🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب ما عرض على النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الكسوف من امر الجنة والنار:
باب: جنت اور جہنم میں سے کسوف کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کچھ پیش کیا گیا؟
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 905 ترقیم شاملہ: -- 2103
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ يُصَلُّونَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ. قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِيَامَ جِدًّا حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ، فَأَخَذْتُ قِرْبَةً مِنْ مَاءٍ إِلَى جَنْبِي، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي أَوْ عَلَى وَجْهِي مِنَ الْمَاءِ، قَالَتْ: فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا، حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا، أَوْ مِثْلَ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ "، لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ، قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَيُؤْتَى أَحَدُكُمْ، فَيُقَالُ: مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ، قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَيَقُولُ: هُوَ مُحَمَّدٌ هُوَ رَسُولُ اللَّهِ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَأَجَبْنَا وَأَطَعْنَا ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَيُقَالُ لَهُ: نَمْ قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ إِنَّكَ لَتُؤْمِنُ بِهِ، فَنَمْ صَالِحًا، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ، قَالَتْ أَسْمَاءُ: " فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا، فَقُلْتُ:
ہمیں (عبداللہ) ابن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہم سے ہشام نے، انہوں نے (اپنی بیوی) فاطمہ (بنت منذر بن زبیر بن عوام) سے اور انہوں نے (اپنی دادی) حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کو گرہن لگ گیا، چنانچہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئی اور وہ (ساتھ مسجد میں) نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا وہ (اس وقت) نماز پڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ تو میں نے پوچھا: کوئی نشانی (ظاہر ہوئی) ہے؟ انہوں نے (اشارے سے) بتایا: ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کو بہت زیادہ لمبا کیا حتیٰ کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی، میں نے اپنے پہلو میں پڑی مشک اٹھائی اور اپنے سر یا اپنے چہرے پر پانی ڈالنے لگی۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب فرمایا، اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور اس کی ثناء بیان کی، پھر فرمایا: امابعد (حمد و ثناء کے بعد)! کوئی چیز ایسی نہیں جس کا میں نے مشاہدہ نہیں کیا تھا مگر اب میں نے اپنی اس جگہ سے اس کا مشاہدہ کر لیا ہے حتیٰ کہ جنت اور دوزخ بھی دیکھ لی ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ عنقریب قبروں میں تمہاری مسیح دجال کی آزمائش کے قریب یا اس جیسی آزمائش ہوگی۔ (فاطمہ نے کہا) مجھے پتہ نہیں، حضرت اسماء رضی اللہ عنہما نے ان میں سے کون سا لفظ کہا۔ اور تم میں سے ہر ایک کے پاس (فرشتوں کی) آمد ہو گی اور پوچھا جائے گا: تم اس آدمی کے بارے میں کیا جانتے ہو؟ تو مومن یا یقین رکھنے والا۔ مجھے معلوم نہیں حضرت اسماء رضی اللہ عنہما نے کون سا لفظ کہا۔ کہنے گا: وہ محمد ہیں، وہ اللہ کے رسول ہیں، ہمارے پاس کھلی نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے، ہم نے ان (کی بات) کو قبول کیا اور اطاعت کی، تین دفعہ (سوال و جواب) ہوگا۔ پھر اس سے کہا جائے گا: سو جاؤ، ہمیں معلوم تھا کہ تم ان پر ایمان رکھتے ہو۔ ایک نیک بخت کی طرح سو جاؤ۔ اور رہا منافق یا وہ جو شک و شبہ میں مبتلا تھا۔ معلوم نہیں حضرت اسماء رضی اللہ عنہما نے ان میں سے کون سا لفظ کہا۔ تو وہ کہے گا: میں نہیں جانتا، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا تھا تو وہی کہہ دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2103]
حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کوگہن لگ گیا، تو میں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئی اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے پوچھا:لوگوں کا کیا حال ہے وہ نماز پڑھ رہے ہیں؟ تو انھوں نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ تو میں نے پوچھا: کوئی نشانی ظاہر ہوئی ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی طویل قیام کیا، حتی کہ مجھ پر غشی طاری ہو گئی۔ میرے پہلو میں مشک پڑی ہوئی تھی میں نے وہ لے لی اور اپنے سر یا اپنے چہرے پر پانی ڈالنے لگی۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے اس وقت فارغ ہوئے جبکہ سورج روشن ہو چکا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی ثناء بیان کی۔ پھر فرمایا: امابعد! کوئی چیز ایسی نہیں جس کا میں نے مشاہدہ نہیں کیا تھا۔ مگر اب میں نے اپنی اس جگہ اس کا مشاہدہ کرلیا ہے۔حتی کہ جنت اور دوزخ کو بھی دیکھ لیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ تم قبروں میں مسیح دجال کے فتنہ وامتحان کے برابر یا اس کے قریب آزمائے جاؤ گے، راوی کہتا ہے مجھے معلوم نہیں۔ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان میں سے کون سا لفظ کہا، اور تم میں سے ہر ایک کے پاس فرشتے آ کر پوچھیں گے، تیری اس انسان کے بارے میں کیا معلومات ہیں؟ رہا مومن یا موقن (یقین رکھنے والا) مجھے معلوم نہیں اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کون سا لفظ ان میں سے کہا۔ تو وہ جواب دے گا۔ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور یہ اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں۔ ہمارے پاس کھلے دلائل اور ہدایت لے کر آئے۔ ہم نے ان کی بات کو قبول کیا اور اطاعت کی۔ تین دفعہ سوال وجواب ہو گا۔ اسے کہا جائے گا۔ سو جاؤ۔ہمیں خوب علم ہے کہ تیرا ان پر ایمان ہے، مزے سے سو جا، اور رہا منافق یا شک وشبہ میں مبتلا شخص،معلوم نہیں اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان میں سے کون سالفظ کہا،تو وہ کہے گا۔لوگوں کو میں نے کچھ کہتے ہوئے سنا وہی میں نے کہہ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2103]
ترقیم فوادعبدالباقی: 905
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 905 ترقیم شاملہ: -- 2104
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ وَإِذَا هِىَ تُصَلِّى فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ.
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے فاطمہ سے اور انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تو اس وقت لوگ (نماز میں) کھڑے تھے اور وہ بھی نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا؟ اور (آگے) ہشام سے ابن نمیر کی (سابقہ) حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2104]
حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئی، لوگ نماز میں کھڑے تھے اور وہ بھی نماز پڑھ رہی تھیں، تو میں نے پوچھا، لوگوں کو کیا ہوا؟ پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2104]
ترقیم فوادعبدالباقی: 905
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 905 ترقیم شاملہ: -- 2105
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ، وَإِذَا هِيَ تُصَلِّي، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ؟، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: " لَا تَقُلْ كَسَفَتِ الشَّمْسُ، وَلَكِنْ قُلْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ ".
عروہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سورج کے لیے کسف نہ کہو، بلکہ خسف کا لفظ استعمال کرو۔ (اردو میں دونوں کا معنی گرہن ہی ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2105]
عروہ کہتے ہیں سورج کے لیے کسوف کا لفظ نہ کہو۔ خسوف کا لفظ استعمال کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2105]
ترقیم فوادعبدالباقی: 905
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں