Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب جواز حلق الراس للمحرم إذا كان به اذى ووجوب الفدية لحلقه وبيان قدرها:
باب: تکلیف لاحق ہونے کی صورت میں محرم کو سر منڈانے کی اجازت اور اس پر فدیہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1201 ترقیم شاملہ: -- 2877
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ، قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ: قِدْرٍ لِي، وقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: بُرْمَةٍ لِي وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً"، قَالَ أَيُّوبُ: فَلَا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِكَ بَدَأَ،
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری اور ابوربیع نے حدیث بیان کی (دونوں نے کہا) ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی (حماد بن زید نے کہا) ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے مجاہد سے سنا، وہ عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حدیبیہ کے دنوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں۔۔۔قواریری کے بقول اپنی ہنڈیا کے نیچے اور ابوربیع کے بقول۔۔۔اپنی پتھر کی دیگ کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور (میرے سر کی) جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: کیا تمہارے سر کی مخلوق (جوئیں) تمہارے لیے باعث اذیت ہیں؟ کہا: میں نے جواب دیا جی ہاں، آپ نے فرمایا: تو اپنا سر منڈوادو (اور فدیے کے طور پر) تین دن کے روزے رکھو۔ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا (ایک) قربانی دے دو۔ ایوب نے کہا: مجھے علم نہیں ان (فدیے کی صورتوں میں) سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز کا پہلے ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2877]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے دوران حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میں ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے سر کی جوئیں تجھے تکلیف پہنچا رہی ہیں؟ میں نے کہا، ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرمنڈوا لیجئے اور تین دن روزہ رکھ لیجئے، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دیں، یا ایک قربانی کر دیجئے۔ ایوب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں، مجھے معلوم نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین چیزوں میں سے پہلے کس کا نام لیا، یعنی آغاز کس سے کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2877]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1201 ترقیم شاملہ: -- 2878
ابن علیہ نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2878]
امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2878]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1201 ترقیم شاملہ: -- 2879
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" ادْنُهْ فَدَنَوْتُ"، فَقَالَ:" ادْنُهْ فَدَنَوْتُ"، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟"، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَأَظُنُّهُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَمَرَنِي بِفِدْيَةٍ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ مَا تَيَسَّرَ".
ابن عون نے مجاہد سے انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی: پھر اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو (اور وہ سر منڈوالے) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔ کہا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا: ذرا قریب آؤ۔ میں آپ کے (کچھ) قریب ہو گیا آپ نے فرمایا: اور قریب آؤ۔ تو میں آپ کے اور قریب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہاری جوئیں تمہیں ایذا دیتی ہیں؟ ابن عون نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں (کعب رضی اللہ عنہ) نے کہا جی ہاں (کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ روزے، صدقے یا قربانی میں سے جو آسان ہو بطور فدیہ دوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2879]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ: میرے بارے میں اتری ہے تو تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو اور وہ سر منڈا لے تو وہ فدیہ کے طور پر روزہ رکھے یا صدقہ کرے، یا قربانی کرے۔ (آیت نمبر 196، سورۃ البقرۃ) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہو جا۔ میں قریب ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہو جا، میں قریب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا جوئیں تجھے تکلیف پہنچا رہی ہیں؟ ابن عون کہتے ہیں، میرے خیال میں کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، ہاں۔ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بطور فدیہ حکم دیا کہ روزے، صدقہ اور قربانی میں سے جو آسان ہو اس پر عمل کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2879]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1201 ترقیم شاملہ: -- 2880
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَيْهِ، وَرَأْسُهُ يَتَهَافَتُ قَمْلًا، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، قَالَ: فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ مَا تَيَسَّرَ".
سیف (بن سلیمان) نے کہا: میں نے مجاہد سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے حدیث سنائی کہا مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اوپر (کی طرف) کھڑے ہوئے اور ان کے سر سے جوئیں گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: کیا تمہاری جوئیں تمہیں اذیت دیتی ہیں؟ میں نے کہا جی ہاں، آپ نے فرمایا: تو اپنا سر منڈوالو۔ (کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی پھر اگر کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو (اور وہ سر منڈوالے) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: تین دن کے روزے رکھو یا (کسی بھی جنس کا) ایک فرق (تین صاع) چھ مسکینوں میں صدقہ کرو یا قربانی میسر ہو کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2880]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر اس کے پاس رکے درآں حالیکہ اس کے سر سے جوئیں جھڑ رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تیری جوئیں تیرے لیے تکلیف کا باعث بن رہی ہیں؟ میں نے کہا، ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا سر منڈوالو۔ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، یہ آیت مبارکہ: تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو جس کی بنا پر وہ سر منڈوا لے تو اس پر فدیہ ہے، روزے رکھے یا صدقہ کرے یا قربانی کرے۔ (سورۃ البقرۃ، آیت 196) میرے بارے میں اتری ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: تین روزے رکھ لو، یا ایک فَرَق (تین صاع) چھ مسکینوں پر صدقہ کر دو، یا جو قربانی میسر ہو کر ڈالو۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2880]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1201 ترقیم شاملہ: -- 2881
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، وَأَيُّوبَ ، وَحُمَيْدٍ وَعَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً"، قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: أَوِ اذْبَحْ شَاةً.
ابن ابی نجیح، ایوب، حمید اور عبدالکریم نے مجاہد سے انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہونے سے پہلے جب حدیبیہ میں تھے ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ (کعب رضی اللہ عنہ) احرام کی حالت میں تھے اور ایک ہنڈیا کے نیچے آگ جلانے میں لگے ہوئے تھے جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: کیا تمہاری سر کی جوئیں تمہیں اذیت دے رہی ہیں؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں، آپ نے فرمایا: تو اپنا سر منڈوالو اور ایک فرق کھانا چھ مسکینوں کو کھلادو۔۔۔ایک فرق تین صاع کا ہوتا ہے۔۔۔یا تین دن کے روزے رکھو یا قربانی کے ایک جانور کی قربانی کرو۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2881]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور وہ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے حدیبیہ میں تھا۔ اور وہ محرم تھا، وہ ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں اس کے چہرے پر گر رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تجھے یہ زہریلے جانور تکلیف دیتے ہیں؟ اس نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا سر منڈوا اور چھ مسکینوں کے درمیان ایک فَرَق (تین صاع) کھانا تقسیم کر یا تین روزے رکھ لے یا ایک قربانی کر دے۔ ابن نجیح کہتے ہیں یا ایک بکری ذبح کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2881]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1201 ترقیم شاملہ: -- 2882
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَهُ:" آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْلِقْ رَأْسَكَ، ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ".
ابوقلابہ نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے دنوں میں ان کے پاس گزرے اور ان سے پوچھا: تمہارے سر کی جوؤں نے تمہیں اذیت دی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: سر منڈوادو۔ پھر ایک بکری بطور قربانی ذبح کرو یا تین دن کے روزے رکھو یا کھجوروں کے تین صاع چھ مسکینوں کو کھلادو۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2882]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے زمانہ میں اس کے پاس سے گزرے اور اس سے پوچھا: کیا تیرے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟ اس نے کہا، ہاں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: اپنا سر منڈا لو، پھر ایک بکری کی قربانی ذبح کر دو، یا تین روزے رکھ لو، یا تین صاع کھجوریں چھ مساکین کو دے دو۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2882]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1201 ترقیم شاملہ: -- 2883
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، فَقَالَ كَعْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نَزَلَتْ فِيَّ، كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي، فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً؟، فَقُلْتُ: لَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، أَوْ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، نِصْفَ صَاعٍ طَعَامًا لِكُلِّ مِسْكِينٍ"، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً.
شعبہ نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے حدیث بیان کی انہوں نے عبداللہ بن معقل سے انہوں نے کہا: میں کعب (بن عجرہ) رضی اللہ عنہ کے پاس جا بیٹھا وہ اس وقت (کوفہ کی ایک) مسجد میں تشریف فرما تھے میں نے ان سے اس آیت کے متعلق سوال کیا: «فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ» تو روزوں یا صدقہ یا قربانی سے فدیہ دے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرے سر میں تکلیف تھی مجھے اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا کہ جوئیں میرے چہرے پر پڑ رہی تھیں تو آپ نے فرمایا: میرا خیال نہیں تھا کہ تمہاری تکلیف اس حد تک پہنچ گئی ہے جیسے میں دیکھ رہا ہوں۔ کیا تمہارے پاس کوئی بکری ہے؟ میں نے عرض کی نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ «فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ» (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: (تمہارے ذمے) تین دنوں کے روزے ہیں یا چھ مسکینوں کا کھانا ہر مسکین کے لیے آدھا صاع کھانا۔ (پھر کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: یہ آیت خصوصی طور پر میرے لیے اتری اور عمومی طور پر یہ تمہارے لیے بھی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2883]
حضرت عبداللہ بن معقل بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا اور ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا تو اس پر فدیہ ہے، روزے یا صدقہ یا قربانی؟ تو کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، (یہ آیت) میرے بارے میں اتری ہے، میرے سر میں تکلیف تھی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا، جبکہ جوئیں میرے چہرے پر جھڑ رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ تجھے تکلیف اس حد تک پہنچ رہی ہے، جو میں دیکھ رہا ہوں، کیا تیرے پاس بکری ہے؟ میں نے کہا، نہیں تو یہ آیت اتری، اس پر فدیہ ہے روزے یا صدقہ یا قربانی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: روزے تین ہیں، یا چھ مسکینوں کا کھانا، ہر مسکین کے لیے آدھا صاع کھانا۔ کہا خاص طور پر میرے بارے میں اتری ہے اور اس کا حکم تم سب کے لیے ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2883]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1201 ترقیم شاملہ: -- 2884
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَقَمِلَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَدَعَا الْحَلَّاقَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" هَلْ عِنْدَكَ نُسُكٌ؟"، قَالَ: مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَاصَّةً فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ سورة البقرة آية 196 ثُمَّ كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً.
زکریا بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہا: ہمیں عبدالرحمان بن اصبہانی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا مجھے عبداللہ بن معقل نے انہوں نے کہا: مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ وہ احرام باندھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ان کے سر اور داڑھی میں (کثرت سے) جوئیں پڑ گئیں۔ اس (بات) کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے انہیں بلا بھیجا اور حجام کو بلا کر ان کا سر مونڈ دیا پھر ان سے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی قربانی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: (اے اللہ کے رسول) میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا آپ نے انہیں حکم دیا: تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا مہیا کرو مسکینوں کے لیے ایک صاع ہو اللہ عزوجل نے خاص ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: جو شخص تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، اس کے بعد یہ (اجازت) عمومی طور پر تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2884]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ احرام باندھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ان کے سر اور داڑھی میں کثرت سے جوئیں پڑ گئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور ایک سر مونڈنے والے کو بلوایا، اس نے اس کا سر مونڈ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: کیا تجھ میں قربانی کی استطاعت ہے؟ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، مجھ میں اتنی استطاعت نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا: تین روزے رکھ لو، یا چھ مساکین کو کھانا دے دو، ہر دو مسکینوں کو ایک صاع، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت خاص طور پر اس کے بارے میں اتاری کہ تم میں سے جو بیمار ہے یا اس کے سر میں تکلیف ہو۔ لیکن اس کا حکم تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2884]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1201
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں