صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
67. باب وجوب طواف الوداع وسقوطه عن الحائض:
باب: طواف وداع کے وجوب اور حائضہ عورت سے طواف معاف ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1328 ترقیم شاملہ: -- 3220
حدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ، عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ ".
طاؤس کے بیٹے (عبداللہ) نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کی آخری حاضری بیت اللہ کی ہو مگر اس میں حائضہ عورت کے لیے تخفیف کی گئی ہے (وہ آخری طواف سے مستثنیٰ ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3220]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ آخری وقت میں بیت اللہ کا طواف کریں، لیکن حیض والی عورت کو سہولت دی گئی ہے، (وہ پہلے جاسکتی ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3220]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1328
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1328 ترقیم شاملہ: -- 3221
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ، فقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِمَّا لَا فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَرَجَعَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، يَضْحَكُ، وَهُوَ يَقُولُ: مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ.
حسن بن مسلم نے طاؤس سے خبر دی انہوں نے کہا: میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ فتویٰ دیتے ہیں کہ حائضہ عورت آخری وقت میں بیت اللہ کی حاضری (طواف) سے پہلے (اس کے بغیر) لوٹ سکتی ہے؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: اگر (آپ کو یقین) نہیں تو فلاں انصاریہ سے پوچھ لیں کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بات کا حکم دیا تھا؟ کہا: اس کے بعد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ واپس آئے وہ ہنس رہے تھے اور کہہ رہے تھے میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے سچ ہی کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3221]
طاؤس بیان کرتے ہیں، میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا، آپ یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ حائضہ عورت آخری وقت میں بیت اللہ کا طواف کیے بغیر واپس جا سکتی ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اگر آپ یہ نہیں مانتے، تو آپ فلاں انصاری عورت سے پوچھیں، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا تھا؟ تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس ہنستے ہوئے واپس آئے اور وہ کہہ رہے تھے، میرے خیال میں آپ نے سچ ہی فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3221]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1328
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة