صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب ما عرض على النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الكسوف من امر الجنة والنار:
باب: جنت اور جہنم میں سے کسوف کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کچھ پیش کیا گیا؟
ترقیم عبدالباقی: 907 ترقیم شاملہ: -- 2109
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا قَدْرَ نَحْوِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ كَفَفْتَ، فَقَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ "، قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " بِكُفْرِهِنَّ ". قِيلَ أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ: " بِكُفْرِ الْعَشِيرِ، وَبِكُفْرِ الْإِحْسَانِ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ ".
حفص بن میسرہ نے کہا: زید بن اسلم نے مجھے عطاء بن یسار سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کی معیت میں لوگوں نے نماز پڑھی۔ آپ نے بہت طویل قیام کیا، سورہ بقرہ کے بقدر، پھر آپ نے بہت طویل رکوع کیا، پھر آپ نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے طویل رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدے کیے، پھر آپ نے طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے کچھ کم تھا، پھر آپ نے طویل رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا اور وہ اپنے سے پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا اور وہ پہلے کے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدے کیے، پھر آپ نے سلام پھیرا تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں، وہ کسی کی موت پر گرہن زدہ نہیں ہوتے اور نہ کسی کی زندگی کے سبب سے (انہیں گرہن لگتا ہے) جب تم (ان کو) اس طرح دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو (نماز پڑھو)۔“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اپنے کھڑے ہونے کی اس جگہ پر کوئی چیز لینے کی کوشش کی، پھر ہم نے دیکھا کہ آپ رک گئے۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی اور میں نے اس میں سے ایک گچھا لینا چاہا اور اگر میں اس کو پکڑ لیتا تو تم رہتی دنیا تک اس میں سے کھاتے رہتے (اور) میں نے جہنم دیکھی، میں نے آج جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور میں نے اہل جہنم کی اکثریت عورتوں کی دیکھی۔“ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! (یہ) کس وجہ سے؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے کفر کی وجہ سے۔“ کہا گیا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”رفیق زندگی کا کفران (ناشکری) کرتی ہیں۔ اور احسان کا کفران کرتی ہیں۔ اگر تم ان میں سے کسی کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کرتے رہو پھر وہ تم سے کسی دن کوئی (ناگوار) بات دیکھے تو کہہ دے گی: تم سے میں نے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2109]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر طویل قیام کیا کہ وہ سورہ بقرہ کے بقدر تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت طویل رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا اور وہ (اپنے سے) پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل ر کوع کیا اور وہ اپنے سے پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سر اٹھایا اور طویل قیام کیا اور وہ اپنے سے پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل رکوع کیا، جو اپنے سے پہلے کے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا جبکہ سورج روشن ہو چکا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آفتاب اور ماہتاب اللہ تعالیٰ کی دو نشانیوں میں سےنشانیاں ہیں، وہ کسی کی موت پر بے نور نہیں ہوتے اور نہ کسی کی حیات سے، جب تم ان کو اس طرح دیکھو تو اللہ کو یاد کرو (نماز پڑھو۔)“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اپنی اس جگہ کوئی چیز پکڑنے کی کوشش کی، پھر ہم نے دیکھا کہ آپ رک گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت کو دیکھا اور میں نے اس میں سے گچھہ پکڑنا چاہا اور اگر میں اس کو پکڑ لیتا تو تم رہتی دنیا تک اس میں سے کھاتے رہتے، اور میں نے آگ دیکھی، میں نے آج جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور میں نے دیکھا اس کے رہنے والوں میں عورتوں کی کثرت ہے“ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی نا شکری کی وجہ سے“ پوچھا گیا: کیا وہ اللہ کی ناشکری ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رفیق زندگی کی ناشکری کی وجہ سے اور احسان کی نا قدری کیوجہ سے، اگر انسان ان کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کرتا رہے پھر وہ اس سے کسی دن کوئی ناگوار بات دیکھے تو کہہ اٹھے گی میں نے تو تم سے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2109]
ترقیم فوادعبدالباقی: 907
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 907 ترقیم شاملہ: -- 2110
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إسحاق يَعْنِي ابْنَ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ اس (مذکورہ حدیث) کے مانند روایت کی، البتہ انہوں نے «ثم رأيناك كففت» کے بجائے «ثم رأيناك تكعكعت» (پھر ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ آگے بڑھنے سے باز رہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2110]
مصنف نے اپنے دوسرے استاد سے زید بن اسلم کی سند سے ہی مذکورہ بالاروایت بیان کی ہے۔ صرف یہ فرق ہے کہ اس میں ”كَفَفْت“ کی جگہ ”تَكَعْكَعْتَ“ ہے۔ اس کا معنی بھی توقف کرنا اور باز رہنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2110]
ترقیم فوادعبدالباقی: 907
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة