🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
85. باب فضل المدينة ودعاء النبي صلى الله عليه وسلم فيها بالبركة وبيان تحريمها وتحريم صيدها وشجرها وبيان حدود حرمها:
باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1361 ترقیم شاملہ: -- 3315
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا "، يُرِيدُ الْمَدِينَةَ.
عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم ٹھہرایا اور میں اس (شہر) کی دونوں سیاہ پتھر زمینوں کے درمیان میں واقع حصے کو حرم قرار دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3315]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (حضرت ابراہیم علیہ السلام) نے مکہ کو حرم ٹھہرایا اور میں مدینہ کے دونوں سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیان والے علاقے کو حرم قرار دیتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3315]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1361
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1361 ترقیم شاملہ: -- 3316
وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ : أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ خَطَبَ النَّاسَ، فَذَكَرَ مَكَّةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَدِينَةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، فَنَادَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، فقَالَ: " مَا لِي أَسْمَعُكَ ذَكَرْتَ مَكَّةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَلَمْ تَذْكُرِ الْمَدِينَةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَقَدْ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا "، وَذَلِكَ عَنْدَنَا فِي أَدِيمٍ خَوْلَانِيٍّ إِنْ شِئْتَ أَقْرَأْتُكَهُ، قَالَ: فَسَكَتَ مَرْوَانُ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ بَعْضَ ذَلِكَ.
نافع بن جبیر سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطاب کیا، اس نے مکہ کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ کیا اور مدینہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ نہ کیا، تو رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے اس کو مخاطب کیا اور کہا: کیا ہوا ہے؟ میں سن رہا ہوں کہ تم نے مکہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ کیا لیکن مدینہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ نہیں کیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں سیاہ پتھروں والی زمینوں کے درمیان میں واقع علاقے کو حرم قرار دیا ہے اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا) وہ فرمان خولانی چمڑے میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ اگر تم چاہو تو اسے میں تمہیں پڑھا دوں۔ اس پر مروان خاموش ہوا، پھر کہنے لگا: اس کا کچھ حصہ میں نے بھی سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3316]
نافع بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطاب کیا اور اس میں مکہ، اہل مکہ اور وہاں کے ادب و احترام کا ذکر کیا، تو اسے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے آواز دی: کیا وجہ ہے، میں تم سے مکہ، اہل مکہ اور اس کی حرمت کا تذکرہ سن رہا ہوں، لیکن تم نے مدینہ، اہل مدینہ اور اس کی حرمت کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں سنگریزوں کے درمیان کے علاقے کو حرم قرار دیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان، ہمارے پاس خولانی چمڑے پر لکھا ہوا موجود ہے، اگر چاہو تو میں تمہیں اسے پڑھا سکتا ہوں، اس پر مروان خاموش ہو گیا، پھر کہا: اس کا کچھ حصہ میں نے بھی سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3316]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1361
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں