Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب الدليل على ان من مات على التوحيد دخل الجنة قطعا 
باب: موحد قطعی جنتی ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 33 ترقیم شاملہ: -- 149
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عِتْبَانَ، فَقُلْتُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ، قَالَ: أَصَابَنِي فِي بَصَرِي بَعْضُ الشَّيْءِ، فَبَعَثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِي، فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَدَخَلَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي مَنْزِلِي، وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ، ثُمَّ أَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِكَ، وَكِبْرَهُ إِلَى مَالِكِ بْنِ دُخْشُمٍ، قَالُوا: وَدُّوا أَنَّهُ دَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ، وَوَدُّوا أَنَّهُ أَصَابَهُ شَرٌّ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، وَقَالَ: أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالُوا: إِنَّهُ يَقُولُ ذَلِكَ وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ، قَالَ: " لَا يَشْهَدُ أَحَدٌ، أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَيَدْخُلَ النَّارَ أَوْ تَطْعَمَهُ "، قَالَ أَنَسٌ: فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثُ، فَقُلْتُ لِابْنِي: اكْتُبْهُ، فَكَتَبَهُ.
سلیمان بن مغیرہ نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے محمود بن ریبع رضی اللہ عنہ نے حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی۔ (محمود رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ میں مدینہ آیا تو عتبان رضی اللہ عنہ کو ملا اور میں نے کہا: ایک حدیث مجھے آپ کے حوالے سے پہنچی ہے۔ حضرت عتبان نے کہا: میری آنکھوں کو کوئی بیماری لاحق ہو گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ اے اللہ کے رسول! میرا دل چاہتا ہے کہ آپ میرے پاس تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز ادا فرمائیں تاکہ میں اسی (جگہ) کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں میں سے جن کو اللہ نے چاہا، تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں داخل ہوئے، آپ نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کے ساتھی آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ انہوں نے زیادہ اور بڑی بڑی باتیں مالک بن دخشم کے ساتھ جوڑ دیں، وہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حق میں بد دعا فرمائیں اور وہ ہلاک ہو جائے اور ان کی خواہش تھی کہ اس پر کوئی آفت آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور پوچھا: کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ صحابہ کرام نے جواب دیا: وہ (زبان سے) یہ کہتا ہے لیکن اس کے دل میں یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایسا شخص نہیں جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو پھر وہ آگ میں داخل ہو یا آگ اسے اپنی خوراک بنا لے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ حدیث مجھے بہت اچھی لگی (پسند آئی) تو میں نے اپنے بیٹے سے کہا: اسے لکھ لو، اس نے یہ حدیث لکھ لی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 149]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی۔ محمود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں مدینہ آیا اور عتبان رضی اللہ عنہ کو ملا تو میں نے کہا: آپ کی ایک روایت مجھے پہنچی ہے (وہ مجھے براہِ راست سنائیے) عتبان رضی اللہ عنہ نے کہا: میری آنکھوں میں کچھ تکلیف پیدا ہوئی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ حضور میری تمنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے مکان پر تشریف لا کر کسی جگہ نماز ادا فرمائیں، تاکہ میں اس کو نماز گاہ بنا لوں (وہاں نماز پڑھا کروں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور جن ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ بھی ساتھ تھے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہو کر میرے گھر میں نماز پڑھنے لگے اور آپ کے ساتھی آپس میں باتیں کرنے لگے۔ باتوں کا (موضوع منافقوں کے اعمالِ بد اور ان کی بری حرکات تھیں) اکثر اور بڑا موضوع مالک بن دخشم کی حرکات تھیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے چاہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حق میں بد دعا فرمائیں، وہ مر جائے اور خواہش کی کہ اسے کوئی آفت پہنچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور پوچھا: کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: وہ زبان سے کہتا ہے لیکن دل میں یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی اس بات کی گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، وہ جہنم میں داخل نہ ہو گا نہ اسے جہنم کھائے گی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ حدیث مجھے بہت اچھی لگی (پسند آئی) تو میں نے اپنے بیٹے کو کہا اسے لکھ لو، اس نے لکھ لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 149]
ترقیم فوادعبدالباقی: 33
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الصلاة، باب: اذا دخل بيتا يصلي حيث شاء، او حيث امر، ولا يتجسس برقم (424) وفي باب: فى المساجد فى البيوت برقم (425) وفي الجماعة والامامة، باب: الرخصة فى المطر والعلة ان يصلى فى رحله برقم (667) وفى باب: زار الامام قـومـا فـامهم برقم (686) وفى كتاب: صفة الصلاة، باب: يسلم حين يسلم الامام مختصراً برقم (838) وفي باب: من لم يرد السلام على الامام، باب: يسلم حين يسلم الامام مختصراً برقم (838) وفي باب: من لم يرد الاسلام على الامام، واكتفى بتسليم الصلاة برقم (840) وفي التطوع، باب: صلاة النوافل جماعة برقم (1186) مطولا وفي المغازي، باب: شهود الملائكة بدرا برقم (4009) مطولا وفى الاطعمة، باب: الخزيرة برقم (5401) وفي الرقاق، باب: العمل الذى يبتغي به وجه الله مختصراً برقم (6423) وفى استتابة المرتدين والمعائدين، مختصرا برقم (6938) والمولف (مسلم) فى ((صحيحه)) فى المساجد ومواضع الصلاة، باب: الرخصة فى التخلف عن الجماعة لعذر برقم (1494) وبرقم (1595 و 1496) والنسائي فى ((المجتبى من السنن)) فى المامة، باب: امامة الاعمى 80/2 وفي السهود، باب: تسليم الماموم حين يسلم الامام 64/3-65 وابن ماجه فى ((سننه)) فى المساجد والجماعات، باب: المساجد فى الدور مطولا برقم (754) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (9750)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 33 ترقیم شاملہ: -- 150
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ عَمِيَ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَال: تَعَالَ، فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاءَ قَوْمُهُ وَنُعِتَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ: مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُمِ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ.
حماد نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عتبان بن مالک نے بتایا کہ وہ نابینا ہو گئے تھے، اس وجہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ تشریف لائیں اور میرے لیے مسجد کی ایک جگہ متعین کر دیں (تاکہ میں اس میں نماز پڑھ سکوں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان (عتبان) کی قوم کے لوگ بھی آگئے، ان میں سے ایک آدمی، جسے مالک بن دخشم کہا جاتا تھا، غائب رہا... اس کے بعد حماد نے بھی (ثابت کے دوسرے شاگرد) سلیمان بن مغیرہ کی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 150]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مجھے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نابینا ہو گیا، اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا (تشریف لا کر میرے مکان میں) مسجد کی ایک جگہ متعین کر دیجیے (تاکہ میں اس میں نماز پڑھ سکوں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور عتبان رضی اللہ عنہ کی قوم کے لوگ بھی آگئے، ان میں ایک آدمی جسے مالک بن دحشم کہتے تھے غائب رہا۔ اس کے بعد سلیمان بن مغیرہ کی حدیث کی طرح روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 150]
ترقیم فوادعبدالباقی: 33
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (148)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 33 ترقیم شاملہ: -- 1496
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي، وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي، وَإِذَا كَانَتِ الأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ، فَأُصَلِّيَ لَهُمْ وَدِدْتُ، أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي مُصَلًّى، فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ "، قَالَ عِتْبَانُ: فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟ قَالَ: فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَ، فَقُمْنَا وَرَاءَهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ: وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ لَهُ، قَالَ: فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَنَا، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ذَلِكَ مُنَافِقٌ، لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ، أَلَا تَرَاهُ قَدْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ؟ قَالَ: قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّمَا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ لِلْمُنَافِقِينَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيَّ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ، عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ.
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے جو ان صحابہ کرام میں سے تھے جو انصار میں سے جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے، (بیان کیا) کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری نظر خراب ہو گئی ہے، میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں اور جب بارشیں ہوتی ہیں تو میرے اور ان کے درمیان والی وادی میں سیلاب آجاتا ہے، اس کی وجہ سے میں ان کی مسجد میں نہیں پہنچ سکتا کہ میں انہیں نماز پڑھاؤں تو اے اللہ کے رسول! میں چاہتا ہوں کہ آپ (میرے گھر) تشریف لائیں اور نماز پڑھنے کی کسی ایک جگہ پر نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو (مستقل طور پر) جائے نماز بنا لوں۔ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان شاء اللہ میں ایسا کروں گا۔ عتبان رضی اللہ عنہ نے کہا: تو صبح کے وقت دن چڑھتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اندر آنے کی) اجازت طلب فرمائی، میں نے تشریف آوری کا کہا، آپ آ کر بیٹھے نہیں یہاں تک کہ گھر کے اندر (کے حصے میں) داخل ہوئے، پھر پوچھا: تم اپنے گھر میں کس جگہ چاہتے ہو کہ میں (وہاں) نماز پڑھوں؟ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر تکبیر (تحریمہ) کہی اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ نے دو رکعتیں ادا فرمائیں، پھر سلام پھیر دیا۔ اس کے بعد ہم نے آپ کو خزیر (گوشت کے چھوٹے ٹکڑوں سے بنے ہوئے کھانے) کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ کے لیے تیار کیا تھا۔ (عتبان رضی اللہ عنہ نے) کہا: (آپ کی آمد کا سن کر) اردگرد سے محلے کے لوگ آگئے حتی کہ گھر میں خاصی تعداد میں لوگ اکٹھے ہو گئے۔ ان میں سے ایک بات کرنے والے نے کہا: مالک بن دخشن کہاں ہے؟ ان میں سے کسی نے کہا: وہ تو منافق ہے، اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بارے میں ایسا نہ کہو، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اس نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے لا إله إلا الله کہا ہے؟ (عتبان رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ اس (الزام لگانے والے) نے کہا: ہم تو اس کی وجہ اور اس کی خیر خواہی منافقوں ہی کے لیے دیکھتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو آگ پر حرام قرار دیا ہے جو لا إله إلا الله کہتا ہے اور اس کے ذریعے سے اللہ کی رضا کا طلب گار ہے۔ ابن شہاب نے کہا: میں نے (بعد میں) حصین بن محمد انصاری سے، جو بنو سالم سے تعلق رکھتے ہیں ان کے سرداروں میں سے ہیں، محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس میں ان (محمود رضی اللہ عنہ) کی تصدیق کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 1496]
حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ان صحابہ کرام میں سے ہیں جو انصار سے جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری نظر کمزور ہو گئی ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں اور جب بارشیں ہوتی ہیں تو میرے اور ان کے درمیان والا نالہ بہنے لگتا ہے، جس کی وجہ سے میں ان کی مسجد میں نہیں پہنچ سکتا کہ میں انہیں نماز پڑھاؤں اور میں چاہتا ہوں۔ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ (میرے گھر) تشریف لائیں اور کسی جگہ نماز ادا فرمائیں تاکہ میں اس جگہ کو نماز گاہ بنا لوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں إنْ شَاءَ اللہُ آؤں گا اور یہ کام کروں گا عتبان بتاتے ہیں کہ جب دن کافی بلند ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معیت میں تشریف لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اندر آنے کی) اجازت طلب فرمائی، میں نے اجازت دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر داخل ہو کر بیٹھے نہیں، پھر فرمایا: تم اپنے گھر میں نے کس جگہ میرے نماز پڑھنے کو پسند کرتے ہو؟ میں نے گھر کے ایک کونہ کی طرف اشارہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر تکبیر تحریمہ کہی اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر سلام پھیر دیا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو قیمہ کی آمیزش سے مالیدہ تیار کیا تھا اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا، عتبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا سن کر) ہمارے محلہ کے ہمارے گردونواح کے لوگ جمع ہو گئے حتیٰ کہ ہمارے گھر میں کافی تعداد میں لوگ اکٹھے ہو گئے تو ان میں سے کسی نے پوچھا، مالک بن دخشن کہاں ہے؟ تو ان میں سے کسی نے کہا: وہ تو منافق ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں رکھتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بارے میں یہ بات نہ کہو، کیا تمہیں معلوم نہیں اس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کے لیے لَاإِلٰهَ إِلَّاالله کا اقرار کیا ہے؟ تو صحابہ کرام نے کہا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں، ہم تو اس کا رخ اور اس کی خیر خواہی منافقوں کے لیے دیکھتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کے لیے آگ کو حرام قرار دیا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خاطرلَاإِلٰهَ إِلَّاالله کا اقرار کرے۔ ابن شہاب کہتے ہیں میں نے بعد میں حصین بن محمد انصاری سے جو بنو سالم کے سرداروں میں سے ہیں، محمود بن ربیع کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو اس نے محمود کی تصدیق کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 1496]
ترقیم فوادعبدالباقی: 33
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 33 ترقیم شاملہ: -- 1497
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍكِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ رَبِيعٍ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ، أَوِ الدُّخَيْشِنِ؟ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ مَحْمُودٌ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، نَفَرًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا قُلْتَ؟ قَالَ: فَحَلَفْتُ إِنْ رَجَعْتُ إِلَى عِتْبَانَ أَنْ أَسْأَلَهُ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَوَجَدْتُهُ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، وَهُوَ إِمَامُ قَوْمِهِ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: ثُمَّ نَزَلَتْ بَعْدَ ذَلِكَ فَرَائِضُ وَأُمُورٌ، نَرَى أَنَّ الأَمْرَ انْتَهَى إِلَيْهَا، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَغْتَرَّ فَلَا يَغْتَرَّ.
معمر نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا (پھر یونس کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، البتہ یہ کہا: تو ایک آدمی نے کہا: مالک بن دخشن یا دخیشن کہاں ہے؟ اور حدیث میں یہ اضافہ کیا: محمود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث چند لوگوں کو، جن میں ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، سنائی تو انہوں نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ جو بات تم بیان کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہو۔ اس پر میں نے (دل میں) قسم کھائی کہ اگر میں عتبان رضی اللہ عنہ کے ہاں دوبارہ گیا تو ان سے (اس کے بارے میں ضرور) پوچھوں گا۔ تو میں دوبارہ ان کے پاس آیا، میں نے دیکھا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں، ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی لیکن وہ (اب بھی) اپنی قوم کے امام تھے۔ میں ان کے پہلو میں بیٹھ گیا اور ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے بالکل اسی طرح (ساری) حدیث سنائی جس طرح پہلے سنائی تھی۔ زہری نے کہا: اس واقعے کے بعد بہت سے فرائض اور دیگر امور (احکام) نازل ہوئے اور ہماری نظر میں معاملہ انہی پر تمام ہوا، لہذا جو انسان چاہتا ہے کہ (عتبان رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ظاہری مفہوم سے) دھوکا نہ کھائے، وہ دھوکا کھانے سے بچے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 1497]
ایک دوسری سند سے امام صاحب مذکورہ بالا حدیث بیان کرتے ہیں، اس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ایک آدمی نے کہا، مالک بن دخشن یا دخیشن کہاں ہے؟ اور یہ اضافہ ہے، محمود کہتے ہیں میں نے یہ حدیث چند لوگوں کو جن میں ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی موجود تھے سنائی۔ تو انہوں نے کہا، میں نہیں سمجھتا کہ جو بات تم بیان کرتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہو۔ تو میں نے دل سے قسم اٹھائی کہ اگر میں عتبان کو دوبارہ ملوں گا تو ان سے یہ حدیث پوچھوں گا، میں ان کے پاس دوبارہ آیا تو وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے، ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی لیکن وہ اپنی قوم کے امام تھےتو میں ان کے پہلو میں بیٹھ گیا اور ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے پہلے کی طرح سارا واقعہ سنایا۔ زہری کہتے ہیں اس واقعہ کے بعد بہت سے احکام نازل ہوئے اور بہت سی چیزیں فرض ہوئیں، ہمارے خیال میں ان کے بعد دین مکمل ہو گیا، لہٰذا جو انسان عتبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کے ظاہری مفہوم سے دھوکا نہ کھانا چاہتا ہو وہ ہماری وضاحت سے دھوکا کھانے سے بچ جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 1497]
ترقیم فوادعبدالباقی: 33
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 33 ترقیم شاملہ: -- 1498
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَ: إِنِّي لَأَعْقِلُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْوٍ فِي دَارِنَا، قَالَ مَحْمُودٌ : فَحَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَصَرِي قَدْ سَاءَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، وَحَبَسْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَشِيشَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ زِيَادَةِ يُونُسَ، وَمَعْمَرٍ.
اوزاعی سے روایت ہے، کہا: مجھے زہری نے حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ کلی کرنا اچھی طرح یاد ہے جو آپ نے ہمارے گھر میں ایک ڈول سے (پانی لے کر) کی تھی (اور اس کا پانی میرے منہ پر ڈالا تھا)۔ محمود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری نظر میں خرابی پیدا ہو گئی ہے (اور اس بات تک حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات نماز پڑھائی اور یہ کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جشیشہ (خزیر سے ملتے جلتے کھانے) کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ کے لیے بنایا تھا۔ انہوں (اوزاعی) نے اس کے بعد یونس اور معمر والا اضافہ بیان نہیں کیا۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 1498]
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس کلی کی سمجھ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں ایک ڈول سے (پانی لے کر) کی تھی، محمود کہتے ہیں مجھے عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری نظر میں خرابی پیدا ہو گئی ہے اور دو رکعات نماز پڑھانے تک واقعہ سنایا اور یہ کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو کھانا تیار کیا تھا، اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا، اس کے بعد یونس اور معمر نے جو اضافہ کیا، وہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 1498]
ترقیم فوادعبدالباقی: 33
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں