، چاہے کافر اس کو (کتنا ہی) ناپسند کریں۔“ اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد بلند آواز سے «لا إلہ إلا اللہ» والے یہ کلمات کہا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1343]
حضرت ابو زبیر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نماز کے بعد، سلام پھیرتے وقت یہ کلمات کہتے تھے: (لَاإِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ) ”اللّٰہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور ساجھی نہیں، اس کی حکومت اور فرمانروائی ہے اور وہی شکروستائش کا حقدار ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، گناہوں سے بچنے کی توفیق اور نیکی کرنے کی قوت سب اللّٰہ ہی کے ارادے سے ہے اس کے سوا کوئی الٰہ (معبود) نہیں، ہم صرف اس کی بندگی کرتے ہیں، سب نعمتیں اسی کی ہیں اور فضل و کرم اس کا ہے، اچھی تعریف کا مستحق بھی وہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم پورے اخلاص کے ساتھ اس کی بندگی کرتے ہیں، اگرچہ منکروں کو کتنا ہی ناگوار ہو“ اور بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہر نماز کے بعد ان کلمات کو بلند آوازسے کہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1343]
ترقیم فوادعبدالباقی: 594
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 594 ترقیم شاملہ: -- 1344
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مَوْلًى لَهُمْ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، كَانَ يُهَلِّلُ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ، ثُمَّ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ.
عبدہ بن سلیمان نے ہشام بن عروہ سے اور انہوں نے اپنے خاندان کے مولیٰ ابوزبیر سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر نماز کے بعد بلند آواز سے پڑھتے تھے (آگے ابن نمیر کی روایت کے مانند ہے اور انہوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا: پھر ابن زبیر کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد ان (کلمات) کو بلند آواز سے کہتے تھے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1344]
حضرت ابو زبیر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللّٰہ بن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہما ہر نماز کے بعد کلمات تہلیل کہتے تھے جیسا کہ ابن نمیر کی روایت میں ہے اور آخر میں کہا، ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1344]
ترقیم فوادعبدالباقی: 594
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 594 ترقیم شاملہ: -- 1345
وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَخْطُبُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا سَلَّمَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ، أَوِ الصَّلَوَاتِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
(ہشام کے بجائے) حجاج بن ابی عثمان نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: مجھ سے ابوزبیر نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ اس منبر پر خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز یا نمازوں کے آخر میں سلام پھیرنے کے بعد کہا کرتے تھے (آگے ہشام بن عروہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1345]
حضرت ابو زبیر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا ہے، وہ اس منبر پر خطبہ دیتے ہوئے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد نماز ختم کرتے وقت کہا کرتے تھے اور ہشام ابن عروہ کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1345]
ترقیم فوادعبدالباقی: 594
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 594 ترقیم شاملہ: -- 1346
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ يَقُولُ فِي إِثْرِ الصَّلَاةِ: إِذَا سَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا، وَقَالَ فِي آخِرِهِ، وَكَانَ يَذْكُرُ ذَلِكَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ ابوزبیر مکی نے انہیں حدیث سنائی کہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، جب وہ نماز کے بعد سلام پھیرتے تو کہتے (بقیہ روایت ان دونوں (ہشام اور حجاج) کی (مذکورہ بالا) روایت کے مانند ہے، اور آخر میں کہا: وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کرتے تھے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1346]
حضرت زبیر مکی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ اس نے عبداللّٰہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا، وہ ہر نماز کے بعد، جب سلام پھیرتے تو کلمات تہلیل کہتے تھے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایت ہے اور آخر میں کہا وہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1346]
ترقیم فوادعبدالباقی: 594
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة