🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ذكر إباحة خروج النساء في العيدين إلى المصلى وشهود الخطبة مفارقات للرجال:
باب: عورتوں کا عیدین کے دن عیدگاہ جانا اور مردوں سے الگ خطبہ میں حاضر ہونا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 890 ترقیم شاملہ: -- 2054
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " أَمَرَنَا تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ فِي الْعِيدَيْنِ: الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، وَأَمَرَ الْحُيَّضَ أَنْ يَعْتَزِلْنَ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ ".
محمد (بن سیرین) نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: آپ نے ہمیں حکم دیا۔ ان کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔ کہ ہم عیدین میں بالغہ اور پردہ نشین عورتوں کو لے جایا کریں اور آپ نے حیض والی عورتوں کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے ہٹ کر بیٹھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2054]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدین میں بالغہ، پردہ نشین عورتوں کو لے جایا کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض والی عورتوں کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی نمازگاہ سے الگ رہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2054]
ترقیم فوادعبدالباقی: 890
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 890 ترقیم شاملہ: -- 2055
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " كُنَّا نُؤْمَرُ بِالْخُرُوجِ فِي الْعِيدَيْنِ وَالْمُخَبَّأَةُ وَالْبِكْرُ، قَالَتْ: الْحُيَّضُ يَخْرُجْنَ فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ يُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ ".
عاصم احول نے حفصہ بنت سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں عیدین میں نکلنے کا حکم دیا جاتا تھا، پردہ نشین اور دوشیزہ کو بھی۔ انہوں نے کہا: حیض والی عورتیں بھی نکلیں گی اور لوگوں کے پیچھے رہیں گی اور لوگوں کے ساتھ تکبیر کہیں گی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2055]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: ہمیں عیدین کے لیے نکلنے کا حکم دیا جاتا تھا، پردہ نشین اور دوشیزہ کو بھی۔ وہ بتاتی ہیں کہ: حیض والی عورتیں بھی نکلیں گی اور لوگوں کے پیچھے رہیں گی اور لوگوں کے ساتھ تکبیر کہیں گی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2055]
ترقیم فوادعبدالباقی: 890
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 890 ترقیم شاملہ: -- 2056
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى: الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلَاةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَانَا لَا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ، قَالَ: " لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا ".
ہشام نے حفصہ بنت سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں عورتوں کو باہر نکالیں، دوشیزہ، حائضہ اور پردہ نشین عورتوں کو، لیکن حائضہ نمازیں سے دور رہیں۔ وہ خیر و برکت اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی عورت کے پاس چادر نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی (کوئی مسلمان) بہن اس کو اپنی چادر کا ایک حصہ پہنا دے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2056]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا: ہم عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں جوان، حائضہ اور پردہ نشین عورتوں کو لے کر جائیں لیکن حائضہ جائے نماز سے دور رہیں گی، نیک کاموں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے بعض کے پاس چادر نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی بہن اس کو اپنی چادر کا پہنا دے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2056]
ترقیم فوادعبدالباقی: 890
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں