صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
44. باب إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ وَمَنْ يُّخَافُ عَليٰ إِيمَانِهِ إِنْ لَّمْ يُعْطَ، وَاحْتِمَالِ مَنْ سَأَلَ بِجَفَاءٍ لَّجَهْلِهِ وَبَيَانِ الْخَوَارِجِ وَأَحْكَامِهِمْ
باب: مؤلفتہ القلوب اور جسے اگر نہ دیا جائے تو اس کے ایمان کا خوف ہو اس کو دینے اور جو اپنی جہالت کی وجہ سے سختی سے سوال کرے اور خوارج اور ان کے احکامات کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1056 ترقیم شاملہ: -- 2428
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ إسحاق أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَغَيْرُ هَؤُلَاءِ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْهُمْ، قَالَ: " إِنَّهُمْ خَيَّرُونِي أَنْ يَسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ، أَوْ يُبَخِّلُونِي، فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ ".
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! ان کے علاوہ (جنہیں آپ نے عطا فرمایا) دوسرے لوگ اس کے زیادہ حقدار تھے۔ آپ نے فرمایا: ”انہوں نے مجھے ایک چیز اختیار کرنے پر مجبور کر دیا کہ یا تو یہ مذموم طریقے (بے جا اصرار) سے سوال کریں یا مجھے بخیل بنا دیں تو میں بخیل بننے والا نہیں ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2428]
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا۔ تو میں نے عرض کیا: ”اےاللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! ان کے علاوہ دوسرے لوگ اس کے زیادہ حقدار تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انھوں نے سوال پر اصرار کر کے ایسی صورت حال بنا دی تھی کہ یا تو یہ لوگ مجھ سے بے حیائی اور بے شرمی سے مانگیں گے یا مجھے بخیل قرار دیں گے تو میں بخیل نہیں ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2428]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1056
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1057 ترقیم شاملہ: -- 2429
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا . ح وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ "،
امام مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا آپ (کے کندھوں) پر خاصے موٹے کنارے کی ایک نجرانی چادر تھی اتنے میں ایک بدوی آپ کے پاس آیا اور آپ کی چادر سے (پکڑ کر) آپ کو زور سے کھینچا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کی ایک جانب کی طرف نظر کی جس پر اس کے زور سے کھینچنے کے باعث چادر کے کنارے نے گہرا نشان ڈال دیا تھا پھر اس نے کہا: اے محمد! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دینے کا حکم دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے ہنس پڑے اور اسے کچھ دینے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2429]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نجرانی چادر جس کے کنارے موٹے تھے اوڑھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بدوی آ ملا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو اس قدر زور سے کھینچا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کے ایک طرف دیکھا جس پر اس کے انتہائی زور سے کھینچنے کے باعث چادر کے حاشیہ (کنارہ) نے نشان بنا ڈالا تھا۔ پھر اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دینے کا حکم دیجیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہو کر ہنس پڑے اور اسے کچھ دینے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2429]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1057
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1057 ترقیم شاملہ: -- 2430
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ . ح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، كُلُّهُمْ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَفِي حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ مِنَ الزِّيَادَةِ، قَالَ: " ثُمَّ جَبَذَهُ إِلَيْهِ جَبْذَةً، رَجَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْأَعْرَابِيِّ "، وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ: " فَجَاذَبَهُ حَتَّى انْشَقَّ الْبُرْدُ، وَحَتَّى بَقِيَتْ حَاشِيَتُهُ فِي عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ہمام، عکرمہ بن عمار اور اوزاعی سب نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔ عکرمہ بن عمار کی حدیث میں یہ اضافہ ہے پھر اس نے آپ کو زور سے اپنی طرف کھینچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بدوی کے سینے سے جا ٹکرائے۔ اور ہمام کی حدیث میں ہے اس نے آپ کے ساتھ کھینچا تانی شروع کر دی یہاں تک کہ چادر پھٹ گئی اور یہاں تک کہ اس کا کنارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں رہ گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2430]
مصنف نے مذکورہ بالا روایت اپنے تین اور اساتذہ سے اسحاق ہی کی سند سے بیان کی ہے۔ عکرمہ بن عمار کی روایت میں یہ اضافہ ہے پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف اس قدر زور سے کھینچا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدو کے سینہ سے جا لگے اور ہمام کی روایت میں ہے اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھینچا حتی کہ چادر پھٹ گئی اور اس کے کنارہ کا نشان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر رہ گیا۔ یا اس کا کنارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں رہ گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2430]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1057
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1058 ترقیم شاملہ: -- 2431
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، قَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ: " خَبَأْتُ هَذَا لَكَ " قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " رَضِيَ مَخْرَمَةُ ".
لیث نے (عبداللہ) بن ابی ملیکہ سے اور انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کوئی چیز نہ دی تو مخرمہ نے کہا: میرے بیٹے! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ تو میں ان کے ساتھ گیا انہوں نے کہا: اندر جاؤ اور میری خاطر آپ کو بلا لاؤ میں نے ان کی خاطر آپ کو بلایا تو آپ اس طرح اس کی طرف آئے کہ آپ (کے کندھے) پر ان (قباؤں) میں سے ایک قباء تھی آپ نے فرمایا: ”یہ میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر اٹھا کر فرمایا: ”مخرمہ راضی ہو گیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2431]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کوئی چیز نہ دی تو مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا: اے میرے بیٹے! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ تو میں ان کے ساتھ چلا انھوں نے کہا اندر جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری خاطر بلا لاؤ میں نے ان کے کہنے پر آپ کو بلایا۔ تو آپ اسی حال میں اس کی طرف آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے کندھے) پر ان میں سے ایک قبا تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میں نے تیرے لیے چھپا کر رکھی تھی۔“ اس نے اس کا جائز ہ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مخرمہ کو پسند ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2431]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1058
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1058 ترقیم شاملہ: -- 2432
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ، فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَى أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: فَقَامَ أَبِي عَلَى الْبَابِ فَتَكَلَّمَ، فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ قَبَاءٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: " خَبَأْتُ هَذَا لَكَ، خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ".
ایوب سختیانی نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے اور انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبائیں آئیں تو مجھے میرے والد مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے آپ کے پاس لے چلو امید ہے آپ ہمیں بھی ان میں سے (کوئی قباء) عنایت فرمائیں گے۔ میرے والد نے دروازے پر کھڑے ہو کر گفتگو کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی۔ آپ باہر نکلے تو قباء آپ کے ساتھ تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس کی خوبیاں دکھا رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”میں نے یہ تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2432]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبائیں آئیں تو مجھے میرے باپ مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو امید ہے آپ ہمیں بھی ان میں سے کوئی عنایت فرما دیں گے، میرے باپ نے دروازہ پر کھڑے ہو کر گفتگو کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آواز پہچان لی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قباء لے کر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس کی خوبیاں بتلاتے ہوئے فرما رہے تھے ”میں نے یہ تمھارے لیے چھپائی تھی میں نے یہ تمھارے لیے چھپا رکھی تھی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2432]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1058
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة