🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. باب وجوب طواف الوداع وسقوطه عن الحائض:
باب: طواف وداع کے وجوب اور حائضہ عورت سے طواف معاف ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1328 ترقیم شاملہ: -- 3220
حدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ، عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ ".
طاؤس کے بیٹے (عبداللہ) نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کی آخری حاضری بیت اللہ کی ہو مگر اس میں حائضہ عورت کے لیے تخفیف کی گئی ہے (وہ آخری طواف سے مستثنیٰ ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3220]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ آخری وقت میں بیت اللہ کا طواف کریں، لیکن حیض والی عورت کو سہولت دی گئی ہے، (وہ پہلے جاسکتی ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3220]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1328
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن
Newطاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام فاضل
👤←👥عبد الله بن طاوس اليماني، أبو محمد
Newعبد الله بن طاوس اليماني ← طاوس بن كيسان اليماني
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن طاوس اليماني
ثقة حافظ حجة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥سعيد بن منصور الخراساني، أبو عثمان
Newسعيد بن منصور الخراساني ← ابن أبي شيبة العبسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1755
أمر الناس أن يكون آخر عهدهم بالبيت إلا أنه خفف عن الحائض
صحيح مسلم
3220
أمر الناس أن يكون آخر عهدهم بالبيت إلا أنه خفف عن المرأة الحائض
صحيح مسلم
3221
تفتي أن تصدر الحائض قبل أن يكون آخر عهدها بالبيت
صحيح مسلم
3219
لا ينفرن أحد حتى يكون آخر عهده بالبيت
سنن أبي داود
2002
لا ينفرن أحد حتى يكون آخر عهده الطواف بالبيت
سنن ابن ماجه
3070
لا ينفرن أحد حتى يكون آخر عهده بالبيت
بلوغ المرام
643
امر الناس ان يكون آخرعهدهم بالبيت إلا انه خفف عن الحائض
المعجم الصغير للطبراني
455
مسندالحميدي
511
لا ينفرن أحد حتى يكون آخر عهده بالبيت
مسندالحميدي
512
أمر الناس أن يكون آخر عهدهم بالبيت إلا أنه خفف عن المرأة الحائض
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3220 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3220
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
الوداعی طواف جسے حاجی مکہ معظمہ سے واپسی کے وقت کرتا ہے واجب ہے،
یعنی اگر کوئی شخص طواف نہیں کرے گا تو اس کے ذمہ ایک جانور کی قربانی ضروری ہے،
لیکن حائضہ عورت کو اجازت ہے اگر اس نے طواف افاضہ کر لیا ہے تو وہ طواف وداع کیے بغیر روانہ ہو سکتی ہے،
جمہور صحابہ و آئمہ،
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ،
شافعی رحمۃ اللہ علیہ احمد رحمۃ اللہ علیہ،
اور محدثین کا یہی موقف ہے لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور داؤد رحمۃ اللہ علیہ ظاہری کے نزدیک طواف وداع سنت ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3220]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 643
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ سب سے آخر میں تمہارا عمل بیت اللہ کا طواف ہو مگر ایام ماہواری والی عورتوں کے لئے تخفیف کر دی گئی ہے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 643]
643فائدہ:
یہ طواف وداع ہے جو سب مناسک حج کے اتمام و اختتام پر کیا جاتا ہے۔ یہ طواف امام مالک رحمہ الله کے سوا سب کے نزدیک واجب ہے، اگر کسی وجہ سے رہ جائے تو دم دینا (جانور ذبح کرنا) پڑتا ہے مگر حائضہ عورتوں کو رخصت ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 643]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2002
مکہ سے نکلنے سے پہلے خانہ کعبہ کا الوداعی طواف۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ ہر جانب سے (مکہ سے) لوٹتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مکہ سے کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف (طواف وداع) ہو ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2002]
مکہ سے نکلنے سے پہلے خانہ کعبہ کا الوداعی طواف۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ ہر جانب سے (مکہ سے) لوٹتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مکہ سے کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف (طواف وداع) ہو ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2002]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2002]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:511
511- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پہلے لوگ کسی بھی جگہ سے واپس چلے جایا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بھی شخص اس وقت تک ہرگز واپس نہ جائے جب تک وہ سب سے آخر میں بیت اللہ کا طواف نہیں کرتا۔ سفیان کہتے ہیں: اس بارے میں اس روایت سے زیادہ اچھی حدیث میں نے نہیں سنی جو سلیمان نے ہمیں سنائی ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:511]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حاجی حضرات کو طواف وداع کر کے واپس گھر جانا چاہیے، حائضہ اور نفاس والی عورت اس سے مستثنیٰ ہے، نیز دیکھیں [مسند حميدي: 512]
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 511]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1755
1755. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: لوگوں کو حکم دیا گیا کہ سب سے آخر میں تمہارا عمل بیت اللہ کا طواف ہو مگر ایام ماہواری والی عورت سے تخفیف کی گئی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1755]
حدیث حاشیہ:
کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا فتوی حائضہ اور نفساءعورتوں کے متعلق پہلے یہ تھا کہ وہ حیض اور نفاس کا خون بند ہونے کا انتظار کریں اور پاک ہونے پر طواف وداع کرکے رخصت ہوں، مگر جب ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث معلوم ہوئی تو انہوں نے اپنے اس مسلک سے رجوع کر لیا۔
اس سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام ؓ کا عام دستور العمل یہی تو تھا کہ وہ حدیث صحیح کے سامنے اپنے خیالات کو چھوڑ دیا کرتے تھے اور اپنے مسلک سے رجوع کر لیا کرتے تھے، نہ جیسا کہ بعد کے مقلدین جامدین کا دستور بن گیا ہے کہ حدیث صحیح جو ان کے مزعومہ مسلک کے خلاف ہو اسے بڑے بے باکی کے ساتھ رد کردیتے ہیں اوراپنے مزعومہ امام کے قول کو ہرحال میں ترجیح دیتے ہیں۔
آیت کریمہ ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ﴾ (التوبة: 31)
کے مصداق درحقیقت یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث مرحوم نے فرمایا کہ احادیث صحیحہ کو رد کرکے اپنے امام کے قول کو ترجیح دینے والے اس دن کیا جواب دیں گے جس دن دربار الٰہی میں پیشی ہوگی۔
(حجة اللہ البالغة)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1755]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1755
1755. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: لوگوں کو حکم دیا گیا کہ سب سے آخر میں تمہارا عمل بیت اللہ کا طواف ہو مگر ایام ماہواری والی عورت سے تخفیف کی گئی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1755]
حدیث حاشیہ:
(1)
انسان جب مناسک حج سے فارغ ہو تو اسے چاہیے کہ طواف وداع کرے، اس کے بعد وہ اپنے گھر روانہ ہو۔
حضرت ابن عباس ؓ ہی سے روایت ہے کہ لوگ حج سے فراغت کے بعد جہاں سے چاہتے اپنے گھروں کو واپس آ جاتے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جب تک بیت اللہ کا طواف نہ کر لو اپنے گھروں کو نہ جاؤ۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3219(1327) (2)
اس حدیث کے پیش نظر طواف وداع واجب ہے، البتہ حائضہ عورت سے تخفیف کر دی گئی ہے کہ وہ اس کے بغیر اپنے گھر جا سکتی ہے جیسا کہ آئندہ اس کی وضاحت ہوگی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1755]

Sahih Muslim Hadith 3220 in Urdu