صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
54. باب استحباب القنوت في جميع الصلاة إذا نزلت بالمسلمين نازلة:
باب: جب مسلمانوں پر کوئی بلا نازل ہو تو نمازوں میں بلند آواز سے قنوت پڑھنا اور اللہ کے ساتھ پناہ مانگنا مستحب ہے اور اس کا محل و مقام آخری رکعت کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور صبح کی نماز میں قنوت پر دوام مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 677 ترقیم شاملہ: -- 1545
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا أَصْحَابَ بِئْرِ مَعُونَةَ، ثَلَاثِينَ صَبَاحًا، يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَلِحْيَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ أَنَسٌ: " أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ، قُرْآنًا قَرَأْنَاهُ، حَتَّى نُسِخَ بَعْدُ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا، أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا، فَرَضِيَ عَنَّا، وَرَضِينَا عَنْهُ ".
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے بئر معونہ والوں کو قتل کیا تھا، تیس (دن تک) صبح (کی نمازوں) میں بددعا کی۔ آپ نے رعل، ذکوان، لحیان اور عصیہ کے خلاف، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، بددعا کی۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ نے ان لوگوں کے متعلق جو بئر معونہ پر قتل ہوئے، قرآن (کا کچھ حصہ) نازل فرمایا جو بعد میں منسوخ ہونے تک ہم پڑھتے رہے (اس میں شہداء کا پیغام تھا) کہ ہماری قوم کو بتا دیں کہ ہم اپنے رب سے جا ملے ہیں، وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہم اس سے راضی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1545]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس دن ان لوگوں کے خلاف دعا کی، جنہوں نے بئر معونہ کے لوگوں کو قتل (شہید) کر دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رعل، ذکوان، لحیان اور عصیہ کے لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی، کے خلاف دعا کرتے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بئر معونہ کے واقعہ میں شہید ہونے والے لوگوں کے بارے میں یہ آیت اتاری: ”ہماری قوم تک یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے جا ملے، وہ ہم سے خوش ہوا اور ہم اس سے راضی ہیں۔“ ہم نے اس آیت کی تلاوت کی، بعد میں یہ آیت منسوخ ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1545]
ترقیم فوادعبدالباقی: 677
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 677 ترقیم شاملہ: -- 1546
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ " هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ؟ قَالَ: نَعَمْ، بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا ".
محمد (بن سیرین) سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کبھی) صبح کی نماز میں قنوت کی تھی؟ کہا: ہاں، رکوع سے تھوڑی دیر بعد۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1546]
امام محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہاں، کچھ عرصہ رکوع کے بعد۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1546]
ترقیم فوادعبدالباقی: 677
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 677 ترقیم شاملہ: -- 1547
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وأبو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَيَقُولُ: عُصَيَّةُ، عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ".
ابومجلز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت کی، آپ رعل اور ذکوان کے خلاف بددعا فرماتے تھے اور کہتے تھے: ”عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1547]
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ صبح کی نماز میں رکوع کے بعد دعائے قنوت کی ہے۔ رعل اور ذکوان کے خلاف دعا کی اور فرمایا: ”عصیہ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1547]
ترقیم فوادعبدالباقی: 677
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 677 ترقیم شاملہ: -- 1548
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، يَدْعُو عَلَى بَنِي عُصَيَّةَ ".
انس بن سیرین نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک نماز فجر میں رکوع کے بعد قنوت کی، آپ بنو عصیہ کے خلاف بددعا کرتے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1548]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز میں رکوع کے بعد ایک مہینہ قنوت کی، بنو عصیہ کے خلاف دعا کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1548]
ترقیم فوادعبدالباقی: 677
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 677 ترقیم شاملہ: -- 1549
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الْقُنُوتِ، قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ: قَبْلَ الرُّكُوعِ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ: " إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا، يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ قَتَلُوا أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ، يُقَالُ لَهُمْ: الْقُرَّاءُ ".
ابومعاویہ نے عاصم سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے ان (انس رضی اللہ عنہ) سے قنوت کے بارے میں پوچھا: رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد؟ تو انہوں نے کہا: رکوع سے پہلے۔ کہا: میں نے عرض کی: بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوت کی۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک، ان لوگوں کے خلاف بددعا فرماتے رہے جنہوں نے آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں کو قتل کیا تھا جنہیں قراء (قرآن پڑھنے والے) کہا جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1549]
عاصم بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قنوت کے بارے میں سوال کیا کہ وہ رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا، رکوع سے پہلے ہے تو میں نے کہا، کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوت رکوع کے بعد کی ہے؟ تو انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (رکوع کے بعد) ایک مہینہ قنوت کیا، ان لوگوں کے خلاف دعا کی، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھیوں کو جنہیں قراء کہا جاتا تھا، قتل کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1549]
ترقیم فوادعبدالباقی: 677
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 677 ترقیم شاملہ: -- 1550
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَدَ عَلَى سَرِيَّةٍ، مَا وَجَدَ عَلَى السَّبْعِينَ الَّذِينَ أُصِيبُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ، كَانُوا يُدْعَوْنَ الْقُرَّاءَ، فَمَكَثَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى قَتَلَتِهِمْ ".
سفیان نے عاصم سے روایت کی، کہا: میں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ کو کسی اور جنگ پر اتنا غم محسوس ہوا ہو جتنا ان ستر (ساتھیوں) پر ہوا جو بئر معونہ کے واقعے کے روز شہید کیے گئے، انہیں قراء کہا جاتا تھا، آپ ایک مہینے تک ان کے قاتلوں کے خلاف بددعا کرتے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1550]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی جماعت (کی شہادت) پر اس قدر غمزدہ نہیں دیکھا، جس قدر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ان ستر آدمیوں پر ہوئے تھے جو بئر معونہ کے واقعہ میں شہید ہو گئے۔ ان کو قراء کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ان کے قاتلین کے خلاف دعا کرتے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1550]
ترقیم فوادعبدالباقی: 677
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 677 ترقیم شاملہ: -- 1551
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَابْنُ فُضَيْلٍ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ كُلُّهُمْ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ.
حفص، ابن فضیل اور مروان سب نے عاصم سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی، ان میں سے بعض نے بعض سے کچھ زیادہ روایت کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1551]
یہ روایت امام صاحب دوسرے اساتذہ سے بھی بیان کرتے ہیں جس میں وہ ایک دوسرے پر کچھ اضافہ کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1551]
ترقیم فوادعبدالباقی: 677
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 677 ترقیم شاملہ: -- 1552
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " قَنَتَ شَهْرًا يَلْعَنُ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ".
شعبہ نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک قنوت کی، آپ رعل، ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیجتے تھے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1552]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہبیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ قنوت کی، رعل اور ذکوان اور عصیہ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ان پر لعنت بھیجتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1552]
ترقیم فوادعبدالباقی: 677
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 677 ترقیم شاملہ: -- 1553
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
موسیٰ بن انس نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1553]
امام صاحب نے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت دوسری سند سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1553]
ترقیم فوادعبدالباقی: 677
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 677 ترقیم شاملہ: -- 1554
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " قَنَتَ شَهْرًا، يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَرَكَهُ ".
ہشام نے قتادہ کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک عرب کے قبائل میں سے کچھ قبیلوں کے خلاف بددعا کرتے ہوئے قنوت کی، پھر چھوڑ دی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1554]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے کچھ قبائل کے خلاف ایک ماہ دعائے قنوت کی، پھر اسے چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1554]
ترقیم فوادعبدالباقی: 677
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 677 ترقیم شاملہ: -- 4917
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: أَنِ ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ، فِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَدَارَسُونَ بِاللَّيْلِ يَتَعَلَّمُونَ، وَكَانُوا بِالنَّهَارِ يَجِيئُونَ بِالْمَاءِ فَيَضَعُونَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْتَطِبُونَ، فَيَبِيعُونَهُ وَيَشْتَرُونَ بِهِ الطَّعَامَ لِأَهْلِ الصُّفَّةِ وَلِلْفُقَرَاءِ، فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَعَرَضُوا لَهُمْ فَقَتَلُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْمَكَانَ، فَقَالُوا: اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا، قَالَ: وَأَتَى رَجُلٌ حَرَامًا خَالَ أَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ، فَطَعَنَهُ بِرُمْحٍ حَتَّى أَنْفَذَهُ، فَقَالَ: حَرَامٌ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: " إِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ قُتِلُوا وَإِنَّهُمْ قَالُوا: اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا ".
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: ہمارے ساتھ کچھ آدمی بھیج دیں جو (ہمیں) قرآن اور سنت کی تعلیم دیں۔ آپ نے ان کے ساتھ ستر انصاری بھیج دیے جنہیں قراء کہا جاتا تھا، ان میں میرے ماموں حضرت حرام (بن ملحان رضی اللہ عنہ) بھی تھے، یہ لوگ رات کے وقت قرآن پڑھتے تھے، ایک دوسرے کو سناتے تھے، قرآن کی تعلیم حاصل کرتے تھے، اور دن کو مسجد میں پانی لا کر رکھتے تھے اور جنگل سے لکڑیاں لا کر فروخت کرتے اور اس سے اصحاب صفہ اور فقراء کے لیے کھانا خریدتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان (آنے والے کافروں) کی طرف بھیجا اور انہوں نے منزل پر پہنچنے سے پہلے (راستے ہی میں دھوکے سے) ان پر حملہ کر دیا اور انہیں شہید کر دیا، اس وقت انہوں نے کہا: اے اللہ! ہماری طرف سے ہمارے نبی کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہماری تجھ سے ملاقات ہو گئی ہے، ہم تجھ سے راضی ہو گئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہو گیا ہے۔ اس سانحے میں ایک شخص نے پیچھے سے آ کر انس رضی اللہ عنہ کے ماموں، حرام (بن ملحان) رضی اللہ عنہ کو اس طرح نیزہ مارا کہ وہ آر پار ہو گیا تو انہوں نے کہا: رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”تمہارے بھائی شہید کر دیے گئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے: ”اے اللہ! ہمارے نبی کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم نے تجھ سے ملاقات کر لی ہے، ہم تجھ سے راضی ہو گئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہو گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 4917]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگے، آپ ہمارے ساتھی کچھ آدمی روانہ فرمائیں، جو ہمیں قرآن و سنت کی تعلیم دیں، تو آپ نے ان کی طرف ستر (70) انصاری آدمی روانہ فرمائے، جنہیں قراء (قرآن پڑھانے والے) کہا جاتا تھا، ان میں میرے ماموں حرام رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے، یہ لوگ قرآن مجید پرھتے تھے اور رات کو قرآن مجید پڑھتے پرھاتے اور سیکھتے اور دن کو پانی لا کر مسجد میں (لوگوں کے استعمال کے لیے) رکھتے اور لکڑیاں کاٹ کر انہیں بیچتے اور اس رقم سے اہل صفہ اور محتاجوں کے لیے خوراک خریدتے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (ان کی قوم کی طرف) بھیج دیا، دشمن ان کے سامنے آیا اور انہی مقررہ جگہ تک پہنچنے سے پہلے قتل کر ڈالا، تو انہوں نے دعا کی، اے اللہ! ہماری طرف سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام پہنچا دے، کہ ہم تجھے مل چکے ہیں، ہم تجھ سے راضی ہیں اور تو ہم سے راضی ہو گیا ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کے ماموں حرام رضی اللہ تعالی عنہ کے پیچھے سے ایک آدمی آیا اور انہیں اس طرح نیزہ مارا کہ وہ پار ہو گیا، تو حضرت حرام ؓ نے کہا، رب کعبہ کی قسم! میں نے منزل کو پا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو بتایا، ”تمہارے بھائی شہید کر دئیے گئے ہیں اور انہوں نے دعا کی ہے، اے اللہ! ہماری طرف سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام پہنچا دے کہ ہم تجھے مل چکے ہیں اور تجھ سے راضی ہو گئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہو گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 4917]
ترقیم فوادعبدالباقی: 677
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة