صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
44. باب إعطاء المؤلفة ومن يخاف عليٰ إيمانه إن لم يعط ، واحتمال من سال بجفاء لجهله وبيان الخوارج واحكامهم
باب: مؤلفتہ القلوب اور جسے اگر نہ دیا جائے تو اس کے ایمان کا خوف ہو اس کو دینے اور جو اپنی جہالت کی وجہ سے سختی سے سوال کرے اور خوارج اور ان کے احکامات کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1058 ترقیم شاملہ: -- 2431
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، قَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ: " خَبَأْتُ هَذَا لَكَ " قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " رَضِيَ مَخْرَمَةُ ".
لیث نے (عبداللہ) بن ابی ملیکہ سے اور انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کوئی چیز نہ دی تو مخرمہ نے کہا: میرے بیٹے! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ تو میں ان کے ساتھ گیا انہوں نے کہا: اندر جاؤ اور میری خاطر آپ کو بلا لاؤ میں نے ان کی خاطر آپ کو بلایا تو آپ اس طرح اس کی طرف آئے کہ آپ (کے کندھے) پر ان (قباؤں) میں سے ایک قباء تھی آپ نے فرمایا: ”یہ میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر اٹھا کر فرمایا: ”مخرمہ راضی ہو گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2431]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کوئی چیز نہ دی تو مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا: اے میرے بیٹے! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ تو میں ان کے ساتھ چلا انھوں نے کہا اندر جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری خاطر بلا لاؤ میں نے ان کے کہنے پر آپ کو بلایا۔ تو آپ اسی حال میں اس کی طرف آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے کندھے) پر ان میں سے ایک قبا تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میں نے تیرے لیے چھپا کر رکھی تھی۔“ اس نے اس کا جائز ہ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مخرمہ کو پسند ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2431]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1058
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1058 ترقیم شاملہ: -- 2432
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ، فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَى أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: فَقَامَ أَبِي عَلَى الْبَابِ فَتَكَلَّمَ، فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ قَبَاءٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: " خَبَأْتُ هَذَا لَكَ، خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ".
ایوب سختیانی نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے اور انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبائیں آئیں تو مجھے میرے والد مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے آپ کے پاس لے چلو امید ہے آپ ہمیں بھی ان میں سے (کوئی قباء) عنایت فرمائیں گے۔ میرے والد نے دروازے پر کھڑے ہو کر گفتگو کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی۔ آپ باہر نکلے تو قباء آپ کے ساتھ تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس کی خوبیاں دکھا رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”میں نے یہ تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2432]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبائیں آئیں تو مجھے میرے باپ مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو امید ہے آپ ہمیں بھی ان میں سے کوئی عنایت فرما دیں گے، میرے باپ نے دروازہ پر کھڑے ہو کر گفتگو کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آواز پہچان لی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قباء لے کر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس کی خوبیاں بتلاتے ہوئے فرما رہے تھے ”میں نے یہ تمھارے لیے چھپائی تھی میں نے یہ تمھارے لیے چھپا رکھی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2432]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1058
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة