صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
54. باب استحباب القنوت في جميع الصلاة إذا نزلت بالمسلمين نازلة:
باب: جب مسلمانوں پر کوئی بلا نازل ہو تو نمازوں میں بلند آواز سے قنوت پڑھنا اور اللہ کے ساتھ پناہ مانگنا مستحب ہے اور اس کا محل و مقام آخری رکعت کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور صبح کی نماز میں قنوت پر دوام مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 675 ترقیم شاملہ: -- 1540
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، مِنَ الْقِرَاءَةِ، وَيُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ، اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ، وَرِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، ثُمَّ بَلَغَنَا، أَنَّهُ تَرَكَ ذَلِكَ لَمَّا أُنْزِلَ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 ".
یونس بن یزید نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے خبر دی، کہا: مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمان بن عوف نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر کی قراءت سے فارغ ہوتے اور (رکوع میں جانے کے لیے) تکبیر کہتے تو سر اٹھانے کے بعد «سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد» (اللہ نے سن لیا جس نے اس کی حمد کی، اے ہمارے رب! اور حمد تیرے ہی لیے ہے) کہتے، پھر حالت قیام ہی میں آپ فرماتے: ”اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مومنوں میں سے ان لوگوں کو جنہیں (کافروں نے) کمزور پایا، نجات عطا فرما۔ اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنے روندنے کو سخت کر، ان پر اپنے اس مؤاخذے کو یوسف رضی اللہ عنہ کے زمانے کے قحط کی طرح کر دے۔ اے اللہ! الحیان، رعل، ذکوان اور عصیہ پر، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، لعنت نازل کر۔“ پھر ہم تک یہ بات پہنچی کہ اس کے بعد جب آپ پر یہ آیت اتری: «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ» (آپ کا اس معاملے سے کوئی سروکار نہیں، (اللہ تعالیٰ) چاہے ان کو توبہ کا موقع عطا کرے، چاہے ان کو عذاب دے کہ وہ یقیناً ظلم کرنے والے ہیں) تو آپ نے یہ دعا چھوڑ دی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1540]
حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت صبح کی نماز کی قرأت سے فارغ ہوکر اللّٰہ اکبر کہتے اور (رکوع سے) سر اٹھاتے تو فرماتے: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ پھر کھڑے کھڑے دعا کرتے: اے اللّٰہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور سمجھے جانے والے مومنوں کو نجات دے۔ اے اللّٰہ! مضریوں کو سخت طریقہ سے روند ڈال اور یہ پکڑ یوسف عَلیہِ السَّلام کے دور کی خشک سالی کی صورت میں ہو۔ اے اللّٰہ! الحیان، رعل، ذکوان اور عصیہ جس نے اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی پر لعنت فرما۔ پھر ہم کو خبر پہنچی کہ جب یہ آیت اتری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملہ میں کوئی اختیار نہیں، اللّٰہ چاہے تو ان کی توبہ قبو کرلے، چاہے تو ان کو عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ (آل عمران: ۱۲۸) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا چھوڑ دی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1540]
ترقیم فوادعبدالباقی: 675
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 675 ترقیم شاملہ: -- 1541
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ، إِلَى قَوْلِهِ: وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
ابن عینیہ نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان الفاظ تک روایت کی: ”اس سختی کو ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے کے قحط کی طرح کر دے۔“ جو اس کے بعد ہے اسے بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1541]
امام مسلم یہی روایت دوسری سند سے بیان کرتے ہیں لیکن اس میں الھم العن لحیان و رعلا سے آخر تک کا حصہ بیان نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1541]
ترقیم فوادعبدالباقی: 675
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 675 ترقیم شاملہ: -- 1542
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَنَتَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ فِي صَلَاةٍ شَهْرًا، إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ: اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَرَكَ الدُّعَاءَ بَعْدُ، فَقُلْتُ: أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ تَرَكَ الدُّعَاءَ لَهُمْ، قَالَ: فَقِيلَ: وَمَا تُرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا.
ہمیں اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوت (عاجزی سے دعا) کی، جب آپ «سمع اللہ لمن حمدہ» کہہ لیتے (تو) اپنی قنوت میں یہ (الفاظ) کہتے: ”اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! کمزور سمجھے جانے والے (دوسرے) مومنوں کو نجات عطا کر، اے اللہ! ان پر اپنے روندنے کو سخت تر کر اور اسے ان پر، یوسف علیہ السلام کے (زمانے کے) قحط کے مانند کر دے۔“ مسجدوں اور نماز کی جگہوں کے احکام۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے یہ دعا چھوڑ دی، میں نے (ساتھیوں سے) کہا: میں دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا چھوڑ دی ہے۔ کہا: (جواب میں) مجھ سے کہا گیا، تم انہیں دیکھتے نہیں، (جن کے لیے دعا ہوئی تھی) وہ سب آچکے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1542]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں رکوع کے بعد ایک ماہ تک قنوت کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سَمِعَ اللہُ لِمَن حَمِدَہُ کہہ لیتے تو یہ دعائے قنوت پڑھتے۔ ”اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ اے اللہ! کمزور مسلمانوں کو نجات دے، اے اللہ! مضریوں کو بڑی شدت سے روند ڈال۔ اے اللہ! ان پر یوسف عَلیہِ السَّلام کے دور کا قحط مسلط کر دے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، پھر میں نے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے حق میں دعا کرنا چھوڑ دیا ہے تو مجھے بتایا گیا کہ تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ یہ لوگ آ چکے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1542]
ترقیم فوادعبدالباقی: 675
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 675 ترقیم شاملہ: -- 1543
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ، إِذْ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ: اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الأَوْزَاعِيِّ، إِلَى قَوْلِهِ: كَسِنِي يُوسُفَ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ (ایک روز) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے فرمایا: «سمع اللہ لمن حمدہ» تو سجدے میں جانے سے پہلے آپ نے (دعا مانگتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات عطا فرما۔“ کے الفاظ تک اوزاعی کی روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی، بعد کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ (اوزاعی کے بجائے) شیبان نے یحییٰ سے، انہوں نے ابوسلمہ سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1543]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سَمِعَ اللہُ لِمَن حَمِدَہ کہا، پھر سجدہ کرنے سے پہلے یہ دعا کی: ”اے اللہ!عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے“، پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی، لیکن اس میں قال ابو ھریرہ ثم رایت الخ والا حصہ نقل نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1543]
ترقیم فوادعبدالباقی: 675
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة